Circle Image

Shabbir ahmad

@iasahmad

تیری آنکھوں کا خواب ہونا تھا

ہے یہ انسان کی کہانی کیا
کوئی سمجھا ہے زندگانی کیا
پیار تو پیار ہے مرے ہمدم
اس میں دکھلاوا اور نشانی کیا
عرض میں کر چکا ہوں پہلے جو
بات پھر سے وہی بتانی کیا

4
میں نے پایا کہ بعد مرنے کے
دفن کرتے ہیں جسم فانی کو
دور اصحاب میں نہیں ملتی
کون لایا قرآن خوانی کو

0
12
ہماری پستیاں ناکامیاں رسوائیاں مشکل
ہماری ہر پریشانی کا وہ ہی حل نکالے گا
بھروسہ ہے اسی کی ذات اقدس پر ہمیں ازہر
ہمیں میں سے وہ پھر غازی کوئی تغرل نکالے گا

19
اگر کہو تو میں عرض کر دوں مگر یقیناً برا لگے گا
کہ مجھ کو نادان دوستوں سے تو دانا دشمن بھلا لگے گا
یہاں فرشتوں سے لگ رہے ہیں یہ شیخ و ملا خطیب و واعظ
ہے کتنے پانی میں کون ازہر بروز محشر پتہ لگے گا

9
دوست احباب جو ہمارے ہیں
کتنے اچھے ہیں کتنے پیارے ہیں
یہ حقیقت کھلی ہے جب ہم نے
ساتھ میں تین دن گزارے ہیں

8
کیوں چھوڑ گیا ہے وہ وجہ کچھ بھی نہیں ہے
کیا تم کو بتائیں کی ہوا کچھ بھی نہیں ہے
کیوں روک رہے ہو یوں محبت سے بزرگوں
کیا درد ہی اس میں ہیں مزہ کچھ بھی نہیں ہے
تنظیم سے باہر کا فقط رستہ دکھانا
توہین پیمبر کی سزا کچھ بھی نہیں ہے

7
حالانکہ محبت نے بڑا رنج دیا ہے
ہم پھر بھی محبت کی طرف دیکھ رہے ہیں
مل جائے کہیں کوئی محبت کا تلاشی
ہم اہل محبت ہیں ہدف دیکھ رہے ہیں

6
میرا نفس مجھ کو اندھیروں بلاؤ ں کالی گھٹاؤں کی جانب لئے جا رہا ہے
مجھے کہہ رہا ہے یہی چیز اچھی ہے بہتر ہے تیرے لئے ہے
یہی تو خوشی ہے
سو کچھ وقت اس میں بھی اپنا لگاؤ
کبھی اس کی دعوت پے ملنے کو جاؤ
کبھی اس کو اپنے یہاں تم بلاؤ

23
ہو عشق والے تو نام ہوگا
وگرنہ قصہ تمام ہو گا
سنا یہ میں نے ہے قدسیوں سے
ہمارا پھر اک امام ہوگا
اصول یہ ہے دلیل یہ ہے
ہے پیسہ جب تک سلام ہو گا

16
چراغ بجھتے ہی اندر کی روشنی کے سبب
اندھیرے چھٹ گئے فوراً مری خودی کے سبب
کبھی بدن تو کبھی دل کی آگہی کے سبب
بچھڑ گئے ہیں کئی یار عاشقی کے سبب
جو رہنما ہے اسے مشورہ ضروری ہے
بھٹک رہے ہیں ابھی لوگ رہبری کے سبب

0
14
اک ذرا آئنہ دکھانے سے
دشمنی ہو گئی زمانے سے
ہم تھے شاہین ہو گئے کرگس
فرق آیا حرام کھانے سے
ساری دنیا میں وہ نہیں پایا
جو ملا تیرے پاس آنے سے

27
خوب انسان کی کہانی ہے
بعد مرنے کے زندگانی ہے
زندگی خواب سی تو ہے لیکن
یہ حقیقت میں جاودانی ہے
روز محشر سبھو کو پچھتاوا
اہلِ جنت کی شادمانی ہے

