Circle Image

آفتاب شاہ

@AFTAB

قاصد کو دیکھ کر کہا میرے حبیب نے
جیتا ہے یہ بتا کہ وہ مومن کے دور میں
کیسا عجیب یار ہے لکھتا ہے اب بھی خط
اردو سلیس لکھتا ہے رومن کے دور میں

0
3
فکر غالب کی ترا عشق ہے مومن جیسا
داغ کا چرچا بھی دن رات بہت کرتا ہے
درد کے درد کی شدت سے نا مر جائے تُو
میر کا غم بھی لیے دل میں تُو تو پھرتا ہے
روگ تجھ کو بھی کوئی لگتا ہے آتش جیسا
کون شعروں میں بتا سوز ترے بھرتا ہے

0
14
74
ہمارے گھاؤ کبھی ہم کو بھی دکھائی دیں
علاج ایسا کرو خود کو ہم سنائی دیں
کوئی طبیب بھی چارہ گری پہ راضی نہیں
مزارِ زیست پہ اب کس کو ہم دہائی دیں
مکر گیا ہے مرا یار اپنے وعدے سے
تو منصفی پہ اسے کیوں نہ ہم مٹھائی دیں

0
9
ہمارے گھاؤ کبھی ہم کو بھی دکھائی دیں
علاج ایسا کرو خود کو ہم سنائی دیں
کوئی طبیب بھی چارہ گری پہ راضی نہیں
مزارِ زیست پہ اب کس کو ہم دہائی دیں
مکر گیا ہے مرا یار اپنے وعدے سے
تو منصفی پہ اسے کیوں نہ ہم مٹھائی دیں

0
8
وہ شوخ فطرت وہ عکسِ قدرت چہک رہی تھی وہ شان والی
ملی مجھےتو ٹھٹک کے بھٹکی وہ تتلیوں کی اڑان والی
پلٹ کے دیکھا تھا اس نے مجھ کو پلٹ کے واپس وہ جا نہ پائی
ملی مجھے تو سسک کے پلٹی انا کی بیٹی وہ مان والی
بدن کے گہنوں کو جو چھپا کر ہمیشہ ملتی تھی فاصلے سے
ملی مجھے تو برس کے بہکی حیا کی ناری وہ تان والی

0
8
ہم دیوانوں کی طرح بےوجہ ہنسا کرتے تھے
ہاتھ میں ہاتھ دیے رہ میں چلا کرتے تھے
میری چاہت میں کچھ لوگ سجا کرتے تھے
سج کے سینے سے میرے روز لگا کرتے تھے
دیکھ کے جن کو اب آنکھوں جلنے لگتی ہیں
جانے والے انہی پلکوں پہ رہا کرتے تھے

0
9
ہم نے سوچا ہی نہیں تیری وفا کے بارے
تو جو بچھڑا تو اس بات پہ سوچا ہم نے
وہ جو ہاتھوں میں تھا میری لکیروں کی طرح
مٹ گیا ایسے نہ ملا کتنا ہی کھوجا ہم نے
ہم نے ہر زخمِ جگر اس کو دکھایا لیکن
نا رکا وہ نہ رکا کتنا ہی روکا ہم نے

0
10
محبت کے سفر میں آپ میرا ساتھ دیں گے کیا
رزیلوں کے نگر میں آپ میرا ساتھ دیں گے کیا
جو موسم ہو بہاروں کا پرندے لوٹ آتے ہیں
خزاؤں کے خطر میں آپ میرا ساتھ دیں گے کیا
کوئی جگنو کوئی تارا نا کوئی چاند سا درشن
محبت کے بھنور میں آپ میرا ساتھ دیں گے کیا

11
تمہارا خال بھی کیا کیا کمال کرتا ہے
شبابِ حسن سے مجھکو حلال کرتا ہے
مجھے دکھا کے وہ جلوے اپنی قدرت کے
وہ اپنے حسن پہ کتنے سوال کرتا ہے
سیاہ رات میں ڈھل کر وہ جگنو بنتا ہے
نظر میں رہتا ہے دل میں دھمال کرتا ہے

0
11
دیکھنا تجھ کو بھی اور خود سے بھی جدا رکھنا
کیسے ممکن ہے روا تجھ کو پھر خدا رکھنا
دیکھنا تجھ کو تو پھر رہنا وجد میں اکثر
اپنی نظروں کے باغیچے میں پھر سجا رکھنا
چاند سا کہنا تجھے اور دور سے تکتے رہنا
دن کو سورج میں بھی پھر دل کو لگا رکھنا

