Circle Image

Nasir Ibrahim Dhamaskar

@Nasir.Dhamaskar

@nasir

حرا پر ملا مژدہ آخر الزماںؐ کو
بشارت ہوئی فخرِ کون و مکاںؐ کو
بنیں ہمسفر جبرَئیلِؑ امیں تھے
"تھی حسرت قدم بوسی کی آسماں کو"
ستم کیش سے نرم گفتاری رکھنا
اجاگر نبی کی ہے سیرت جہاں کو

0
6
ملت کے نوجوانوں! محکم وقار تم سے
ایثارِ نفس رکھیو، دار و مدار تم سے
ہیں والدین کے اپنے نور چشم سارے
"گلشنِ بہار تم سے دل کا قرار تم سے"
درکار ہے اُولو العزمی، مستقل مزاجی
عصمت کی پاسداری ہے برقرار تم سے

0
2
انمول موتیوں کو پرویا کریں گے ہم
اقبال مند یا اسے جسیا کریں گے ہم
پروان چڑھنے والی نئی نسل کے لئے
شعبۂِ دینیات کا اِحْیا کریں گے ہم
بر گشتہ اپنے ہی ملے اکثر یہاں ہمیں
"اب چاہتوں کے بیج نہ بویا کریں گے ہم"

0
8
تعلیم یافتہ ہی بیکار آج کل ہے
فکرِ معاش سے وہ بیزار آج کل ہے
پہچان اپنوں غیروں کی ہوگئی ہے مشکل
بغض و عناد سے دل افگار آج کل ہے
تہذیب کے سبق سب ہم نے سکھائے ان کو
کیوں ان کا نامہذب اظہار آج کل ہے

0
5
جِلا بخشی آقاؐ نے کامل مکاں کو
عطا کر دیں سوغاتیں بے خانماں کو
زمیں تا فلک غلبَۂ جلوہ سازی
"تھی حسرت قدم بوسی کی آسماں کو"
بنا مِیر کے قافلہ تھا ادھورا
شہِ انبیاؐ مل گئے کارواں کو

9
نام اس چیز کا محبت ہے
قربتِ یار میں ہی لذت ہے
اپنے دمساز کی ہیں یادیں بس
"خانۂ دل سرا کی صورت ہے"
من کے چلمن میں ایک ہلچل ہے
ہو چلی ہم قدم سے الفت ہے

0
10
ارادہ کِیا میلہ میں اک دن تھا جانے کا
یکایک ہوا غلبہ مگر نیند چھانے کا
بتوں پر چڑھاؤں سے رکھی آپؐ نے دوری
"ذبیحہ نہ کھایا تھا کبھی آستانے کا"
بلا ناغہ ہر رمضان میں شیوہ تھا اُنؐ کا
حرا میں عبادت کر کے من کو لبھانے کا

0
8
نظامِ عقائد بدلا کیسے زمانے کا
ہے حُسنِ اَثر نورِ ہُدیٰؐ جگمگانے کا
خرافات سے رب نے بچایا کرم کر کے
"ذبیحہ نہ کھایا تھا کبھی آستانے کا"
بے بس سہمے سب کفار تھے فتحِ مکہ پر
عجب تر سماں تھا آپؐ کے لوٹ آنے کا

0
10
مسکراہٹ چہرہ پر جب سے عیاں ہونے لگی
دل کدہ کی کیفیت گوہر فشاں ہونے لگی
جزبَۂ الفت میں معتوبِ زماں ہو جائیں گر
"کیا ہوا ہم سے جو دنیا بدگماں ہونے لگی"
گُلشَنِ نا آفریدہ کا تصور خوشنما
الجھنوں کے گام پر آہ و فغاں ہونے لگی

5
خوب اپنے عمل سنوارا کر
قبر کے واسطے اجالا کر
جب غمِ آگہی عیاں ہے ہوا
"دشت و صحرا میں اب پکارا کر"
چارہ گر ہی اگر ستم گر ہو
زخم کا خود ہی کچھ مداوا کر

0
9
بڑی زحمتیں ہیں اٹھائیں پھر بھی زباں پہ شکوہ نہیں رہا
کہیں لعن، طنز و مزاح، معترضہ بھی فقرہ نہیں رہا
بسی آرزو کئی عرصہ سے تھی کہ مطمئن ہو مگر کہاں
جسے جانے دیدنی ہم تھے اس میں ابھی وہ جلوہ نہیں رہا
بے رخی سے بچتے رہیں تو ساحِلِ آشنا ہو سکیں گے پر
یہ خیال خطرہ کی ہے نشانی کہ ہم کو خطرہ نہیں رہا

0
19
ہر کس و ناکس کو رہتا قریہ آبائی پسند
ہے جِبلّی طور پر انسان صوبائی پسند
ہو تخیل میں خلل ہرگز نہ پیدا اس لئے
"ہے دلِ شاعر کو لیکن کنجِ تنہائی پسند"
سوچنے کا طرز یا انداز سب کا ہے جدا
خامشی کچھ چاہیں تو کچھ رہتے شہنائی پسند

0
12
افکار کی بلندی اقبالؔ نے سکھائی
سنجیدگی و متانت گفتار میں نبھائی
شعروں سے نوجوانوں میں انقلاب آیا
معیارِ فکر سے ہلچل دل میں ہے مچائی

0
8
بد روی چھوڑنے کو لوگ بدل کہتے ہیں
خدمتِ خلق کو سب نیک عمل کہتے ہیں
عشقِ صادق کو فراموش نہ کر پائیں گے
"دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں"

0
5
بھول جانا نہیں ہے ذلت کو
مات دینا ہمیں ہے نفرت کو
پیار کے بول جب زباں پر ہوں
تب کریں گے قبول دعوت کو
ہوں فدا سارے جن کے رتبہ پر
داد ہو پیش ایسی رفعت کو

0
11
پیامِ محبت نہ آیا بلم کا
ہوا دل ہے آشفتہ خاطر صنم کا
نگاہِ تغافل کا ہے رقصِ پیہم
"تسلسل نہ ٹوٹا تمہارے ستم کا"
تفکر میں تعمیرِ نو جب ہو شامل
اثر انقلابی رہے پھر قلم کا

0
5
سخت احتیاج میں بھی سہارا نہیں ملا
اپنوں کی بھیڑ رہتے ہمارا نہیں ملا
جس کو نگاہوں سے کبھی تھا ہم نے کھو دیا
"راہِ وفا میں پھر وہ دوبارہ نہیں ملا"
پتوں پہ اوس ہے نہ گلوں میں ہے تازگی
گلشن میں روح بخش نظارہ نہیں ملا

0
5
کرتا ہے آجکل کُوئی سچی وفا کدھر
جانے بھی حالِ غیر یہاں ہم نوا کدھر
معمورَۂ جہاں کے نشاں بھول جانے سے
"یہ بھی خبر نہیں کہ گیا قافلہ کدھر"
شومِیٔ بخت دیکھئے کیا حال کر گئی
پلکیں بچھی ہیں راہوں پہ ہو دلربا کدھر

0
7
دیکھا نہ کبھی ہوگا جو دل آور ایسا
رکھتا ہو نرالا کچھ اپنا تیور ایسا
تسخیر جسے کرنا ہو کام بڑا مشکل
میداں میں ہمیشہ رہے پھر وہ برتر ایسا
ہے قابِلِ داد و دہش کرتب بازی جس کی
ہر سمت دلیری کے بکھرے گوہر ایسا

0
11
جو لڑکھڑا کے سنبھلتا کبھی رہا ہے جناب
مقامِ خاص اُسی کو ہی تو ملا ہے جناب
مزید صرفِ نظر آپ ہم سے اب نہ کریں
"ہمارے صبر کا پیمانہ بھر چکا ہے جناب"
منافرت کے قفس میں کیوں لوگ پھنستے ہیں
شکم کی آگ نے مجبور کر دیا ہے جناب

0
11
کیوں گماں ہے تجھے اس تیز ہوا سے کچھ ہو
رکھ یقیں پختہ نہ سرزد ما سوا سے کچھ ہو
کارگر کوئی نہ تدبیر ہو سکتی ہے اب
"دل میں وہ درد ہے جس کا نہ دوا سے کچھ ہو"
ابتری سے ہو چلا حال برا ہے اتنا
کچھ نہ رہبر سے بنے یا رہ نما سے کچھ ہو

0
15
علم سے شش ِجہَت اجالا ہے
جس سے خُرْد و کَلاں نِہالا ہے
بھینٹ ابعاد کے چڑھیں ہیں مگر
"تجھ کو دل سے کہاں نکالا ہے"
بد حواسی بے حال کر گئی پر
جزبَۂ شوق کو سنبھالا ہے

