Circle Image

Nasir Ibrahim Dhamaskar

@Nasir.Dhamaskar

@nasir

پیار میں دل مچل جائے ہے
آس کی آگ بھر لائے ہے
جرم کب ہے کسے چاہنا
عشق پر جان ہے وارنا
ساز چھڑ جائے ہونٹوں سے جب
رقص ہو جائے پلکوں سے جب

0
40
خدمت کے جزبہ بھی قابل تحسیں ہوتے ہیں
بدلاؤ آنے کی جو واضح پہچاں ہوتے ہیں
ہمدردی و خیر خواہی کے باعث بھی ہیں
خالق کو پانے کا بہتر ساماں ہوتے ہیں

17
عشق میں کام بن جائے حسینوں کا
تال و سر بھی ملے جب ہے نصیبوں کا
بات تو دل لگی کی ہوتی رہتی ہے
پھر بھی پژمردگی سی چھائی رہتی ہے
پھول مرجھائیں بھی تو کیا پریشانی
کھل کلی جائیں تو، ہو دور حیرانی

0
70
طائف کے سفر سے آپ جب لوٹے تھے
کتنے ہی شدید زخم تب جھیلے تھے
معراج کی شب میں پائی کیسی نعمت
مالک نے عطا کی آپ کو بھی راحت

0
41
بدلتے رہتے ہیں موسم یہاں تو
رہیں تیار بھی ہر دم یہاں تو
ہوائیں جو صبا کی مست چلتی
بدن میں تازگی بے حد بکھرتی
وفا میں گر کبھی ہو آزمائش
کرے نہ کوئی غم کی پھر نمائش

0
59
فکر امت کی سدا رہتی بھی کیسی
یوم و شب دھن اک لگی ہوتی بھی کیسی
دین کی خاطر ستم ہوئے گوارہ
نہ شکایت لب پہ کوئی تھی بھی کیسی
زندگی قربان کر دی ساری اپنی
حکم کی تعمیل جو ہوئی بھی کیسی

0
43
مدینہ میں چرچا ہوا ہے
عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے
تھے سب منتظر، دیر تک جب
یکایک جو غوغا ہوا ہے
نئے دین سے رشتہ جوڑا
عدو تلملایا ہوا ہے

0
12
116
یہ بڑھنے جو لگی اب دوریاں ہیں
ستا کیسی رہی تنہائیاں ہیں
اشاروں سے ہوجائیں حرکتیں بس
لگی جو لمس پر پابندیاں ہیں
خیالوں میں بسی یادیں ٹٹولیں
بچی بھی اس کی ہی پرچھائیاں ہیں

0
59
رسوائی مقدر نہ بنی ہوتی ہماری
یوں رنج و الم سے بھی نہ ہوتی زبوں حالی
چھڑ جائے فسانہ جو کبھی حسب روایت
پھر چشم کو تر اشک سے کر دے یہ حکایت
بھرپور زمانہ رہی تاریخ سنہری
عالم پہ بڑی دھاک بھی کیسی تھی طاری

0
51
سبق بھولا ہوا جو یاد کرنا ہے
کٹھن بھی ہو مگر ہر چند کرنا ہے
شعوری یا رہے اب بے شعوری بھی
وفاداری رہے پر کچھ تو باقی بھی
جہالت ختم گر بھی ہو سکے ہم سے
نظریہ تنگ مٹ بھی جو سکے ہم سے

0
48
امید کے دم پر مشن مریخ ہے
بڑھتے خلا سے رابطے کی چیخ ہے
محنت کڑی درکار تھی پرواز کو
سارہ نے بخشی دھن الگ ہے ساز کو
سائنس کی جو دین دنیا کو ملی
عربوں کی ہی مرہون منت جو رہی

0
47
جب بھی زمانہ میں کوئی حادثات آئے
بدلاؤ رونما بھی تب تب ضرور ہوئے
باہمت لوگ تو طوفاں سے کبھی نہ ڈرتے
بے خوف سے نڈر بن کر بے جگر ہی لڑتے
ہم کو مٹا سکے، ایسا بھی کہاں ہے ممکن
کم ظرف جو سمجھتے ہونگے سہل ہے لیکن

0
39
فرد جو کوئی سعی اور محن بھی کرے
خلق خدا کی ہمیشہ جو لگن بھی کرے
خوش نصیبی ملیگی بھی انہیں جو یہاں
داد رسا بن کے بھی وقف رہیں جو یہاں
ٹوٹے ہوئے دل کی آہوں کو سنے جلد بھی
عرش ہلا رکھ دے، پھر جو ملے تائید بھی

0
2
73
دل سے دعا جو نکلی ہے، وہ قبول ہوگی
قربانی جو دی ہے، کچھ درجہ تو اہل ہوگی
دنیا بقدر قسمت، دیں ہے بقدر محنت
آئے فہم بھی، جتنی رغبت کی شکل ہوگی
بے چین ہو رہے، بس تھوڑے ہی تو ضرر سے
بیدار ہو لے، معمولی پر یہ ڈھیل ہوگی

