مجھے یہ لعل و گہر مشتِ خاک لگتے ہیں
یہ زندہ لوگ بہت چاک چاک لگتے ہیں
میں اپنی عمر کے لوگوں سے دور رہتا ہوں
مجھے جنازے بڑے درد ناک لگتے ہیں
مجھے شروع ہی سے تنہایاں تھیں راس بہت
یہ دل کے رشتے مجھے اشتراک لگتے ہیں
انہیں خبر نہیں اندر سے کتنے گھائل ہیں
جو لوگ دیکھنے میں ٹھیک ٹھاک لگتے ہیں
نئے زمانے کے اندازِ گفتگو ہیں عجب
مجھے تو یہ بھی ندائے فراق لگتے ہیں
عجب قماش کا شاہدؔ تو اک قلندر تھا
ترے مزار پہ اب صرف آک لگتے ہیں

0
7
31
کیا میں یہ پوچھ سکتا ہوں کہ اس غزل کی ردیف کیا ہے اور قافیہ کیا ہے ؟

0
قافیہ : مشتِ خاک ، جسدِ خاک اور درد ناک وغیرہ
ردیف : لگتے ہی

0
جناب برا نہ مانیں تو عرض کروں قافیے پر کوئی کتاب دیکھ لیجیئے - جو الفاظ قافیوں میں ہم معنیٰ ہوتے ہیں وہ قافیے کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ ردیف کا حصہ بن جاتے ہیں -
یاد رکھیں قافیہ کا تعین مطلع سے ہوتا ہے - آپ کا مطلع ہے
مجھے یہ لعل و گہر مشتِ خاک لگتے ہیں
یہ زندہ لوگ فقط جسدِ خاک لگتے ہیں

مصرع کا جو حصہ آخر میں دہرایا جاتا ہے وہ ردیف کہلاتا ہے - آپ کی ردیف ہے "خاک لگتے ہیں " کیونکہ یہ ٹکڑا دونوں مصرعوں میں ہے - لٰہذا آپ کا قافیہ جو ردیف سے بالکل پہلے کا لفظ ہوتا ہے وہ ہے مشت اور جسد
یہ دونوں ہم قافیہ الفاظ نہیں ہے - لہذا انکو آپ قافیہ نہیں بنا سکتے -

تکنیکی اعتبار سے آپ کی غزل میں کوئی قافیہ نہیں ہے اور ردیف بھی آگے جا کر بدل جاتی ہے -
لہذا یہ غزل نہیں ہوئی -

آپ کو اس سے اتفاق نہ ہو تو رہنے دیں - مگر میرا مقصد صرف یہ ہے کہ اس سائٹ نئے لکھنے والے کسی کی غلطی کو اصول سمجھ کر ویسا ہی خود بھی لکھنا نہ شروع کر دیں -

0
جناب برا نہ مانیں تو عرض کروں قافیے پر کوئی کتاب دیکھ لیجیئے - جو الفاظ قافیوں میں ہم معنیٰ ہوتے ہیں وہ قافیے کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ ردیف کا حصہ بن جاتے ہیں -
یاد رکھیں قافیہ کا تعین مطلع سے ہوتا ہے - آپ کا مطلع ہے
مجھے یہ لعل و گہر مشتِ خاک لگتے ہیں
یہ زندہ لوگ فقط جسدِ خاک لگتے ہیں

مصرع کا جو حصہ آخر میں دہرایا جاتا ہے وہ ردیف کہلاتا ہے - آپ کی ردیف ہے "خاک لگتے ہیں " کیونکہ یہ ٹکڑا دونوں مصرعوں میں ہے - لٰہذا آپ کا قافیہ جو ردیف سے بالکل پہلے کا لفظ ہوتا ہے وہ ہے مشت اور جسد
یہ دونوں ہم قافیہ الفاظ نہیں ہے - لہذا انکو آپ قافیہ نہیں بنا سکتے -

تکنیکی اعتبار سے آپ کی غزل میں کوئی قافیہ نہیں ہے اور ردیف بھی آگے جا کر بدل جاتی ہے -
لہذا یہ غزل نہیں ہوئی -

آپ کو اس سے اتفاق نہ ہو تو رہنے دیں - مگر میرا مقصد صرف یہ ہے کہ اس سائٹ نئے لکھنے والے کسی کی غلطی کو اصول سمجھ کر ویسا ہی خود بھی لکھنا نہ شروع کر دیں -

تصحیح کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ ۔
1۔ اگر مطلع کا دوسرا مصرع تبدیل کر دیا جائے تو کیا غزل تیکنکی اعتبار سے درست ہو گی ۔
2۔ برائے مہربانی قافیے پر کوئی مستند کتاب تجویز کر دیں ۔
جناب آپ کی رائے سر آنکھوں پر۔۔۔۔۔

0
جی بالکل اگر آپ دوسرا مصرع اس طرح تبدیل کریں کے کہ وہ خاک کا قافیہ ہوجائے تو پھر آپ کے باقی قافیے
ناک ٹھاک وغیرہ ٹھیک ہو جائیں گے اور ردیف آپ کی "لگتے ہیں" ہو جائے گی -
مگر فراق آپ کا قافیہ اب بھی نہیں ہوگا - یہ صوتی قافیہ کہلاتا ہے اور غزل میں اس کی گنجائش نہیں ہوتی

مگر آپ کے ہاں مطلعوں میں اکثر مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں کوئی ربط نہیں ہوتا - آپ کے مطلع دو الگ الگ بیاں ہوتے ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہوتا اور ایسا شعر دو لخت کہلاتا ہے جو شعر کا بہت بڑا عیب ہے - اسی غزل میں دیکھیں

مجھے یہ لعل و گہر مشتِ خاک لگتے ہیں
یہ زندہ لوگ فقط جسدِ خاک لگتے ہیں

بتائیے کہ لعل و گہر کے بے قدر لگنے سے زندہ لوگوں کا کیا تعلق ہوا؟ یہ شاعری کا بڑا عیب ہے اس سے بچیں

میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں کہ اگر آپ کا شعر ایسے ہوتا

مجھے یہ لعل و گُہر مشتِ خاک لگتے ہیں
کھنڈر جنوں کے مجھے تاب ناک لگتے ہیں

تب پہلے مصرعے کے لعل و گہر کی ضد کھنڈر کی صورت میں دونوں مصرعوں میں تعلق پیدا کرتی اور شعر بامعنیٰ ہوجاتا کہ انسان جب کسی جنون میں مبتلا ہو جاتا ہے تو کھنڈر جیسی بے قیمت چیز اس کے لیئے قیمتی اور دولت بے قیمت ہو جاتی ہے -


0
قافیہ سیکھنے کے لیئے آپ کو بہت کچھ آن لائن مل جائے گا لیکن اگر سہل اور آج کل کی زبان میں قافیہ سیکھنا ہے تو جناب اسامہ سرسری کی کتاب "آؤ قافیہ سیکھیں " چند سو روپوں کے عوض ان سے خرید سکتے ہیں -

0