15
ہزار کوششیں کیں ہم نے دوستی نہ ہوئی
عجیب شخص تھا وہ دل میں روشنی نہ ہوئی
یہ لڑنا اور جھگڑنا تو عارضی ہے دوست
خدا گواہ کبھی ہم میں دشمنی نہ ہوئی
سیاہ رنگ نہیں دل سیاہ تھا اسکا
بہت جلایا مگر اس نے روشنی نہ ہوئی

20
ایسا سسٹم بنا کے رکھا ہے
حق سبھی کا دبا کے رکھا ہے
ہے حلالہ کہیں کہیں تملیک
کیا تماشا لگا کے رکھا ہے
یہ تفرقہ ہے اختلاف نہیں
جس نےسب کو لڑا کے رکھا ہے

14
صرف ترکیب نہ بتائیں آپ
کچھ نیا کر کے بھی دکھائیں آپ
چاہتے ہیں عروج تو سن لیں
خود کو وقت سحر جگائیں آپ
وصل کی بات نہ بتائیں خیر
قصہ ہجر ہی سنائیں آپ

0
16
غم ہی غم ہیں فقط خوشی نہ رہی
اب وہ پہلے سی زندگی نہ رہی
جہل ہی جہل ہے یہاں ہر سو
ہاں وہی خوۓ آگہی نہ رہی
اس نے پیکر عجیب بخشا ہے
روح نکلی تو لاش بھی نہ رہی

0
9
نہ ہم سفر نہ کوئی ہم پے مہرباں یاروں
عجیب شہر عجب لوگ ہیں یہاں یاروں
مکانِ دل میں ابھی روشنی ہے دھندلی سی
دھواں دھواں سا ہے یادوں کا کارواں یاروں
کرایہ دو گے کہاں تک سو مشورہ مانو
خرید لو کوئی اچھا سا اک مکاں یاروں

0
13
جو سیاست سے کام لیتے ہیں
خوب عزت سے نام لیتے ہیں
یہ جو شرما رہے ہیں محفل میں
سب اکیلے میں جام لیتے ہیں

17
راہ گیروں کو یہ امکان کہاں ہوتا ہے
راستہ کوئی بھی آسان کہاں ہوتا ہے
ابن آدم تو نظر آتا ہے بستی بستی
کچھ پتہ کیجیے کہ انسان کہاں ہوتا ہے
آندھیاں دیکھی ہیں سیلاب و تلاطم دیکھے
دل کے اندر ہے جو طوفان کہاں ہوتا ہے

17
عرض کیجئے جو بات ہے بھائی
دن ہے نکلا کہ رات ہے بھائی
مشکلیں اپنا کیا بگاڑیں گی
اپنی یکجہتی ساتھ ہے بھائی
کہنا وہ چھوڑ کر نہیں جاۓ
وہ مری کائنات ہے بھائی

29
وہ چاہے آج بدلے گا یا ہم کو کل بدل دے گا
کہ ہم ہیں مٹی کے ہم کو وہ مٹی میں بدل دے گا
وہ اپنی نعمتیں انسان پر یوں ہی لٹاۓ گا
کہیں زم زم نکالے گا کہیں وہ گنگا جل دے گا
یہی امید کرتے ہیں سبھی ماں باپ بچوں سے
ابھی ننھا سا پودا ہے بڑا ہو گا تو پھل دے گا

24
کتنی ذلت ہے کیسی خواری ہے
کیا یہی زندگی ہماری ہے
جتنی مزدوری دے رہے ہیں آپ
بوجھ اس سے یہ تھوڑا بھاری ہے
جرم اپنا عمل نہیں کرتے
اس نے قرآن تو اتاری ہے

31
دریا یہ سمندر ہو جائیں گے
ممکن ہے بھنور میں کھو جائیں گے
بس روح نکلنے کی دیری ہے
ہم بھی کہانی ہو جائیں گے
آپ کہیں تو رک جاتے ہیں
آپ کہیں گے تو جائیں گے

18
دُکھاۓ دل کوئی محبوب جانی چو ٹ دےجاۓ
اگر ایسا نہ کر پا ۓکھلونا ساتھ لے جاۓ
پھر اس کو توڑ کر دیکھے اسی کا نام نکلے گا
ہمارے دل سے اس کا بھی کوئی تو کام نکلے گا
بہت تلخی بھرے انداز میں جس نے کھری کھوٹی سنائی تھی
ہمارے دل پے اس نے ضرب اک کاری لگائی تھی