0
62
جب آتا ہے محبت کا دن
تڑپاتا ہے محبت کا دن
کچھ باتیں ہیں جو بھولیں کیسے
کچھ یادیں ہیں جو چھوڑیں کیسے
تحفہ اور تحائف لائیں
موسم جب بھی ملن کے آئیں

0
2
60
عبادت ہی مقصد ہے اپنا
فریضہ ہے پورا نبھانا
خطا کی بھی رکھی ہے فطرت
دے بھی بخش گر ہو ندامت
لعیں نے نافرمانی جو کی
اکڑ کر پشیمانی جو کی

0
46
عشق آساں کام سمجھے جو یہاں
بعد وہ کچھ تھوڑا سوچے جو یہاں
کاٹ کر فرہاد نے مشکل نہر
داستاں لکھ دی لہو سے جو یہاں
بزدلی تو روکتی ہے راستہ
ہار کر پھر راہ چھوڑے جو یہاں

0
48
گھڑی قبولیت کی ملنے جزبہ ہونا چاہئے
نماز پڑھنے کے لئے وضو کا رہنا چاہئے
عمل کی ساکھ کا پیمانہ ہے نیت پہ منحصر
دلوں کی کیفیت کا رخ بھی تو سنورنا چاہئے
خسارہ ہونے سے ہی قبل احتیاط برتے بھی
شئے لطیف سی رہتی، جسے نہ کھونا چاہئے

0
45
جسمانی ورزش سے بڑھتی ہے قوت
سارے اعضاء کو بھی ملتی ہے طاقت
لکھنے پڑھنے سے ہو پوری دلچسپی
کھیلیں میداں میں، جب رہتی ہے فرصت
کوشش لازم سمجھیں سپنوں کے لئے
تب جا کر ہی اپنی بنتی ہے قسمت

0
33
ربط ہر چیز میں قائم رکھا ہے
کارخانہ ہی مزین بنا ہے
عجز کو خاک سے نسبت جو ملی
انکساری کی صفت جو دیا ہے
عبدیت خاص عنایت سی رہی
بندگی وصف اجاگر کیا ہے

0
45
خدا تجھ سے ہے التجا
سہارا تو ہی ہے سدا
بکھر سے گئے ہیں یہاں
ملے ہم کو بھی آسرا
نہیں کوئی تیرے سوا
سہارا تو ہی ہے سدا

0
73
چاہت وہ جو نبھائی جائے
دل میں بھی جو سمائی جائے
سچے دوست نصیب سے ہیں
ساتھی پیارے حبیب سے ہیں
شدت غم کو غلط ہونے دے
زخموں کو مت ہرا ہونے دے

0
31
محنت مزدوری شیوہ میرا
روزی روٹی یہ نعرہ میرا
ہر دن تگ و دو لگی بھی رہتی
چاہے لو سردی جو بھی چلتی
بیوی بچوں کی فکر لاگے
ان کے سکھ کی لہر بھی جاگے

0
69
تاریکیوں میں گھر چکا تھا کل جہاں
بعثت نبی رحمت سے بدلا تھا سماں
دائی حلیمہ کی نگہداشت ملی
حالت یتیمی میں بھی کیں مخلص نگاں
کمزور سی وہ اونٹنی فربہ ہوئی
بچپن سے ہی فطرت رہی کیسی رساں

0
44
تعلیم سے جب روشناسی ہوتی ہے
تب ہی جہالت دور ہونے لگتی ہے
کر چاک پردے، اٹھ کمر باندھ ذرا
پھر سے لہر کی آس اندر بھرنی ہے
گھر گھر بہشتی نور زیور یہ سجے
پھر کچھ کمی ہو تو نبھا بھی لینی ہے

0
45
تول بھی تڑپ کا مگر کرے
کون ذی فہم یہ بتا سکے
شوق ہی ذریں دین ہے بڑی
مول کر نہ پائے، کبھی اسے
جستجو نہیں، کچھ شئے نہیں
چاہ ہو لئے، راہ بھی ملے

0
60
کیسے رخصت ہوۓ تھے بے التفاتی سے
یادوں میں پھر بھی ہے بسے، جو ہوئے
نہ جانے کون سی خطا ہوئی تھی
کتنے ناراض ہو گئے، پر چلتے
عادت مجبور کر رہی تھی ورنہ
اتنے بھی ہم نہ بے تکلف ہوتے

0
2
64
محبت دل میں جب گہری ہو جاتی ہے
اثر اپنا دکھانے تیز لگتی ہے
چمن میں منڈلاتے جا بجا بھنورے
کلی جب مسکراہٹ بھی بکھرتی ہے
تبسم خیز شوخی نے کشش بھر دی
ادائیں خوب چنچل سی بھی لگتی ہے

0
45
رہتا جینا پل دو پل کا
بس نہیں اپنا بھی چلتا
ہم کھلونے کے موافق
گھومتے ہیں ارد کیسا
چابی جتنی ہی بھری ہو
دوڑ اتنی ہی لے سکتا

0
45
دل سے دل کا ملن ہو رہا ہے
پیار دھیرے سے بزھنے لگا ہے
منتظر ہوں زمانہ سے بھی میں
صبر بے حد ترش ہو چلا ہے
ہنس کر ٹالنے کی بھی عادت
پر جگر تھام لے، کچھ سنا ہے