0
8
تمہارے عشق پر لڑکی مجھے حیرانی ہوتی ہے
دکھے نا وہ تو آنکھوں میں ترے ویرانی ہوتی ہے
خیالِ یار سے دل میں ترے تابانی ہوتی ہے
تری آنکھوں کی لالی عشق میں ایمانی ہوتی ہے
مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ اک سلجھی ہوئی لڑکی
دیارِ عشق کے مکتب میں کیوں مستانی ہوتی ہے

0
11
چلو ایسا میں کرتا ہوں زمانے بھرکے سارے غم
کدو میں ڈھانپ کر اپنے وجودِ حبس کرتا ہوں
تمہاری چاہ کی خاطر میں خود کو بیچ کر جاناں
خودی کو مار کر اپنی میں سوئے جرس کرتا ہوں
اٹھا لوں کیا گری پگڑی لٹی عزت کو چوکھٹ سے
یا مجھ کو دان کردو گے سوالِ ترس کرتا ہوں

0
15
پاس آؤں تو وہ کہتا ہے میرے پاس نہ آ
دور ہو جاؤں تو کہتا ہے نباض ہے تو
ہاتھ پکڑوں تو وہ ضد کو بڑھا دیتا ہے
چھوڑ دوں ہاتھ تو کہتا ہے ناراض ہے تو
سر جھکا لوں تو نظر بھر کے تکتا بھی نہیں
موڑ لوں سمت تو کہتا ہے فیاض ہے تو

0
10
آنکھ مستی میں نظارے کا بھرم رکھتی ہے
سوچ ہستی میں ستارے کا بھرم رکھتی ہے
جانے والے جو چھپانا ہے چھپا لے لیکن
خوشبو کُرتی میں دلارے کا بھرم رکھتی ہے
رنگ گالوں کا کسی سنگ نے کیا لال کیا
لالی بستی میں اشارے کا بھرم رکھتی ہے

0
6
تُو اس کو ڈھونڈ فلک میں رنگیں ستاروں میں
ملے گا دل کے چمن میں رنگیں بہاروں میں
جو اس کو ڈھونڈنے نکلا تو جگنوؤں نے کہا
وہ مندروں میں ملے گا نا اجڑی غاروں میں
تو اس کو پائے گا دل کے کسی کونے میں
ملے گا دل کے چمن میں رنگیں بہاروں میں

0
9
بیٹھ کر پاس مری جان مجھے کہتی ہے
تری پرچھائی سدا پاس مجھے دکھتی ہے
سر کو کاندھے پہ لگا کے میں اسے کہتا ہوں
تیری یادوں کی خلش روز مجھے چبھتی ہے
بیٹھ کر پاس مری جان مجھے کہتی ہے
ترے ہونٹوں کی تپش دل میں مرے رہتی ہے

0
5
بات کرتے ہوئے اتنا تُو لرزتی کیوں ہو
کاٹ کر ہونٹ بتا سر کو جھٹکتی کیوں ہو
دیکھ کر مجھ کو بتا اتنا نکھرتی کیوں ہو
دیکھ لوں غیر کو گر اس پہ بگڑتی کیوں ہو
گم نہ ہوجاؤں کہیں ایسے پکڑتی کیوں ہو
مار ڈالو گی مجھے ایسے جکڑتی کیوں ہو

0
7
تجھ سے ملتے ہی سناتا ہے ترانے کیا کیا
دل یہ پاگل ہے بناتا ہے فسانے کیا کیا
تیرے ملنے پہ شکایت کوئی کرتا بھی نہیں
نہ ملے تُو تو لگاتا ہے نشانے کیا کیا
اپنی ہستی تو تری ذات سے تعمیر ہوئی
دل تجھے دیکھے تو مانگے ہے نہ جانے کیا کیا

0
5
وصل نعمت ہے تو پھر دل کا یہ چبھنا کیسا
دل میں پچھتاوا ہے کیوں دل کا یہ کڑھنا کیسا
سحر غم خوار ہے تو شمس بلکتا کیوں ہے
آنکھ پرنم ہے یہ کیوں دل کا یہ بجھنا کیسا
دل ہے گر تیرا تو پھر سوچ پہ پہرا کیسا
روز اشکوں سے مری سوچ کو پڑھنا کیسا

