Circle Image

Nasir Ibrahim Dhamaskar

@Nasir.Dhamaskar

@nasir

کون اس کجروی کے مجرم ہیں
سارے ہی بد روی کے مجرم ہیں
لاکھ الزام سر پہ آئے تو کیا
"ہم فقط دوستی کے مجرم ہیں"
گائے جن کے قصیدے جاتے ہیں
بیشتر دھاندلی کے مجرم ہیں

0
23
ہمدردی جتاتے ہیں انسان نظرآئے
اوباش صفت والے حیوان نظرآئے
تحقیق کے بن رہتا دشوار ہدف پانا
عجلت جو برتتے ہیں نادان نظر آئے
بارعب بنے رہنے کا حاوی نشہ جب ہو
پھر سارے تعیش کے سامان نظر آئے

0
23
خواب گر دل میں سجائے گا تو چھا جائے گا
ذات کو اپنی بچھائے گا تو چھا جائے گا
ہستی کو کر تُو فنا رتبہ یہاں پانے کچھ
"یاد رکھ خود کو مٹائے گا تو چھا جائے گا"
فصل زرخیز زمیں سے تو بہت پائے گا
کشتِ ویراں میں اُگائے گا تو چھا جائے گا

0
27
کاہلی کو برتنے سے رسوا ہوا
حال بھی ہو چلا کیسے بکھرا ہوا
اک تبسم نے ایسا اثر کر دیا
"کیا کہوں دل مرا تیرا شیدا ہوا"
قدر ہر پھول کی ہوتی جس گھر میں ہے
مثلِ گلشن مکاں پھر وہ رعنا ہوا

0
22
دشواریوں سے ہی جزبوں میں نکھار آئے
جزبے ہی نا ہو گر نفسِ خلفشار آئے
بے لطف رونقوں میں کچھ جان لوٹ آئے
"اس زندگی میں لے کر کوئی بہار آئے"
اُس پار سوچتا ہوگا یار تو یہی بس
کشتی چلانے الفت کی کب جوار آئے

0
12
بندے خدا کے عشق میں جو بھی فنا ہوئے
ایمان کے ہی بول زباں سے ادا ہوئے
جزبے صحابہ کے بنے جب دین کے لئے
عشقِ رسول میں تبھی کیسے فدا ہوئے
محسوس عار ہو کہ قدم ڈگمگاتے ہیں
مردم شماری رہتے بھی بے دست و پا ہوئے

0
31
بچا فرارِ قفس کا نشان تھوڑی ہے
محافظین ہیں شامل، امان تھوڑی ہے
ہوس نے توڑ کے انساں کو رکھ دیا کیسے
نبھائے فرض کو وہ، پاسبان تھوڑی ہے
فریب میں نہیں آنا ہے شعلے گر بھڑکیں
"یہ سب دھواں ہے کوئی آسمان تھوڑی ہے"

0
20
سپنہ ہی گر کسی نے دیکھا ہو
پانے کی پھر اُسے تمنا ہو
سوزِ دل ہجر سے ہرا جب ہو
"موسمِ گل ہو کوہِ صحرا ہو"
گرمی لُو سہتے سہتے تھک جائیں
شمس ڈھل جائے اور سایہ ہو

0
25
فسانے اپنے جو اقدار کے ہیں
تمدن اور وہ معیار کے ہیں
حسد والوں سے بھی الفت نبھائی
"عدو قائل مرے ایثار کے ہیں"
ترے کُوچہ میں رکھتے ہم قدم ہیں
بہانے رہتے بس دیدار کے ہیں

0
16
بندہ تھا وہ بڑا نیک گزرا امین
ڈھونڈتے اب رہو اُس کو، ایسا امین
قابلِ داد و تحسین پایا سخن
"منفرد تھا لب و لہجہ تیرا امین"
رہتی تاثیر شعروں میں اُن کے بہت
جو بھی پڑھتا ادب ہوتا شیدا امین

0
37
سفینہ پیار کا اپنے نہ جانے کیوں بھنور میں ہے
سہانا خواب جو دیکھا پھنسا کیوں وہ ڈگر میں ہے
کٹھن ہے راستہ پر حوصلہ مضبوط ہے کتنا
سمندر پاؤں کے نیچے ہے اور صحرا نظر میں ہے
کمالِ عشق کا بھی مقتضا رہتا یہی بس ہے
صنم کو سوز ہو تو ٹیس جو اُٹھنی جگر میں ہے

0
26
غموں کو سینہ میں رکھا سجا کے
کِیا برتاؤ بھی تھا مسکرا کے
حسیں چہرہ ادائیں شوخ و چنچل
"وہ اوجھل ہو گیا جلوہ دکھا کے"
گوارہ کرب سارے عشق میں تھے
سہے ظلم و ستم وعدے نبھا کے

0
48
ہے آجکل زمانہ بڑا ہی بدل گیا
دیکھو جسے وہ حد سے ہی اپنے نکل گیا
کچھ اختیار دل پہ بھی اپنے نہیں رہا
"سب ہاتھ سے شباب کا ریشم پھسل گیا"
اتراتے ہیں اُنہیں تو اشارہ ہی کافی ہو
ڈھلتا ہوا جو شمس تھا آخر وہ ڈھل گیا

0
33
دنیا میں پھیلی ہر سُو زینت ہے تجھ سے عورت
ناقابلِ بیاں سی وقعت ہے تجھ سے عورت
کیسے ہو تزکرہ قدر و منزلت کا تیرے
حاصل رہا جو رتبہ، عظمت ہے تجھ سے عورت
نبیوں کی اور ولیوں کی مائیں بن سکی ہوں
کیسی بلند و عرفہ خلقت ہے تجھ سے عورت

0
24
رنگ بگڑا ہو گر اُن کے رخسار کا
حال بے حال ہو ناز بردار کا
ظلمِ تنہائی سے زخم تازہ ہُوئے
"یک بیک بڑھ گیا درد بیمار کا"
دوڑ پیسہ کی جب حاوی ہو جاتی ہے
حق بھی تب چھین لیتے ہیں حقدار کا

0
44
زندہ دلی کے ساتھ ہی سارے جِیا کرو
مردہ دلی برتنے سے دوری کِیا کرو
جزبہ وصال کا تو بھرم کچھ رکھا کرو
"ہر رات اپنے لطف و کرم سے ملا کرو"
گر الجھنیں بھی آئیں سرِ راہ حرج کیا
احساسِ کمتری کو نہ ہونے دیا کرو

0
19
جب سے آنکھوں میں پیار دیکھا ہے
دھڑکنوں میں اُبھار دیکھا ہے
وصل کی پُر حسیں بہاروں سے
دل میں بڑھتا قرار دیکھا ہے
یادِ دلبر ستانے لگ جائے
پھر ابھرتا خمار دیکھا ہے

0
30
پیار میں جب دو دل بچھڑتے ہیں
ٹوٹ کے کیسے وہ بکھرتے ہیں
مفلسی نے بے حال کر چھوڑا
"لوگ ہر سُو یہاں پہ مرتے ہیں"
اشک جو چشم سے نکلتے ہیں
سوئی تقدیر کو سنورتے ہیں

33
ڈر لگے اب نئے زمانے سے
لوگ رہتے ہیں کچھ دِوانے سے
ہر سُو چھائی بہار ہے کیسی
"کِھل اٹھے پھول تیرے آنے سے"
دور تک شائبہ نہیں سچ کا
لغو جو سارے ہیں بہانے سے

0
26
بے بندگی سے جینے میں عزت نہ ملے گی
بے شرمی کو برتنے سے بھی عفت نہ ملے گی
گر دل کی عدالت میں ہو درخواست بھی تو کیا
"اب حرفِ تمنا کو سماعت نہ ملے گی"
مسکان ہی غم میں ہے کرن بن کے ابھرتی
مایوس ہو جاتے ہیں تو فرحت نہ ملے گی

0
24
امید مجھے قوی ہے کہ دلبر بھی آئیگا
روشن چراغ کر دئے، ہمسر بھی آئیگا
ہمسایہ کی ہر ایک چُبھن ہنس کے ہی سہے
"آنگن میں پیڑ ہوگا تو پتھر بھی آئیگا"
غلبہ رہے امیری کا گھر میں کسی کے گر
دولت کی ریل پیل ہو، نوکر بھی آئیگا

0
25
شہروں میں کیسے امن و اماں تک نہ رہ گیا
سامانِ عیش اور مکاں تک نہ رہ گیا
مجذوب بے نیازی کی حالت میں کہہ سکے
"ارض و سما کا کوئی نشاں تک نہ رہ گیا"
دنیا تو خواب سی ہے طلسماتی بس چمک
ارمانوں کا بھی اب یہ جہاں تک نہ رہ گیا