0
38
جوش بھرتا ہوا، یوم جمہوریہ
آس لاتا ہوا، یوم جمہوریہ
جگمگائے ترنگا فضا میں بلند
خوشی میں ڈوبتا، یوم جمہوریہ
دھوم مچتی رہی ہر طرف بھی مگر
رنگ بھرتا ہوا، یوم جمہوریہ

0
33
کتنی تکلیفوں سے آزادی ملی ہے
درد، کوفت سے بھری یاد رہی ہے
ان شہیدوں کی بھی قربانی اہم تھیں
آنسو بھی آنکھ میں آنے سے نمی ہے
انگریزوں کی غلامی سے پریشاں
کاوشوں سے یہ بھی زنجیر ہلی ہے

0
79
لب دعا گو ہیں سدا
شکر رب کا ہو ادا
رنج سے دوری رہے
راج سکھ کا ہو فدا
گر مصیبت آئے بھی
میں کروں حاصل رضا

0
56
میکدہ جب چھلک پڑے ہیں
جام پر جام پھر سجے ہیں
بادہ خوری کی لت بھیانک
خوب بیخود سے رہے ہیں
گر نشہ یہ زیادہ بولے
لڑکھڑا کر بھی تب گرے ہیں

0
45
حفاظت میں سرحد کی کرتا
یہ وردی جو ہے اس پہ مرتا
رہوں فرض پر قائم اپنے
عہد کے لئے جان دیتا
کبھی چین سے سو سکوں کب
فقط صرف پہرہ ہی رہتا

0
55
سب کی آس ہوں
ہاں میں خاص ہوں
گھر کا کام بھی
کرنے پاس ہوں
مہماں یا بچے
بنتی سانس ہوں

0
79
گاجر لے لو، مولی لے لو
لے لو لے لو، ککڑی لے لو
تازے تازے بیگن لے لو
لے لو دھنیا مرچی لے لو
کیلا، چیکو یا کوئی پھل
سستا داموں، سبزی لے لو

41
ملنا ملانا خوب مشکل سا مگر
مجبور سے ہوں تو کٹھن کتنا مگر
جب دوریاں پہلے ہی تھیں موجود تو
کیا پوچھنا پھر حال اب اس کا مگر
بڑھتی محبت ہے تحا ئف سے بے حد
اظہار کا کوئی طریقہ سا مگر

0
40
موسم بہار کے بھی کبھی رہتے
ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کبھی چلتے
چھائے اداسی غم کی دلوں میں گر
امید کے سہارے کبھی جیتے
مسکان دوڑتی یہ لبوں پر ہے
جب خوشگوار لمحہ کبھی آتے

0
43
گپ شپ تو بہت ہوتی
 پھر بھی یہ خلش رہتی
 گر ہاتھ ملائے تو
 الفت کو جگہ ملتی
 نفرت پہ کبھی مت چل
 دل میں یہ پھٹن لاتی

0
48
موت تو ایک دن آنی ہی ہے
زندگی جو ملی، فانی ہی ہے
شخص وہ ہے عقلمند و دانا
جس نے کچھ فکر کی ٹھانی ہی ہے
بعد پچھتانے سے ہو بھلا کیا
جان کر کی بھی من مانی ہی ہے

0
64
پیارا یہ اسم ہے محمد
شیریں یہ نام ہے محمد
لاکھوں ان پر درود پڑھنے
با برکت نام ہے محمد
رحمت تھے عالمین کے یہ
تابندہ نام ہے محمد

0
58
نکاح میں ہے پاکیزگی چھپی
حیا، شرافت، شائستگی چھپی
فریضہ ہو یہ احکام پر ادا
مطابقت میں ہے بندگی چھپی
نہ صرف سنت کا پاس ہو ہمیں
رہے بھی رسموں میں سادگی چھپی

0
43
دھن دولت کے کیا کہنے
بن فن کے بھی مل جانے
روزی روٹی کی فکریں
رہتی ہیں اکثر ٹلنے
جب ہو محنت کی خواہش
راہيں لگتی ہیں کھلنے

0
32
دن قیامت کے بھی نزدیک آتے ہوئے
اب نشانی کی جھلک بھی پاتے ہوئے
کبریٰ ساری تو علاماتیں بیشتر
کس طرح پوری بھی ہوتی جاتے ہوئے
گر بکھر جائے کبھی شیرازہ یہاں
کب تلک بیدار سے ہم ہوتے ہوئے

0
46
محبت سے چمن سارا یہ مہکے
بہاروں سے گلستاں خوب پھولے
حسیں منظر بکھیرے حسن دلکش
ادائیں شوخ کیسی سحر کر لے
کلی بھی مسکراتے ساز چھیڑے
یہ بھنورے بھی لپک کر ساتھ مچلے

2
64
مقدر کئی موڑ لاتی
ڈگر پر کہاں چھوڑ جاتی
بنا دکھ کسے چین ملتا
کہانی یہی سب کی رہتی
کبھی نیک بختی رہے تو
کبھی یہ بری سمت چلتی

0
43
قرآن زندہ معجزہ ہے
برحق نوید رمزیہ ہے
شہرہ عرب میں شاعری کا
رب کا نرالہ قاعدہ ہے
مکہ مدینہ میں نزول تھا
گزرا طویل مرحلہ ہے