0
11
کوئی سوتا ہے تان کے دنیا کوئی طعنے پر جاگ جائے ہے
کلمہ پڑھتا ہے کوئی سولی پر کوئی رستے سے بھاگ جائے ہے
کوئی تنہا ہے سب میں ہو کر بھی کوئی بنتا ہے چاند محفل کا
پاپی دنیا میں تھوڑا جینے کو جوگی الاپتا راگ جائے ہے

0
7
سہیلیوں میں کھڑی وہ جدا سی لگتی ہے
خدا نہیں ہے مگر وہ خدا سی لگتی ہے
خدا سا کہنے سے کچھ لوگ روٹھ جائیں گے
مگر یہ سچ ہے مجھے وہ ہدیٰ سی لگتی ہے
عطا ہے وہ جو مری زندگی کا حاصل ہے
زمانے بھر میں مجھے وہ دعا سی لگتی ہے

0
10
ملایا ہاتھ جو تو نے کہا میں نے اجازت ہے
چھڑایا ہاتھ جو تو نے کہا میں نے اجازت ہے
کہا میں نے اجازت ہے محبت میں شرارت کی
چبایا ہاتھ جو تو نے کہا میں نے اجازت ہے
مٹایا تم نے مہندی کو کہا تم کو اجازت ہے
سجایا ہاتھ جو تو نے کہا میں نے اجازت ہے

0
19
میں ہوں صدائے مصطفیٰ میں ہوں امامِ حسینؓ
میں ہوں نوائے مصطفیٰ میں ہوں امامِ حسینؓ
میں ہوں ردائے مصطفیٰ میں ہوں امامِ حسینؓ
میں ہوں عطائے مصطفیٰ میں ہوں امامِ حسینؓ
میں ہوں وفائے مصطفیٰ میں ہوں امامِ حسینؓ
میں ہوں رضائے مصطفٰی میں ہوں امامِ حسینؓ

0
9
میں ہوں حسینی دل ہے خادم حسینؓ کا
کرتا ہے عشق میرا ماتم حسینؓ کا
رویا نہیں کبھی جو قتلِ حسینؓ پر
مجرم ہےمصطفیٰ کا آثم حسینؓ کا
لڑنا ہے گر تجھے جو شکلِ یزید سے
بننا پڑے گا تجھ کو لازم حسینؓ کا

0
13
میری نامہ بر، میری جانِ جاں یہ لکھا تھا تم نے شرط سے
میرا مرنا بھی تیرے عشق میں میرا جینا بھی تیرے ربط سے
میرا ہونا بھی تیرے نام سے میرا کھونا بھی تیرے ہجر سے
میرا ہنسنا بھی تیری ذات سے میرا رونا بھی تیرے ضبط سے
میرا سونا بھی تیرے ساتھ سے میرا کھانا بھی تیرے ہاتھ سے
میرا دکھنا بھی تیری آنکھ سے میرا سپنا بھی تیرے ارط سے

0
2
15
اس کے بگڑے ہوئے لہجے سے مجھے لگتا ہے
گھر کے بٹوارے پہ اب خون خرابہ ہوگا
باپ تو جا بھی چکا ایسا مجھے لگتا ہے
ماں کو رکھنے پہ بہت شور شرابہ ہوگا

0
7
یہی آس ہے تو جڑی رہے یہ چراغ ہے تو جلا رہے
جو خزاں بھی ہو تو مرے خدا یہ چمن تو یونہی کھلا رہے
مری ذات سے تری ذات کا جو ازن ہے وہ کبھی کم نہ ہو
مرے عشق کا مری چاہ کا جو شجر ہے یونہی ہرا رہے
اسی ارضِ پاک پہ کٹ مروں نہ یہ سر جھکے نہ یہ دل ڈرے
یہ فنا ہی میری بقا بنے عَلم اونچا اس کا سدا رہے

11
منجمد خون میں شعلہ سا سلگتا کیوں ہے
چارہ گر دیکھ ترا مجنوں تڑپتا کیوں ہے
اپنی رعنائی پہ اتنا تُو اکڑتا کیوں ہے
رنگ باتوں کا حسیں لہجہ بدلتا کیوں ہے
دل کا دریا بھی روانی میں کہیں رک سا گیا
پھر بتا آنکھوں میں دریا یہ ابھرتا کیوں ہے

