Circle Image

Nasir Ibrahim Dhamaskar

@Nasir.Dhamaskar

@nasir

مدینہ کی فضا بھانے لگی ہے
مہک سی خوابوں کی چھانے لگی ہے
کہیں بادِ صبا دل کو لبھائے
کہیں کچھ یاد تڑپانے لگی ہے
لبوں پر بول صلّ اللہ جاری
سکوں پھر روح بھی پانے لگی ہے

0
4
مزاج نرم رہا بد حواس ہو کر بھی
وہ پرسکون تھا کتنا اداس ہو کر بھی
تھے شر پسندی کے منصوبہ سارے ہی لیکن
نگر پہ طاری رہا سکتہ یاس ہو کر بھی
بے اعتنائی ہو پہنچی عروج کے درجہ
نگاہیں پھیر لیں تب حق شناس ہو کر بھی

0
4
بندے جو بھی ہاتھ پھیلاتے خدا کے سامنے
پاتے ہیں جو مانگتے مشکل کشا کے سامنے
لاج رکھیؤ ناتواں کے مولا سب کی تُو سدا
بے کَس و نادار ہیں لطف و عطا کے سامنے
سینوں میں ہر دم سجائی ہے یقیں کی روشنی
کون خم کرتا ہے سر ظلم و جفا کے سامنے

0
6
چوٹ گہری نہ ہو سسکی نہیں آیا کرتی
کاغذی پھول پہ تتلی نہیں آیا کرتی
دوسروں کے لئے خود کو جو فنا کرتے ہیں
لب پہ ان کے کبھی شیخی نہیں آیا کرتی
کچھ سبب لازمی رہتا ہے الجھ جانے کا
یوں مگر بے وجہ تلخی نہیں آیا کرتی

0
10
چھین جاتی یہ رستگی ہوگی
سب کے ہونٹوں پہ خامشی ہوگی
ہو تعیش کے نقشہ بھی سارے
پُر مزہ پھر یہ زندگی ہوگی
روٹھ جانے کی کچھ وجہ ہوگی
ہلکی سی دل میں تشنگی ہوگی

0
6
یار کا ہے ملال، روٹھ گیا
رنج ہے کچھ محال، روٹھ گیا
قرض جب سے ہوا نہ نیند رہی
پیسے کا ہے سوال، روٹھ گیا
ہجر کا جب فسانہ چھڑنے لگا
دیکھو اس کا کمال روٹھ گیا

0
5
چلیں اخلاقی اپنا فرض سارے ہی نبھائیں گے
جو بھٹکے ہیں انہیں رستہ سبھی مل کے دکھائیں گے
کریں احباب پابندی مساجد اور گھر میں بھی
فضائل کی کتابیں پڑھ کے حلقوں میں سنائیں گے
کبھی دینگے نہیں ہرگز نمازوں کو قضا ہونے
محلہ کی فضا میں دینداری کو بسائیں گے

0
9
چاۓ ہوتی شیریں ہے ہمدم کے ہاتھوں سے بنی
لطف دیتی ہے بہت چاہت کے جزبوں سے بنی
شام کے مسحور لمحے پُر مہک ہو جاتے ہیں
پیش ہو جب پیالی اک دلکش اداؤں سے بنی

0
4
گر کوئی بندہ اہلِ لیاقت نہیں رہا
پھر کیسے اعتبار و صداقت نہیں رہا
بے التفاتی ہونے لگے پیار میں اگر
تو آشنائے جزبہ الفت نہیں رہا
اسلاف کا زمانہ بڑا خیر کا رہا
فی الوقت ویسا فہم و فراست نہیں رہا

0
5
کہاں کونسا جو بہانہ ہوا ہے
عدو اپنا سارا زمانہ ہوا ہے
کہ حق گوئی کرنے کی عادت ہے ہم کو
اسی کچھ وجہ سے نشانہ ہوا ہے
محبت کی وہ داستاں چھڑ گئی جب
وفا، عشق کا اک فسانہ ہوا ہے

0
5
کسی سے جب کسے بے حد محبت ہوتی جاتی ہے
کشش کیسے صنم کی تب سرایت ہوتی جاتی ہے
یہاں کچھ لوگ غم کو سینہ میں ہنستے سجاتے ہیں
ہجومِ رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہے
خدا بھی بخش دیتا ہے ہماری لغزشیں ساری
گناہوں پر بھی جب اپنے ندامت ہوتی جاتی ہے

0
5
عطا کر چٹپٹے اشعار ناصر
بیاں کر اپنے بھی افکار ناصر
لگن ہو تو پگھل جائے یہ لوہا
ہے آساں سب، نہ ہو بیزار ناصر
خدا بھی بخش دیگا لازمی تب
گناہوں کا جو کر اقرار ناصر

0
10
سینہ کو عشقِ محمدؐ سے سجا رکھا ہے
شکر ہے دورِ فتن میں بھی بسا رکھا ہے
شرک و بدعت کے رویوں سے بنائی دوری
ہم نے اغیار سے دامن کو بچا رکھا ہے
جان و اولاد سے بڑھکر ہے عقیدت دل میں
پیارے آقاؐ کی محبت کو سدا رکھا ہے

0
13
اِرد گِرد منڈلاتا آفتوں کا پہرہ ہے
غم نے اس طرح آ کر زندگی کو گھیرا ہے
لاج ہے بچانی ملت کی نو جوانوں نے
قوم نے اُنہیں نازوں سے بہت ہی پالا ہے
بھائی چارگی کا برتاؤ کرنا ہم سیکھیں
ایک ساتھ ملکر، اک جان بن کے رہنا ہے

0
9
نفس قابو تو بلاوا بھی ہو شاہاں میرا
منتظر ہے درِ فردوس پہ رضواں میرا
حکمِ رب اور ہو سنت پہ عمل پھر کیسے
دو جہاں میں بھی چمک جائے نصیباں میرا
شانِ مومن طلبِ دین سے ظاہر ہوتی
فکرِ امت سے ہی ہو قلب جو رخشاں میرا

0
10
یاد بچپن کی جب جب جَتائی گئی
مجھ کو میری کہانی سنائی گئی
ظلم کی بھی حدیں پار ساری ہوئی
حاکموں سے رعایا پسائی گئی
حق کہا پر یہ انصاف تو دیکھئے
اس پہ کیا سخت دھارا لگائی گئی

0
10
اپنے دامن کو پسارے مانگتا ہوں میں دعا
مالکِ روزِ جزا سے کر رہا ہوں التجا
مغفرت ہو جائے ہے فریاد تجھ سے عاصی کی
پار بیڑا کر دے طوفاں سے یہی ہے بس صدا
قلب کو ایمان سے بھر دے ہمارے اے خدا
موت تک ثابت قدم فرمائیو، کر دیں عطا

0
10
میں تو نبیؐ کا ادنیٰ سا غلام ہوں
قبول کر مجھے خدا، غلام ہوں
حضورؐ کے طفیل میں پہنچ سکوں
مدینہ دل میں ہے بسا، غلام ہوں
بلالؓ کی اذانیں گونجی تھیں جہاں
ملے سکوں اُسی فضا، غلام ہوں

0
10
یہ جمود کیوں ہے یہاں پہ چھایا ہوا یہی تو سوال ہے
نہ عروج جیسا عروج ہے، نہ زوال جیسا زوال ہے
جو زمین کا ہے سِیارہ وہ نہیں اب تلک بھی سنور سکا
چلے کوسوں دور ہیں دوڑے چاند پہ بسنے، واہ کمال ہے
کبھی غم کبھی ہو مصیبتیں، یہ وبا یہ دل کی پھٹن بھی کچھ
جو شروع ہے لگے جیسے کوئی گناہوں کا ہی وبال ہے

0
7
غمِ ہجراں دے کے آخر لِیا کیا
تمہیں جانِ تمنا مل گیا کیا
بجھا سا دل، ہیں نم آنکھیں، یہ سکتہ
خموشی ایک طاری ماسوا کیا
بے تابی سے اچھلنے لگ گیا ہوں
نشاطی بس ہے چھائی، لوٹنا کیا

0
12
امنگوں، مرادوں کو ہے ساتھ لایا
نیا سال آیا نیا سال آیا
دعا ہے کہ بیماریاں ختم ہوں اب
نئی سمت مل جائے، ہو عزم چھایا
نشہ، زعم سارا دھرا رہ گیا ہے
عذابِ الٰہی نے سب کو ڈرایا