0
56
ارض و سما کے مالک
عفو و عطا کے مالک
تعریف کروں کیسے
حمد و ثنا کے مالک
انداز نرالے سب
بحر و خلا کے مالک

74
آفتاب کی کرنیں
چیرتی پرت گزریں
کم نصیب ہیں انساں
روشنی کو بھی چھوڑیں
تا قیام ضامن بھی
خوبیاں جلا بخشیں

0
57
نور جب قمر سے آئے
فرش پر چمک ہو جائے
چہرہ بھی کھلا سا ہو
مسکرائے، خوشی لائے
سایہ دکھ گھنا ہو گر
حال بے سرا سا پائے

0
28
ایک لمحہ کی بھی رہتی خوب قیمت
قدر سے آگاہ ہو کر چھوڑ غفلت
سال یوں ایسے گزرتے ہی رہینگے
بن محاسب، کام میں ہو ہوش و عجلت
بیت جائے وقت نہ پھر ہاتھ آئے
بس عبث بیکار باتیں اور حیرت

0
46
صدیوں سے دہرائے جاتے ہوئے
شیریں، نازک لب بھی پڑھتے ہوئے
اردو داں نہ بھولیں ان کی خدمت
الفاظوں سے من میں چھاتے ہوئے
فارس بھی، عربی کے بھی وہ ماہر
ہر فن سے لوہا منواتے ہوئے

0
35
سفینہ ہے گرداب کے درمیاں میں
رہیں پر کنارہ کے ہی سرگراں میں
یہ طوفاں بھی کیسے بگاڑے ارادے
بضد جب ہنگامہ خطر کشتگاں میں
مگن ہو مشن میں ہمہ وقت گر ہم
اضافہ مسلسل رہے کارواں میں

0
61
مدرسہ میرا بہت پیارا لگے ہے
خوبصورت اب جہاں سارا لگے ہے
کھڑکیاں، دیوار، در، کمرہ، سجاوٹ
آنگن کیسا کشادہ اور یہ ستھرا لگے ہے
طفل مکتب بن سکوں بس ایک چاہت
قوم کی خدمت کا چسکہ سا لگے ہے

0
70
جبل نور میں جلوہ آرا ہوئے ہیں
شروعات پیغام اولٰی ہو ئے ہیں
محمد رسول اللہ کا نام پیارا
خدا کے بہت برگزیدہ ہوئے ہیں
عرب تا عجم فکر یہ رنگ لائی
امڑ کر چمٹ، نام لیوا ہوئے ہیں

44
خوشیوں سے بھرتا نیا سال مبارک
جزبوں کو لاتا نیا سال مبارک
نیک کیسے یہ ارادے بھی رہے ہیں
ہمتیں دیتا نیا سال مبارک
وائرس ایک عجب داستاں چھیڑے
قید میں رکھتا نیا سال مبارک

0
69
مبارک نیا سال آیا
تمنا، مرادیں بھی لایا
گلہ شکوہ رکھ کر کنارے
ملن، آرزو کو جگایا
دئے، شمع روشن ہوئے اب
اجالہ سے گھر جگمگایا

0
49
نگاہ مخمور جب ہو جائے
غموں میں تھوڑا سکون آئے
سعی سے اپنے عمل سدھارے
ہمیشہ رونق، مہک سجائے
بدن تھکائے، کبھی نہ ہارے
پرند جیسے لہو کو گرمائے

63
اہنسا کا پجاری بن سکے تو گال بدلے گا
نہیں امکان پھر مجبور ہو کر چال بدلے گا
کبھی سنتے شہر کا نام اب تبدیل ہو جائے
کیوں نہ پھر رنگ چہرے پہ تھوڑا لال بدلے گا
بتنگڑ بھی بڑا اک مسئلہ ہے جو سلجھ جائے
بپا ہو واقعہ سنگین تب ہی حال بدلے گا

64
بتائیں کیسے بیتا گزرا سال
ہر سو کہرامی مچتا گزرا سال
ادنی اعلی سب ہی ششدر ہوتے
آخر یہ حیراں کرتا گزرا سال
آمد کی تیاری برسوں سے تھی
لمحوں میں پھیکا پڑتا گزرا سال

0
47
صداقت کا یہ ایسا نور چھایا
ہدایت کی فضا میں یہ نکھرتا
جہاں سے مٹ گئی تاریک رسمیں
اندھیرا بھی اجالے میں سمٹتا
نبی نے جانفزا مژدہ سنایا
علم توحید کا جب یہ لہرا

63
روز مرہ نت نئے حادثے ہیں رونما
چال ہو چالاک، ہشیار، پھرتیلا پنا 
ایک جانب بھوک افلاس، یہ فاقہ کشی
 تو مخالف سمت کیسا رویہ ہے بپا
 جب فضا آواز سے یاں گرجتی خوب ہی
 شہر میں ہلچل مچے، راستہ اٹتا ہوا 