0
21
پل میں عسرت بھی تو ٹل جاتی ہے
اپنی تقدیر بدل جاتی ہے
یوں چہ منگوئیاں کرتے کرتے
"بات سے بات نکل جاتی ہے"
نقش یادوں کے ابھرتے ہیں تب
شام جب سرمئی ڈھل جاتی ہے

0
18
کچھ وجہ ہے ثمر نہیں لگتا
قد میں تو کم شجر نہیں لگتا
فہم و افکار سے لگے ایسے
"کوئی اہلِ نظر نہیں لگتا"
مشکلیں تب ڈراتی جاتی ہیں
جب بھی سینہ سپر نہیں لگتا

0
22
فرشتوں کی صفت جیسے بچے بھرتے نظر میں ہیں
وہ سب ماں باپ کی اپنے بہت جچتے نظر میں ہیں
ضعیفی کا سہارا، آنکھ کے تارے بھی ہوتے ہیں
جواں ہو جائے جب وہ خوابوں کو بھرتے نظر میں ہیں
دعائیں کرتے مستقبل سنورنے کی ہمیسہ وہ
نمایاں کامیابی پانے سے سجتے نظر میں ہیں

0
21
دلکش جو پھول رہتا چمن میں کِھلا ہوا
سہرے کی جان بھی وہی رہتا بنا ہوا
کچھ احتیاج آن پڑی فوری طور پر
اس واسطے مزید رہا وہ رکا ہوا
خواہش بچھڑنے کی نہیں ہرگز بسائی تھی
"یہ اور بات تھی کہ وہ مجھ سے جدا ہوا"

0
41
چاند جیسا چہرہ نا جانے ہے کیوں اترا ہوا
یار کی فرقت میں ہے کیوں حوصلہ فرسا ہوا
ہر طرف مایوسی کے ہی ڈیرے رہنے کے سبب
"رنگِ انساں لگ رہا ہے آج کل بکھرا ہوا"

0
18
ہر بات گہرائی میں دل کے ہے بسانی آپؐ کی
ہو سرخروئی جس نے بھی ہے بات مانی آپؐ کی
شہ انبیا، سرکارِ دو عالم، شہِ بطحیٰ ہو تم
دونوں جہاں میں مصطفیٰ ہے حکمرانی آپؐ کی
شہرِ مدینہ کی زیارت سے سکوں، فرحت ملے
"حیرت سے تکتے رہے ہر اک نشانی آپؐ کی"

0
32
آپسی جھگڑوں سے کیسی ناگواری ہوتی ہے
جگ ہنسائی سے بھی کتنی شرمساری ہوتی ہے
بچھڑے ہیں محبوب سے تو تازہ دم ہی ہم مگر
ہجر کی تنہائیوں سے بے قراری ہوتی ہے
دید اپنوں کی نہیں ہونے سے دل مایوس ہو
عید کا تہوار رہتے سوگواری ہوتی ہے

0
27
فرض سے جب کوئی کلی طور بے پروا ہوا
بندہ تب مقصد سے ہی اپنے وہ بے بہرہ ہوا
نیم شب کا تھا جو سپنا وہ حقیقت بن گیا
"رات اپنے خواب کی قیمت کا اندازہ ہوا"
قدرداں چُھو لیتے ہیں منزل کو اکثر ہی یہاں
وقت کی قیمت نہ پہچانا وہ تو رسوا ہوا

0
20
غیر کے در پہ بھی سوال نہ کر
ہاتھ پھیلانے کا خیال نہ کر
وصل کی خواہشیں پنپ رہی ہوں
"حسرتوں کو مری حلال نہ کر"
دُکھ کا طُوفان اُٹھ کھڑا ہو گر
غم شکستہ کبھی یہ حال نہ کر

0
28
الفت نبیؐ سے کرنا ہمارا شعار ہے
اللہ کے راستے کے لئے جاں نثار ہے
سن لی دعا مدینہ پہنچنے کی رب نے ہے
یہ تو دلیلِ رحمتِ پروردگار ہے
آنکھیں ترس رہی ہیں زیارت کے واسطے
چھایا بھی سبز روضہ کا ہی جو خمار ہے

0
19
محبوب کی یادیں جب آتی ہیں خیالوں میں
نگہت سی مہکنے لگ جاتی ہے سانسوں میں
تِتلی کی عدم دلچسپی تو یہی بتلائے
خوشبو نہ رہی باقی امسال گلابوں میں
اصلاحی نظر ہو تو انسان سنور جائے
خطرات تو ظاہر ہوتے رہتے اجالوں میں

0
25
گر ڈوب رہا کوئی بچا کیوں نہیں دیتے
کچھ فرض تو بنتا ہے، نِبھا کیوں نہیں دیتے
گُھٹ گُھٹ کے تو جینے سے لگے مرنا ہی بہتر
"اک بار ہی جی بھر کے سزا کیوں نہیں دیتے"
جُنبش دے لبوں کو تو سمجھنا رہے آساں
جو بات ہے دل میں وہ بتا کیوں نہیں دیتے

0
28
منصوبہ بندی کیسے ہے کرنا ہم نے سوچ لیا
ناکامی سے پُورے طور اُبھرنا ہم نے سوچ لیا
سمجھائش کا ان کے ہوا تھا اثر دل پر اتنا گہرا
دامن پر لگے سارے داغ مٹانا ہم نے سوچ لیا
گردِشِ دوراں ہو یا کچھ ہو موافق سے حالات کبھی
وعدوں کو اپنے ہر حال نبھانا ہم نے سوچ لیا

0
19
خدا نے کیسے تماموں کی آبرو رکھ لی
اُٹھے ہُوئے سبھی ہاتھوں کی آبرو رکھ لی
زباں سے بول عیادت کے ہی ادا جب ہوں
"مزاج پوچھنے والوں کی آبرو رکھ لی"
رہی تھی فاقہ کشی سے روِش دگرگوں سی
سُدھر گئے اُنہیں حالوں کی آبرو رکھ لی

0
16
بات بہتر پہلے سمجھا کیجئے
تب قدم آگے بڑھایا کیجئے
خوف دشمن کا نہیں رکھنا کبھی
"اپنے بازو پر بھروسہ کیجئے"
آس سے ہی مسئلے حل ہوتے ہیں
یاس و حسرت کو نہ پالا کیجئے

0
19
معراج کا سفر تھا محبوبؐ پر عنایت
طائف کے گہرے زخموں سے پائی تھی طراوت
براق کی سواری، جو تیزی سے بھی پہنچی
نبیوں کی مسجدِ اقصٰی میں ہوئیں امامت
انعام میں خدا نے مخصوص ہدیہ بخشا
لائیں نماز کا تحفہ واسطے عبادت

0
23
جھڑک کے شخص جو انکار کرنے والا تھا
کبھی وہ نرمی سے گفتار کرنے والا تھا
گلاب کے ہی تھے کچھ پھول ہاتھوں میں اس کے
"وہ اپنے عشق کا اظہار کرنے والا تھا"
غرور میں ہی مگن رہتے وقت گزرا تھا
بڑی بے شرمی سے پندار کرنے والا تھا

0
20
دور ہو جائے رنج و غم کیسے
حزن سے پار نکلیں ہم کیسے
یاد جب آ گئی ہے ان کی تو
"آنکھ پھر ہو گئی ہے نم کیسے"
شکر رب کا ہو لازمی پورا
کر رہیں ہیں جبین خم کیسے

0
26
نعتوں کو لکھتے لے لوں میں قربت ہے آپؐ کی
دل میں بڑھاتے جاؤں عقیدت ہے آپؐ کی
دندان بھی شہید ہوئے تھے حضورؐ کے
غزوہ احد کی ایسی شجاعت ہے آپؐ کی
جب لاش حمزہؓ کی بے کفن پائی تھی وہاں
بڑھتی گئی تھیں ٹیسیں، صعوبت ہے آپؐ کی

0
21
چشم کا درخشاں وہ تارا تھا
دل کے میرے اُفق پہ چمکا تھا
لمس محبوب کا ہو جانے سے
تن بدن خوشبو سے بھی مہکا تھا
عشق کا ڈھونگ جو رچایا تھا
جھوٹے وعدے سے من بھی بہلا تھا

0
27
کاوشیں جب سرخرو ہونے لگی
تو ستائش چار سُو ہونے لگی
ساتھ بھی تقدیر کا ملتا گیا
"پھر ہماری جستجو ہونے لگی"
طنز کرنے والے اپنے دوست ہوں
ہاں مگر پاسِ عدو ہونے لگی