0
7
زرفشاں جب خیال ہو جائے
زندگی تب نہال ہو جائے
گر پشیماں ہو یار تو بنے بات
"ہجر ٹوٹے وصال ہو جائے"
میل جزبے ہمارے کھاتے ہوں
منتہائے کمال ہو جائے

0
8
یہاں جو بن کے محبِ رسولؐ جیتا ہے
وہی حبیبِؐ خدا کا بڑا چہیتا ہے
یہ مہرو مہ، یہ کواکب، فلک، زمیں سب کچھ
"نبؐی کے نام پہ سارا نظام چلتا ہے"
سدا نوازِشِ پیہم سے سرفراز کیا
کرم چہار سُو بھی آپؐ کا جھلکتا ہے

0
9
لگاؤ قلبی رہے اس عزیز ملت سے
تبھی ہو رشک درخشندہ اس کی قسمت سے
مراقبہ میں مخل شور ہو رہا ہے یہاں
"کوئی ہواؤں کو ٹوکے ذرا محبت سے"
ضمیر و روح کے فاتح کبھی نہیں مرتے
وہ مر کے زندہ ہی رہتے ہیں اپنی فکرت سے

0
3
بزمِ جہاں میں احمدِؐ مختار آ گئے
اک مژدہ جاں فزا لئے سرکارؐ آ گئے
گمراہی پھیلتی رہی سرعت سے ہر طرف
ظلمت مٹانے بن کے وہ انوار آ گئے
فخر الانبیاؐء کا جن کو لقب ملا
آقائے مدنؐی نبیوں کے سردار آ گئے

2
16
ايثارِ وفا کا گُر ہم سمجھیں جیالوں سے
آدابِ محبت کوئی سیکھے فسانوں سے
دیکھو نہ حقارت سے افلاس کے ماروں کو
"ایوان دہلتے ہیں مظلوم کی آہوں سے"
معبودِ حقیقی کرتا ان پہ کرم اپنا
تائب بنیں گے جو بندے اپنی خطاؤں سے

0
8
پُر حسیں چھایا گلستاں میں ہے منظر ہر طرف
مسکراہٹ، چہچہاہٹ کا ہے مظہر ہر طرف
بے خودی، مدہوشی کے عالم میں انساں بے خبر
بے حیائی، بے اوانی کا ہے مسکر ہر طرف
ناگہانی آفتیں ہم پر مسلط ہو گئیں
"ہے بپا دنیا میں اب تو شورِ محشر ہر طرف"

0
11
نور ہر سُو ہوا مصطفؐیٰ آگئے
بخت و مسعود بدر الدجؐیٰ آگئے
دل کی تاریکیوں کو جلا مل گئی
مرحبا ماہتاب و ضیا آ گئے
سب نے صادقؐ پکارا جنہیں پیار سے
رب کے محبوب شمس الضحؐیٰ آگئے

0
9
حضورؐ کی سبھوں کو پیروی ضروری ہے
کڑھن ہر ایک زن و مرد کی ضروری ہے
رسولِ عربؐی کے عاشق کا ہو مزاج یہی
"سکونِ قلب کو ذکرِ نبیؐ ضروری ہے"
قدم یہ اٹھتے نہیں پر اٹھائے جاتے ہیں
عقیدہ دل میں یہ رکھنا قوی ضروری ہے

0
11
جب کبھی وعدہ وفا ہوتا ہے
عشق میں تب ہی مزہ ہوتا ہے
یادِ جاناں کی ہو گردش ہر سمت
"زخمِ دل پھر سے ہرا ہوتا ہے"
حسرتیں بنتیں مقدر اپنا
یار جب ہم سے جدا ہوتا ہے

0
6
کئی اُولُوالعزم نبیوںؑ نے جتائی تھیں یہ حسرت بھی
عطا کر دے خدا امت پنہ میں ادنیٰ نسبت بھی
جہاں پر رحمتیں ہر سُو بے پایاں جس سبب چھائیں
"وہی ہے باعثِ رشد و ہدایت بھی شفاعت بھی"
محمدؐ نام آئے مالکِ کون و مکاں کے ساتھ
امام الانبیا بھی آپؐ ہیں تاجِ نبوت بھی

0
15
آسماں کو چھوتے ہیں اب دام جو بازار میں
خستہ دامن ہو چلے مہنگائی کی اس مار میں
دل لگی میں ہو اگر چین و سکوں برباد بھی
"بے قراری کا مداوا ہے خیالِ یار میں"
راس قلت ہے نہ کثرت ہے یہاں ہم کو مگر
ہو بے کیفی پر شکارِ اندک و بسیار میں

0
11
رت بدلتی ہے پر خطر نہ سمجھ
روٹھ جائے گی کچھ سحر نہ سمجھ
دیتی ہے تیز یہ ہوا دستک
ڈر ہے درپیش، بے ضرر نہ سمجھ
رہتی آگاہی حال سے ہمیں ہے
آندھیوں سے بھی بے خبر نہ سمجھ

0
12
پیارے نبؐی کی تعلیمات سے جو شخص محبت کرتا ہے
مردِ مومن یہی انساں سے پھر پیار و اخوت کرتا ہے
سرکارؐ کی بعثت سے کفر و باطل کی جڑیں مٹتی ہی گئی
"عالم کو ربیع الاول بھی کیا محوِ مسرت کرتا ہے"
طیبہ کی حقیقی عظمت جب تاریکیاں دل کی مٹا ڈالے
یثرب کی مقدس خاک وہ چومے بندہ عقیدت کرتا ہے

0
27
اپنوں سے نرم گفتگو کیجئے
ملنے کی آس و جستجو کیجئے
ہجر میں حال جب شکستہ ہو
"آئینہ ان کے روبرو کیجئے"
تیرگی مٹتی شمعِ علم سے ہے
دیپ روشن یہ کو بکو کیجئے

0
9
قلم کی نوک سے لوگوں کو جب بیدار کرتے ہیں
حصولِ رَسْتَگی کی راہ ہم ہموار کرتے ہیں
وطن کی سالِمِیت ہی اثاثہ ہے ہمارا کل
"لہو سے سینچ کر ہم ملک کو گلزار کرتے ہیں"
ہے جان و دل ترنگے پر فدا مانندِ پروانہ
یوں اپنی حب الوطنی کا اظہار کرتے ہیں

0
14
شاعری لکھنے بہانہ چاہیئے
قرب کا موسم سہانہ چاہیئے
پلکیں راہوں میں بچھی ہیں اب سے کیوں
"ان کو آنے کو زمانہ چاہیئے"
ہوں عزائم مر مٹینگے قوم پر
قرض ملت کا چکانا چاہیئے

0
14
آزمائش سے ڈر نہ جائے کہیں
خوف کے مارے مر نہ جائے کہیں
عارضی رہتے ہیں یہ رنج و الم
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

0
9
جو پہیلی خود سے جڑی تھی، پر اسے بوجھتا کوئی اور ہے
مرے بولنے کی تھی باری، پر وہاں بولتا کوئی اور ہے
کبھی چاہیں وہ بے خیالی میں بھی تو ہوں بے سود ہی چاہتیں
"میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے"
سبھی مرحلوں پہ ہمیں قدم تھے بڑھانے پھونکتے ہی مگر
ہمیں چوکسی تھی برتنی پر، یہاں چونکتا کوئی اور ہے

0
19
نعتِ سرکارؐ کو گنگناتے چلو
محفلوں میں محبت بڑھاتے چلو
ورد صؐلَِ علیٰ کا روا ہم رکھیں
"قلب کو نور سے جگمگاتے چلو"
جب جلوسِ عقیدت ہو میلاد کا
تب قدم سے قدم بھی ملاتے چلو

0
11
سامنے بطحہ کا ہی منظر ہے
کب سے دل ہو چلا یہ مضطر ہے
عزم گر پنپے گا زیارت کا
نیکی کا کھول دے گا دفتر ہے
سینہ میں ہو مدینہ کی چاہت
اپنے ایمان کا وہ جوہر ہے

0
13
فرقہ میں ہر کوئی منقسم ہو گیا
باہمی الجھنوں میں بھی گُم ہو گیا
لوٹ آئی ہے چہرے پہ کچھ تازگی
"تم کو دیکھا تو غم میرا کم ہو گیا"
دست بوسی ہو جب اپنے استاد کی
رب کے شکرانے میں سر یہ خم ہو گیا

0
7
تسخیرِ دل کو سہل یہ اشعار کرتے ہیں
بدمزگی میں بھی روح کو سرشار کرتے ہیں
آوازِ احتجاج خطا بن گئی ہے اب
گر شکوہ لب ہوں، بر سَرِ پیکار کرتے ہیں
لڑوا کے خوب لطف اٹھائیں گے وہ سبھی
مل کے چلو عوام کو بیدار کرتے ہیں