0
78
مل کر سب کو کورونا سے لڑنا
کافی مشکل کی ساعت ہے بچنا
بیماری یا کوئی رب کا غصہ
عصیاں سے بھی مائل توبہ ہونا
مالک نے ہر شئے ہے ضد سے جوڑی
پر کاوش پیہم در پیہم کرنا

0
36
ساون میں کسان ہر گھڑی ہے تیار
سامان لئے رہے ہمیشہ وہ وار
جب کھیت چلے، ہوا کبھی ہو برسات
طوفان گھٹائیں اور بجلی کی مار
یہ تیز و تند کس طرح پر تکلیف
اندازہ مگر لگے نہایت دشوار

0
41
زندگی کیسی مسرت سے پور ہو
دکھ، مصیبت اور غم سے بھی دور ہو
جنم دن میرا منانے گھر پر رہوں
اہلیہ بچے سبھی رشتہ دار ہو
جب وطن سے خوب ہو لمبا فاصلہ
کیک پر پیغام لکھ دیتے یار ہو

0
34
دل میں کیسی رہتی ہے یہ الفت
کملی والے کی ایسی ہے چاہت
چڑھ کر چوٹی پر حق گویا ہوئے
بھر دی ان میں سچائی کی قوت
اول پتھر بھی عم نے ہی مارا
کب چھوڑی بھی پیغمبر نے ہمت

0
42
جب کھلاڑی پچاس تک پہنچے
ہاتھ اونچا بلند کر جھومے
نصف راحت ملے، تسلی بھی
زندگی ہی بہار سے جھولے
دیکھتا ہوں خواب تابندہ
آسماں پر کمند اب ڈالے

2
56
پیارا سا گاؤں میرا من بھاتا
پوری دنیا میں ہے کیسے چھوتا
چاہے جاؤں جس گوشہ دھرتی پر
دل ان مٹ یادوں سے بے حد کھوتا
بچپن گزرا تب گلی ڈنڈے میں
طعنہ ہارے پنچھی سے میں چڑتا

2
64
جب دل سے کوئی اچھی محنت ہو
تب ہی آگے بڑھنے کی ہمت ہو
برتاؤ خندہ پیشانی جیسا
نرمی سے گفتاری کی عادت ہو
کب زیبا بھی چڑ چڑ کرتے رہنا
معمولی سی لیکن پر حرکت ہو

45
ہے جنّت ماں کے پیروں کے نیچے
رہتی لازم مخفی خدمت پیچھے
فطرت میں ممتا کا عنصر شامل
گویا موتی سے بڑھکر ہو بچے
حاضر بن کر گہوارہ ہمت بھی
چاہے کتنے لیکن پائے کچے

51
مدینہ میں کس طرح صدا یہ گلی گلی گونجتی گئی ہے
مکان ایوب کے برابر میں اونٹنی بیٹھتی گئی ہے
بصد ادب سے سلام اصحاب کے مصمم ارادہ کو بھی
خلوص نِیَّت دلوں میں مضبوط چھاپ بھی چھوڑتی گئی ہے
قبول وحدانیت، ابھرتی شعاع اسلام کی ہی کر دیں
کرن نئے دین کی رگوں میں بہاؤ سے دوڑتی گئی ہے

0
67
پیارے صحابہ بڑی شان والے
محبت، مروت میں وہ مان والے
ہو مکہ مدینہ کہاں ساتھ چھوڑا
اشارہ نبی پر، یہ قربان والے
کبھی ہاتھ کچھ بھی نہیں پر بھروسہ
توکل بہت اور میلان والے

45
خدا عزوجل نے خوبصورت جہاں بنایا
ندی و نہریں وجود دیں، آشیاں بنایا
پہاڑ ایسے زمین پر، یوں دباؤ ڈالیں
بہت عجب کارساز کیسا سماں بنایا
پرند یہ مچھلیاں، نباتات اور حیواں
کشش بھرا سب حسیں، نہایت زیاں بنایا

0
57
یہ درد تنہائی بھی عجیب رہتی ہے
کہاں ستائش میرے نصیب رہتی ہے
بہت زیادہ تنقید جو ملی سننے
پڑوس کے گھر اب وہ قریب رہتی ہے
کبھی پرے ہٹ کر دیکھ تو ذرا لیکن
یہاں مگر جگی میں غریب رہتی ہے

0
80
دیدار در جنت بھی کر آؤں
اپنی مرادیں ساری بھر آؤں
کیسے پکڑ لیتا انگلی میں
گرتا ہوا چلتا بھی کدھر آؤں
پائیں جوانی کی ابتدا جب
مطلوب کو حاصل کر، بر آؤں

0
55
اے اللہ ہیں یہ ہر پل کیسی دعائیں میری
رہتی بہت یہ دل میں اٹھتی صدائیں میری
آئیں نہ دکھ پلٹ کر پھر زندگی میں ہرگز
گہرائی سے یہ ڈوبی ایسی ندائیں میری
ہو عام ہر جگہ کثرت سے یہاں ہدایت
کر دے معاف صدقہ رحمت خطائیں میری

0
44
سب کی خدمت میں جٹی رہتی ہوں
محنت کرتی میں بٹی رہتی ہوں
قسمت تو بنتی ہے کوشش سے ہی
کیسی کیسی میں ٹوٹی رہتی ہوں
سکھ ہو یا ہو دکھ ہر لمحہ حاضر
ہمت دیتی بھی ڈھٹی رہتی ہوں