0
19
خواب میں بھی دیکھوں چہرہ آپ کا ہی درمیاں
وہ مکمل داستاں ہے میری یادوں میں نہاں
ہے تعاون تو ضروری تجربہ کاروں کا بھی
بار سہہ پائے مگر کیسے یہ بازؤ ناتواں
عزم کامل سے تنِ تنہا سفر کرتے رہیں
جانبِ منزل بڑھیں تو ہی بنینگے کارواں

0
8
ہم جکڑ سے گئے اداوں میں
آگئے آپ کی پناہوں میں
وصل کی بات کر سکوں ان سے
آتے رہتے کبھی جو خوابوں میں
پا لیا جن کو دل نے ہے آخر
بس گئے وہ مری نگاہوں میں

0
21
دھرتی کا فرش گویا مانند بسترا ہے
آکاش اک عمارت کے مثل ڈھانچا ہے
ہوئے طرح طرح کے پھل میوہ جات پیدا
برسات سے بھی کیسے کھیتی کو سینچا ہے
ابلیس صاف حُکمِ مولا سے پھِرنے والا
ساری عبادتوں کو بھی خاک کر چکا ہے

0
6
سلیقہ سے تراشے گر تو منظر سامنے آئے
وہی ذرے مثالِ ماہ و اختر سامنے آئے
کبھی گمنام تھے جو لوگ وہ بھی پاگئے شہرت
لیاقت جب اجاگر ہوئی خُوگر سامنے آئے
نہیں موقع رہا تھا کچھ غلامی میں نکھرنے کا
رعایت پاتے ہی اب سارے جوہر سامنے آئے

0
7
دیکھ چلمن سے کیسا دھواں اٹھتا ہے
جل رہا سینہ ہوگا دھواں اٹھتا ہے
عشق میں لڑ پڑا جب صنم سے ملا
ٹوٹنے سے ستارا دھواں اٹھتا ہے
شمع کی لو تو روشن رہی رات بھر
ایک پروانہ مچلا دھواں اٹھتا ہے

0
7
انصاف جب ہو، رہتا ہر کوئی پھر اماں سے
ڈرتے مگر ہیں سارے آزارِ ناگہاں سے
منصوبے کچھ اہم ہونگے اس لئے ہے عجلت
اندازہ ہو گیا ہے رفتارِ کارواں سے
بہتے ہیں علم کے دریا، فیضیاب ہو لیں
تشنہ لبی نہ رہ پائیں دیں کے کہکشاں سے

0
20
بڑوں کے ہم کبھی کردار یاد کرتے ہیں
پڑھے ہوئے تبھی اخبار یاد کرتے ہیں
سنائے جاتے ہیں اقوال شوق سے ان کے
سبھی مگن رہ بھی گفتار یاد کرتے ہیں
سنہرے وہ پنے تاریخ کے کریدیں تب
دئے گئے سارے ایثار یاد کرتے ہیں

0
9
دل لبھائے اے صنم اس طرح آنا تیرا
خوشیاں دُوبالا کریں ایسے ہی ملنا تیرا
مت ستم گر یہ ستم تُو کبھی نا کر دینا
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
سوچتا ہوں تو یہ احساس ہو اندر اپنے
شان و عظمت کو بڑھائے مری، پانا تیرا

0
10
بتائے راز کوئی خامشی کا
چھپائے کیوں ہو گر ہے زندگی کا
پنپتی ہیں ہزاروں خواہشیں پر
ترا دل کاش ہو جائے کسی کا
کرے نیلام جو ہے امن سارا
سبق بھی وہ پڑھائیں آشتی کا

0
13
لقب جن کا امی محمدؐ ہیں آپؐ
رسولوں کے سردار احمدؐ ہیں آپؐ
مدینہ جو مرکز ہے اسلام کا بھی
زیارت کی جا، سبز گنبد ہیں آپؐ
قمر، شمس، دھرتی، فلک کیا ستارے
تماموں کی خلقت کا مقصد ہیں آپؐ

0
8
بیٹی گھر میں باعثِ رحمت ہوتی ہے
وہ چمن کی رونق و زینت ہوتی ہے
دو کی شادی باپ کر پائے کافی ہو
اُس پہ واجب کیسی پھر جنت ہوتی ہے
زیورِ تعلیم سے ہوں آراستہ
قوم کی ایسے میں وہ عظمت ہوتی ہے

0
10
کدورت دلوں میں بساتے ہیں آپ
بظاہر محبت جتاتے ہیں آپ
پرانی وہ عادت ابھی تک نہ چھوٹی
حسیں وعدے کر کے پھنساتے ہیں آپ
زباں تیز، حاضر دماغی ملی ہے
بڑی چکنی باتیں بناتے ہیں آپ

0
20
وہی خوش بخت ہے مولا کو راضی بھی کیا جس نے
شِعار اپنا بنایا خدمتِ خلقِ خدا جس نے
نہیں ذلت کبھی ان کے حصہ آئیگی ہرگز بھی
نبھایا ہو اگر ہر حال میں وعدہ وفا جس نے
بہائے اشک کو بھی آنکھ سے رخسار تک کوئی
وہ پھر رد نا ہو مانگی جو تہجد میں دعا جس نے

0
21
چشم کو اشکبار کون کرے
زندگی زیر بار کون کرے
عشق میں دے فریب کوئی یہاں
بیوفا سے تب پیار کون کرے
مطلبی سارے جب بنے ہوئے ہوں
اپنی تب جاں نثار کون کرے

0
10
مجبور رہے تھے کچھ اپنی اُسی عادت سے
وہ باز نہیں آتے اظہار محبت سے
دھتکار و جھڑکنے سے بھی چُھوٹا نہیں پیچھا
ہر بار جَتایا خوش اسلوبی کو حرکت سے
برتاؤ رہا خندہ پیشانی بھرا کیسے
ششدر ہو گئے سارے احسان و شرافت سے

0
14
رد نہ خواہش ہوسکے کوئی اثر سے پہلے
اہمیت ہو جائے معلوم قدر سے پہلے
لاکھ انکار توُ اس بات سے کر لے لیکن
میں نے دیکھا ہے تجھے تیری نظر سے پہلے
کونسی ہو رہ گزر اور ہو منزل تیری
فیصلہ کر لے ذرا وقت سفر سے پہلے

0
5
دل میں رکھا کبھی غبار نہیں
نغز گوئی مرا شعار نہیں
ظلم کے سامنے ڈٹے رہیں پر
کھویا اپنا مگر وقار نہیں
سر بکف جب نکل ہی جانے لگیں
پھر بچا راستہ فرار نہیں

0
13
معصوم بچے گھر کی زینت کو بڑھاتے ہیں
ماحول معطر کر برکت کو بڑھاتے ہیں
پیدا انہیں کے دم سے اسباب بھی رونق کے
خوشیوں کی فضا بنتی، رحمت کو بڑھاتے ہیں
شاداب رہے آنگن، سرسبز ہو محفل بھی
ہو لڑکیاں یا لڑکے رغبت کو بڑھاتے ہیں

0
11
زیبا نہیں دیتا ہو نقصان محبت کا
توڑا نہیں جا سکتا پیمان محبت کا
تھم جائے یہ ہرگز اب ممکن نہیں رہ پایا
جو اٹھ گیا ہے دل میں طوفان محبت کا
ارشاد کی رہتی ہے تعمیل ہمیشہ سے
ٹھکرائے بھلا کیسے فرمان محبت کا

0
10
عاشقوں کو نام لینے میں ہی لذت ملتی ہے
کس چمن کے غنچہ و گل میں یہ نکہت ملتی ہے
شافعِ محشر شہِ کونین سرکارؐ امیں
چاہنے والوں کو ہی ان کی شفاعت ملتی ہے
ماہیِ بے آب جیسے جو تڑپتے بھی رہیں
اور رکھیں غم انہیں ہی فکر امت ملتی ہے

0
23
مجبوریوں میں کچھ بھی ہوا فیصلہ نہ تھا
جینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھا

0
13
صحبت میں مربی کے وہ پایا بھی بہت ہے
اب رنگ نکھرنے سے وہ چھایا بھی بہت ہے
پروان چڑھیگی بالیاں تخم سے دھیرے
ِکشتِ زار میں دہقاں نے بویا بھی بہت ہے
موسم سے اٹھائے وہی ہے فائدہ ہر دم
جو لگتا ہو شوقین و رسیا بھی بہت ہے

0
18
دور تک جب صنم بھی سفر کر گیا
اپنا ہی وہ وطن تب بدر کر گیا
نظروں سے کیسے اوجھل ہوا آن میں
لمحوں میں سب کو پر بے خبر کر گیا
ڈستی ہیں یادیں رہ رہ کے محبوب کی
میرے ہی گھر مجھے وہ بے گھر کر گیا

0
10
خوب پیاری سی خوبصورت ہیں آنکھیں
مولا کی بخشش، دین و نعمت ہیں آنکھیں
صلب گر ہو معلوم بھی قدر تب ہو
بینائی سے محروم عبرت ہیں آنکھیں
سوچنا، سننا صاف رکھیں ہمیشہ
روح پاکیزہ ہو بصیرت ہیں آنکھیں

0
10
مخلصانہ آپ کی ان الفتوں کا شکریہ
ہو ادا کیسے پرانے دوستوں کا شکریہ
طرحی ہو یا غیر طرحی جو مشاعیرہ ہوئے
شاعری کی با ادب ان محفلوں کا شکریہ
کرتے رہتے ہیں نوازش اور جو سوغات بھی
زندہ دل سارے ہی اپنے حامیوں کا شکریہ

0
11
معبود کے در کا جو گداگر نہیں ہوتا
تو بندگی کا وصف اجاگر نہیں ہوتا
معشوق وہی ہے جسے ہو پیار نبی سے
شاعر نہیں جو شہ کا ثناگر نہیں ہوتا

0
11
ذر زمیں پاس کچھ نہ رہتا ہے
اپنا نام اجنبی سا لگتا ہے
ساتھ اپنے ہی چھوڑ دیتے ہيں
کون کس کو یہاں بھی روتا ہے
مفلسی میں نہ ساتھ کوئی جو
دور سے پر ہی بھاگ جاتا ہے

0
11
بچپن سے میں نے خوب سجائے ہیں مرے خواب
عرصہ سے تخیل میں بسائے ہیں مرے خواب
میں ڈاکٹری کے لئے محنت میں مگن سا ہوں
دشوار سہی پھر بھی کھِلائے ہیں مرے خواب
روشن ہو سکے نام بھی اپنا یہی خواہش ہے
اس واسطہ سارے ہی نبھائے ہیں مرے خواب

0
11
سُکھوں کے ساتھ گھنے سے غموں کے پہرے ہیں
قدم قدم پہ گلستاں میں خار بکھرے ہیں
زبان سے کہے توحید پر عمل خالی
فقط ہمارے یہ تو لمبے چوڑے دعوے ہیں
انانیت سے بھری ہوئی زندگی ساری
دبوچ لیگا فرشتہ تو پھر اندھیرے ہیں

0
14
حلول روح میں ہو گر، سنبھل نہیں سکتا
میں وہ خیال ہوں دل سے نکل نہیں سکتا
جکڑ لیا ہے غمِ ہجر نے جو پنجے میں
قدم بڑھائے کہیں اب ٹہل نہیں سکتا
شفا مریض کی دیدار یار میں رہتی
بغیر دید کے جانم بہل نہیں سکتا

0
16
چال اپنا رہے پرانی کیوں
کر رہے ہو غلط بیانی کیوں
غیر سے پیار اپنوں سے نفرت
امتیازی سلوک جانی کیوں
گندی عادت گئی نہیں اب تک
بھولتے جارہے نشانی کیوں

0
13
زیر اپنا تُو اعتبار نہ کر
غمِ الفت کو شرمسار نہ کر
ہجر میں احتیاط کر لے ذرا
مشتعل ہو کہ بھی شرار نہ کر
مسکراتے گزارنا ہیں یہ دن
زندگی اب یہ بے بہار نہ کر

0
15
حرا سے اتر کر جو پیغام لائے
نبوت کے سردار انعام لائے
اشارہ ہوا صاف تبلیغ کا ہی
شریعت کے نورانی احکام لائے
نوازا خدا نے نیا دین دے کر
عطا کردہ نسخہ ءِ افہام لائے

0
8
قرآن کی تلاوت ایمان کو بڑھائے
اعمال کی طرف بھی رجحان کو بڑھائے
ویران قلب حکمت، روشن خیالی پائے
انوار علم و دانش، عرفان کو بڑھائے
تاریکیوں یا صحراؤں میں بھٹک چکے جو
گر ہو مطالعہ تو پہچان کو بڑھائے

0
6
باطن سے اجاگر ہوں کمالات ہمارے
بڑھتے رہینگے تب ہی تو درجات ہمارے
اعمال کی معلوم ہو اول جو فضیلت
جائینگے پنپ بعد میں جزبات ہمارے
منکر سے بھی پرہیز ہی برتیں تو ہے اچھا
معروف کی نسبت ہو بیانات ہمارے

0
13
ہم وطن سے ہی وفا کرتے ہیں
چاہیں تو جاں بھی دیا کرتے ہیں
جس مٹی میں ہوئی پیدائش ہے
اس کی خاطر ہی جیا کرتے ہیں
سب نچھاور کرینگے تن من دھن
ذات کو اپنی فنا کرتے ہیں

0
9
ہنر سے ہی پہچانتا ہے زمانہ
بنے کیسے ہر کوئی پھر جو دِوانہ
بسی رہتی ہیں دیرپا شیریں یادیں
ہو اعصاب پر حاوی ان کا ترانہ
تراشے سلیقہ سے ہیرا تو ممکن
وہی تاج سے منسلک ہو نگینہ

0
16
حساب سارا ہی اب تک جو منہ زبانی ہے
ہر ایک چیز مری ذات میں پرانی ہے
وفا کرے بے وفائی نصیب بن جائے
عجب سی چلتی یہاں کوئی جو کہانی ہے
رفیق ملنے سے موسم بہار جیسا ہے
ہنسی مذاق کی محفل بھی پھر سہانی ہے

0
23
افسانوی کہانی پڑھی جو نصاب کی
دلچسپی سے شروع کی تھی اک کتاب کی
ہیجان، سرکشی و شرارت سی کیفیت
جیسی بھی تھی گزر گئی مدت شباب کی

17
ہاتھ پھیلانے سے بیگار اچھا
سنورے محنت سے بھی سنسار اچھا
پیسہ گر پاس ہے تو سب آساں
پھر منائیں بھی جو تہوار اچھا

17
نادان کو بالکل ہی سمجھنا بھی نہیں ہے
ضدی ہے ذرا اس کو بدلنا بھی نہیں ہے
گر شمع جلی رات گئے لاکھ یہاں پر
پروانے کو ہرگز ہی مچلنا بھی نہیں ہے
موسم یہ بہاروں کا نہ چھا جائے چمن میں
پھولوں کو تو پھر جیسے مہکنا بھی نہیں ہے

11
بغیر مانگے ہی ایمان مل گیا ہے ہمیں
نبیؐ کے صدقہ اہم رتبہ بھی رہا ہے ہمیں
کئی کئی دنوں کے فاقہ چلتے آپؐ کے گھر
ہو ادا شکر بھی ایسا سبق دیا ہے ہمیں
مکان سیدھا و سادہ حضورؐ نے بنایا
عمل سے سادگی کا درس سیکھنا ہے ہمیں

10
ہیں بخشش کے سارے طلبگار یارب
مصیبت سے بیڑا بھی ہو پار یارب
اٹھے ہاتھ نا سامنے غیر کے بھی
سلامت رہے خودی و پندار یارب
سئیئات بھی حسنات سے تُو بدل دے
بے فکری سے مل جائے افکار یارب

0
10
یقیں کامل تھا مجھ کو مان جائیگا منانے سے
عجب رونق سی چھائی ہے ترے محفل میں آنے سے
کہیں ہیں قہقہے چھائے کہیں ہے نکہتِ گل بھی
کھِلیں گلزار و گلشن آپ کے ہی مسکرانے سے
گلستاں بھی بہاروں سے مہک جائے بے موسم ہی
ہنگامِ گل سا برپا ہو تمھارے چہچہانے سے