19
کل جہاں کی ہدایت پہ لاکھوں سلام
مُہرِ ختمِ رسالتؐ پہ لاکھوں سلام
دشمنوں سے شگفتہ بیاں ہی رہے
"مصطفیٰؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام"
جو ستاروں کی مانند کہلائے ہیں
جاں فدا سے شفقت پہ لاکھوں سلام

2
20
بِپتا کبھی تو اپنی بتائیں گے ایک دن
پارینہ داستان سنائیں گے ایک دن
چاہت پہ اعتبار نہیں ہو اگر مرے
"سینے کے داغ تم کو دکھائیں گے ایک دن"
رسوائیوں کو ہنستے ہی جھیلا ہے سب مگر
تضحیک کا مزہ بھی چکھائیں گے ایک دن

11
سہانے جب یہ منظر بولتے ہیں
موافق اس کے خُوگر بولتے ہیں
سکھایا ہے جنہیں طرزِ تکلم
"وہ اپنی حد سے بڑھ کر بولتے ہیں"
عُلّوِ شان کا ادراک ہو تب
ثنا خوانی میں منکر بولتے ہیں

16
حق کی رہ میں آگیا گر درمیاں صحرا تو کیا
مل ہی جائے راستہ ہو سامنے دریا تو کیا
ہر ستم بھی عشق کا مجھ کو گوارہ جب یہاں
"میں اگر محفل میں اس کی ہو گیا رسوا تو کیا"
لوگ آنے سے کبھی تو کارواں بن جائیں گے
جانبِ منزل چلا ہوں میں اگر تنہا تو کیا

0
15
آپؐ کےسب عدو باوفا بن گئے
جاں کے پیاسے تھے پر جاں فدا بن گئے
مٹ گئی دل سے ساری کدورت بھی جب
"سارے چہرے یہاں آشنا بن گئے"
فاقہ سہ کر کھلایا غریبوں کو ہے
اپنے ایثار سے وہ سخا بن گئے

0
9
پیش نذرانہ ہے عقیدت کا
وقتِ میلاد ہے مسرت کا
جان و اولاد سے زیادہ ہو
"آپؐ سے رابطہ محبت کا"
رتبہ نبیوں میں عرفہ ہے کتنا
کملی والؐے کی اُونچی عظمت کا

0
11
طیبہ کی یاد نے مجھے آخر رُلا لیا
اشکوں کے بکھرے موتیوں نے رب کو منا لیا
عشقِ نبؐی نے رنگ دکھانا ضرور تھا
"سرکارِؐ دوجہاں نے جو اپنا بنا لیا"
چھلکے گی تب عمل سے عقیدت کی چاشنی
سینہ کو اپنے جب درُودوں سے سجا لیا

0
12
آس تو مدینہ جانے کی میری روشن ہے
عزم پنپے گر دل میں تو حسین گلشن ہے
عاصی کی دعا ہو کیسے قبول کیا جانوں
"آج کل مرے دل میں اک عجب سی الجھن ہے"
گڑگڑا کے یارب مَیں التجا کروں تجھ سے
ٹوٹے دل کی سنتا بھی تُو ضرور یہ ظن ہے

0
8
ہے خواب سینہ میں دیرینہ اک سجایا ہوا
دل و دماغ پہ ہر لمحہ جیسے چھایا ہوا
خمار سے ہو عیاں راز ان کی مدہُوشی کا
نہ جانے کون سا نشہ ہے ان پہ چھایا ہوا
گداگری نے ستم دیکھو کیسے ڈھائے ہیں
عزیز تھا جو کبھی آج وہ پرایا ہوا

0
8
مِرا اک نیا مَیں جہاں چاہتا ہوں
سکوں چاہتا ہوں، اماں چاہتا ہوں
تبسم شگُوفوں، گُلوں پر نچھاور
بہاریں ہو ایسا سماں چاہتا ہوں
نہیں مڑ کے ہرگز مجھے دیکھنا ہے
فتوحات کا کہکشاں چاہتا ہوں

0
16
اصلاح روح کی ہو، مددگار مدرسہ
دُوری ہو گر مِٹا سکے، معمار مدرسہ
علماءِ عصر داد کے سارے دُلارے ہوں
"علم و عمل کی حرص کا ہے دار مدرسہ"
مولا سے لَو لگے گی دلوں کے مکاں مکاں
سدھرے گا ہر کسی کا سَو کردار مدرسہ

0
40
حیران یہاں کیوں یہ بشر دیکھ رہے ہیں
مسمار بھی ہوتے یہ نگر دیکھ رہے ہیں
جن کو بڑے ہی شوق سے پروان چڑھایا
وہ ہر سُو زمیں دوز شجر دیکھ رہے ہیں
ماقبل تو بدلے کبھی تیور نہ تھے اُن کے
"ہاں آج بہ انداز دگر دیکھ رہے ہیں"

0
9
نظامِ دہر کا رمزِ نہاں ہے
جہاں اک کلبۂِ محنت کشاں ہے
فریضہ جو نبھائے رہبری کا
ملے اُس کو حیاتِ جاوداں ہے
شکن سے عکس ظاہر ہو رہا ہے
"تفکر تیرا ماتھے سے عیاں ہے"

11
استاد کو ہمیشہ ہو معیار کی تلاش
طُلبا کے بیش قیمتی کردار کی تلاش
حالات کے تھپیڑوں نے مجبور کر دیا
"ہوتی نہ ہم کو سائہِ دیوار کی تلاش"
مطلب پرست یار تو کثرت سے ملتے ہیں
رہتی ہے ِاس لئے کسی دلدار کی تلاش

2
29
اُڑانیں اُونچی جو بھرتا نہیں ہے
وہ منزل کا نشاں پاتا نہیں ہے
تمازت مِہر کی جھیلی ہو جس نے
حوادث سے وہ گھبراتا نہیں ہے
تقاضہ وقت کا تھا اور ہی کچھ
"شعور اس دور کا پختہ نہیں ہے"

2
14
لب پہ رہتا ہے نام دلبر کا
حال کیا جانے کوئی مضطر کا
کاوشوں سے مِری درخشاں ہو
"ہر ستارا مرے مقدر کا"
لُوٹ لیتے ہیں مال رہزن ہی
راہ بھٹکے ہوئے مسافر کا

14
دل میں ترے گر پیار ہوگا
پھر کہیں تو اظہار ہوگا
چاہے دل وجاں سے وہ تمہیں
ایسے میں کیوں انکار ہوگا
سرخی پر دوڑے گی نظر
سامنے جب اخبار ہوگا

13
محنت پہ گامزن ہی سچائی کا رستہ ہے
عزت کمانے کا یہی آسان نکتہ ہے
یخ بستہ سارے عزم و ارادے ہیں ہو چلے
فتنوں کو سہتے سہتے بھی یہ دل شکستہ ہے
بے روزگاری اک بڑی ناسور بن چکی
ہر کوئی تنگدستی کے باعث گرفتہ ہے

11
فکر لاحق ہو گزر جائے نہ مہلت اپنی
جب تلک سانس چلے باقی ہے مدت اپنی
کروٹیںں لے رہے ہیں مکر کے ٹولے مل کر
"دیکھو دیکھو نہ بکھر جائے یہ ملت اپنی"
نوجواں نسل سے تعلیم نکل جائے تو
بے ثمر ہوتی ہے ساری کڑی محنت اپنی

14
حالِ دل چشم سے اکثر ہی عیاں ہوتا ہے
کون سمجھے یہ بَھلا عشقِ نہاں ہوتا ہے
چاک جب پردے تخیل کے ہو جائیں سارے
"آپ آئے ہیں مجھے ایسا گماں ہوتا ہے"
امتحاں عشق کے ہوتے ہیں مسلسل صاحب
جیسے انجم سے پرے کوئی جہاں ہوتا ہے

10
طیبہ کے حسیں منظر آنکھوں میں سما جائیں
پاکیزہ فضائیں دل بھرپور لبھا جائیں
ہر وقت بسی الفت سینہ میں نبیؐ کی ہے
"خوابوں میں مرے آقؐا جلوہ جو دکھا جائیں"
خوش بختی ہو کالی کملی والےؐ کی امت پر
میزان کے دن امت کی بگڑی بنا جائیں

15
مقصد کو اپنے تُو کبھی پہچان جائے گا
باطن میں بڑھتے پھر تِرے ایمان جائے گا
تاریکیوں کے ڈیروں میں گِھرتا ہی جائے گا
"دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گا"
لعنت خدا کی آئے گی اُس شخص پر اگر
ناخوش، شکوہ لب ہوئے مہمان جائے گا