0
52
بے رُخی نے تیرے رسوا کر دیا
اس رویہ نے بے چارہ کر دیا
چال کچھ شطرنج کی کھیلی گئی
حکمتوں نے ہی تو پسپا کر دیا
نقدی تھی تو دوست سارے ہی تھے
مفلسی نے ہم کو تنہا کر دیا

0
22
اشک سے رنگ بھی پیدا کر دے
آہ سے پار بھی بیڑا کر دے
جس کو چاہے اُسے عزت دے تُو
جس کو چاہے اُسے رسوا کر دے
ابر مایوسی کے چھٹ جائیں سب
کفر کا دور یہ سایہ کر دے

0
13
گر رکھا آپ نے نگاہوں میں
آئیں گے تب ہی تو پناہوں میں
حال نا پوچھئے ابھی ورنہ
"رت بدل جائے گی سوالوں میں"
چاند شرمائے، حسین ہے اتنا
یار کی باتیں ہوں ہزاروں میں

0
17
ہمیں کِیا ہے جو پیدا ہی بندگی کے لئے
ملی یقین کی دولت بھی پیروی کے لئے
بنا کسوٹی کے ملتا بھی کچھ یہاں نہیں ہے
لگن، تڑپ بھی ہے درکار زندگی کے لئے
اہم ہے ضبط بھی اصلاحِ نفس کی خاطر
مجاہدہ بھی ضروری ہے پختگی کے لئے

0
34
عہدہ، کرسی بھی بچائی نہ گئی
جشن کی ریلی سجائی نہ گئی
سرد سارے جو پٹاخہ ہوگئے
چاہ کر جیت منائی نہ گئی
طیش گنتی کے طریقہ پہ رہا
ہارنے سے بھی ڈِھٹائی نہ گئی

0
24
لفظوں میں جب بھی گیت پرویا نہ جائے گا
نغمہ ہی پھر کسی سے وہ گایا نہ جائے گا
لو شمع کی قوی ہو تو طُوفان میں جلے
"پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا"
ہم اپنے بین جوڑ کا پہلے ثبوت دیں
تب دھونس سے کسی کو ڈرایا نہ جائے گا

0
27
وعدہ ہے یاد آج بھی مجھ کو کیا ہوا
احساس میں ہے زندہ وہ اب تک بسا ہوا
منظر حسین بھولے نہیں بھولتا مگر
"آنکھوں میں ایک دشت ہے کب سے رکا ہوا"
کوئی بھی اعتماد کے قابل نہیں رہا
گھر کا ہی بھیدی دشمنوں سے تھا ملا ہوا

0
34
صنم کے ہے جب چہرے پر پھیلی مسکان
ہوا دل بھی گھائل ہے جو دیکھی مسکان
اگر حال نا بھی بتایا محبت کا اپنی
عیاں راز دل کا مگر کرتی مسکان
پریشانی کے سایہ منڈلاتے ہیں جب
مداوا غمِ عشق کا بنتی مسکان

0
27
ناکامی پانے سے کبھی رویا نہ کیجئے
ہمت سے منہ کو اپنے بھی پھیرا نہ کیجئے
ہمدردی، خیر خواہی کے کاموں میں دل لگے
"ہرگز گناہِ عشق سے توبہ نہ کیجئے"
مجبوریاں تھیں درمیاں میرے اے ہمنوا
نفرت بھری نگاہوں سے دیکھا نہ کیجئے

0
27
ساروں نے ہی بچپن میں حسیں کیسے سپنے مگر بڑے دیکھے تھے
ملت کے بہی خواہوں کی طرح جزبے بھی بہت بنے دیکھے تھے
صدیوں جو حکومت چھائی دہر پر کیسی حشم سے ہماری تھی
ہائے یہ ستم پھر عظمت و شوکت کو کھوتے ہوئے دیکھے تھے
بھاتی ہے بھلا آسودگی، فرحت کس کو یہاں کسی کی کیوں کر
خوشیوں سے بھرے اپنے بھی مکاں پر کیسے عدو جلے دیکھے تھے

0
28
امت کے غم میں کیسے سدا آپؐ گھلتے تھے
یا امتی یا امتی ہی لب بھی کہتے تھے
اصحاب خالی تین سو تیرہ ہی ساتھ تھے
پیشانی غزوہ بدر میں بہ سجدہ رکھتے تھے
خندق کے غزوہ میں کئی دن فاقہ بھی ہوا
پتھر بندھے ہوئے جو شکم پر بھی رہتے تھے

0
16
کبھی پُوری ہوگی جو حسرت تمہاری
بلندی پہ جائے گی قسمت تمہاری
شرارے عدو کے بھڑکنے سے ہی تو
یقیں کی بڑھیگی حرارت تمہاری
صلہ رحمی کے جزبے پنپے اگر تو
ہٹیگی بھی دھیرے کدورت تمہاری

0
39
جزبہ کو اپنے دکھانا چاہئے
جھکتی ہے دنیا جھکانا چاہئے
ناز ہے مسکان تیرے نعرہ پر
ایسی ہمت بھی جتانا چاہئے
آندھی سے ٹکرانے کا ہو ولولہ
پانی فِتِّن کو پلانا چاہئے

0
39
دل ٹوٹتا ہے آپس کے جھگڑے دیکھ کر
ہو چشم آبدیدہ سب فتنے دیکھ کر
حیران کر کے رکھ دے برتاؤ ناروا
انسانیت کے جھوٹے بھی دعوے دیکھ کر
بے چینی بڑھتی ہے نفرت کے سلوک سے
پھر طبقہ اور فرقہ میں بٹتے دیکھ کر

0
22
اتنی نفرت کیوں ہے انساں سے ہمیں
نرم گوشہ تو ہو نسواں سے ہمیں
ہم سبھی کب ایک بھی ہو جائے گیں
کچھ پشیمانی ہو غلطاں سے ہمیں

0
25
کھیل میں بھی ہم کو دلچسپی اور الفت ہو
دھیان کو ہٹانے سے پُر مزہ طبیعت ہو
ہوتی گوشہ تنہائی میں بڑی ہی اکتاہٹ
دوستوں کو ملنے سے خوب ہی مسرت ہو
کام کاج سے بھی بڑھتی ہیں اُلجھنیں بے حد
دور سُستی پر میداں آنے کی بدولت ہو

0
29
جو کاموں کو بناتے ہیں دشوار بے سبب
ہو جاتے کیسے وہ سبھی بیزار بے سبب
نفرت کے ایک بول سے رشتے خراب ہوں
"کیوں درمیاں اٹھاتے ہو دیوار بے سبب"
قانون کا شکنجہ کسا جائے ظلم پر
ورنہ تو کُچلے جائیں گے نادار بے سبب

0
23
بنائے ہیں جو کہکشاں کیسے کیسے
جدا ہر شئے کا سماں کیسے کیسے
ستاروں کی ہے جھلملاہٹ انوکھی
"بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے"
سزاوار تعریف ہے بس خدا کو
رکھا یوم و شب کو رواں کیسے کیسے

0
26
مشکلوں نے سدھار ڈالا ہے
زندگی کو گزار ڈالا ہے
تم تو غیروں کی بات کرتے ہو
مجھ کو اپنوں نے مار ڈالا ہے
یوم و شب دھن سوار خدمت کی
واسطے قوم وار ڈالا ہے

0
60
ہندوستان کی تھی وہ کوئل، لتا بہن
روشن رہے گی یادوں کی مشعل، لتا بہن
آواز کی مٹھاس بھی رس گھولے گی یہاں
ہستی کو بھولنا بھی ہے مشکل، لتا بہن
رتبہ مقام جو رہا ممتاز و منفرد
حاصل نہ کر سکے کوئی منزل، لتا بہن

0
23
خوابوں کو بھی دلوں میں اپنے اگر سجائے
منزل کو سامنے ہی ہر لمحہ پھر بسائے
بنجر زمین محنت سے قابلِ اُپج ہو
مایوسی چھوڑے گر تو بھرپور ثمرہ پائے
مضبوط ہو ارادے، گلزار بنتے جائے
پودہ گلاب کا بھی چٹان پر اگائے

0
16
شہادت کا چرچہ بھی ہر سُو بیاں ہے
زباں پر بڑوں چھوٹوں کے بھی رواں ہے
کیا فرض جاں دے کے پورا بھی اپنا
عمر تیرے خوں سے ہویدا جہاں ہے

0
19
روضہ پہ کملی والےؐ کے جانا نصیب ہو
دل کی مرادیں پوری بھی ہونا نصیب ہو
ہو اعتکاف مسجدِ نبوؐی میں بھی ادا
سجدہ ریاض الجنہ میں کرنا نصیب ہو
پڑھ کے سلام گنبدِ خضرؐیٰ میں شوق سے
پھر جنت البقیع کو چلنا نصیب ہو