13
بچی نہ کوئی ضرورت تمہارے ہوتے ہوئے
کبھی نہ آئے صعوبت تمہارے ہوتے ہوئے
چمک دمک بھی بہت دیکھی ہے یہاں میں نے پر
نہیں ہے اب جو حسرت تمہارے ہوتے ہوئے
زمانہ کی کسے پرواہ یا گلہ بھی رہے
کریں بھی کیسے شکایت تمہارے ہوتے ہوئے

0
11
غم دلِ خاکسار سے نکلا
یار بھی پھر حصار سے نکلا
یاد بے چین گر کرے بے حد
اشک چشمِ نگار سے نکلا
لمحے مشکل گزر گئے ہمدم
ہجر بھی انتظار سے نکلا

0
16
حد سے بڑھکر جو عقیدت کی ہے
جان من سے جو محبت کی ہے
چرچہ بھی پیار کا پھیلا ہر سُو
اس قدر آپ سے الفت کی ہے
سب نچھاور ہے اگر ہاں کر دے
صدق دل سے ہی جو چاہت کی ہے

0
9
ہلکی سی چلتے چلتے پہچان ہو گئی تھی
اس وقت دل میں میرے ارمان ہو گئی تھی
جب مدعا نکل آیا ہی زباں پہ آخر
تو دھیرے دھیرے وہ بھی قربان ہو گئی تھی
آغاز میں سُروری و بے تابی چھائی لیکن
پھر ماند کیسی پر جو مسکان ہو گئی تھی

0
18
روز کے فتنوں سے دل کا سکوں برباد ہوا
کیسے مانوں کے مرا دیس بھی آزاد ہوا
ذکر سے تر لساں رکھنی ہمیں ہوگی جو یہاں
تب سمجھ جائیں کہ اب قلب بھی آباد ہوا
ظلم بھی ڈھائے ستم گر جو یہاں خوب ہی پھر
رہنے سے تیرگی باطل کی ہی، بیداد ہوا

0
17
گو ہاتھ تو ملائے عداوت نہیں گئی
ہم خاک ہوگئے پہ کدورت نہیں گئی
دل میں خلش ہوتی رہی جو بار بار پر
سلجھاؤ بھی کئے تھے یہ ذلت نہیں گئی
جو کام آئے وقت پہ ساتھی وہی کھرا
دوست جو بھی پرانے تھے رغبت نہیں گئی

0
13
پُر عمل و پُرنور سیرت آپؐ کی
بااثر و ممتاز عظمت آپؐ کی
کل جہاں کیسے منور بھی ہوا
چھا گئی عالم پہ رحمت آپؐ کی
غیض اس دن طاری رب کا جب ہوگا
کام آئیگی بھی چاہت آپؐ کی

0
13
سماں بہار کا چھایا حسین و دلکش ہے
فضا مہکنا بھی خوشبو سے کیسی بخشش ہے
کھِلے ہیں پھول چمن میں قِسم قِسم کے بھی
سہانے پُرسکوں منظر پہ سب کو نازش ہے
ندی یہ نالے لبالب بھرے ہوئے سارے
برستی تیز جو دوشِ ہوا پہ بارش ہے

0
7
رخصت کے لئے راستہ تک چھوڑ چکے ہیں
دو چار قدم ہم بھی ترے ساتھ چلے ہیں
یادوں کے سہارے بھی جی لینگے ہمیں کیا
مجبور جو ہجراں میں زیادہ ہو گئے ہیں
کیسے مزہ آئے بھی یہاں آپ نہ گر ہوں
درپیش بہت مسئلہ سنگین رہے ہیں

0
10
آزما زور کتنا جو دشمن میں ہے
ولولہ جیت کا جو بسا دھن میں ہے
نا زمانے کی پرواہ یا فکر ہے
تجھ کو پانے کی دھن اب مرے من میں ہے
قابلِ دید رہتا سماں ہر طرف
جب شگوفہ کھِلے و چہکے گلشن میں ہے

0
10
قضا و قدر کا لکھا مٹا نہیں سکتے
نصیب میں ہو فنا تو بچا نہیں سکتے
گلوں کی سیج بھی کانٹوں سے ہی گزرتی ہے
ادھورے خواب ابھی ہم سجا نہیں سکتے
نہ رہبری بچی ہے اور نا مسیحائی
ہنر بچوں کو بھی اب دلا نہیں سکتے

0
11
ہوش میں نہیں گر خمار اچھا
بے قراری سے ہے قرار اچھا
کس جواب سے ڈر لگے تجھے
فکر و رنج سے دل فگار اچھا
صبر پر ضروری وفا میں ہے
ضبط نا ہو تو پھر فرار اچھا

0
7
اپنوں پر بھی بھروسہ ہرگز ہمارا رہا نہیں
پیار بھی جن سے کرتے تھے اب وہ پیارا رہا نہیں
ایک محبوب سے ملاقات طے پائی تھی مگر
وصل تقدیر میں ہو شاید یہ لکھا رہا نہیں
عشق میں تب مزہ ملے، جب ہو یکساں تڑپ لگی
آگ یک طرفہ ہو مزہ و لطف آتا رہا نہیں

0
13
ناز پروردہ جوانی میری
رہتی دنیا ہے دِوانی میری
نقش و رونق میں بڑی ہی دلکش
جو حویلی تھی پرانی میری
آشیاں کتنے بسالیں لیکن
ڈستی ہیں یادیں سہانی میری

0
7
ایک بچپن کی کہانی میری
کیا سناؤں وہ لڑائی میری
کھیل میں بھول ہی جاتا اکثر
مدرسہ کی جو پڑھائی میری
ڈانٹ استاد کی ملتی رہتی
پھر بھی سدھری نہ لکھائی میری

0
13
ہر کوئی سہمے آپ کو بیدار دیکھ کر
ہٹ سامنے سے جائے بھی رفتار دیکھ کر
کیسا عجوبہ تاج محل پیار کا بنا
حیراں ہیں لوگ آج بھی تعمیر دیکھ کر
صدیاں گزر گئی بری خصلت گئی کہاں
افسوس ہو عجب سے یہ دستور دیکھ کر

20
حسد سے پاک ہو سینے ہمارے اے مالک
صفائی ذکر سے دل کی ہو جائے اے مالک
عطا ہو لطف و عنایت کی بارشیں ہم پر
مصیبتوں کی گھٹائیں چھٹا دے اے مالک
منا دے روٹھوں ہوؤں کو سبھی کسی حالت
ملا دے جو ہیں مدت سے بھی بچھڑے اے مالک

0
16
کون و مکاں پہ حکمرانی ہے تری خدا مرے
ارض و سما پہ چھائی مرضی ہے تری خدا مرے
شمس و قمر، شجر و حجر، انس و جنات و کل جہاں
مانے فقط جو بس غلامی ہے تری خدا مرے
حکم الٰہی کو سرِ دست قبول جو کرے
شان کریمی پھر برستی ہے تری خدا مرے

0
19
آمنہ کے لعل پیارے ہیں محمدؐ
انبیا کے بھی دُلھارے ہیں محمدؐ
شاخ ابراہیمی کے شجرہ نصب سے
جگمگاتے سے ستارے ہیں محمدؐ
بن مرہ سے ہاشمی تک کا سفر ہے
آخری لوَ ٹمٹماتے ہیں محمدؐ

0
18
نزع کے وقت تو توبہ کی بھی گھڑی نہ رہے
گنوادی کیسی جو مہلت ہے اب رخی نہ رہے
قضا نصیب میں لکھی ہے تو کیسے ہو نبھا
حقیر کوئی خطا سے یہاں بنی نہ رہے
حلال رزق میں برکت بہت چھپی ہے ہوتی
حرام سے جو کمائی ہو، وہ ذری نہ رہے

0
13
نزع کے وقت تو توبہ کی بھی گھڑی نہ رہے
گنوادی کیسی جو مہلت ہے اب رخی نہ رہے
قضا نصیب میں لکھی ہے تو کیسے ہو نبھا
حقیر کوئی خطا سے یہاں بنی نہ رہے
حلال رزق میں برکت بہت چھپی ہے ہوتی
حرام سے جو کمائی ہو، وہ ذری نہ رہے

0
6
آپ سے ہی جو وفا کرتے ہیں
جان بھی اپنی فدا کرتے ہیں
عشق بے حد ہے بتائیں کیسے
صبر کو غم کی دوا کرتے ہیں
حال دل کون سنیگا میرا
درد کو سہتے خطا کرتے ہیں