24
ظلمت کی گھٹائيں تو چھٹتی ہیں چراغوں سے
وحشت بھی گلستاں کی مٹتی ہے بہاروں سے
اندازہ ہے گر باد و باراں کی ہواؤں کا
"للکارتے ہو کیوں تم طوفاں کو کناروں سے"
جب تذکرہ کرتے ہو اغیار کی خوبی کا
ِگر جاتے ہو پل بھر میں ہمدم کی نگاہوں سے

0
11
طوفاں کے اٹھ جانے سے گھبرائيں کیوں
موج کے شور مچانے سے گھبرائيں کیوں
ہمت و حوصلہ گر ہو بلند تو خوف ہے کیوں
رنج و مصائب آنے سے گھبرائیں کیوں
جب نظروں سے نظر مل ہی جائے تو پھر
دل کا حال سنانے سے گھبرائيں کیوں

11
لازمی دل میں الفتیں رکھنا
"چند لمحوں کی فرصتیں رکھنا"
نیک ظرفی کی ہے یہی پہچاں
مفلسوں سے بھی نسبتیں رکھنا
کوئی ہرگز نہ ورغلا پائيں
عزم ہو جب نہ نفرتیں رکھنا

27
کون اس کجروی کے مجرم ہیں
سارے ہی بد روی کے مجرم ہیں
لاکھ الزام سر پہ آئے تو کیا
"ہم فقط دوستی کے مجرم ہیں"
گائے جن کے قصیدے جاتے ہیں
بیشتر دھاندلی کے مجرم ہیں

0
31
ہمدردی جتاتے ہیں انسان نظرآئے
اوباش صفت والے حیوان نظرآئے
تحقیق کے بن رہتا دشوار ہدف پانا
عجلت جو برتتے ہیں نادان نظر آئے
بارعب بنے رہنے کا حاوی نشہ جب ہو
پھر سارے تعیش کے سامان نظر آئے

0
35
خواب گر دل میں سجائے گا تو چھا جائے گا
ذات کو اپنی بچھائے گا تو چھا جائے گا
ہستی کو کر تُو فنا رتبہ یہاں پانے کچھ
"یاد رکھ خود کو مٹائے گا تو چھا جائے گا"
فصل زرخیز زمیں سے تو بہت پائے گا
کشتِ ویراں میں اُگائے گا تو چھا جائے گا

0
50
کاہلی کو برتنے سے رسوا ہوا
حال بھی ہو چلا کیسے بکھرا ہوا
اک تبسم نے ایسا اثر کر دیا
"کیا کہوں دل مرا تیرا شیدا ہوا"
قدر ہر پھول کی ہوتی جس گھر میں ہے
مثلِ گلشن مکاں پھر وہ رعنا ہوا

0
36
دشواریوں سے ہی جزبوں میں نکھار آئے
جزبے ہی نا ہو گر نفسِ خلفشار آئے
بے لطف رونقوں میں کچھ جان لوٹ آئے
"اس زندگی میں لے کر کوئی بہار آئے"
اُس پار سوچتا ہوگا یار تو یہی بس
کشتی چلانے الفت کی کب جوار آئے

0
18
بندے خدا کے عشق میں جو بھی فنا ہوئے
ایمان کے ہی بول زباں سے ادا ہوئے
جزبے صحابہ کے بنے جب دین کے لئے
عشقِ رسول میں تبھی کیسے فدا ہوئے
محسوس عار ہو کہ قدم ڈگمگاتے ہیں
مردم شماری رہتے بھی بے دست و پا ہوئے

0
49
بچا فرارِ قفس کا نشان تھوڑی ہے
محافظین ہیں شامل، امان تھوڑی ہے
ہوس نے توڑ کے انساں کو رکھ دیا کیسے
نبھائے فرض کو وہ، پاسبان تھوڑی ہے
فریب میں نہیں آنا ہے شعلے گر بھڑکیں
"یہ سب دھواں ہے کوئی آسمان تھوڑی ہے"

0
31
سپنہ ہی گر کسی نے دیکھا ہو
پانے کی پھر اُسے تمنا ہو
سوزِ دل ہجر سے ہرا جب ہو
"موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو"
گرمی لُو سہتے سہتے تھک جائیں
شمس ڈھل جائے اور سایہ ہو

0
34
فسانے اپنے جو اقدار کے ہیں
تمدن اور وہ معیار کے ہیں
حسد والوں سے بھی الفت نبھائی
"عدو قائل مرے ایثار کے ہیں"
ترے کُوچہ میں رکھتے ہم قدم ہیں
بہانے رہتے بس دیدار کے ہیں

0
27
بندہ تھا وہ بڑا نیک گزرا امین
ڈھونڈتے اب رہو اُس کو، ایسا امین
قابلِ داد و تحسین پایا سخن
"منفرد تھا لب و لہجہ تیرا امین"
رہتی تاثیر شعروں میں اُن کے بہت
جو بھی پڑھتا ادب ہوتا شیدا امین

0
50
سفینہ پیار کا اپنے نہ جانے کیوں بھنور میں ہے
سہانا خواب جو دیکھا پھنسا کیوں وہ ڈگر میں ہے
کٹھن ہے راستہ پر حوصلہ مضبوط ہے کتنا
سمندر پاؤں کے نیچے ہے اور صحرا نظر میں ہے
کمالِ عشق کا بھی مقتضا رہتا یہی بس ہے
صنم کو سوز ہو تو ٹیس جو اُٹھنی جگر میں ہے

0
40
غموں کو سینہ میں رکھا سجا کے
کِیا برتاؤ بھی تھا مسکرا کے
حسیں چہرہ ادائیں شوخ و چنچل
"وہ اوجھل ہو گیا جلوہ دکھا کے"
گوارہ کرب سارے عشق میں تھے
سہے ظلم و ستم وعدے نبھا کے

0
66
ہے آجکل زمانہ بڑا ہی بدل گیا
دیکھو جسے وہ حد سے ہی اپنے نکل گیا
کچھ اختیار دل پہ بھی اپنے نہیں رہا
"سب ہاتھ سے شباب کا ریشم پھسل گیا"
اتراتے ہیں اُنہیں تو اشارہ ہی کافی ہو
ڈھلتا ہوا جو شمس تھا آخر وہ ڈھل گیا

0
44
دنیا میں پھیلی ہر سُو زینت ہے تجھ سے عورت
ناقابلِ بیاں سی وقعت ہے تجھ سے عورت
کیسے ہو تزکرہ قدر و منزلت کا تیرے
حاصل رہا جو رتبہ، عظمت ہے تجھ سے عورت
نبیوں کی اور ولیوں کی مائیں بن سکی ہوں
کیسی بلند و عرفہ خلقت ہے تجھ سے عورت

0
34
رنگ بگڑا ہو گر اُن کے رخسار کا
حال بے حال ہو ناز بردار کا
ظلمِ تنہائی سے زخم تازہ ہُوئے
"یک بیک بڑھ گیا درد بیمار کا"
دوڑ پیسہ کی جب حاوی ہو جاتی ہے
حق بھی تب چھین لیتے ہیں حقدار کا

0
56
زندہ دلی کے ساتھ ہی سارے جِیا کرو
مردہ دلی برتنے سے دوری کِیا کرو
جزبہ وصال کا تو بھرم کچھ رکھا کرو
"ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو"
گر الجھنیں بھی آئیں سرِ راہ حرج کیا
احساسِ کمتری کو نہ ہونے دیا کرو

0
34
جب سے آنکھوں میں پیار دیکھا ہے
دھڑکنوں میں اُبھار دیکھا ہے
وصل کی پُر حسیں بہاروں سے
دل میں بڑھتا قرار دیکھا ہے
یادِ دلبر ستانے لگ جائے
پھر ابھرتا خمار دیکھا ہے

0
40
پیار میں جب دو دل بچھڑتے ہیں
ٹوٹ کے کیسے وہ بکھرتے ہیں
مفلسی نے بے حال کر چھوڑا
"لوگ ہر سُو یہاں پہ مرتے ہیں"
اشک جو چشم سے نکلتے ہیں
سوئی تقدیر کو سنورتے ہیں

49
ڈر لگے اب نئے زمانے سے
لوگ رہتے ہیں کچھ دِوانے سے
ہر سُو چھائی بہار ہے کیسی
"کِھل اٹھے پھول تیرے آنے سے"
دور تک شائبہ نہیں سچ کا
لغو جو سارے ہیں بہانے سے

0
33
بے بندگی سے جینے میں عزت نہ ملے گی
بے شرمی کو برتنے سے بھی عفت نہ ملے گی
گر دل کی عدالت میں ہو درخواست بھی تو کیا
"اب حرفِ تمنا کو سماعت نہ ملے گی"
مسکان ہی غم میں ہے کرن بن کے ابھرتی
مایوس ہو جاتے ہیں تو فرحت نہ ملے گی