0
52
زباں کو کذب کی عادت نہیں ہے
کبھی برتی بری خصلت نہیں ہے
خلوص و پیار بے حد ہی کیا ہے
دکھاوے کی مگر الفت نہیں ہے
یہی کیوں سوچتا ہوں میں بھی شاید
تجھے پاؤں مری قسمت نہیں ہے

0
27
سگریٹ نوشی ہے بری عادت، بچیں سبھی
تمباکُو کینسر کی قباحت، بچیں سبھی
برباد کرتی خود کو بھی پورا سماج بھی
ہونٹوں پہ ایک ہے یہ سماجت، بچیں سبھی
بیداری ہے فریضہ یہاں حق شناسوں کا
ورنہ جو چھوٹ جائے گی غایت، بچیں سبھی

0
17
ویسے محفل میں کچھ لوگ ہنستے بہت
کیسے تنہائی میں وہ ہی روتے بہت
ہجر کے دن کا انداز تو دیکھئے
آپ تنہا بہت ہم اکیلے بہت
اب اٹھانے قدم پھونک کر ہیں ہمیں
کھائے تھے جو یہاں مکر و دھوکے بہت

0
21
میرے مولا تُو خطائیں بخش دینا فضل سے
نیکیوں سے بھی مبدل ان کو کرنا فضل سے
ہم پہ ستاری بھی فرما اور غفاری بھی کر
ناگہانی آفتوں کو بھی پلٹنا فضل سے
دے ہمیں خوشحالی، صحت، امن کی سب نعمتیں
عافیت بھی ہو، سلامت بھی تُو رکھنا فضل سے

0
19
دل میں مدینہ جانے کی چاہت ہے ہو چلی
شہرِ رسولؐ کی بھی محبت ہے ہو چلی
من کی مرادیں کر دے خدایا تُو پوری سب
شامل ہو فضل تیرا جو الفت ہے ہو چلی
خلوت میں اور ہے وہی جلوت میں تذکرہ
جزبوں میں میرے کیسی یہ عظمت ہے ہو چلی

0
28
یقیں جب تک بنا کامل نہیں ہے
مزہ اعمال میں حاصل نہیں ہے
ندارد رزقِ طیب ہو چلا تو
دعاؤں میں اثر شامل نہیں ہے
ضعیف و ناتواں پر تُو کرم کر
عطا کا تیرے بھی ساحل نہیں ہے

0
13
نبھانے ہیں وعدے ہمیں جو وفا کے
مٹانے ہیں اب داغ سارے جفا کے
محبت تمہیں سے فقط کرتے ہیں ہم
نہیں ہے یقیں دیکھ لو آزما کے
صنم تم ہی تو ہو کہیں جس سے دکھڑا
"ہوا بوجھ ہلکا غمِ دل سنا کے"

0
25
ہجر کے وقت ملاقات پہ رونا آیا
آخری پیارے خطابات پہ رونا آیا
روز ماتم کدہ ہوتا ہے پریشانی سے
ہم کو تو گردشِ حالات پہ رونا آیا
بھائی بھائی میں چلے جھگڑے برے تھے سارے
رونما ہوئے خرافات پہ رونا آیا

0
56
نبؐی جی کا دامن نہیں چھوڑیں گے ہم
بتائی ہوئی باتیں بھی پکڑیں گے ہم
برستی ہے رحمت وہاں مولا لے چل
مدینہ جانے کی دعا مانگیں گے ہم
منور ہو دل ایماں کی روشنی سے
ملے جتنی تکلیف بھی جھیلیں گے ہم

0
37
نظروں میں سب کے گھومتا منظر
پُر کشش دل کو کھینچتا منظر
سیر ساحل کنارے کی کرنا
شام کا دھیان کھینچتا منظر
بھول جانا بہت کٹھن ہوگا
وہ خیالوں میں ناچتا منظر

0
25
کیسی خواہش ترے دیدار کی تھی
جو کشش پائی وہ رخسار کی تھی
مسکراہٹ تو بہانہ تھی فقط
ایک صورت یہی اظہار کی تھی
اپنی تہذیب کو گرنے نہ دیں ہم
کھوئی منطق وہی اقدار کی تھی

0
19
یوں مکر نہ جاتے گر دل میں تمہارے پیار ہوتا
نہ ہی کوئی بے سبب آپ کا بھی شکار ہوتا
کہ بڑے بے آبرو، رنج و الم میں لوٹے واپس
"یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا"
کبھی دیکھتا اِدھر تو کبھی دیکھتا اُدھر میں
جو جھلک بھی پاتا تیری تو مجھے قرار ہوتا

0
24
زینت، مہک، بہار کا مظہر ہے آج کل
گلشن میں کچھ عجیب سا منظر ہے آج کل
ڈھاتی ہو دلربا کی جو آنکھیں ستم بہت
حسن و جمال کا بھی وہ خُوگر ہے آج کل
تنہائی کھانے ہے لگی دل کا سکون بھی
یادوں میں یار کے ہوا مضطر ہے آج کل

0
15
کسی سے دل لگی کرنا ہنسی کا کھیل نہیں
یہ ایک طرفہ محبت مجھے قبول نہیں
گواہ عینی ہو جیتے مقدمہ بھی وہی
دلیل کے بنا مانے اگر عدیل نہیں
مزاج سادگی والا مفید بخش بڑا
زبان شیریں رہے، ہوتے وہ ذلیل نہیں

0
20
منظر حسین و پُر مزہ ہوتا بہار سے
چھائے سکون گردِشِ لیل و نہار سے
نرگس، گلاب، یاسمیں سے مہکے کُل چمن
گل بن کے پھوٹتا ہے لہو شاخسار سے
پیاسی زمین ہوتی ہے سیراب مینہ سے
سوندھی مہک بھی پھیلتی ہلکی پھوار سے

0
9
ہیں والدین کے احساں بے شمار سارے
ہوں بسر و چشم ان کے ہر دم وقار سارے
مولا تُو کر غریقِ رحمت کرم سے ان کو
دونوں جہاں میں پائیں وہ افتخار سارے
مخدوم کا ملے درجہ فضل سے ہمیں بھی
خدمت کے کر عطا ہم کو بھی شعار سارے

15
بے تکے سے کسی الزام پہ رونا آیا
اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
فیصلے سوچے بنا سارے طئے پائے جو
اُن بھیانک لئے اقدام پہ رونا آیا
جاہ و حشمت کو گنوا بیٹھے تکبر میں تھے
بگڑی قسمت اِنہیں اقوام پہ رونا آیا

0
20
اٹھ گیا جو دل میں ارمان، کیوں نہیں جاتا
ہو گیا ہوں کتنا حیران، کیوں نہیں جاتا
شوق و جستجو سے ہی انقلاب برپا ہو
روئیں گے وگرنہ نقصان کیوں نہیں جاتا
کاہلی برتنے سے برملا پکاریں گے
پایا علم کا جو فقدان، کیوں نہیں جاتا

0
31
حواس اپنے بھی سارے گنوا کے بیٹھے ہیں
تمہارے حسن پہ نظریں جما کے بیٹھے ہیں
اداؤں نے تو بڑا سحر کر دیا جیسے
صنم تو مجھ سے مرا دل چرا کے بیٹھے ہیں
حسین طرز نمایاں ہی زیست میں پایا
مکان خوابوں کا دلکش بسا کے بیٹھے ہیں

0
17
وطن سے پیار بے حد ہو چلا ہے
ترنگا ہر طرف لہرا رہا ہے
چلیں جمہوریہ کا دن ہے آیا
سہانا سا سماں ہر سُو بپا ہے
غلامی کاوشوں سے ختم ہوئی
فرنگی بھاگتے آخر گیا ہے

0
20
وفا شعار تو سارے ملن کے ساتھ رہے
جو درد مند بہت تھے، لگن کے ساتھ رہے
عجیب بات نہیں، ملک سے ہو پیار ہمیں
وطن پرست ہمیشہ وطن کے ساتھ رہے
مزاج نرم ضروری ہے ورنہ مشکلیں ہوں
عناد، بغض رکھیں گر، جلن کے ساتھ رہے

0
23
درد سینہ میں سجائے ہوئے ہی رکھتا ہوں
غم کے طوفاں میں بھی ہنستے ہوئے ہی جیتا ہوں
پیچھے مڑ کر کبھی دیکھا نہیں ہرگز میں نے
مشکلیں جھیلتے آگے کی طرف بڑھتا ہوں
محفلوں میں تو ہنسی چہرے پہ چھائی رہتی
حالِ تنہائی میں اکثر ہی مگر روتا ہوں