0
10
محبوب ہیں خدا کے سرکارؐ، مَدنی آقاؐ
سب نبیوں کے ہیں ٹہرے سردارؐ، مَدنی آقاؐ
معراج سے نمازوں کا تحفہ آپؐ لائیں
ہوئے امام کے بھی حقدار، مَدنی آقاؐ
پہچان و معرفت حق جل اعلٰی کی ہوئی ہے
عرفہ و بلند جن کی افکار، مَدنی آقاؐ

0
17
ستارے گردش ہماری قسمت کے کر رہے ہیں
اشارے معبود کی مشیت کے کر رہے ہیں
حوادثِ دوراں شکریہ ہی تِرا ادا ہو
نہ شکوے بھی پر غمی و مصیبت کے کر رہے ہیں

0
11
مجاہدہ سے یقیں پہلے تُو بنا اپنا
قوی اگر ہو، سمجھ کام بن گیا اپنا
فراعنہ جو زمانہ میں ظلم ڈھاتے ہیں
کبھی نہ سامنے بھی ان کے سر جھکا اپنا
ہلاکُو خان نے کیوں زخم پشت پر چھوڑیں
کہ خلفشار سے ہی ٹُوٹا دم رہا اپنا

0
16
چھپا ہے راز اک قوت ارادی میں
جو پائے اس کو چمکے زندگانی میں
عمل رہتا ضروری کچھ اثر پانے
عبادت رنگ لاتی بندگانی میں
عقابی روح سے پرواز بھراونچی
صدا گونجیں تِری ٹیلہ پہاڑی میں

0
16
بنائی ہمالہ کی چوٹی ہے کیسے
سیاچین میں برف جمتی ہے کیسے
سمندر، ندی و نالوں میں جو روانی
زمیں کو بھی سیراب کرتی ہے کیسے
ہوئی خاک سے ہی پر انساں کی خلقت
کہ فطرت میں بھی انکساری ہے کیسے

0
13
بات کچھ سچ نکل گئی میری
لاج ایسے بچا چلی میری
غیر تو درکنار گردانے
اپنوں نے کی مگر ہنسی میری
بے حیائی سے شرم اب آئے
بس سلامت رہے خودی میری

0
19
شاعری سےفیؔض پہنچایا جہاں میں
اپنے فن کا لوہا منوایا جہاں میں
بعد غالؔب اور تھے اقباؔل کے بھی
چوٹی کے فنکار و دلدادہ جہاں میں
فارسی و اردو زبانوں پر مہارت
نام سب کی ہی لساں چھوڑا جہاں میں

0
23
خیالوں میں ہوئے غرقاب ہیں کسی کے لئے
سبب یہی ہوا حائل ہے تیرگی کے لئے
ستا رہا ہے غمِ ہجر پھر بھی حرج نہیں
اگر ہے تحفہ تو منظور عاشقی کے لئے
فسانہ عشق وہی لکھ سکیں یہاں لہو سے
لگی ہو آگ جگر میں جو دل لگی کے لئے

25
بھر دے تو جھولی میری خدایا
کر دے ترقی میری خدایا
قسمت کا چمکا دے اب ستارہ
کوشش ہو پھلتی میری خدایا
بھوکا سلائیگا تو کبھی نا
لگ جائے روزی میری خدایا

0
21
غوث اعظم محی الدین جیلانی
غوث الثقلین ہیں محبوبِ ربانی
آپ گیلان کے پیدائشی باسی
سلسلہ قادری، محبوبِ سبحانی
بہتے اک سیب کو والد نے کھایا کیا
تاقیامت عنایت ہم پہ ہے واری

0
35
دھوکہ کبھی کسی کو بھی دیتے نہیں ہیں ہم
وعدہ کیا تو کر کے مُکرتے نہیں ہیں ہم
گو بیوفائی پائی مگر ٹالتے رہیں
داغوں کو اپنے ایسے دکھاتے نہیں ہیں ہم
مظلوم سے بنائے رکھی دوریاں بہت
شامل شریک غم بھی ہو سکتے نہیں ہیں ہم

0
13
ولیوں کے سردار ہو
علم کی دستار ہو
چور نے کلمہ پڑھا
غوث کے سالار ہو
اک نصیحت ماں نے کی
جھوٹ سے بیزار ہو

0
14
سرکارؐ کے صدقہ ہی ضیا ملتی گئی ہے
تاریکی بھی بعثت کے سبب چھٹتی گئی ہے
اخلاق میں حد درجہ گری قوم تھی ساری
حلقہ بگوشِ دیں سے جلا پاتی گئی ہے
نسبت کے بدلنے سے بہاريں رہی چھائی
بطحہ کی وہ سنگلاخ زمیں پھلتی گئی ہے

0
27
زندگی کے حق کو بہتر ادا کریں سارے
فی سبیل اللہ کارِ جزا کریں سارے
جان و مال کو جنت کے عوض خریدا ہے
بندگی بخوبی سے ہم وفا کریں سارے
آخرت میں پچھتانے کی بجائے پائینگے
پارسائی سے گر حاصل رضا کریں سارے

0
13
دل میں ہے آرزو سمائی
خوابوں کی ہے مہک بسائی
دلبر کیا جانیں حال میرا
آفت ڈھائے غمِ جدائی
پلکوں کو منتظر بنائے
راتوں کی نیند بھی چرائی

0
24
با اثر ہیں خطیب کی باتیں
غور ہو سن جناب کی باتیں
ان سنی کب تلک کریں آخر
فرض و سنت، وجوب کی باتیں
دل تاثر وعیدوں سے پکڑے
پھر رلا دیں عذاب کی باتیں

0
21
فضول رونا کبھی نہ روئیں نصیب کا ہم
جفا کشی میں ہی توڑ پائیں نشیب کا ہم
چمن میں تو بے شمار گل ہیں کھلیں ہوئے جو
مگر پسندیدہ پھول رکّھیں گلاب کا ہم
اضافہ ہو علم میں تواریخ کا بھی کیسے
مطالعہ شوق سے کریں گر کتاب کا ہم

0
22
آزاد پنچھی تو اڑانیں بھرتے رہتے ہیں یہاں
پابند ہرگز قید و بندش کے نہ ہوتے ہیں یہاں
جکڑے رہیں زنجیر میں کس کو گوارہ ہو سکے
فطرت پرستی کی فضا، سارے ہی چاہے ہیں یہاں
آوارگی ہے قابلِ نفرت مہذب لوگوں میں
گر ہو شریفانہ روش، عزت بھی پاتے ہیں یہاں

0
25
فلک پر چودھویں کا چاند ابھرے
ستاروں کی چمک کچھ ماند کر دے
افق پر ہو الگ دو بصری سمتیں
جداگانہ شئے کو خط سے جوڑے
نظامِ کائناتِ خالقِ حق
سزاوارِ دہش و تحسین چھلکے

0
29
ہجرتِ مدینہ کے جب اشارہ کو پایا
حکم کو بجاآور کیسے کر بھی دکھلایا
چل دئے سبھوں کے ہی سامنے سے بے دقت
خاک چشم میں پہریداروں کے پڑی گویا
بُوبکؓر بنے تھے ہمراہ آپؐ کے ساتھی
آئی جب خدا کی نصرت، پلٹ گیا پانسا

0
43
صدا لبیک کی لب سے لگانے کب چلا آؤں
مرادیں دل کی پوری کرنے کب میں دوڑتا آؤں
حرم کے پاک در و دیوار کا دیدار ہے مقصد
طوافِ کعبہ سے روحانیت کو چمکاتا آؤں
دُگانہ پڑھ سکوں جب جاء ابراھیم پہنچ پاؤں
سعی سے قبل بوسہ حجر اسود کا لیتا آؤں

0
17
کھلنے لگے مدرسہ ہیں سارے
بچوں بھریں پھرتی کو ہیں پھر سے
تعلیم فریضہ جانے اول
اکتاہٹیں دور بھی ہوں قدرے
ڈٹ کر ہو مقابلہ ہمیشہ
مقصد پہ جمے رہيں جو پورے