0
13
جو حیاتِ تلخ سے رو پڑا وہی تیرا عاشقِ زار تھا
جو رفیق تھا جو عتیق تھا وہ جو زخمِ دل سے فگار تھا
دلِ مضطرب سے تھے آشنا جو رہے سدا مرے مہرباں
وہ جو پاس تھا تو سراب تھا جو وہ دور تھا تو سیار تھا
تمہیں کیا بتاؤں کہ کیا ہوا رگِ جاں پہ تیر جو آ لگا
نہ تو ہجر تھا نہ فراق تھا مرا دل تو اس پہ نثار تھا

0
2
62
وفا کی باتیں وفا کے قصے کہو گے تم جو تو دل دکھے گا
جفا کی باتیں جفا کے قصے کہو گے تم جو تو دل جلے گا
تمہیں سے منسوب ہیں جفائیں تمہیں سے منسوب ہیں خطائیں
خطا کی باتیں خطا کے قصے کہو گے تم جو تو دل بجھے گا
مجھے اٹھایا جو تم نے در سے بھٹک بھٹک کے بھٹک گیا میں
عطا کی باتیں عطا کے قصے کہو گے تم جو تو دل ڈرے گا

0
2
118
تُو نصاب ہے مرے عشق کا تجھے میں پڑھوں گا سکون سے
تُو کتاب ہے مرے بخت کی تجھے میں لکھوں گا سکون سے
تُو نقاب ہے مرے درد کا تُو مرے وجود کا ساز ہے
تُو گلابِ حسن کا روپ ہے تجھے میں چنوں گا سکون سے
تُو یقین ہے مری سوچ کا تُو خیال ہے مرے ربط کا
تُو شباب ہے مرے وصل کا تجھے میں تکوں گا سکون سے

0
7
انوار ترا، سرکار ترا دل روشن وہ سردار مرا
دلدار مرا، وہ یار مرا دل روشن وہ گلزار مرا
زردار مرا، زنگار مرا اس نگری کا اظہار مرا
پرکار مرا، پرخار مرا چت روشن وہ حقدار مرا
ازکار بھی وہ، افکار بھی وہ اس گلشن کی چہکار بھی وہ
اقرار مرا، وہ پیار مرا من روشن وہ گلدار مرا

0
14
ساحل پہ بیٹھ جاؤ مجھے دور جانا ہے
پیچھے نہ میرے آؤ مجھے دور جانا ہے
لگنے دو مجھ کو زخم رہِ عشق میں ابھی
رسنے دو میرے گھاؤ مجھے دور جانا ہے
لہروں کو زندگی سے شرابور ہونے دو
لگنے دو میرا بھاؤ مجھے دور جانا ہے

0
13
شورش ہے بزمِ عشق میں مہکی ہے یہ زمیں
ہوتا ہے میری آہ سے شہپر بھی دیدہ بیں
نجمِ جہاں سے آج بھی جلتا ہے گلستاں
آہو کی چشم زینتِ رونق ہے گریہ دیں
وحدت عیاں ہے ذرے میں سودائے جستجو
غنچہ ہے گل کا خار تو گل ہے ترا مکیں

14
چلو آؤ رکھ دیں اناؤں کو کسی اجنبی سی منڈیر پر
درِ یار عشق کو روک لیں پسِ پشت رکھ دیں خطاؤں کو
چلو آؤ باندھ لیں ہجر کو غمِ دلبری کے مقام سے
جہاں بات ہو مرے عشق کی پسِ مرگ رکھ دیں جفاؤں کو
چلو آؤ یاد کی دھند کو یوں بکھیریں اپنے وجود پر
کریں یاد چہرہ وہ دلربا کریں یاد اس کی وفاؤں کو

0
15
جو دل میں رہتے تو جان میری ہمیں نہ فکرِ ثواب ہوتی
نہ خواب آنکھوں میں سوتے جگتے نہ زندگی یوں عذاب ہوتی
ہوئی ہے الفت یوں تم سے ایسے کوئی پکارے خدا کو جیسے
نہ دل لگاتے نہ چوٹ کھاتے نہ فکرِ آخر خراب ہوتی
جو آپ کہتے بتاؤ مجھ کو صلہ بھی دو گے مری وفا کا
میں دل کو رکھتا ہتھیلیوں پر تو جان میری گلاب ہوتی