0
14
تار یادوں کے چِھڑے تھے میرے
خواب آنکھوں میں پڑے تھے میرے
وقتِ رخصت وہ ٹہلنا مڑنا
ساتھ کچھ دیر چلے تھے میرے
جزبے مخفی نہیں رہ پانے سے
راز محفل میں کُھلے تھے میرے

0
22
مانے جانم تو کر دکھاؤں گا
عشق میں تیرے جان واروں گا
باتیں کچھ آزمانے کی ہوگی
جزبے ہیں یا نہیں میں پرکھوں گا
کوششيں پانے کی رہوں کرتے
ہار تھک کر کبھی نہ بیٹھوں گا

0
14
خوابوں کو اپنے دل میں سجائے ہیں ہم
آرزو پانے کی بھی بسائے ہیں ہم
پیرہن، کاسہ جو اک گدائی لئے
لے کے ہاتھوں میں کشکول آئے ہیں ہم
روشنی سے مسافر کو ہو فائدہ
راہوں میں دیپ کیسے جلائے ہیں ہم

0
27
تُو سارے جہانوں کا تنِ تنہا خدا ہے
یکتا تُو، یگانہ تُو، بیاں تیری ثنا ہے
اول بھی تُو آخر بھی تُو، بس ہر جگہ تُو ہے
ہر چیز میں موجود بھی تیری ہی ضیا ہے
مشرق بھی ہے تیرا ہی، یہ مغرب بھی ہے تیرا
ہر روز ہی دن رات کی گردش بھی روا ہے

0
22
دل ہے بے چین اب قرار نہ پوچھ
حسرتِ انتظارِ یار نہ پوچھ
وصل کے لمحے روح بخش ہی ہیں
چھائے گی کب یہاں بہار نہ پوچھ
پر حسیں ہو سماں، ہو تازگی بھی
رونقیں بزم کی نگار نہ پوچھ

0
21
بہاروں کا ہی تو موسم چلا ہے
ابھی تو شاخ پر پتا ہرا ہے
کریں ہم شکر بھی ہر حال رب کا
جو کچھ پاتے اسی کی ہی عطا ہے
سنور جاتی ہے بگڑی بندہ کی تب
خدا کا جب کرم شامل ہوا ہے

0
21
خیر کے دن آنے کی میرے دعا دیتا رہا
عافیت چھائی رہے ایسی صدا دیتا رہا
عزر لاکھوں وصل کے ہر بار ہی کرتا رہا
وہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا
باتیں اکثر ٹالنے کی کوششیں بھی ہوتی پر
عہد و پیماں ساتھ رہنے کے سدا دیتا رہا

0
13
لقمے توڑ کر کیسے پیار سے کھلاتا تھا
خود وہ ہوتا پیاسا مجھ کو مگر پلاتا تھا
جیسے ہی مکاں میں داخل ہوتا خوشی آتی
گھر بھی تب بہاروں سے پھر بہت مہکتا تھا
غم ہمارے دیکھے جاتے نہیں کبھی اس سے
ہم دکھی ہو جاتے تو خوب ہی ہنساتا تھا

0
20
جو کرے کوشش وہی سب کچھ یہاں پاتا گیا
سوچِ فردا سے تغیر بھی اُسے ملتا گیا
جس نے دنیا فتح کرنے کی تھی خواہش کر رکھی
وہ سکندر آج بھی کیسے مگر چھاتا گیا
مسکراہٹ سے ہو استقبال سارے دکھڑوں کا
آزمائش میں وہ ہی پھر سرخرو ہوتا گیا

0
15
آقاؐ سے امتی کو عقیدت، عجیب ہے
پڑھتے ہیں سب سلام بھی، چاہت عجیب ہے
ہر دم ستائیں گنبدِ خضریٰ کی آرزو
ہم کو ہوئی جو ان سے محبت، عجیب ہے
منظر مدینہ کا ہی بسا دل میں رہتا ہے
چھائی جو گہری روح میں الفت، عجیب ہے

0
13
مدینہ کی فضا بھانے لگی ہے
مہک سی خوابوں کی چھانے لگی ہے
کہیں بادِ صبا دل کو لبھائے
کہیں کچھ یاد تڑپانے لگی ہے
لبوں پر بول صلّ اللہ جاری
سکوں پھر روح بھی پانے لگی ہے

0
20
مزاج نرم رہا بد حواس ہو کر بھی
وہ پرسکون تھا کتنا اداس ہو کر بھی
تھے شر پسندی کے منصوبہ سارے ہی لیکن
نگر پہ طاری رہا سکتہ یاس ہو کر بھی
بے اعتنائی ہو پہنچی عروج کے درجہ
نگاہیں پھیر لیں تب حق شناس ہو کر بھی

0
24
بندے جو بھی ہاتھ پھیلاتے خدا کے سامنے
پاتے ہیں جو مانگتے مشکل کشا کے سامنے
لاج رکھیؤ ناتواں کے مولا سب کی تُو سدا
بے کَس و نادار ہیں لطف و عطا کے سامنے
سینوں میں ہر دم سجائی ہے یقیں کی روشنی
کون خم کرتا ہے سر ظلم و جفا کے سامنے

0
37
چوٹ گہری نہ ہو سسکی نہیں آیا کرتی
کاغذی پھول پہ تتلی نہیں آیا کرتی
دوسروں کے لئے خود کو جو فنا کرتے ہیں
لب پہ ان کے کبھی شیخی نہیں آیا کرتی
کچھ سبب لازمی رہتا ہے الجھ جانے کا
یوں مگر بے وجہ تلخی نہیں آیا کرتی

0
39
چھین جاتی یہ رستگی ہوگی
سب کے ہونٹوں پہ خامشی ہوگی
ہو تعیش کے نقشہ بھی سارے
پُر مزہ پھر یہ زندگی ہوگی
روٹھ جانے کی کچھ وجہ ہوگی
ہلکی سی دل میں تشنگی ہوگی

0
20
یار کا ہے ملال، روٹھ گیا
رنج ہے کچھ محال، روٹھ گیا
قرض جب سے ہوا نہ نیند رہی
پیسے کا ہے سوال، روٹھ گیا
ہجر کا جب فسانہ چھڑنے لگا
دیکھو اس کا کمال روٹھ گیا

0
21
چلیں اخلاقی اپنا فرض سارے ہی نبھائیں گے
جو بھٹکے ہیں انہیں رستہ سبھی مل کے دکھائیں گے
کریں احباب پابندی مساجد اور گھر میں بھی
فضائل کی کتابیں پڑھ کے حلقوں میں سنائیں گے
کبھی دینگے نہیں ہرگز نمازوں کو قضا ہونے
محلہ کی فضا میں دینداری کو بسائیں گے

0
40
چاۓ ہوتی شیریں ہے ہمدم کے ہاتھوں سے بنی
لطف دیتی ہے بہت چاہت کے جزبوں سے بنی
شام کے مسحور لمحے پُر مہک ہو جاتے ہیں
پیش ہو جب پیالی اک دلکش اداؤں سے بنی

0
17
گر کوئی بندہ اہلِ لیاقت نہیں رہا
پھر کیسے اعتبار و صداقت نہیں رہا
بے التفاتی ہونے لگے پیار میں اگر
تو آشنائے جزبہ الفت نہیں رہا
اسلاف کا زمانہ بڑا خیر کا رہا
فی الوقت ویسا فہم و فراست نہیں رہا

0
17
کہاں کونسا جو بہانہ ہوا ہے
عدو اپنا سارا زمانہ ہوا ہے
کہ حق گوئی کرنے کی عادت ہے ہم کو
اسی کچھ وجہ سے نشانہ ہوا ہے
محبت کی وہ داستاں چھڑ گئی جب
وفا، عشق کا اک فسانہ ہوا ہے

0
17
کسی سے جب کسے بے حد محبت ہوتی جاتی ہے
کشش کیسے صنم کی تب سرایت ہوتی جاتی ہے
یہاں کچھ لوگ غم کو سینہ میں ہنستے سجاتے ہیں
ہجومِ رنج سے دل کو مسرت ہوتی جاتی ہے
خدا بھی بخش دیتا ہے ہماری لغزشیں ساری
گناہوں پر بھی جب اپنے ندامت ہوتی جاتی ہے

0
24
عطا کر چٹپٹے اشعار ناصر
بیاں کر اپنے بھی افکار ناصر
لگن ہو تو پگھل جائے یہ لوہا
ہے آساں سب، نہ ہو بیزار ناصر
خدا بھی بخش دیگا لازمی تب
گناہوں کا جو کر اقرار ناصر