0
42
امید مجھے قوی ہے کہ دلبر بھی آئیگا
روشن چراغ کر دئے، ہمسر بھی آئیگا
ہمسایہ کی ہر ایک چُبھن ہنس کے ہی سہے
"آنگن میں پیڑ ہوگا تو پتھر بھی آئیگا"
غلبہ رہے امیری کا گھر میں کسی کے گر
دولت کی ریل پیل ہو، نوکر بھی آئیگا

0
32
شہروں میں کیسے امن و اماں تک نہ رہ گیا
سامانِ عیش اور مکاں تک نہ رہ گیا
مجذوب بے نیازی کی حالت میں کہہ سکے
"ارض و سما کا کوئی نشاں تک نہ رہ گیا"
دنیا تو خواب سی ہے طلسماتی بس چمک
ارمانوں کا بھی اب یہ جہاں تک نہ رہ گیا

0
32
پل میں عسرت بھی تو ٹل جاتی ہے
اپنی تقدیر بدل جاتی ہے
یوں چہ منگوئیاں کرتے کرتے
"بات سے بات نکل جاتی ہے"
نقش یادوں کے ابھرتے ہیں تب
شام جب سرمئی ڈھل جاتی ہے

0
38
کچھ وجہ ہے ثمر نہیں لگتا
قد میں تو کم شجر نہیں لگتا
فہم و افکار سے لگے ایسے
"کوئی اہلِ نظر نہیں لگتا"
مشکلیں تب ڈراتی جاتی ہیں
جب بھی سینہ سپر نہیں لگتا

0
35
فرشتوں کی صفت جیسے بچے بھرتے نظر میں ہیں
وہ سب ماں باپ کی اپنے بہت جچتے نظر میں ہیں
ضعیفی کا سہارا، آنکھ کے تارے بھی ہوتے ہیں
جواں ہو جائے جب وہ خوابوں کو بھرتے نظر میں ہیں
دعائیں کرتے مستقبل سنورنے کی ہمیسہ وہ
نمایاں کامیابی پانے سے سجتے نظر میں ہیں

0
30
دلکش جو پھول رہتا چمن میں کِھلا ہوا
سہرے کی جان بھی وہی رہتا بنا ہوا
کچھ احتیاج آن پڑی فوری طور پر
اس واسطے مزید رہا وہ رکا ہوا
خواہش بچھڑنے کی نہیں ہرگز بسائی تھی
"یہ اور بات تھی کہ وہ مجھ سے جدا ہوا"

0
53
چاند جیسا چہرہ نا جانے ہے کیوں اترا ہوا
یار کی فرقت میں ہے کیوں حوصلہ فرسا ہوا
ہر طرف مایوسی کے ہی ڈیرے رہنے کے سبب
"رنگِ انساں لگ رہا ہے آج کل بکھرا ہوا"

0
53
ہر بات گہرائی میں دل کے ہے بسانی آپؐ کی
ہو سرخروئی جس نے بھی ہے بات مانی آپؐ کی
شہ انبیا، سرکارِ دو عالم، شہِ بطحیٰ ہو تم
دونوں جہاں میں مصطفیٰ ہے حکمرانی آپؐ کی
شہرِ مدینہ کی زیارت سے سکوں، فرحت ملے
"حیرت سے تکتے رہے ہر اک نشانی آپؐ کی"

0
41
آپسی جھگڑوں سے کیسی ناگواری ہوتی ہے
جگ ہنسائی سے بھی کتنی شرمساری ہوتی ہے
بچھڑے ہیں محبوب سے تو تازہ دم ہی ہم مگر
ہجر کی تنہائیوں سے بے قراری ہوتی ہے
دید اپنوں کی نہیں ہونے سے دل مایوس ہو
عید کا تہوار رہتے سوگواری ہوتی ہے

0
39
فرض سے جب کوئی کلی طور بے پروا ہوا
بندہ تب مقصد سے ہی اپنے وہ بے بہرہ ہوا
نیم شب کا تھا جو سپنا وہ حقیقت بن گیا
"رات اپنے خواب کی قیمت کا اندازہ ہوا"
قدرداں چُھو لیتے ہیں منزل کو اکثر ہی یہاں
وقت کی قیمت نہ پہچانا وہ تو رسوا ہوا

0
29
غیر کے در پہ بھی سوال نہ کر
ہاتھ پھیلانے کا خیال نہ کر
وصل کی خواہشیں پنپ رہی ہوں
"حسرتوں کو مری حلال نہ کر"
دُکھ کا طُوفان اُٹھ کھڑا ہو گر
غم شکستہ کبھی یہ حال نہ کر

0
40
الفت نبیؐ سے کرنا ہمارا شعار ہے
اللہ کے راستے کے لئے جاں نثار ہے
سن لی دعا مدینہ پہنچنے کی رب نے ہے
یہ تو دلیلِ رحمتِ پروردگار ہے
آنکھیں ترس رہی ہیں زیارت کے واسطے
چھایا بھی سبز روضہ کا ہی جو خمار ہے

0
45
محبوب کی یادیں جب آتی ہیں خیالوں میں
نگہت سی مہکنے لگ جاتی ہے سانسوں میں
تِتلی کی عدم دلچسپی تو یہی بتلائے
خوشبو نہ رہی باقی امسال گلابوں میں
اصلاحی نظر ہو تو انسان سنور جائے
خطرات تو ظاہر ہوتے رہتے اجالوں میں

0
39
گر ڈوب رہا کوئی بچا کیوں نہیں دیتے
کچھ فرض تو بنتا ہے، نِبھا کیوں نہیں دیتے
گُھٹ گُھٹ کے تو جینے سے لگے مرنا ہی بہتر
"اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے"
جُنبش دے لبوں کو تو سمجھنا رہے آساں
جو بات ہے دل میں وہ بتا کیوں نہیں دیتے

0
37
منصوبہ بندی کیسے ہے کرنا ہم نے سوچ لیا
ناکامی سے پُورے طور اُبھرنا ہم نے سوچ لیا
سمجھائش کا ان کے ہوا تھا اثر دل پر اتنا گہرا
دامن پر لگے سارے داغ مٹانا ہم نے سوچ لیا
گردِشِ دوراں ہو یا کچھ ہو موافق سے حالات کبھی
وعدوں کو اپنے ہر حال نبھانا ہم نے سوچ لیا

0
38
خدا نے کیسے تماموں کی آبرو رکھ لی
اُٹھے ہُوئے سبھی ہاتھوں کی آبرو رکھ لی
زباں سے بول عیادت کے ہی ادا جب ہوں
"مزاج پوچھنے والوں کی آبرو رکھ لی"
رہی تھی فاقہ کشی سے روِش دگرگوں سی
سُدھر گئے اُنہیں حالوں کی آبرو رکھ لی

0
28
بات بہتر پہلے سمجھا کیجئے
تب قدم آگے بڑھایا کیجئے
خوف دشمن کا نہیں رکھنا کبھی
"اپنے بازو پر بھروسہ کیجئے"
آس سے ہی مسئلے حل ہوتے ہیں
یاس و حسرت کو نہ پالا کیجئے

0
29
معراج کا سفر تھا محبوبؐ پر عنایت
طائف کے گہرے زخموں سے پائی تھی طراوت
براق کی سواری، جو تیزی سے بھی پہنچی
نبیوں کی مسجدِ اقصٰی میں ہوئیں امامت
انعام میں خدا نے مخصوص ہدیہ بخشا
لائیں نماز کا تحفہ واسطے عبادت

0
32
جھڑک کے شخص جو انکار کرنے والا تھا
کبھی وہ نرمی سے گفتار کرنے والا تھا
گلاب کے ہی تھے کچھ پھول ہاتھوں میں اس کے
"وہ اپنے عشق کا اظہار کرنے والا تھا"
غرور میں ہی مگن رہتے وقت گزرا تھا
بڑی بے شرمی سے پندار کرنے والا تھا

0
32
دور ہو جائے رنج و غم کیسے
حزن سے پار نکلیں ہم کیسے
یاد جب آ گئی ہے ان کی تو
"آنکھ پھر ہو گئی ہے نم کیسے"
شکر رب کا ہو لازمی پورا
کر رہیں ہیں جبین خم کیسے

0
40
نعتوں کو لکھتے لے لوں میں قربت ہے آپؐ کی
دل میں بڑھاتے جاؤں عقیدت ہے آپؐ کی
دندان بھی شہید ہوئے تھے حضورؐ کے
غزوہ احد کی ایسی شجاعت ہے آپؐ کی
جب لاش حمزہؓ کی بے کفن پائی تھی وہاں
بڑھتی گئی تھیں ٹیسیں، صعوبت ہے آپؐ کی