0
34
سب کی خدمت میں جٹی رہتی ہوں
دل سے ہر اک میں بٹی رہتی ہوں
قسمت تو بنتی ہے محنت سے ہی
کیسی کیسی میں ٹوٹی رہتی ہوں

0
15
چہرہ ہی عنواں جیسا صاف رہے
بندہ ہی اپنے سے معروف رہے
دنیا ہے ساری اک میدان عمل
مقصد پر گویا کامل وقف رہے
پس پردہ جو زندہ جاوید عیاں
مالک برتر کا اعلی وصف رہے

0
57
چہرہ ہی عنواں جیسا صاف رہے
بندہ ہی اپنے سے معروف رہے
دنیا ہے ساری اک میدان عمل
مقصد پر ہی ہم پورے وقف رہے

0
17
چہرہ ہی عنواں جیسا صاف رہے
بندہ ہی اپنے سے معروف رہے

21
پیارا سا چہرہ دل میں سماتا ہوا گیا
معصوم سی ادا سے لبھاتا ہوا گیا
خدمت کی آرزو بھی پنپتی چلی گئی
آثار شوق کے یہ دکھاتا ہوا گیا
دلکش سے پھول ہیں، کھلیں تو بیشتر مگر
ہر رنگ کا الگ مزہ آتا ہوا گیا

45
سینہ میں آگ لگی ہے کیسی
درد کی ٹیس چلی ہے کیسی
عشق سے دوری ہوئی ہے لیکن
بیوفائی بھی رہی ہے کیسی
کام ہمت سے کرے گو جیسے
دیکھ پھر امر ربی ہے کیسی

0
35
چہرے پہ تب اطمینان بھر آئے
لیتے کھلونے جب گھر پدر آئے
منائے جب یوم اطفال کا دن
بچوں کے خوشیوں کی فکر آئے
رہتی ہے قلعے تعمیر کی دھن
تو ہاتھ گڈی کی ڈور آئے

0
42
تاریخ میلاد کی دلوں میں بسی ہوئی ہے
محفل درود کی ہر سو سجی ہوئی ہے
ہیں رونقیں یہاں جن کے دم سے جلوہ گر
اس ماہ مبارک کی تشریف آوری ہوئی ہے

0
35
کلیوں کا کھلنا، گلوں کا مسکرانا
بہاروں سے ایسے چمن کا لہرانا
ہو خوش دیکھ فضا باغباں بھی
یوں کاوشوں پر اپنی اسکا اترانا
ہیں خوشبوئیں ہمدم یوم و شب
سانسوں سے معطر دلکو ہے مہکانا

0
28
امتحاں حب کا لیا جا سکتا ہے
درد پر مرہم رکھا جا سکتا ہے
ہچکچاہٹ کیسی ہے یہ رہن میں
سعی سے لیکن ہٹایا جا سکتا ہے
ہو میسر منزل چاہت کی جب
راحتوں سے دل بھرا جا سکتا ہے

0
31
نماز کے اہتمام کی فکر کرنا ہے
ہر حال اس فرض کو نبھانا ہے
تعجب ہے اگر تجھے فرصت نہیں
قبل جنازہ کے ضرور پڑھنا ہے
ہوتی ہے برکت بھی حرکت میں
ہو فکر جنت تک کیسے پہنچنا ہے

0
28
علم کی پود ہر آنگن میں بڑھتی جائے
امنگ دل مردہ میں ایک بھرتی جائے
کلی کلی, گل گل, چمن چمن بہار ہو
مہک گوشہ گوشہ تیری پھیلتی جائے
بادل چھٹ جائیں مایوسی کے سارے
امید کی کرن چہارسو پھوٹتی جائے

0
34
انصاف کیلئے آواز اٹھانے کی زحمت رہیں
ڈھانا ظلم بھی نہایت ہی پر مذمت رہیں
کریں عام پیغام امن کا سر گرداں ہو کر
قائم ہونے تک سکوں جاری مزاحمت رہیں
خود خاطی پر نشانہ کیوں اوروں پر تانے
اپنے سے پردہ کر بیگانے کو ملامت رہیں

0
29
اقبال سے ہی دنیا میں روشنی ہو جائے
سخن گوئی کا شہرۃ آفاق بانی ہو جائے
گوہر کمیاب کی مثل یادوں میں بسے ہیں
شاعر مشرق کا نام سب کو زبانی ہو جائے

24
بن چراغوں کے یہ بام و در کچھ نہیں
نہ ہوں قدردان تو دیدہ ور کچھ نہیں
ٹوٹ جاتے ہیں وعدے اکثر پیار میں
بے وفائی پر بھی ششدر کچھ نہیں
موہ لیتے ہیں دل باتوں سے بہت ہی
حسن اخلاق باقی اندر کچھ نہیں

21
جب دل ہو پیش خلوص سے سامنے
کیوں نہ لگیں پھر یہاں کوئی چاہنے
بات کب ہے رہتی کسی کی زباں پہ
لگتی کہاں دیر ہے بڑے اہم راز اگلنے
اٹھا غبار ہوا کے جھونکوں سے بھی
سانسیں ہو چلی ہیں اچانک پھولنے