0
22
سینہ کو عشقِ محمدؐ سے سجا رکھا ہے
شکر ہے دورِ فتن میں بھی بسا رکھا ہے
شرک و بدعت کے رویوں سے بنائی دوری
ہم نے اغیار سے دامن کو بچا رکھا ہے
جان و اولاد سے بڑھکر ہے عقیدت دل میں
پیارے آقاؐ کی محبت کو سدا رکھا ہے

0
27
اِرد گِرد منڈلاتا آفتوں کا پہرہ ہے
غم نے اس طرح آ کر زندگی کو گھیرا ہے
لاج ہے بچانی ملت کی نو جوانوں نے
قوم نے اُنہیں نازوں سے بہت ہی پالا ہے
بھائی چارگی کا برتاؤ کرنا ہم سیکھیں
ایک ساتھ ملکر، اک جان بن کے رہنا ہے

0
18
نفس قابو تو بلاوا بھی ہو شاہاں میرا
منتظر ہے درِ فردوس پہ رضواں میرا
حکمِ رب اور ہو سنت پہ عمل پھر کیسے
دو جہاں میں بھی چمک جائے نصیباں میرا
شانِ مومن طلبِ دین سے ظاہر ہوتی
فکرِ امت سے ہی ہو قلب جو رخشاں میرا

0
19
یاد بچپن کی جب جب جَتائی گئی
مجھ کو میری کہانی سنائی گئی
ظلم کی بھی حدیں پار ساری ہوئی
حاکموں سے رعایا پسائی گئی
حق کہا پر یہ انصاف تو دیکھئے
اس پہ کیا سخت دھارا لگائی گئی

0
32
اپنے دامن کو پسارے مانگتا ہوں میں دعا
مالکِ روزِ جزا سے کر رہا ہوں التجا
مغفرت ہو جائے ہے فریاد تجھ سے عاصی کی
پار بیڑا کر دے طوفاں سے یہی ہے بس صدا
قلب کو ایمان سے بھر دے ہمارے اے خدا
موت تک ثابت قدم فرمائیو، کر دیں عطا

0
28
میں تو نبیؐ کا ادنیٰ سا غلام ہوں
قبول کر مجھے خدا، غلام ہوں
حضورؐ کے طفیل میں پہنچ سکوں
مدینہ دل میں ہے بسا، غلام ہوں
بلالؓ کی اذانیں گونجی تھیں جہاں
ملے سکوں اُسی فضا، غلام ہوں

0
25
یہ جمود کیوں ہے یہاں پہ چھایا ہوا یہی تو سوال ہے
نہ عروج جیسا عروج ہے، نہ زوال جیسا زوال ہے
جو زمین کا ہے سِیارہ وہ نہیں اب تلک بھی سنور سکا
چلے کوسوں دور ہیں دوڑے چاند پہ بسنے، واہ کمال ہے
کبھی غم کبھی ہو مصیبتیں، یہ وبا یہ دل کی پھٹن بھی کچھ
جو شروع ہے لگے جیسے کوئی گناہوں کا ہی وبال ہے

0
19
غمِ ہجراں دے کے آخر لِیا کیا
تمہیں جانِ تمنا مل گیا کیا
بجھا سا دل، ہیں نم آنکھیں، یہ سکتہ
خموشی ایک طاری ماسوا کیا
بے تابی سے اچھلنے لگ گیا ہوں
نشاطی بس ہے چھائی، لوٹنا کیا

0
22
امنگوں، مرادوں کو ہے ساتھ لایا
نیا سال آیا نیا سال آیا
دعا ہے کہ بیماریاں ختم ہوں اب
نئی سمت مل جائے، ہو عزم چھایا
نشہ، زعم سارا دھرا رہ گیا ہے
عذابِ الٰہی نے سب کو ڈرایا

0
34
خواب میں بھی دیکھوں چہرہ آپ کا ہی درمیاں
وہ مکمل داستاں ہے میری یادوں میں نہاں
ہے تعاون تو ضروری تجربہ کاروں کا بھی
بار سہہ پائے مگر کیسے یہ بازؤ ناتواں
عزم کامل سے تنِ تنہا سفر کرتے رہیں
جانبِ منزل بڑھیں تو ہی بنینگے کارواں

0
31
ہم جکڑ سے گئے اداوں میں
آگئے آپ کی پناہوں میں
وصل کی بات کر سکوں ان سے
آتے رہتے کبھی جو خوابوں میں
پا لیا جن کو دل نے ہے آخر
بس گئے وہ مری نگاہوں میں

0
43
دھرتی کا فرش گویا مانند بسترا ہے
آکاش اک عمارت کے مثل ڈھانچا ہے
ہوئے طرح طرح کے پھل میوہ جات پیدا
برسات سے بھی کیسے کھیتی کو سینچا ہے
ابلیس صاف حُکمِ مولا سے پھِرنے والا
ساری عبادتوں کو بھی خاک کر چکا ہے

0
15
سلیقہ سے تراشے گر تو منظر سامنے آئے
وہی ذرے مثالِ ماہ و اختر سامنے آئے
کبھی گمنام تھے جو لوگ وہ بھی پاگئے شہرت
لیاقت جب اجاگر ہوئی خُوگر سامنے آئے
نہیں موقع رہا تھا کچھ غلامی میں نکھرنے کا
رعایت پاتے ہی اب سارے جوہر سامنے آئے

0
21
دیکھ چلمن سے کیسا دھواں اٹھتا ہے
جل رہا سینہ ہوگا دھواں اٹھتا ہے
عشق میں لڑ پڑا جب صنم سے ملا
ٹوٹنے سے ستارا دھواں اٹھتا ہے
شمع کی لو تو روشن رہی رات بھر
ایک پروانہ مچلا دھواں اٹھتا ہے

0
16
انصاف جب ہو، رہتا ہر کوئی پھر اماں سے
ڈرتے مگر ہیں سارے آزارِ ناگہاں سے
منصوبے کچھ اہم ہونگے اس لئے ہے عجلت
اندازہ ہو گیا ہے رفتارِ کارواں سے
بہتے ہیں علم کے دریا، فیضیاب ہو لیں
تشنہ لبی نہ رہ پائیں دیں کے کہکشاں سے

0
44
بڑوں کے ہم کبھی کردار یاد کرتے ہیں
پڑھے ہوئے تبھی اخبار یاد کرتے ہیں
سنائے جاتے ہیں اقوال شوق سے ان کے
سبھی مگن رہ بھی گفتار یاد کرتے ہیں
سنہرے وہ پنے تاریخ کے کریدیں تب
دئے گئے سارے ایثار یاد کرتے ہیں

0
15
دل لبھائے اے صنم اس طرح آنا تیرا
خوشیاں دُوبالا کریں ایسے ہی ملنا تیرا
مت ستم گر یہ ستم تُو کبھی نا کر دینا
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
سوچتا ہوں تو یہ احساس ہو اندر اپنے
شان و عظمت کو بڑھائے مری، پانا تیرا

0
34
بتائے راز کوئی خامشی کا
چھپائے کیوں ہو گر ہے زندگی کا
پنپتی ہیں ہزاروں خواہشیں پر
ترا دل کاش ہو جائے کسی کا
کرے نیلام جو ہے امن سارا
سبق بھی وہ پڑھائیں آشتی کا

0
25
لقب جن کا امی محمدؐ ہیں آپؐ
رسولوں کے سردار احمدؐ ہیں آپؐ
مدینہ جو مرکز ہے اسلام کا بھی
زیارت کی جا، سبز گنبد ہیں آپؐ
قمر، شمس، دھرتی، فلک کیا ستارے
تماموں کی خلقت کا مقصد ہیں آپؐ

0
47
بیٹی گھر میں باعثِ رحمت ہوتی ہے
وہ چمن کی رونق و زینت ہوتی ہے
دو کی شادی باپ کر پائے کافی ہو
اُس پہ واجب کیسی پھر جنت ہوتی ہے
زیورِ تعلیم سے ہوں آراستہ
قوم کی ایسے میں وہ عظمت ہوتی ہے

0
16
کدورت دلوں میں بساتے ہیں آپ
بظاہر محبت جتاتے ہیں آپ
پرانی وہ عادت ابھی تک نہ چھوٹی
حسیں وعدے کر کے پھنساتے ہیں آپ
زباں تیز، حاضر دماغی ملی ہے
بڑی چکنی باتیں بناتے ہیں آپ