0
31
چشم کا درخشاں وہ تارا تھا
دل کے میرے اُفق پہ چمکا تھا
لمس محبوب کا ہو جانے سے
تن بدن خوشبو سے بھی مہکا تھا
عشق کا ڈھونگ جو رچایا تھا
جھوٹے وعدے سے من بھی بہلا تھا

0
43
کاوشیں جب سرخرو ہونے لگی
تو ستائش چار سُو ہونے لگی
ساتھ بھی تقدیر کا ملتا گیا
"پھر ہماری جستجو ہونے لگی"
طنز کرنے والے اپنے دوست ہوں
ہاں مگر پاسِ عدو ہونے لگی

0
63
بے رُخی نے تیرے رسوا کر دیا
اس رویہ نے بے چارہ کر دیا
چال کچھ شطرنج کی کھیلی گئی
حکمتوں نے ہی تو پسپا کر دیا
نقدی تھی تو دوست سارے ہی تھے
مفلسی نے ہم کو تنہا کر دیا

0
35
اشک سے رنگ بھی پیدا کر دے
آہ سے پار بھی بیڑا کر دے
جس کو چاہے اُسے عزت دے تُو
جس کو چاہے اُسے رسوا کر دے
ابر مایوسی کے چھٹ جائیں سب
کفر کا دور یہ سایہ کر دے

0
21
گر رکھا آپ نے نگاہوں میں
آئیں گے تب ہی تو پناہوں میں
حال نا پوچھئے ابھی ورنہ
"رت بدل جائے گی سوالوں میں"
چاند شرمائے، حسین ہے اتنا
یار کی باتیں ہوں ہزاروں میں

0
28
ہمیں کِیا ہے جو پیدا ہی بندگی کے لئے
ملی یقین کی دولت بھی پیروی کے لئے
بنا کسوٹی کے ملتا بھی کچھ یہاں نہیں ہے
لگن، تڑپ بھی ہے درکار زندگی کے لئے
اہم ہے ضبط بھی اصلاحِ نفس کی خاطر
مجاہدہ بھی ضروری ہے پختگی کے لئے

0
38
عہدہ، کرسی بھی بچائی نہ گئی
جشن کی ریلی سجائی نہ گئی
سرد سارے جو پٹاخہ ہوگئے
چاہ کر جیت منائی نہ گئی
طیش گنتی کے طریقہ پہ رہا
ہارنے سے بھی ڈِھٹائی نہ گئی

0
30
لفظوں میں جب بھی گیت پرویا نہ جائے گا
نغمہ ہی پھر کسی سے وہ گایا نہ جائے گا
لو شمع کی قوی ہو تو طُوفان میں جلے
"پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا"
ہم اپنے بین جوڑ کا پہلے ثبوت دیں
تب دھونس سے کسی کو ڈرایا نہ جائے گا

0
34
وعدہ ہے یاد آج بھی مجھ کو کیا ہوا
احساس میں ہے زندہ وہ اب تک بسا ہوا
منظر حسین بھولے نہیں بھولتا مگر
"آنکھوں میں ایک دشت ہے کب سے رکا ہوا"
کوئی بھی اعتماد کے قابل نہیں رہا
گھر کا ہی بھیدی دشمنوں سے تھا ملا ہوا

0
53
صنم کے ہے جب چہرے پر پھیلی مسکان
ہوا دل بھی گھائل ہے جو دیکھی مسکان
اگر حال نا بھی بتایا محبت کا اپنی
عیاں راز دل کا مگر کرتی مسکان
پریشانی کے سایہ منڈلاتے ہیں جب
مداوا غمِ عشق کا بنتی مسکان

0
48
ناکامی پانے سے کبھی رویا نہ کیجئے
ہمت سے منہ کو اپنے بھی پھیرا نہ کیجئے
ہمدردی، خیر خواہی کے کاموں میں دل لگے
"ہرگز گناہِ عشق سے توبہ نہ کیجئے"
مجبوریاں تھیں درمیاں میرے اے ہمنوا
نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا نہ کیجئے

0
37
ساروں نے ہی بچپن میں حسیں کیسے سپنے مگر بڑے دیکھے تھے
ملت کے بہی خواہوں کی طرح جزبے بھی بہت بنے دیکھے تھے
صدیوں جو حکومت چھائی دہر پر کیسی حشم سے ہماری تھی
ہائے یہ ستم پھر عظمت و شوکت کو کھوتے ہوئے دیکھے تھے
بھاتی ہے بھلا آسودگی، فرحت کس کو یہاں کسی کی کیوں کر
خوشیوں سے بھرے اپنے بھی مکاں پر کیسے عدو جلے دیکھے تھے

0
39
امت کے غم میں کیسے سدا آپؐ گھلتے تھے
یا امتی یا امتی ہی لب بھی کہتے تھے
اصحاب خالی تین سو تیرہ ہی ساتھ تھے
پیشانی غزوہ بدر میں بہ سجدہ رکھتے تھے
خندق کے غزوہ میں کئی دن فاقہ بھی ہوا
پتھر بندھے ہوئے جو شکم پر بھی رہتے تھے

0
28
کبھی پُوری ہوگی جو حسرت تمہاری
بلندی پہ جائے گی قسمت تمہاری
شرارے عدو کے بھڑکنے سے ہی تو
یقیں کی بڑھیگی حرارت تمہاری
صلہ رحمی کے جزبے پنپے اگر تو
ہٹیگی بھی دھیرے کدورت تمہاری

0
49
جزبہ کو اپنے دکھانا چاہئے
جھکتی ہے دنیا جھکانا چاہئے
ناز ہے مسکان تیرے نعرہ پر
ایسی ہمت بھی جتانا چاہئے
آندھی سے ٹکرانے کا ہو ولولہ
پانی فِتِّن کو پلانا چاہئے

0
50
دل ٹوٹتا ہے آپس کے جھگڑے دیکھ کر
ہو چشم آبدیدہ سب فتنے دیکھ کر
حیران کر کے رکھ دے برتاؤ ناروا
انسانیت کے جھوٹے بھی دعوے دیکھ کر
بے چینی بڑھتی ہے نفرت کے سلوک سے
پھر طبقہ اور فرقہ میں بٹتے دیکھ کر

0
41
اتنی نفرت کیوں ہے انساں سے ہمیں
نرم گوشہ تو ہو نسواں سے ہمیں
ہم سبھی کب ایک بھی ہو جائے گیں
کچھ پشیمانی ہو غلطاں سے ہمیں

0
32
کھیل میں بھی ہم کو دلچسپی اور الفت ہو
دھیان کو ہٹانے سے پُر مزہ طبیعت ہو
ہوتی گوشہ تنہائی میں بڑی ہی اکتاہٹ
دوستوں کو ملنے سے خوب ہی مسرت ہو
کام کاج سے بھی بڑھتی ہیں اُلجھنیں بے حد
دور سُستی پر میداں آنے کی بدولت ہو

0
36
جو کاموں کو بناتے ہیں دشوار بے سبب
ہو جاتے کیسے وہ سبھی بیزار بے سبب
نفرت کے ایک بول سے رشتے خراب ہوں
"کیوں درمیاں اٹھاتے ہو دیوار بے سبب"
قانون کا شکنجہ کسا جائے ظلم پر
ورنہ تو کُچلے جائیں گے نادار بے سبب

0
37
بنائے ہیں جو کہکشاں کیسے کیسے
جدا ہر شئے کا سماں کیسے کیسے
ستاروں کی ہے جھلملاہٹ انوکھی
"بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے"
سزاوار تعریف ہے بس خدا کو
رکھا یوم و شب کو رواں کیسے کیسے

0
30
مشکلوں نے سدھار ڈالا ہے
زندگی کو گزار ڈالا ہے
تم تو غیروں کی بات کرتے ہو
مجھ کو اپنوں نے مار ڈالا ہے
یوم و شب دھن سوار خدمت کی
واسطے قوم وار ڈالا ہے

0
84
ہندوستان کی تھی وہ کوئل، لتا بہن
روشن رہے گی یادوں کی مشعل، لتا بہن
آواز کی مٹھاس بھی رس گھولے گی یہاں
ہستی کو بھولنا بھی ہے مشکل، لتا بہن
رتبہ مقام جو رہا ممتاز و منفرد
حاصل نہ کر سکے کوئی منزل، لتا بہن

0
29
خوابوں کو بھی دلوں میں اپنے اگر سجائے
منزل کو سامنے ہی ہر لمحہ پھر بسائے
بنجر زمین محنت سے قابلِ اُپج ہو
مایوسی چھوڑے گر تو بھرپور ثمرہ پائے
مضبوط ہو ارادے، گلزار بنتے جائے
پودہ گلاب کا بھی چٹان پر اگائے