17
مرید بیچے مزار بیچا جو بچ گیا تو ثواب بیچا
عجب مداری ہیں پیر میرے جو بچ گیا تو عذاب بیچا
سیاہی بیچی جو تختیوں کی تو ٹاٹ چوکھٹ سکول بیچا
حروف بیچے علوم بیچے جو بچ گیا تو نصاب بیچا
معلموں کو فروخت کر کے معلمی کا شعور بیچا
فنون گر جو گلی میں آئے تو نام افضل کتاب بیچا

10
مرید بیچے مزار بیچا جو بچ گیا تو ثواب بیچا
عجب مداری ہیں پیر میرے جو بچ گیا تو عذاب بیچا
سیاہی بیچی جو تختیوں کی تو ٹاٹ چوکھٹ سکول بیچا
حروف بیچے علوم بیچے جو بچ گیا تو نصاب بیچا
معلموں کو فروخت کر کے معلمی کا شعور بیچا
فنون گر جو گلی میں آئے تو نام افضل کتاب بیچا

0
17
ترے ہونٹ کھلتے گلاب ہیں تری آنکھ محشرِ راز ہے
ترا حسن سازِ حیات ہے ترا مکھ وجود کا آز ہے
تری زلف شب کی ہے چاندنی ترا روپ رنگِ بہار ہے
ترا تل ہے گال کا تمتما ترا گال حسن کا ساز ہے
ترا لفظ لفظ ہے خاص تر تری بات عشق کی چاشنی
تری دلکشی ہے سرورِ جاں تری چال چال کا قاز ہے

0
48
رکی ہے سانس تُو آئے تو چل پڑے جاناں
بجھی ہے زیست تُو آئے تو دل جلے جاناں
رگوں میں خون کی گردش بھی شور کرتی ہے
گھٹی ہے چیخ تُو آئے تو غم دھلے جاناں
میں زہر پی جو چکا حکم تھا ترا جاناں
پھنسی ہے جان تُو آئے تو حل ملے جاناں

0
16
نغمہ جبریل سنا تو ازن ہوا باغِ ارم
جسمِ اطہر کو چناتو ازن ہوا باغِ ارم
خود کو بےرنگ کیا تو ازن ہوا باغِ ارم
خود میں انوار دکھا تو ازن ہوا باغِ ارم
مثلِ مضمون ہوا سجدہ ہوا ساز بجا
شوقِ بلبل جو چڑھا تو ازن ہوا باغِ ارم

0
59
بازو پکڑا جو مرے دل نے تری دھڑکن کا
تری دھڑکن نے مرے کان میں سرگوشی کی
سانس رکنے لگی جذبات کی تنہائی میں
نبض بڑھنے لگی تب عالمِ مدہوشی کی
آنکھ نے گال کے ہونٹوں پہ جو رکھا غازہ
ہوس بڑھنے لگی تب آنکھوں میں مے نوشی کی

0
9
بازو پکڑا جو مرے دل نے تری دھڑکن کا
تری دھڑکن نے مرے کان میں سرگوشی کی
سانس رکنے لگی جذبات کی تنہائی میں
نبض بڑھنے لگی تب عالمِ مدہوشی کی
آنکھ نے گال کے ہونٹوں پہ جو رکھا غازہ
حوس بڑھنے لگی تب آنکھوں میں مے نوشی کی

0
7
کتنے گرے اٹھا دیے تیرے نقاب نے
کتنے اٹھے جھکا دیے تیرے جواب نے
پلو کو تھام رکھا ہے ناز و ادا کے ساتھ
سنبھلے ہوئے گرا دیے تیرے حجاب نے
کاجل لگا لیا ہے جو آنکھوں میں یار نے
غازے کا رنگ پی لیا کالے گلاب نے

0
8
تمہیں کیا پتہ مری سوچ کا مرے عشق کا مرے پیر کا
جو تُو جان لے تو نا نام لے کسی لیلیٰ، مجنوں یا ہیر کا
تمہیں کیا پتہ مرے زخم کا مرے دردِ دل کا یا ہجر کا
جو تُو جان لے تو نا نام لے کسی جوگی، سنت، فقیر کا
تمہیں کیا پتہ مری رات کا مرے صبح و شام کے روگ کا
جو تُو جان لے تو نا نام لے کسی آنسو، اشک یا نیر کا

0
35
شعر لکھنا ہے تو ہستی کو مٹانا ہوگا
خود کے شاعر کو کئی بار رلانا ہوگا
داد ملتی ہے کہاں شعر کو لکھ رکھنے سے
اس زمانے میں اسے دف پہ بجانا ہوگا
داد کے واسطے کچھ دوست بھی اب لازم ہیں
داد لینی ہے تو پھر ہاتھ ملانا ہوگا