0
23
ہو احترام یومِ اقبال آج آیا
سوغات و رونقیں ہیں بزمِ ادب کی لایا
اشعار گنگنانا، مسحور سا ہو جانا
بیتاب و شوق میں ڈوبا ہر کسی کو پایا
اسکول و مدرسہ ہو، بازار یا ہو گلیاں
معمار و طفل سارے سرشار اور شیدا

0
25
عالمِ ارواح کا اقرار ہے
وعدہ کا بھی اپنے کچھ معیار ہے
آزمائش کے لئے بھیجا گیا
راہ ساری ہی مگر پرخار ہے
نفس کو گر قابو کر لینگے یہاں
راستہ جنت کا پھر ہموار ہے

0
18
بخش دے ہمیں مولا
لطف بھی رہے چھایا
چھوڑ در کہاں جائیں
ہم کو تو نے ہے تھاما
مشکلیں فنا کر دیں
لاج سب کی تو رکھنا

0
2
30
زباں چپ اگر ہو بھی جائیں
نشاں کیسے پر بھول پائیں
کبھی بھُولی بسری بھی یادیں
ابھر کر دریچہ سے جھانکیں
جو کچھ نقش ان مٹ سے رہتے
وہی چھاپ تادیر چھوڑیں

0
37
ہیں جان مصطفؐی پہ سارے ہی فدا
نہیں ہو سکتے جو دلوں سے بھی جدا
پڑھا ہے کلمہ بھی انہیں کے نام کا
بے انتہا عزیز رگ و پے میں بسا
گوارہ ہم سے گستاخی نہ ہو سکیں
اٹوٹ عشق کا ہے رشتہ بھی جڑا

0
19
نام لیں محمد کا تب درود بھی پڑھئے
اس درود کو پہنچاتے فرشتے بھی رہتے
مختصر پڑھیں گر صلی اللہ علیہ و سلم بھی
پر ثواب پائیں جو بے شمار ہیں کیسے
یومیہ وظائف میں خاص ورد شامل ہو
رحمتیں خدا کی پھر جوش میں لگیں آنے

0
23
مہنگائی نے کمر ہے توڑی
تنگدستی میں چلے نہ گاڑی
حیرانی تو بڑھی ہی جائے
ہر دن ہی فکر ہے ستاتی
طعنہ بیوی کے رہیں ہمیشہ
بچوں کو بھی کمی نہ بھاتی

0
19
پیغام خوشیوں کا دیوالی لے کے آئی
ہرسال کی طرح روشن دیپ کرنے آئی
فانوس جل اٹھے، قندیلیں بھی جگمگائی
تاریکیوں کے سایہ گھر سے چھٹانے آئی
کپڑے نئے پہننا، پکوان پر مزہ سے
آتش و پٹاخوں کی گونج لو، سنانے آئی

0
30
جسے دیکھو پڑی ہیں ذات کی فکریں
جئے یا کوئی مرے پھر بھی نہ روئیں
ہو چلے خود غرض سارے یہاں تو
برے بھی وقت نظر اپنی ہٹائیں
ہے بپا روز تماشہ بھی نیا سا
کبھی غربت کبھی افلاس ستائیں

0
28
نیک ہو ارادے تو آتی ہے مدد غیبی
کھوٹ ہو نیت میں پھر تو نصیب بھی خالی
آسماں سے ویسے ہی فیصلے اترتے ہیں
جیسی اگتی رہتی اعمال کی یہاں کھیتی
دین کے تمسخر سے خود کو بچانا ہے
لاشعوری میں حرکت کفر سی نہ ہو کوئی

0
26
حضرت انساں بری ہے غفلت
ہوش میں آ، جگا لے حریت
ظلم کا ڈٹتے سامنا کر
پانے انصاف ہو بھی جرات
سادگی سے بگڑتی باتیں
لب کشائی کی بھی ہو عادت

0
20
کبھی امیں کبھی صادق حضورؐ کہلائے
عرب و عجم سبھی گرویدہ آپؐ کے ہوئے
مہینوں بیتتے نہ بیت سے دھواں اٹھتا
کھجور و پانی ہی پر اکتفا کئے رہتے
عمل سے اپنے یہ پیغام سامنے رکھا
مجاہدہ کے سوا مرتبے نہیں ہونگے

0
23
مدرسہ جاؤں، بنوں میں ڈاکٹر
سر پرستوں کو بھی حاصل ہو فخر
علم طب سے انسیت و دلچسپی ہے
مشکلوں سے کر سکوں سینہ سپر
گاؤں کا بھی نام روشن جو کروں
دور تک مشہور ہو جائے خبر

0
27
چمکتے جگنو کی روشنی گو ستاروں جیسی
خلا میں بکھرے چہار طرفہ چراغاں جیسی
گھٹائیں ساون کی گھرنے جب لگتی ہیں یکایک
فضا بدلتی چلے خراماں خراماں جیسی
پھوار رم جھم سہی مگر ہر طرف ہی جل تھل
نمی سے محسوس تازگی بھی نمایاں جیسی

0
42
شوق و جستجو جب پروان چڑھنے لگ جائيں
کیفیت ہی دل کی کیسی نکھرنے لگ جائيں
کاوشیں مسلسل تقدیر کو بدلتی ہیں
تھک گئے، وہ تو بس مایوس ہونے لگ جائيں
بار بار گِرتے ہوئے سنبھلتے رہتے جو
ایک دن قدم بوسی جیت کرنے لگ جائیں

0
27
فیاضی و سخاوت جسے حاصل رہے، قسمت
کنجوسی سے دوری بنے ورنہ ہو ہزیمت
خیرات میں تاخیر بھلی چیز کہاں ہے
صدقہ سے ٹلے ساری پریشانی و مصیبت
اوروں کے لئے جینے کی خواہش بھرے اندر
ہو محض غرض ذات سے تو اوچھی ہے حرکت

0
25
بجھے آگ عشق کی پھر فنا ہی نصیب میں لکھی جائیگی
رہے فکر حاوی ہمیشہ اپنے تئیں بسی تو ہی نکھریگی
جنہیں اپنوں سے جو لگاؤ و انس نہیں اگر ذرہ سا کبھی
ہے یہ رنج اور ملال کی گھڑی جو ضمیر ہلائیگی
جڑیں ایک دھاگے میں ہیرے جیسے پروئے ہوئے اگر سبھی
تو مجال بھی کسے ڈسنے یا تمہیں جو دبوچنے کی ہوگی

0
33
دل نے تجھے تھام تو لیا ہے مگر کیا
طنز زمانہ بھی کر رہا ہے مگر کیا
ظلم صنم ڈھائے، چاہے سولی چڑھا دے
سارے گوارہ ستم و سزا ہے مگر کیا
مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں
حال بہت خستہ و بے سرا ہے مگر کیا

0
36
یارب فریاد سن لے میری
رحمت پاؤں کرم سے تیری
بپتا دکھیارے کی نہ ہو رد
کر پالنہار مہربانی
دکھ سہتے سہتے تھک چکے ہیں
مالک مایوسی جائے چھٹتی

0
30
نماز چشم کی ٹھنڈک حضوؐر کی
صحیح نکلی تو ملنی نجات بھی
منائے جشن مگر ہو خیال گر
قضا نہ ہو جو صلاۃ پھر کہیں کوئی
زبانی دعوے کہاں چلتے سوچئے
انا کو چھوڑئے، غفلت ہے ہی بری

0
24
عید میلاد مبارک ہو سبھوں کو دل سے
شادماں، خوش و خرّم، رہو تم جو سارے
بھول کر شکوہ و شکایت گلے لگ جاتے ہیں
رنجشیں چھوڑ کے ناصؔر ہوں بھی اک جاں جیسے

0
21
میدان جنگ میں بازی کون مارتے ہیں
ہو کسب جن کے حاوی، وہ لوگ جیتتے ہیں
گِر کر سنبھل بھی جائيں، دوبارہ دوڑ لیں جو
پھر ختم ہو رکاوٹ، کھلتے بھی راستے ہیں
جدوجہد ضروری رہتی مقابلہ میں
محنت سے ہی ہمارے تقدیر سنورتے ہیں

0
39
ذات اقدس، شان رحمت آپ ہیں
فخر موجودات و حکمت آپ ہیں
پرورش پائی یتیمی میں مگر
صبر کے پیکر و نخوت آپ ہیں
جان بھی لولاک آقا پہ فدا
روح کو ملتی مسرت آپ ہیں