0
21
شہادت کا چرچہ بھی ہر سُو بیاں ہے
زباں پر بڑوں چھوٹوں کے بھی رواں ہے
کیا فرض جاں دے کے پورا بھی اپنا
عمر تیرے خوں سے ہویدا جہاں ہے

0
31
روضہ پہ کملی والےؐ کے جانا نصیب ہو
دل کی مرادیں پوری بھی ہونا نصیب ہو
ہو اعتکاف مسجدِ نبوؐی میں بھی ادا
سجدہ ریاض الجنہ میں کرنا نصیب ہو
پڑھ کے سلام گنبدِ خضرؐیٰ میں شوق سے
پھر جنت البقیع کو چلنا نصیب ہو

0
61
زباں کو کذب کی عادت نہیں ہے
کبھی برتی بری خصلت نہیں ہے
خلوص و پیار بے حد ہی کیا ہے
دکھاوے کی مگر الفت نہیں ہے
یہی کیوں سوچتا ہوں میں بھی شاید
تجھے پاؤں مری قسمت نہیں ہے

0
39
سگریٹ نوشی ہے بری عادت، بچیں سبھی
تمباکُو کینسر کی قباحت، بچیں سبھی
برباد کرتی خود کو بھی پورا سماج بھی
ہونٹوں پہ ایک ہے یہ سماجت، بچیں سبھی
بیداری ہے فریضہ یہاں حق شناسوں کا
ورنہ جو چھوٹ جائے گی غایت، بچیں سبھی

0
27
ویسے محفل میں کچھ لوگ ہنستے بہت
کیسے تنہائی میں وہ ہی روتے بہت
ہجر کے دن کا انداز تو دیکھئے
آپ تنہا بہت ہم اکیلے بہت
اب اٹھانے قدم پھونک کر ہیں ہمیں
کھائے تھے جو یہاں مکر و دھوکے بہت

0
30
میرے مولا تُو خطائیں بخش دینا فضل سے
نیکیوں سے بھی مبدل ان کو کرنا فضل سے
ہم پہ ستاری بھی فرما اور غفاری بھی کر
ناگہانی آفتوں کو بھی پلٹنا فضل سے
دے ہمیں خوشحالی، صحت، امن کی سب نعمتیں
عافیت بھی ہو، سلامت بھی تُو رکھنا فضل سے

0
25
دل میں مدینہ جانے کی چاہت ہے ہو چلی
شہرِ رسولؐ کی بھی محبت ہے ہو چلی
من کی مرادیں کر دے خدایا تُو پوری سب
شامل ہو فضل تیرا جو الفت ہے ہو چلی
خلوت میں اور ہے وہی جلوت میں تذکرہ
جزبوں میں میرے کیسی یہ عظمت ہے ہو چلی

0
42
یقیں جب تک بنا کامل نہیں ہے
مزہ اعمال میں حاصل نہیں ہے
ندارد رزقِ طیب ہو چلا تو
دعاؤں میں اثر شامل نہیں ہے
ضعیف و ناتواں پر تُو کرم کر
عطا کا تیرے بھی ساحل نہیں ہے

0
24
نبھانے ہیں وعدے ہمیں جو وفا کے
مٹانے ہیں اب داغ سارے جفا کے
محبت تمہیں سے فقط کرتے ہیں ہم
نہیں ہے یقیں دیکھ لو آزما کے
صنم تم ہی تو ہو کہیں جس سے دکھڑا
"ہوا بوجھ ہلکا غمِ دل سنا کے"

0
32
ہجر کے وقت ملاقات پہ رونا آیا
آخری پیارے خطابات پہ رونا آیا
روز ماتم کدہ ہوتا ہے پریشانی سے
ہم کو تو گردشِ حالات پہ رونا آیا
بھائی بھائی میں چلے جھگڑے برے تھے سارے
رونما ہوئے خرافات پہ رونا آیا

0
63
نبؐی جی کا دامن نہیں چھوڑیں گے ہم
بتائی ہوئی باتیں بھی پکڑیں گے ہم
برستی ہے رحمت وہاں مولا لے چل
مدینہ جانے کی دعا مانگیں گے ہم
منور ہو دل ایماں کی روشنی سے
ملے جتنی تکلیف بھی جھیلیں گے ہم

0
48
نظروں میں سب کے گھومتا منظر
پُر کشش دل کو کھینچتا منظر
سیر ساحل کنارے کی کرنا
شام کا دھیان کھینچتا منظر
بھول جانا بہت کٹھن ہوگا
وہ خیالوں میں ناچتا منظر

0
36
کیسی خواہش ترے دیدار کی تھی
جو کشش پائی وہ رخسار کی تھی
مسکراہٹ تو بہانہ تھی فقط
ایک صورت یہی اظہار کی تھی
اپنی تہذیب کو گرنے نہ دیں ہم
کھوئی منطق وہی اقدار کی تھی

0
24
یوں مکر نہ جاتے گر دل میں تمہارے پیار ہوتا
نہ ہی کوئی بے سبب آپ کا بھی شکار ہوتا
کہ بڑے بے آبرو، رنج و الم میں لوٹے واپس
"یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا"
کبھی دیکھتا اِدھر تو کبھی دیکھتا اُدھر میں
جو جھلک بھی پاتا تیری تو مجھے قرار ہوتا

0
36
زینت، مہک، بہار کا مظہر ہے آج کل
گلشن میں کچھ عجیب سا منظر ہے آج کل
ڈھاتی ہو دلربا کی جو آنکھیں ستم بہت
حسن و جمال کا بھی وہ خُوگر ہے آج کل
تنہائی کھانے ہے لگی دل کا سکون بھی
یادوں میں یار کے ہوا مضطر ہے آج کل

0
19
کسی سے دل لگی کرنا ہنسی کا کھیل نہیں
یہ ایک طرفہ محبت مجھے قبول نہیں
گواہ عینی ہو جیتے مقدمہ بھی وہی
دلیل کے بنا مانے اگر عدیل نہیں
مزاج سادگی والا مفید بخش بڑا
زبان شیریں رہے، ہوتے وہ ذلیل نہیں

0
27
منظر حسین و پُر مزہ ہوتا بہار سے
چھائے سکون گردِشِ لیل و نہار سے
نرگس، گلاب، یاسمیں سے مہکے کُل چمن
گل بن کے پھوٹتا ہے لہو شاخسار سے
پیاسی زمین ہوتی ہے سیراب مینہ سے
سوندھی مہک بھی پھیلتی ہلکی پھوار سے

0
15
ہیں والدین کے احساں بے شمار سارے
ہوں بسر و چشم ان کے ہر دم وقار سارے
مولا تُو کر غریقِ رحمت کرم سے ان کو
دونوں جہاں میں پائیں وہ افتخار سارے
مخدوم کا ملے درجہ فضل سے ہمیں بھی
خدمت کے کر عطا ہم کو بھی شعار سارے

24
بے تکے سے کسی الزام پہ رونا آیا
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
فیصلے سوچے بنا سارے طئے پائے جو
اُن بھیانک لئے اقدام پہ رونا آیا
جاہ و حشمت کو گنوا بیٹھے تکبر میں تھے
بگڑی قسمت اِنہیں اقوام پہ رونا آیا

0
29
اٹھ گیا جو دل میں ارمان، کیوں نہیں جاتا
ہو گیا ہوں کتنا حیران، کیوں نہیں جاتا
شوق و جستجو سے ہی انقلاب برپا ہو
روئیں گے وگرنہ نقصان کیوں نہیں جاتا
کاہلی برتنے سے برملا پکاریں گے
پایا علم کا جو فقدان، کیوں نہیں جاتا

0
41
حواس اپنے بھی سارے گنوا کے بیٹھے ہیں
تمہارے حسن پہ نظریں جما کے بیٹھے ہیں
اداؤں نے تو بڑا سحر کر دیا جیسے
صنم تو مجھ سے مرا دل چرا کے بیٹھے ہیں
حسین طرز نمایاں ہی زیست میں پایا
مکان خوابوں کا دلکش بسا کے بیٹھے ہیں

0
33
وطن سے پیار بے حد ہو چلا ہے
ترنگا ہر طرف لہرا رہا ہے
چلیں جمہوریہ کا دن ہے آیا
سہانا سا سماں ہر سُو بپا ہے
غلامی کاوشوں سے ختم ہوئی
فرنگی بھاگتے آخر گیا ہے

0
25
وفا شعار تو سارے ملن کے ساتھ رہے
جو درد مند بہت تھے، لگن کے ساتھ رہے
عجیب بات نہیں، ملک سے ہو پیار ہمیں
وطن پرست ہمیشہ وطن کے ساتھ رہے
مزاج نرم ضروری ہے ورنہ مشکلیں ہوں
عناد، بغض رکھیں گر، جلن کے ساتھ رہے