23
(خوار ہوئے ہم گلیوں گلیوں سر ٹیکے دیواروں سے)
بھیک ملی عزت والوں کو آج کے ٹھیکے داروں سے
رستہ رستہ نگری نگری آنکھیں دید کو ترس گئیں
کہنے کو یہ جنگل بیلے بھرے ہے میرے پیاروں سے
لہو کا رشتہ پھیکا لاگے پھیکن لاگن لوگ تمام
دل کا رشتہ دل پرچا لے دل میں بیٹھے یاروں سے

0
17
ہم نے سوچا ہی نہیں تیری وفا کے بارے
تو جو بچھڑا تو اس بات پہ سوچا ہم نے
وہ جو ہاتھوں میں تھا میری لکیروں کی طرح
مٹ گیا ایسے نہ ملا کتنا ہی کھوجا ہم نے
ہم نے ہر زخمِ جگر اس کو دکھایا لیکن
نا رکا وہ نہ رکا کتنا ہی روکا ہم نے

0
11
اجڑے ہوئے دیار کے اجڑے ہوئے مکیں
یہ شہرِ لامکاں ہے یا ہے شہرِ لا مکیں
عابد بھی گمشدہ ہے تو زاہد بھی ہے پرے
ایسی وبا چلی ہے کہ ڈرنے لگی زمیں
تیرے وجود سے ہی تو روشن ہے اسکا عکس
اور عکسِ حسنِ یارِ سے کتنا ہے وہ حسین

0
23
تیرے لیے تلاشے میں آسمان سات
مانی کسی زمیں نے میری نہ کوئی بات
روٹھا زمانہ سارا دشمن خدا ہوا
پکڑا جو تیرا پلو پکڑا جو تیرا ہات
کیسے گزاروں گا میں تجھ بن لعین دن
کیسے گزاروں گا میں تجھ بن یتیم رات

0
6
جذبے بیمار ہوں تو سجدے قضا ہوتے ہیں
لفظ بے کار ہوں تو چہرے سزا ہوتے ہیں
رشتے لاچار ہوں تو پہرے روا ہوتے ہیں
اپنے دلدار ہوں تو پاسِ وفا ہوتے ہیں
خوشے برباد ہوں تو راز خطا ہوتے ہیں
پودے خوش رنگ ہوں تو یادِ صبا ہوتے ہیں

0
18
ظفر پہ مائلِ دل میرا رختِ شام ہوا
ستم کشی کی اسیری میں سمتِ شام ہوا
فراقِ یار کی خوشبو نے شورِ جولاں کو
فشارِ ضعف میں ڈھالا تو رفتِ شام ہوا
جگر خراش ہوا دل تو بے مزہ نہ ہوا
چٹک کے غنچہِ دل میرا دستِ شام ہوا

0
32
جو میرے ساتھ چلنا تھا مجھے اپنا بنا لیتے
بنا کر نقش جھومر کا جبیں پر تم سجا لیتے
مجھے بانہوں میں بھرتے اور سینے سے لگا لیتے
بناتے پھول جو مجھ کو تو بالوں میں لگا لیتے
مجھے پوروں میں اپنی مشک کی مانند بھر لیتے
لگاتے ہاتھ ہونٹوں پر تو سانسوں میں بسا لیتے

0
22
میں قتیل ہوں میں فراز ہوں میں تو اپنے عہد کا خواب ہوں
میں تو میر ہوں میں نظیر ہوں میں ادب پہ رکھا گلاب ہوں
میں ارسطو ہوں میں ہی نقد ہوں میں ادب پہ اترا شہاب ہوں
جو قلم کو رکھتا ہے تیغ تر مجھے ملیے میں وہ عُقاب ہوں
میں ادیب ہوں میں نقیب ہوں میں ادب پہ رکھی صلیب ہوں
میں ہی حرف ہوں میں ہی لفظ بھی میں ادب پہ اتری کتاب ہوں

0
88
میری ہستی سے ہرگز نہ کنارہ کرنا
ڈوبتے لمحے کبھی مجھ کو نہ اشارہ کرنا
ڈھلتے سورج میری یاد دبے پاؤں سے
آ بھی جائے تو اس کا نہ نظارہ کرنا
خود ہی مرنا مگر مجھ سے نہ توقع رکھنا
رابطہ کرنا مگر مجھ سے نہ دوبارہ کرنا