0
55
رنگین شام کا منظر دل لبھا لگے ہے
سرخی فلک پہ جیسے آتش نما لگے ہے
کب آفتاب ڈھل جائے، انتظار میں ہوں
محبوب کی رفاقت پانے، خمار میں ہوں
وعدے وفا کرینگے ایسا عہد ہے
آغاز شب ہوا اک ایسا قصد ہے

0
30
ہوئی سرکار دوعالم کی جب جلوہ گری 
مٹ گئی دنیا سے پھر تاریکیاں کیسے سبھی
غرق پورے ہو چکے تھے مشرکانہ رسموں میں
روح جو توحید کی ان کے دلوں میں پھونک دی 
حیثیت نسواں کچلتی چیختی تھی منتظر
لاڈلے آقا نے لوٹائی کھوئی پاگیزگی 

0
30
عید میلادالنبی کو ہے منانا دھوم سے
خوشیوں کے جشن کو بھی ہے منانا دھوم سے

0
17
فلک ستاروں کی جھلملاہٹ سجائے ہوئے
چمک رہا آب و تاب کیسی سمائے ہوئے
طلوع پھر ہو غروب کیا خوب شمسی گردش
نظام ہی یوم و شب کا رکھا پروئے ہوئے
برستی برسات ہے تو ہریالی کا ہو منظر
فریفتہ و دل لبھا سماں ہرسو باندھے ہوئے

0
45
محبت سے لبریز جب دل ہو جائیں
کسوٹی پہ تب ہی اتر پورے آئیں
قضا و قدر کے کھیل سے آشنا گر
تو پھر پر خطر راستوں کو بھی پائیں
مسائل سے ہوئی ہے وحشت سی برپا
سنائی دے بس شہر میں سائیں سائیں

0
39
ستائش رب کی کیسے ہو ادا ناچیز سے ممکن
بزرگی و شان برتر ہی انوکھی اس کی جب ضامن
جسارت کیا کروں قاصر ہوں پر توصیف کرنے سے
عیاں ہر چیز میں رکھا بھی اپنا عکس جو روشن
رہے عاجز قلم تعریف لکھنے سے خدا کی جو
ثنا کرنا بحق من و عن کٹھن جیسے خدا کی جو

0
54
موت تو ہر نفس کو ہی آنی ہے
آن سے بھی ترک غفلت کرنی ہے
عاقبت کی فکر غالب ہو سدا  
سرخروئی پھر مقدر ہونی ہے
عارضی ہیں ساری تو آسائشیں
بنگلہ، موٹر دھری ہی رہنی ہے  

0
33
سردار کا لقب پائے ہوئے، کملی والے
محشر میں بھی جو میزاں پر ہونگے، کملی والے
جس روز نفسی نفسی جاری ہوگا زباں پر
تب پار بھی سفینہ کر دینگے کملی والے
باعث وجود خلقت کی کل بناء ٹھہرے
آفاق و دھرتی کی زینت بنتے کملی والے

0
44
دکھوں کے موسم میں آنی ہے اب بہار دیکھو
چھٹیگی جب یہ گھٹا تو پائے قرار دیکھو
وطن سے الفت، لگاؤ ایماں کا جزو بھی ہے
بڑھے جہاں میں بھی شان اس کی، سرور دیکھو
محال ہو نہ سکیں عزیزوں، سنبھالئیگا
شکاری ہی خود بن نہ جائے، شکار دیکھو

0
49
ہو نہ کبھی کینہ کی لکیر کسی سے
ٹھیک نہیں نفرتیں کثیر، کسی سے
بغض سے دل میں خرابی ہونے لگیگی
چڑچڑے پن سے بھی دوری ہونے لگیگی
غلطی پہ آگاہ کر لیا تو خطا کیا
اپنے گلہ کر لیں پیار سے تو برا کیا

0
50
سویرے ہی چہل قدمی ہو جائے
طبیعت میں روانی سی ہو جائے
بدن سے دور بھی ہوگی تھکاوٹ
روش چلنے کی جب اپنی ہو جائے
شفا خانے کے چکر ختم کر دیں
فنا دقت، پریشانی ہو جائے

0
47
حسن و ادا پہ کون جو جان چھڑکتے بھی نہیں
عشق و وفا میں کون جو زخموں کو سہتے بھی نہیں
درد اسے ہی مل گئے، جو چلے تھے خلوص سے
جن کے مزے رہے وہ تو، واسطے رکھتے بھی نہیں
پا چکے کچھ طریقہ دنیا کے رواج برسوں سے
مشق و سعی مٹانے کی سوچ میں بھرتے بھی نہیں

0
48
عزم ہو مصمم تو تیز آندھیاں کیا ہیں
حوصلے ہوں پختہ تو درد ناگہاں کیا ہیں
لاکھ الجھنیں ہیں گر سامنے پڑی ہوئی
جو گزر گئیں موجوں سے تو امتحاں کیا ہیں
التفات شامل بھی ناخدا کرے جب جب
رخ ہوا بدل دے تب تب، یہ بادباں کیا ہیں

0
34
نہیں جو منزل تری، محل کوٹھیوں میں ٹھہری
عقابی پرواز کر، فلک کی بلندی چھوتی
مگن ہوتے ہوئے آگے کی سمت ہی کو چلنا
مکر نہ جانا کبھی، ڈٹے رہتے جیتیں بازی
خواب غفلت سے جاگ جائیں تو کچھ ہے حاصل
وگرنہ پرسان حال ہو بھی ہمارا کوئی؟

0
57
کس کس کو ہم بتائیں کیسی چبھن رہی ہے
ہر دن تماشہ سہتے کتنی گھٹن رہی ہے
انسان کی جبلت ہی مختلف بنی ہے
فطرت انوکھی ہی لیکن معترف بنی ہے
ممنوعہ اک شجر کے پھل کی کشش ہوئی تھی
شیطان سے بہک کر دلمیں خلش ہوئی تھی

0
44
مغفرت ہو جائے میری، بس يہی ہے التجا
کر مبدل معصیت کو نیکیوں سے، اے خدا
بخش دیتا ہے بہانے ڈھونڈ کر، تو کس طرح
دین تیری ہے نرالی، اور کیسی ہے عطا
قوم کی خدمت کا جذبہ کوٹ کر بھر دے سدا
ہو چکی ہے ہر طرف یلغار برپا، کر فنا

0
46
پختہ ارادوں میں روشن کامیابی رہتی
ڈھل مل یقین میں پوشیدہ خواری رہتی
انبار ڈھیر سارے سامان کے پڑے ہیں
پل کی نہیں خبر کچھ، بے اعتباری رہتی
محتاط شخص اپنی پہچان پائے کیسے
جب فکر عاقبت ہی ان کو ستاتی رہتی

0
48
اثرات پڑتے دور رس حکمت کے بھی کردار پر
اقوام کی تقدیر رہتی منحصر تد بیر پر
افراد سرمایہ ہیں ملت میں ترقی لانے کا
بس روح بھر ديں انقلابی، کام ہو پھر پانے کا
بیدار گر ہو جائیں تو ممکن ہے راست بازی بھی
حیلہ بہانے چھوڑ دیں تو آتی فکريں عالی بھی

0
59
شوق ہے زیارت روضہ حضوراقدس کا
حال دیکھئے شدت عاشقی و تجسس کا
انتظار دو بھر ہونے لگا ہے، اے یارب
برسوں کی مرادیں تو پوری کر دے، اے یارب
کب نصیب چمکے پرواز کے لئے میرے
ہاتھ بھی اٹھاؤں اعزاز کے لئے میرے

0
39
کچھ سخت امتحان مقابل ہمارے ہیں
موجود پر قلیل وسائل ہمارے ہیں
اے کاش گر، جفاکشی احسن نصیب ہو
پھر کامیابی کی رہ بھی بالکل قریب ہو
جب زندگی اداس نظر آتی جائیگی
تو فتح دور بھاگ کھڑی ہوتی جائیگی

0
38
گل دانوں میں سجائے ہوئے
پر رونق پھول چھائے ہوئے
زیبائش سے فضا مہکتی
محفل کی شان بھی سنورتی
ہر کوئی محو خوشبو تھا
مستانہ وار روبرو تھا

