مجھے لیڈر بنا دو نا مجھے بھی بھوک لگتی ہے
مجھے افسر لگا دو نا مجھے بھی بھوک لگتی ہے
مجھے بھی پل بنانا ہے کوئی ٹھیکہ ہی دلوا دو
زرا ان سے ملا دو نا مجھے بھی بھوک لگتی ہے
مجھے بھی دور جانا ہے بہت بیمار رہتا ہوں
کوئی پرچی لکھا دو نا مجھے بھی بھوک لگتی ہے
مجھے بھی وعدے آتے ہیں جو ہوتے ہی نہیں پورے
کوئی وردی بتا دو نا مجھے بھی بھوک لگتی ہے
مرا وعدہ ہے یارو میں کبھی نا تنہا لوٹوں گا
جھجک میری ہٹا دو نا مجھے بھی بھوک لگتی ہے
ملازم ہو کوئی یارو یا کوئی پاپڑوں والا
ہنر مجھ کو سکھا دو نا مجھے بھی بھوک لگتی ہے

0
5