0
21
اینٹ سے گارے سے نہ ہی کچھ قالینوں سے
گھر تو بنتا ہے میری جاں چند مکینوں سے
ہجر سے وصل سے ملنے کے چند مہینوں سے
کشتیاں ڈوب کے ملتی ہیں چند سفینوں سے
درد سے داغ سے غم کے چند قرینوں سے
میرا تو ربط ہے غم کے انہی دفینوں سے

0
14
تیری چاہت نے دکھائے کتنے خواب مجھے
ٹوٹے جب خواب ملے دکھ بھی بے حساب مجھے
بہا کے لے گئے آنکھوں کے یہ سیلاب مجھے
اب تو لگتا ہے مٹا دیں گے یہ عذاب مجھے
تیری آنکھوں کی قسم تم پر ہی تو سجتا ہے
دبا کے ہونٹوں کو اترا کے دینا خطاب مجھے

0
10
وفائیں بھی ضروری ہیں جفائیں بھی ضروری ہیں
مری جاں عشق میں تیرے سزائیں بھی ضروری ہیں
کبھی پردہ کبھی چلمن کبھی ہے دل لگی کوئی
تڑپنے سے بچھڑنے تک ادائیں بھی ضروری ہیں
پکارو گے بلاؤ گے ہمیں ڈھونڈو گے تم ہر سو
کسی کو پا کے کھونے کی خطائیں بھی ضروری ہیں

0
21
جہاں جہاں سے میں گزروں تجھے صدائیں دوں
میں تجھ کو یاد کروں تجھ کو میں دعائیں دوں
ملے پتہ جو مجھے یار کا تو پھر یارو
میں اس کے ہاتھوں کو چوموں اسے قبائیں دوں
میں حسرتوں کو کسی روز گھر میں دعوت دوں
میں ماروں باندھ کے سب کو انہیں سزائیں دوں

0
22
نظروں سے گِر گیا تو اُٹھایا نہیں گیا
مجھ سے وہ روٹھا شخص منایا نہیں گیا
اشکوں کو جس نے آنکھ کا زیور بنا دیا
آنکھوں کی چلمنوں سے ہٹایا نہیں گیا
ٹوٹا جو ایک بار تو حسرت ہوئی تمام
مجھ سے دوبارہ دل بھی لگایا نہیں گیا

0
18
اوڑھ کر شال تری یادوں کی گھر جاتا ہوں
گھر نہ جاؤں تو سرِ راہ بکھر جاتا ہوں
سرد موسم کے تھپیڑوں سے جو نخلِ گل پر
چوٹ پڑتی ہے تو کچھ اور سنور جاتا ہوں
حسن والوں کا تو دیتا ہوں ہمیشہ پہرہ
وادیِ عشق میں بےلوث اتر جاتا ہوں

0
18
مجھے اوزان سمجھا دو ادھورا اک میں شاعر ہوں
مجھے بحروں میں لپٹا دو ادھورا اک میں شاعر ہوں
مجھے بس اتنا سمجھا دو یہ ارکانِ غزل کیا ہیں
مجھے قانون بتلا دو ادھورا اک میں شاعر ہوں
مجھے حافی ہی سمجھو تم مجھے زریون تم سمجھو
مجھے محفل میں بھجوا دو ادھورا اک میں شاعر ہوں

0
20
(یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا)
یوں ہی شکوہ بڑھتا رہتا جو تُو میرا یار ہوتا
ترے در کو چومتا میں ترے در کا ہوکے رہتا
تجھے اوڑھتا میں خود پر جو تُو بے قرار ہوتا
تری سانس بن کے جیتا ترے ہجر میں تڑپتا
جو تُو مجھ سے روٹھ جاتا میں بےاختیار ہوتا

0
27
کنواں بھرا ہے مگر یارو اس میں پانی نہیں
علم گری ہے عجب جس میں کوئی معنی نہیں
عجیب لفظ ہیں جن سے حروف جلتے ہیں
عجب کتاب ہے جس میں کوئی روانی نہیں
خرد کو دیکھ کے اکثر گمان ہوتا ہے
ضعیف عقل ہے جسکی کسی نے مانی نہیں