0
46
خدا کی ان گنت ہیں نعمتیں سب
عطا کر دی بے پایاں وسعتیں سب
ادا ہو شکر ہر ساعت لبوں سے
لجاجت بھی ذرا چھلکے لساں سے
نہیں اسکا جہاں میں توڑ باقی
ذرہ ذرہ یہ دیتا ہے گواہی

0
57
غموں کو سینہ میں سجتے ہی رہنے دیں
کبھی زخموں کو یوں سہتے ہی رہنے دیں
کسے دکھڑا سنائیں جو ہو اپنا سا
خموشی سے فقط جیتے ہی رہنے دیں

0
55
پیار میں دل مچل جائے ہے
آس کی آگ بھر لائے ہے
جرم کب ہے کسے چاہنا
عشق پر جان ہے وارنا
ساز چھڑ جائے ہونٹوں سے جب
رقص ہو جائے پلکوں سے جب

0
58
خدمت کے جزبہ بھی قابل تحسیں ہوتے ہیں
بدلاؤ آنے کی جو واضح پہچاں ہوتے ہیں
ہمدردی و خیر خواہی کے باعث بھی ہیں
خالق کو پانے کا بہتر ساماں ہوتے ہیں

67
عشق میں کام بن جائے حسینوں کا
تال و سر بھی ملے جب ہے نصیبوں کا
بات تو دل لگی کی ہوتی رہتی ہے
پھر بھی پژمردگی سی چھائی رہتی ہے
پھول مرجھائیں بھی تو کیا پریشانی
کھل کلی جائیں تو، ہو دور حیرانی

0
110
طائف کے سفر سے آپ جب لوٹے تھے
کتنے ہی شدید زخم تب جھیلے تھے
معراج کی شب میں پائی کیسی نعمت
مالک نے عطا کی آپ کو بھی راحت

0
88
بدلتے رہتے ہیں موسم یہاں تو
رہیں تیار بھی ہر دم یہاں تو
ہوائیں جو صبا کی مست چلتی
بدن میں تازگی بے حد بکھرتی
وفا میں گر کبھی ہو آزمائش
کرے نہ کوئی غم کی پھر نمائش

0
78
فکر امت کی سدا رہتی بھی کیسی
یوم و شب دھن اک لگی ہوتی بھی کیسی
دین کی خاطر ستم ہوئے گوارہ
نہ شکایت لب پہ کوئی تھی بھی کیسی
زندگی قربان کر دی ساری اپنی
حکم کی تعمیل جو ہوئی بھی کیسی

0
60
مدینہ میں چرچا ہوا ہے
عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے
تھے سب منتظر، دیر تک جب
یکایک جو غوغا ہوا ہے
نئے دین سے رشتہ جوڑا
عدو تلملایا ہوا ہے

0
12
148
یہ بڑھنے جو لگی اب دوریاں ہیں
ستا کیسی رہی تنہائیاں ہیں
اشاروں سے ہوجائیں حرکتیں بس
لگی جو لمس پر پابندیاں ہیں
خیالوں میں بسی یادیں ٹٹولیں
بچی بھی اس کی ہی پرچھائیاں ہیں

0
106
رسوائی مقدر نہ بنی ہوتی ہماری
یوں رنج و الم سے بھی نہ ہوتی زبوں حالی
چھڑ جائے فسانہ جو کبھی حسب روایت
پھر چشم کو تر اشک سے کر دے یہ حکایت
بھرپور زمانہ رہی تاریخ سنہری
عالم پہ بڑی دھاک بھی کیسی تھی طاری

0
123
سبق بھولا ہوا جو یاد کرنا ہے
کٹھن بھی ہو مگر ہر چند کرنا ہے
شعوری یا رہے اب بے شعوری بھی
وفاداری رہے پر کچھ تو باقی بھی
جہالت ختم گر بھی ہو سکے ہم سے
نظریہ تنگ مٹ بھی جو سکے ہم سے

0
66
امید کے دم پر مشن مریخ ہے
بڑھتے خلا سے رابطے کی چیخ ہے
محنت کڑی درکار تھی پرواز کو
سارہ نے بخشی دھن الگ ہے ساز کو
سائنس کی جو دین دنیا کو ملی
عربوں کی ہی مرہون منت جو رہی

0
62
جب بھی زمانہ میں کوئی حادثات آئے
بدلاؤ رونما بھی تب تب ضرور ہوئے
باہمت لوگ تو طوفاں سے کبھی نہ ڈرتے
بے خوف سے نڈر بن کر بے جگر ہی لڑتے
ہم کو مٹا سکے، ایسا بھی کہاں ہے ممکن
کم ظرف جو سمجھتے ہونگے سہل ہے لیکن

0
103
فرد جو کوئی سعی اور محن بھی کرے
خلق خدا کی ہمیشہ جو لگن بھی کرے
خوش نصیبی ملیگی بھی انہیں جو یہاں
داد رسا بن کے بھی وقف رہیں جو یہاں
ٹوٹے ہوئے دل کی آہوں کو سنے جلد بھی
عرش ہلا رکھ دے، پھر جو ملے تائید بھی

0
2
134
دل سے دعا جو نکلی ہے، وہ قبول ہوگی
قربانی جو دی ہے، کچھ درجہ تو اہل ہوگی
دنیا بقدر قسمت، دیں ہے بقدر محنت
آئے فہم بھی، جتنی رغبت کی شکل ہوگی
بے چین ہو رہے، بس تھوڑے ہی تو ضرر سے
بیدار ہو لے، معمولی پر یہ ڈھیل ہوگی

0
88
جب آتا ہے محبت کا دن
تڑپاتا ہے محبت کا دن
کچھ باتیں ہیں جو بھولیں کیسے
کچھ یادیں ہیں جو چھوڑیں کیسے
تحفہ اور تحائف لائیں
موسم جب بھی ملن کے آئیں

0
2
93
عبادت ہی مقصد ہے اپنا
فریضہ ہے پورا نبھانا
خطا کی بھی رکھی ہے فطرت
دے بھی بخش گر ہو ندامت
لعیں نے نافرمانی جو کی
اکڑ کر پشیمانی جو کی

0
80
عشق آساں کام سمجھے جو یہاں
بعد وہ کچھ تھوڑا سوچے جو یہاں
کاٹ کر فرہاد نے مشکل نہر
داستاں لکھ دی لہو سے جو یہاں
بزدلی تو روکتی ہے راستہ
ہار کر پھر راہ چھوڑے جو یہاں

0
62
گھڑی قبولیت کی ملنے جزبہ ہونا چاہئے
نماز پڑھنے کے لئے وضو کا رہنا چاہئے
عمل کی ساکھ کا پیمانہ ہے نیت پہ منحصر
دلوں کی کیفیت کا رخ بھی تو سنورنا چاہئے
خسارہ ہونے سے ہی قبل احتیاط برتے بھی
شئے لطیف سی رہتی، جسے نہ کھونا چاہئے

0
56
جسمانی ورزش سے بڑھتی ہے قوت
سارے اعضاء کو بھی ملتی ہے طاقت
لکھنے پڑھنے سے ہو پوری دلچسپی
کھیلیں میداں میں، جب رہتی ہے فرصت
کوشش لازم سمجھیں سپنوں کے لئے
تب جا کر ہی اپنی بنتی ہے قسمت

0
48
ربط ہر چیز میں قائم رکھا ہے
کارخانہ ہی مزین بنا ہے
عجز کو خاک سے نسبت جو ملی
انکساری کی صفت جو دیا ہے
عبدیت خاص عنایت سی رہی
بندگی وصف اجاگر کیا ہے

0
71
خدا تجھ سے ہے التجا
سہارا تو ہی ہے سدا
بکھر سے گئے ہیں یہاں
ملے ہم کو بھی آسرا
نہیں کوئی تیرے سوا
سہارا تو ہی ہے سدا

0
120
چاہت وہ جو نبھائی جائے
دل میں بھی جو سمائی جائے
سچے دوست نصیب سے ہیں
ساتھی پیارے حبیب سے ہیں
شدت غم کو غلط ہونے دے
زخموں کو مت ہرا ہونے دے

0
52
محنت مزدوری شیوہ میرا
روزی روٹی یہ نعرہ میرا
ہر دن تگ و دو لگی بھی رہتی
چاہے لو سردی جو بھی چلتی
بیوی بچوں کی فکر لاگے