0
28
درد سینہ میں سجائے ہوئے ہی رکھتا ہوں
غم کے طوفاں میں بھی ہنستے ہوئے ہی جیتا ہوں
پیچھے مڑ کر کبھی دیکھا نہیں ہرگز میں نے
مشکلیں جھیلتے آگے کی طرف بڑھتا ہوں
محفلوں میں تو ہنسی چہرے پہ چھائی رہتی
حالِ تنہائی میں اکثر ہی مگر روتا ہوں

0
39
تار یادوں کے چِھڑے تھے میرے
خواب آنکھوں میں پڑے تھے میرے
وقتِ رخصت وہ ٹہلنا مڑنا
ساتھ کچھ دیر چلے تھے میرے
جزبے مخفی نہیں رہ پانے سے
راز محفل میں کُھلے تھے میرے

0
29
مانے جانم تو کر دکھاؤں گا
عشق میں تیرے جان واروں گا
باتیں کچھ آزمانے کی ہوگی
جزبے ہیں یا نہیں میں پرکھوں گا
کوششيں پانے کی رہوں کرتے
ہار تھک کر کبھی نہ بیٹھوں گا

0
23
خوابوں کو اپنے دل میں سجائے ہیں ہم
آرزو پانے کی بھی بسائے ہیں ہم
پیرہن، کاسہ جو اک گدائی لئے
لے کے ہاتھوں میں کشکول آئے ہیں ہم
روشنی سے مسافر کو ہو فائدہ
راہوں میں دیپ کیسے جلائے ہیں ہم

0
44
تُو سارے جہانوں کا تنِ تنہا خدا ہے
یکتا تُو، یگانہ تُو، بیاں تیری ثنا ہے
اول بھی تُو آخر بھی تُو، بس ہر جگہ تُو ہے
ہر چیز میں موجود بھی تیری ہی ضیا ہے
مشرق بھی ہے تیرا ہی، یہ مغرب بھی ہے تیرا
ہر روز ہی دن رات کی گردش بھی روا ہے

0
34
دل ہے بے چین اب قرار نہ پوچھ
حسرتِ انتظارِ یار نہ پوچھ
وصل کے لمحے روح بخش ہی ہیں
چھائے گی کب یہاں بہار نہ پوچھ
پر حسیں ہو سماں، ہو تازگی بھی
رونقیں بزم کی نگار نہ پوچھ

0
31
بہاروں کا ہی تو موسم چلا ہے
ابھی تو شاخ پر پتا ہرا ہے
کریں ہم شکر بھی ہر حال رب کا
جو کچھ پاتے اسی کی ہی عطا ہے
سنور جاتی ہے بگڑی بندہ کی تب
خدا کا جب کرم شامل ہوا ہے

0
27
خیر کے دن آنے کی میرے دعا دیتا رہا
عافیت چھائی رہے ایسی صدا دیتا رہا
عزر لاکھوں وصل کے ہر بار ہی کرتا رہا
وہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا
باتیں اکثر ٹالنے کی کوششیں بھی ہوتی پر
عہد و پیماں ساتھ رہنے کے سدا دیتا رہا

0
19
لقمے توڑ کر کیسے پیار سے کھلاتا تھا
خود وہ ہوتا پیاسا مجھ کو مگر پلاتا تھا
جیسے ہی مکاں میں داخل ہوتا خوشی آتی
گھر بھی تب بہاروں سے پھر بہت مہکتا تھا
غم ہمارے دیکھے جاتے نہیں کبھی اس سے
ہم دکھی ہو جاتے تو خوب ہی ہنساتا تھا

0
30
جو کرے کوشش وہی سب کچھ یہاں پاتا گیا
سوچِ فردا سے تغیر بھی اُسے ملتا گیا
جس نے دنیا فتح کرنے کی تھی خواہش کر رکھی
وہ سکندر آج بھی کیسے مگر چھاتا گیا
مسکراہٹ سے ہو استقبال سارے دکھڑوں کا
آزمائش میں وہ ہی پھر سرخرو ہوتا گیا

0
24
آقاؐ سے امتی کو عقیدت، عجیب ہے
پڑھتے ہیں سب سلام بھی، چاہت عجیب ہے
ہر دم ستائیں گنبدِ خضریٰ کی آرزو
ہم کو ہوئی جو ان سے محبت، عجیب ہے
منظر مدینہ کا ہی بسا دل میں رہتا ہے
چھائی جو گہری روح میں الفت، عجیب ہے

0
23
مدینہ کی فضا بھانے لگی ہے
مہک سی خوابوں کی چھانے لگی ہے
کہیں بادِ صبا دل کو لبھائے
کہیں کچھ یاد تڑپانے لگی ہے
لبوں پر بول صلّ اللہ جاری
سکوں پھر روح بھی پانے لگی ہے

0
28
مزاج نرم رہا بد حواس ہو کر بھی
وہ پرسکون تھا کتنا اداس ہو کر بھی
تھے شر پسندی کے منصوبہ سارے ہی لیکن
نگر پہ طاری رہا سکتہ یاس ہو کر بھی
بے اعتنائی ہو پہنچی عروج کے درجہ
نگاہیں پھیر لیں تب حق شناس ہو کر بھی

0
41
بندے جو بھی ہاتھ پھیلاتے خدا کے سامنے
پاتے ہیں جو مانگتے مشکل کشا کے سامنے
لاج رکھیؤ ناتواں کے مولا سب کی تُو سدا
بے کَس و نادار ہیں لطف و عطا کے سامنے
سینوں میں ہر دم سجائی ہے یقیں کی روشنی
کون خم کرتا ہے سر ظلم و جفا کے سامنے

0
49
چوٹ گہری نہ ہو سسکی نہیں آیا کرتی
کاغذی پھول پہ تتلی نہیں آیا کرتی
دوسروں کے لئے خود کو جو فنا کرتے ہیں
لب پہ ان کے کبھی شیخی نہیں آیا کرتی
کچھ سبب لازمی رہتا ہے الجھ جانے کا
یوں مگر بے وجہ تلخی نہیں آیا کرتی

0
51
چھین جاتی یہ رستگی ہوگی
سب کے ہونٹوں پہ خامشی ہوگی
ہو تعیش کے نقشہ بھی سارے
پُر مزہ پھر یہ زندگی ہوگی
روٹھ جانے کی کچھ وجہ ہوگی
ہلکی سی دل میں تشنگی ہوگی

0
35
یار کا ہے ملال، روٹھ گیا
رنج ہے کچھ محال، روٹھ گیا
قرض جب سے ہوا نہ نیند رہی
پیسے کا ہے سوال، روٹھ گیا
ہجر کا جب فسانہ چھڑنے لگا
دیکھو اس کا کمال روٹھ گیا

0
31
چلیں اخلاقی اپنا فرض سارے ہی نبھائیں گے
جو بھٹکے ہیں انہیں رستہ سبھی مل کے دکھائیں گے
کریں احباب پابندی مساجد اور گھر میں بھی
فضائل کی کتابیں پڑھ کے حلقوں میں سنائیں گے
کبھی دینگے نہیں ہرگز نمازوں کو قضا ہونے
محلہ کی فضا میں دینداری کو بسائیں گے

0
53
چاۓ ہوتی شیریں ہے ہمدم کے ہاتھوں سے بنی
لطف دیتی ہے بہت چاہت کے جزبوں سے بنی
شام کے مسحور لمحے پُر مہک ہو جاتے ہیں
پیش ہو جب پیالی اک دلکش اداؤں سے بنی

0
34
گر کوئی بندہ اہلِ لیاقت نہیں رہا
پھر کیسے اعتبار و صداقت نہیں رہا
بے التفاتی ہونے لگے پیار میں اگر
تو آشنائے جزبہ الفت نہیں رہا
اسلاف کا زمانہ بڑا خیر کا رہا
فی الوقت ویسا فہم و فراست نہیں رہا

0
31
کہاں کونسا جو بہانہ ہوا ہے
عدو اپنا سارا زمانہ ہوا ہے
کہ حق گوئی کرنے کی عادت ہے ہم کو
اسی کچھ وجہ سے نشانہ ہوا ہے
محبت کی وہ داستاں چھڑ گئی جب
وفا، عشق کا اک فسانہ ہوا ہے

0
28
کسی سے جب کسے بے حد محبت ہوتی جاتی ہے
کشش کیسے صنم کی تب سرایت ہوتی جاتی ہے
یہاں کچھ لوگ غم کو سینہ میں ہنستے سجاتے ہیں
ہجومِ رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہے
خدا بھی بخش دیتا ہے ہماری لغزشیں ساری
گناہوں پر بھی جب اپنے ندامت ہوتی جاتی ہے