0
15
فتور نظریں، گماش عادت، سحاب نیناں، رقیب قربت
حسین چہرہ، نگین رنگت، سبین خوشبو، نصیب قربت
یقین کامل، طریق افضل، مزاج راحت، حیات افضل
سفیرِ چاہت، کتابِ الفت، سرورِ نغمہ، نجیب قربت
کمرستائش ،مثال ابرو ، ذقن قیامت، بدن کرشمہ
وجود چندا، قدم مبارک، حسن جمالی، عجیب قربت

0
102
مرے ہم نوا یہ جو درد ہے یہ عطا ہے میرے رفیق کی
نہ میں جی سکوں نہ میں مرسکوں یہ دعا ہے میرے شفیق کی
یہ جو چاند ہے ترا عکس ہے یہ جو نور ہے تری روشنی
تُو ہی حور ہے تُو ہی اپسرا تو مثال رشکِ عقیق کی
ترے در پہ جھکنے کو جی کرے مرا دل تو تجھ کو خدا کہے
تُو خدائے دل تو خدائے جاں تُو صدا ہے دلِ رقیق کی

0
20
ہجر میں مرتے ہیں نہ وصالوں سے مریں گے
ہم جیسے خطا کار بہانوں سے مریں گے
عشق میں مرتے ہیں نہ وچھوڑوں سے مریں گے
ہم جیسے جہاں والے رواجوں سے مریں گے
علم سے مرتے ہیں نہ جوابوں سے مریں گے
ہم جیسے کئی لوگ سوالوں سے مریں گے

0
15
رنگ کالا تھا میرے بالوں کا
چاندی اتری ہے تیرے جانے سے
زرد موسم تھا دل کے پتوں کا
سبزہ اترا ہے تیرے آنے سے
غزل اتری ہے تیری سنگت میں
مصرعہ سوجھا ہے تیرے گانے سے

0
27
گداز تکیہ تمہاری بانہیں نشیلی آنکھیں لسانِ قدرت
خطوط شب کے لٹیں ہیں تیری بدن کی خوشبو زبانِ قدرت
قدم اٹھانا غضب قیامت، کمر کا حلقہ مقامِ حیرت
صراحی گردن سوالِ رفعت وجود رقصاں اڑانِ قدرت
جمال تیرا کرشمہ رب کا حسین رنگت عطائے فطرت
لبوں کی لالی گلاب جیسی بھنور ذقن کا مکان قدرت

0
30
سنوار دے جو نکھار دے جو اسی کو سفرِ تُو لام لینا
جلا دے دل کو بجھا دے دل کو نہ عاشقی کا وہ بام لینا
تمہارے ہاتھوں پہ دل بنانا بنا کے دل کو لگانا دل پر
اسی پہ ہنسنا اسی پہ رونا اسی سے ہستی کی شام لینا
نظر ملانا مجھے ستانا پلٹ کے تیرا نظر چرانا
نظر چرا کے دوبارہ تکنا دوبارہ تک کے سلام لینا

0
17
قید میں رسموں کی جکڑے ہیں دیوانے کیسے
بند ہیں خواب کواڑوں میں بیگانے کیسے
دل یہ کہتا ہے تیرے ساتھ ہی چلتا جاؤں
وصل کے آتے ہیں مجھے یاد زمانے کیسے
ہجر میں کون تجھے پہلی سی محبت بانٹے
جائے گا دل یہ بھلا تجھ کو منانے کیسے

0
22
اس عید پہ میری جانِ جاں میں گلے سے تجھ کو لگاؤں گا
ترا ماتھا چوم کے جاں میری تھوڑی مہندی بھی لگاؤں گا
اس عید پہ میری جانِ جاں جوڑا سرخ تجھے بھجواؤں گا
اس عید پہ میری جانِ جاں تیری ڈولی میں تو اٹھاؤں گا
میں بنوں گا مجنوں پیار میں تمہیں ملنے میں چلا آؤں گا
اس عید پہ میری جانِ جاں میں تو صدقے واری بھی جاؤں گا

0
81
جو کتابِ عشق کا باب تھا وہ جلا دیا تو بھلا دیا
وہ جو سات رنگا گلاب تھا وہ ہٹا دیا تو بھلا دیا
مجھے یاد تھا جو کتاب سا جو زبر سے زیر کا پیش تھا
جو سیاق سے تھا سباق تک وہ مٹا دیا تو بھلا دیا
جسے پڑھتے پڑھتے الجھ گئی مری زندگی بھی حساب سی
جو سوال سے تھا جواب تک وہ بتا دیا تو بھلا دیا

0
20