0
60
وہی خوش بخت ہے مولا کو راضی بھی کیا جس نے
شِعار اپنا بنایا خدمتِ خلقِ خدا جس نے
نہیں ذلت کبھی ان کے حصہ آئیگی ہرگز بھی
نبھایا ہو اگر ہر حال میں وعدہ وفا جس نے
بہائے اشک کو بھی آنکھ سے رخسار تک کوئی
وہ پھر رد نا ہو مانگی جو تہجد میں دعا جس نے

0
77
چشم کو اشکبار کون کرے
زندگی زیر بار کون کرے
عشق میں دے فریب کوئی یہاں
بیوفا سے تب پیار کون کرے
مطلبی سارے جب بنے ہوئے ہوں
اپنی تب جاں نثار کون کرے

0
16
مجبور رہے تھے کچھ اپنی اُسی عادت سے
وہ باز نہیں آتے اظہار محبت سے
دھتکار و جھڑکنے سے بھی چُھوٹا نہیں پیچھا
ہر بار جَتایا خوش اسلوبی کو حرکت سے
برتاؤ رہا خندہ پیشانی بھرا کیسے
ششدر ہو گئے سارے احسان و شرافت سے

0
38
رد نہ خواہش ہوسکے کوئی اثر سے پہلے
اہمیت ہو جائے معلوم قدر سے پہلے
لاکھ انکار توُ اس بات سے کر لے لیکن
میں نے دیکھا ہے تجھے تیری نظر سے پہلے
کونسی ہو رہ گزر اور ہو منزل تیری
فیصلہ کر لے ذرا وقت سفر سے پہلے

0
19
دل میں رکھا کبھی غبار نہیں
نغز گوئی مرا شعار نہیں
ظلم کے سامنے ڈٹے رہیں پر
کھویا اپنا مگر وقار نہیں
سر بکف جب نکل ہی جانے لگیں
پھر بچا راستہ فرار نہیں

0
37
معصوم بچے گھر کی زینت کو بڑھاتے ہیں
ماحول معطر کر برکت کو بڑھاتے ہیں
پیدا انہیں کے دم سے اسباب بھی رونق کے
خوشیوں کی فضا بنتی، رحمت کو بڑھاتے ہیں
شاداب رہے آنگن، سرسبز ہو محفل بھی
ہو لڑکیاں یا لڑکے رغبت کو بڑھاتے ہیں

0
22
زیبا نہیں دیتا ہو نقصان محبت کا
توڑا نہیں جا سکتا پیمان محبت کا
تھم جائے یہ ہرگز اب ممکن نہیں رہ پایا
جو اٹھ گیا ہے دل میں طوفان محبت کا
ارشاد کی رہتی ہے تعمیل ہمیشہ سے
ٹھکرائے بھلا کیسے فرمان محبت کا

0
34
عاشقوں کو نام لینے میں ہی لذت ملتی ہے
کس چمن کے غنچہ و گل میں یہ نکہت ملتی ہے
شافعِ محشر شہِ کونین سرکارؐ امیں
چاہنے والوں کو ہی ان کی شفاعت ملتی ہے
ماہیِ بے آب جیسے جو تڑپتے بھی رہیں
اور رکھیں غم انہیں ہی فکر امت ملتی ہے

0
42
مجبوریوں میں کچھ بھی ہوا فیصلہ نہ تھا
جینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھا

0
38
صحبت میں مربی کے وہ پایا بھی بہت ہے
اب رنگ نکھرنے سے وہ چھایا بھی بہت ہے
پروان چڑھیگی بالیاں تخم سے دھیرے
ِکشتِ زار میں دہقاں نے بویا بھی بہت ہے
موسم سے اٹھائے وہی ہے فائدہ ہر دم
جو لگتا ہو شوقین و رسیا بھی بہت ہے

0
40
دور تک جب صنم بھی سفر کر گیا
اپنا ہی وہ وطن تب بدر کر گیا
نظروں سے کیسے اوجھل ہوا آن میں
لمحوں میں سب کو پر بے خبر کر گیا
ڈستی ہیں یادیں رہ رہ کے محبوب کی
میرے ہی گھر مجھے وہ بے گھر کر گیا

0
19
خوب پیاری سی خوبصورت ہیں آنکھیں
مولا کی بخشش، دین و نعمت ہیں آنکھیں
صلب گر ہو معلوم بھی قدر تب ہو
بینائی سے محروم عبرت ہیں آنکھیں
سوچنا، سننا صاف رکھیں ہمیشہ
روح پاکیزہ ہو بصیرت ہیں آنکھیں

0
23
مخلصانہ آپ کی ان الفتوں کا شکریہ
ہو ادا کیسے پرانے دوستوں کا شکریہ
طرحی ہو یا غیر طرحی جو مشاعیرہ ہوئے
شاعری کی با ادب ان محفلوں کا شکریہ
کرتے رہتے ہیں نوازش اور جو سوغات بھی
زندہ دل سارے ہی اپنے حامیوں کا شکریہ

0
32
معبود کے در کا جو گداگر نہیں ہوتا
تو بندگی کا وصف اجاگر نہیں ہوتا
معشوق وہی ہے جسے ہو پیار نبی سے
شاعر نہیں جو شہ کا ثناگر نہیں ہوتا

0
17
ذر زمیں پاس کچھ نہ رہتا ہے
اپنا نام اجنبی سا لگتا ہے
ساتھ اپنے ہی چھوڑ دیتے ہيں
کون کس کو یہاں بھی روتا ہے
مفلسی میں نہ ساتھ کوئی جو
دور سے پر ہی بھاگ جاتا ہے

0
22
بچپن سے میں نے خوب سجائے ہیں مرے خواب
عرصہ سے تخیل میں بسائے ہیں مرے خواب
میں ڈاکٹری کے لئے محنت میں مگن سا ہوں
دشوار سہی پھر بھی کھِلائے ہیں مرے خواب
روشن ہو سکے نام بھی اپنا یہی خواہش ہے
اس واسطہ سارے ہی نبھائے ہیں مرے خواب

0
23
سُکھوں کے ساتھ گھنے سے غموں کے پہرے ہیں
قدم قدم پہ گلستاں میں خار بکھرے ہیں
زبان سے کہے توحید پر عمل خالی
فقط ہمارے یہ تو لمبے چوڑے دعوے ہیں
انانیت سے بھری ہوئی زندگی ساری
دبوچ لیگا فرشتہ تو پھر اندھیرے ہیں

0
25
حلول روح میں ہو گر، سنبھل نہیں سکتا
میں وہ خیال ہوں دل سے نکل نہیں سکتا
جکڑ لیا ہے غمِ ہجر نے جو پنجے میں
قدم بڑھائے کہیں اب ٹہل نہیں سکتا
شفا مریض کی دیدار یار میں رہتی
بغیر دید کے جانم بہل نہیں سکتا

0
26
چال اپنا رہے پرانی کیوں
کر رہے ہو غلط بیانی کیوں
غیر سے پیار اپنوں سے نفرت
امتیازی سلوک جانی کیوں
گندی عادت گئی نہیں اب تک
بھولتے جارہے نشانی کیوں

0
26
زیر اپنا تُو اعتبار نہ کر
غمِ الفت کو شرمسار نہ کر
ہجر میں احتیاط کر لے ذرا
مشتعل ہو کہ بھی شرار نہ کر
مسکراتے گزارنا ہیں یہ دن
زندگی اب یہ بے بہار نہ کر

0
44
حرا سے اتر کر جو پیغام لائے
نبوت کے سردار انعام لائے
اشارہ ہوا صاف تبلیغ کا ہی
شریعت کے نورانی احکام لائے
نوازا خدا نے نیا دین دے کر
عطا کردہ نسخہ ءِ افہام لائے

0
15
قرآن کی تلاوت ایمان کو بڑھائے
اعمال کی طرف بھی رجحان کو بڑھائے
ویران قلب حکمت، روشن خیالی پائے
انوار علم و دانش، عرفان کو بڑھائے
تاریکیوں یا صحراؤں میں بھٹک چکے جو
گر ہو مطالعہ تو پہچان کو بڑھائے

0
15
باطن سے اجاگر ہوں کمالات ہمارے
بڑھتے رہینگے تب ہی تو درجات ہمارے
اعمال کی معلوم ہو اول جو فضیلت
جائینگے پنپ بعد میں جزبات ہمارے
منکر سے بھی پرہیز ہی برتیں تو ہے اچھا
معروف کی نسبت ہو بیانات ہمارے

0
26
ہم وطن سے ہی وفا کرتے ہیں
چاہیں تو جاں بھی دیا کرتے ہیں
جس مٹی میں ہوئی پیدائش ہے
اس کی خاطر ہی جیا کرتے ہیں
سب نچھاور کرینگے تن من دھن
ذات کو اپنی فنا کرتے ہیں