0
30
نہ جانے کس حال سے گزر رہا ہوں
لاشہ غم زندگی کا لئے پھر رہا ہوں
رہے جھیلتے دکھ مسلسل بہت ہی
آزما نشانہ پر نت نئے تیر رہا ہوں
مرنا ہے تو ڈرنا اب کس بات سے
گھٹ کر جب کہ یوں مر رہا ہوں

0
32
قدرت تیری ذرہ ذرہ میں روشن ہے
رحمت تیری ہر طرف سائہ فگن ہے
رہتی ہے محبت ستر ماؤں سے زیادہ
حق میں بندہ کے مولا کی یہ دین ہے
عطا کیں نبوت آگ لینے والے کو بھی
سزاوار تجھ کو ایسی بڑی شان ہے

0
33
ہو عزم قوی تو لانا جوئے شیر بھی ممکن ہے
رہیں بیٹھیں آس پر سنبھلنے کی تو کٹھن ہے
ملتا ہے کوئی نیا دکھ ہر مصیبت کے ختم پر
بود میں آندھی سے لڑنے کی ضروری لگن ہے

0
37
رت بہار کی ایسی چھائی ہوئی ہے
گھٹا ساون کی منڈلائی ہوئی ہے
حالت نہ ہوں بدتر تشنگی میں برپا
پتی پتی بھی اب ترسائی ہوئی ہے
برسیں مینہ جب رم جھم رم جھم
ہریالی سے تب پزیرائی ہوئی ہے

0
20
علم و ہنر کی پیاس بڑھتی ہی جائے
کاہلی بدن سے تمام نکلتی ہی جائے
گزاریں اوقات بالکل احسن طریقہ پر
بنتے پھر ہر ہر لمحہ قیمتی ہی جائے
رہتی ہے مٹی زرخیز جس علاقہ کی
تو رت وہاں کی اچھوتی ہی جائے

0
23
زٖخم کی نمائش اچھی بات نہیں ہوتی
اظہار سے درد کی کم شدت نہیں ہوتی
آتے رہنا تبسم کا مرہم ہے غموں میں
تعیش میں لب پر شکایت نہیں ہوتی
احساس بلا بنجائے مایوسی کا سبب
مان لے ہار دل تو جسارت نہیں ہوتی

0
35
دم وفا کا محمد سے ہم بھرتے ہیں
آقا کے نام کے لئے ہی مر مٹتے ہیں
نہیں گوارہ گستاخی انکی شان میں
جان یوں روحئ فدا پر چھڑکتے ہیں
رہیں کڑھتے آپ سدا فکر امت میں
امتی حضور کے بے حد ناز کرتے ہیں

0
23
اے نوجوان ملت تیرے حوصلوں کو سلام ہو
انقلاب ہو برپا ایسے تیرے ولولوں کو پیام ہو
مت بھول کبھی جو ملی عزت و شرافت تجھے
بیدار کر غیرت, سامنے کسی کے نہ جبیں خم ہو
نہ ڈر فنا ہونے سے, ہے فطرت خاک کے انسان کی
بس جانا ہے یادوں میں دائمی, ایسا تیرا عزم ہو

0
27
اٹھا نفرت کا کیسا ایک شور ہے
بھائی بھائی سے رہتا دور ہے
گر چھڑ جائے نغمہ محبت کا
باقی نہ رہے گھن کی ڈگر ہے
محنت شرط کچھ پانے کے لئے
کوشش سے ہی ملتا ضرور ہے

0
27
غفلت میں پڑے رہنے سے کچھ کام نہیں بنتا
قیمتی سمجھتے ہوئے ہر گھڑی کو گزارنا پڑتا
موجیں تو اٹھتی ہیں سمندر میں روانی سے
محض کنارے بیٹھنے سے راستہ نہیں نکلتا
ہوتے ہیں ویران گھر جیسے بے فکری والے دل
انجان راہوں کا مسافر کبھی منزل پا نہیں سکتا

0
26
سفر ابد سے ہر کس وناکس کو گزرنا ہے
فلسفہ زندگی کا حق سب کو ادا کرنا ہے
تابع ہیں مرضی کے ہم یہاں آنے جانے میں
راضی و ناراضی دونوں حالت میں چلنا ہے
حاصل کریں ادراک دعوت حق کا خوب تر
اک دن داعئی اجل کو بھی لبیک کہنا ہے

0
56
دل میں کوئی کسک ہے، کس کس کو بتاؤں
ذرا ذرا سی چہک ہے، کس کس کو بتاؤں
ہو جلوت تو نہیں رہتی شکوہ شکایتیں بھی
پر خلوت میں سسک ہے، کس کس کو بتاؤں
پوچھ رہیں لوگ خوشبو کی وجہ مجھ سے
لیکن لمس کی مہک ہے، کس کس کو بتاؤں

0
15
فلک پر تیری محفلوں کے چرچے ہوں
آباد زمیں پر جب ذکر کے حلقے ہوں
دل ویراں تو رہتا ہے غافل دم بدم
موجود اس میں گویا وسوسے ہوں
خواب ایسے کہ منصب عظیم ملے
کام مگر الٹے سمت میں رہتے ہوں