0
20
ہنر سے ہی پہچانتا ہے زمانہ
بنے کیسے ہر کوئی پھر جو دِوانہ
بسی رہتی ہیں دیرپا شیریں یادیں
ہو اعصاب پر حاوی ان کا ترانہ
تراشے سلیقہ سے ہیرا تو ممکن
وہی تاج سے منسلک ہو نگینہ

0
28
حساب سارا ہی اب تک جو منہ زبانی ہے
ہر ایک چیز مری ذات میں پرانی ہے
وفا کرے بے وفائی نصیب بن جائے
عجب سی چلتی یہاں کوئی جو کہانی ہے
رفیق ملنے سے موسم بہار جیسا ہے
ہنسی مذاق کی محفل بھی پھر سہانی ہے

0
38
افسانوی کہانی پڑھی جو نصاب کی
دلچسپی سے شروع کی تھی اک کتاب کی
ہیجان، سرکشی و شرارت سی کیفیت
جیسی بھی تھی گزر گئی مدت شباب کی

24
ہاتھ پھیلانے سے بیگار اچھا
سنورے محنت سے بھی سنسار اچھا
پیسہ گر پاس ہے تو سب آساں
پھر منائیں بھی جو تہوار اچھا

26
نادان کو بالکل ہی سمجھنا بھی نہیں ہے
ضدی ہے ذرا اس کو بدلنا بھی نہیں ہے
گر شمع جلی رات گئے لاکھ یہاں پر
پروانے کو ہرگز ہی مچلنا بھی نہیں ہے
موسم یہ بہاروں کا نہ چھا جائے چمن میں
پھولوں کو تو پھر جیسے مہکنا بھی نہیں ہے

46
بغیر مانگے ہی ایمان مل گیا ہے ہمیں
نبیؐ کے صدقہ اہم رتبہ بھی رہا ہے ہمیں
کئی کئی دنوں کے فاقہ چلتے آپؐ کے گھر
ہو ادا شکر بھی ایسا سبق دیا ہے ہمیں
مکان سیدھا و سادہ حضورؐ نے بنایا
عمل سے سادگی کا درس سیکھنا ہے ہمیں

22
ہیں بخشش کے سارے طلبگار یارب
مصیبت سے بیڑا بھی ہو پار یارب
اٹھے ہاتھ نا سامنے غیر کے بھی
سلامت رہے خودی و پندار یارب
سئیئات بھی حسنات سے تُو بدل دے
بے فکری سے مل جائے افکار یارب

0
43
یقیں کامل تھا مجھ کو مان جائیگا منانے سے
عجب رونق سی چھائی ہے ترے محفل میں آنے سے
کہیں ہیں قہقہے چھائے کہیں ہے نکہتِ گل بھی
کھِلیں گلزار و گلشن آپ کے ہی مسکرانے سے
گلستاں بھی بہاروں سے مہک جائے بے موسم ہی
ہنگامِ گل سا برپا ہو تمھارے چہچہانے سے

43
بچی نہ کوئی ضرورت تمہارے ہوتے ہوئے
کبھی نہ آئے صعوبت تمہارے ہوتے ہوئے
چمک دمک بھی بہت دیکھی ہے یہاں میں نے پر
نہیں ہے اب جو حسرت تمہارے ہوتے ہوئے
زمانہ کی کسے پرواہ یا گلہ بھی رہے
کریں بھی کیسے شکایت تمہارے ہوتے ہوئے

0
25
غم دلِ خاکسار سے نکلا
یار بھی پھر حصار سے نکلا
یاد بے چین گر کرے بے حد
اشک چشمِ نگار سے نکلا
لمحے مشکل گزر گئے ہمدم
ہجر بھی انتظار سے نکلا

0
70
حد سے بڑھکر جو عقیدت کی ہے
جان من سے جو محبت کی ہے
چرچہ بھی پیار کا پھیلا ہر سُو
اس قدر آپ سے الفت کی ہے
سب نچھاور ہے اگر ہاں کر دے
صدق دل سے ہی جو چاہت کی ہے

0
16
ہلکی سی چلتے چلتے پہچان ہو گئی تھی
اس وقت دل میں میرے ارمان ہو گئی تھی
جب مدعا نکل آیا ہی زباں پہ آخر
تو دھیرے دھیرے وہ بھی قربان ہو گئی تھی
آغاز میں سُروری و بے تابی چھائی لیکن
پھر ماند کیسی پر جو مسکان ہو گئی تھی

0
29
روز کے فتنوں سے دل کا سکوں برباد ہوا
کیسے مانوں کے مرا دیس بھی آزاد ہوا
ذکر سے تر لساں رکھنی ہمیں ہوگی جو یہاں
تب سمجھ جائیں کہ اب قلب بھی آباد ہوا
ظلم بھی ڈھائے ستم گر جو یہاں خوب ہی پھر
رہنے سے تیرگی باطل کی ہی، بیداد ہوا

0
24
گو ہاتھ تو ملائے عداوت نہیں گئی
ہم خاک ہوگئے پہ کدورت نہیں گئی
دل میں خلش ہوتی رہی جو بار بار پر
سلجھاؤ بھی کئے تھے یہ ذلت نہیں گئی
جو کام آئے وقت پہ ساتھی وہی کھرا
دوست جو بھی پرانے تھے رغبت نہیں گئی

0
35
پُر عمل و پُرنور سیرت آپؐ کی
بااثر و ممتاز عظمت آپؐ کی
کل جہاں کیسے منور بھی ہوا
چھا گئی عالم پہ رحمت آپؐ کی
غیض اس دن طاری رب کا جب ہوگا
کام آئیگی بھی چاہت آپؐ کی

0
28
سماں بہار کا چھایا حسین و دلکش ہے
فضا مہکنا بھی خوشبو سے کیسی بخشش ہے
کھِلے ہیں پھول چمن میں قِسم قِسم کے بھی
سہانے پُرسکوں منظر پہ سب کو نازش ہے
ندی یہ نالے لبالب بھرے ہوئے سارے
برستی تیز جو دوشِ ہوا پہ بارش ہے

0
22
رخصت کے لئے راستہ تک چھوڑ چکے ہیں
دو چار قدم ہم بھی ترے ساتھ چلے ہیں
یادوں کے سہارے بھی جی لینگے ہمیں کیا
مجبور جو ہجراں میں زیادہ ہو گئے ہیں
کیسے مزہ آئے بھی یہاں آپ نہ گر ہوں
درپیش بہت مسئلہ سنگین رہے ہیں

0
22
آزما زور کتنا جو دشمن میں ہے
ولولہ جیت کا جو بسا دھن میں ہے
نا زمانے کی پرواہ یا فکر ہے
تجھ کو پانے کی دھن اب مرے من میں ہے
قابلِ دید رہتا سماں ہر طرف
جب شگوفہ کھِلے و چہکے گلشن میں ہے

0
14
قضا و قدر کا لکھا مٹا نہیں سکتے
نصیب میں ہو فنا تو بچا نہیں سکتے
گلوں کی سیج بھی کانٹوں سے ہی گزرتی ہے
ادھورے خواب ابھی ہم سجا نہیں سکتے
نہ رہبری بچی ہے اور نا مسیحائی
ہنر بچوں کو بھی اب دلا نہیں سکتے

0
23
ہوش میں نہیں گر خمار اچھا
بے قراری سے ہے قرار اچھا
کس جواب سے ڈر لگے تجھے
فکر و رنج سے دل فگار اچھا
صبر پر ضروری وفا میں ہے
ضبط نا ہو تو پھر فرار اچھا

0
20
اپنوں پر بھی بھروسہ ہرگز ہمارا رہا نہیں
پیار بھی جن سے کرتے تھے اب وہ پیارا رہا نہیں
ایک محبوب سے ملاقات طے پائی تھی مگر
وصل تقدیر میں ہو شاید یہ لکھا رہا نہیں
عشق میں تب مزہ ملے، جب ہو یکساں تڑپ لگی
آگ یک طرفہ ہو مزہ و لطف آتا رہا نہیں

0
25
ناز پروردہ جوانی میری
رہتی دنیا ہے دِوانی میری
نقش و رونق میں بڑی ہی دلکش
جو حویلی تھی پرانی میری
آشیاں کتنے بسالیں لیکن
ڈستی ہیں یادیں سہانی میری

0
20
ایک بچپن کی کہانی میری
کیا سناؤں وہ لڑائی میری
کھیل میں بھول ہی جاتا اکثر
مدرسہ کی جو پڑھائی میری
ڈانٹ استاد کی ملتی رہتی
پھر بھی سدھری نہ لکھائی میری

0
21