2
34
نہ ہو عشق کی آگ تو بیکار ہیں سب
عہد محکومی کے یہ خمار ہیں سب
ہو فکر روشن شمع فروزاں کرنے کی
سلگتے دیے کے سر کی پکار ہیں سب
نمایاں ہوں بدلاؤ کے آَثار رویہ میں
ورنہ بے راہ روی سے بیزار ہیں سب

0
29
اخوت مزاجی سے انسان کو جینا چاہیئے
کدورت سے پاک سینے کو رکھنا چاہیئے
دو پل کی ہی تو مہماں ہوتی ہے زندگی
پر مر کر بھی یادوں میں بسنا چاہیئے
رہے یاد اذان و اقامت کا درمیانی فاصلہ
ہر آن موت سے یہاں محتاط رہنا چاہیئے

27
رہتی ہے ماں کی محبت دنیا میں بےمثال
بے آس بن کر اہل وعیال کا کرتی ہے خیال
کہلائے عظیم الشان تحفہ مالک الملک کا
پاکیزہ آنچل بھی لگتا ہے نہایت پر جمال
چڑھتا ہے پروان پہلا مدرسہ آغوش میں
بانصیب ہو تو پھر ملے درجہ بدرجہ کمال

39
تقدیر ہمیشہ ہمت والوں پر مہرباں ہوتی ہے
تدبیروں سے مزید تاباں و درخشاں ہوتی ہے
ہے بزدلی اکتفا کرنا ہاتھ کی لکیروں پر فقط
قسمت تو شوق ہستی سے فروزاں ہوتی ہے
ہو سر گرم میداں میں انجام کی پرواہ بغیر
رفتہ رفتہ نصیب دولت، کامل ایماں ہوتی ہے

22
کشمکش زندگی تجھ سے ہی ملی قوت ہے
شامل حال نہ ہو گر کرب تو کہاں لذت ہے
کتنا پر خطر رہتا ہے علم وفن سے اجتناب
پھر دیر سویر ہوتا ضرور زوال شوکت ہے
دل جیت لے کبھی نفیس انداز تکلم بھی
پر شوخئی تبسم سے ٹالنا بڑا سخت ہے

27
قلب پریشاں ہر وقت ہونے کو ہے
موسم خزاں چمن میں آنے کو ہے
بنانا ہے نشیمن کو نہایت پرکشش
بھلے ہی بجلیاں لاکھ کڑکنے کو ہے
فریفتہ ہے دل کلیوں کی مسکان پر
پھول تو بس اب مرجھانے کو ہے

25
لباس پارسائی سے شرافت نہیں ملتی
ہو نفس سرکش تو حلاوت نہیں ملتی
رکھنا ہے باطن کو ملحوظ نظر پند میں
غیر پر نگاہ رکھنے سے قوت نہیں ملتی
دینے پڑتے ہیں سرانجام کارنامے نمایاں
یونہی کسی سالار کو شہرت نہیں ملتی

29
تیز و تند ہواؤں کے رخ بھی پھیرنے ہونگے
طوفاں سے لڑنے کے حوصلے رکھنے ہونگے
راستے دئے طلاطم خیز سمندروں نے بھی
دلوں میں ایسے ایمانی جزبات بھرنے ہونگے
عشق دین ہی اصل سرمائہ ہے اس ملت کا
زیست میں یہ احساسات پھر جگانے ہونگے

29
محمد کے نام پر ہی وجود ہے کارخانہ دنیا کا
غلغلہ ہے دوجہاں میں آپ کے رفعت اعلا کا
تھی مہک پسینہ میں گل کی خوشبو سے زیادہ
چاٹ لیتے لعاب پیارے صحابہ عشق میں آقا کا
نہیں رکھا کسی گوشہ سے محروم محبوب نے
حکیم امت نے عنایت کیا ہر ہر نسخہ مداوا کا

42
دل کرتا ہے چاک گریباں کر لوں
مدعا کو اب ادائے زباں کر لوں
سجاتے ہوئے داغوں کو سینے میں
ہر ایک نقش کو بھی آویزاں کر لوں
خواہش ہے کہ وصال یار ہو جائیں
دید سے انکے دکھ کا درماں کر لوں

39
رسول برحق کی آمد پرتپاک کیلئے مضطرب تھا دل
ہر قبیلہ یثرب شرف میزبانی کیلئے کر رہا تھا پہل
مامور بنتی گئی قصوہ اونٹنی واسطے قیام گاہ کے
بنی نجار کے بچوں نے بھی دف بجا کر کیا استقبال
پہلی مسجد بھی قباء کی بن گئی جوش ایماں سے
گویا بندگی کیلئے تڑپتی روحوں پر ہوا جیسے فضل

46
ایماں کے دم سے ہی وجود ہے عالم کا
ہے یہ ایک پوشیدہ راز اس کے دوام کا
نہ بن کوتاہ نظر لیکن حاضر باش بن
کہ ہے کرشمہ مالک کے حسن نظام کا
ہے شمار بھی دشوار نعمتوں کا اور
گماں مشکل اسکے احسان وکرم کا

0
74