25
ایک اونچی اڑان سے پہلے
ہے زمیں آسمان سے پہلے
میں نے اس کا ہی بس پتہ پوچھا
جو بھی نکلا مکان سے پہلے
معذرت کر لی بعد میں اس نے
ہٹ گیا تھا بیان سے پہلے

0
30
تیری آنکھوں کا خواب ہونا تھا
ہر کلی کو گلاب ہونا تھا
تیری باتیں ہیں پھول کی مانند
تجھ کو بوۓ گلاب ہونا تھا
تیری مسکان بھی قیامت ہے
دل یقیناً خراب ہونا تھا

18
کچھ تو ہے ان دنوں ہر شام نکل آتے ہیں
موسمِ گل میں تو گلفام نکل آتے ہیں
وہ بھی اب ملنے ملانے کو کہاں آتے ہیں
یوں کہو ہم سے انھیں کام نکل آتے ہیں
قتل ہوتا ہے ہمارا ہی ہمیں ہیں مجرم
سر ہمارے سبھی الزام نکل آتے ہیں

0
33
جس حال میں وہ رکھے وہی حال مبارک
اے اہل وطن تم کو نیا سال مبارک
مومن کی یہ تمثیل قفس میں ہو پرندہ
اور اس کو سمجھتا ہو وہ فی الحال مبارک
پھنستا ہی چلا جاتا ہے دنیا ۓقفس میں
انسان کو لگتا ہے یہ اک جال مبارک

23
اپنی دھن میں ہی چور رہتا ہے
آدمی خود سے دور رہتا ہے
بات مفلس سے کیوں کرےگا وہ
پاس اسکے غرور رہتا ہے
سوچتے ہیں جو تیرے بارے میں
ذہن و دل میں سرور رہتا ہے

35
راہتیں ہیں مگر نہیں لگتا
دل ہمارا ادھر نہیں لگتا
تم کو دنیا سے رغبتی ہو گی
یہ ہمارا تو گھر نہیں لگتا

17
ڈرتے نہیں ہیں ہم کبھی تلوار دیکھ کر
باطل نے سر جھکایا ہے کردار دیکھ کر
اصلی کہانی کیا ہے کوئی جانتا نہیں
سہمے ہوئے ہیں لوگ یہ اخبار دیکھ کر
مشکل گھڑی ہے ساتھ بھلا کون دے ترا
احباب ساتھ رکھنے تھے دو چار دیکھ کر

24
خطا جو پہلے ہوئی اب کے بار مت کرنا
مخالفین کو کمتر شمار مت کرنا
جو تم کو چاہے اسے تم بھی پیار دے دینا
کسی کو عشق میں تم بے قرار مت کرنا
ہمارے نام سے واقف نہیں غزل والے
ہمارے نام کا چرچا بھی یار مت کرنا

0
17
فرقوں کے سارے لوگ فقط کہتے ہیں یہی
میرا امام ٹھیک ہے میرا فقہ سہی
ہے جسکی زندگی میں طریقہ رسول کا
میری نگاہ میں تو مسلمان ہے وہی

9
جیسا مجھے سمجھتے ہو ویسا نہیں ہوں میں
ہر شخص کی نگاہ میں اچھا نہیں ہوں میں
تم بھی غلط خیال میں ہو مبتلا میاں
دریا کے پاس بیٹھا ہوں پیاسا نہیں ہوں میں
ممکن ہیں مجھ سے لغزشیں کوتاہیاں گناہ
انسان ہوں حضور فرشتہ نہیں ہوں میں

20
لگتا ہے مگر اتنا وہ نادان نہیں ہے
رستے سے ہٹانا اسے آسان نہیں ہے
دکھلاواہے اس شخص کا یہ شور مچانا
وہ شخص حقیقت میں پریشان نہیں ہے
اک عارضی سراے ہے دنیا کی زندگی
اس بات سے تو کوئی بھی انجان نہیں ہے

16
تو عروج دے یا زوال دے
مجھے بندسوں سے نکال دے
تو قبول کر لے یہ التجا
کہ مجھے تو رزق حلال دے
مری بخششوں کا سبب بنے
مجھے کوئی ایسا کمال دے

27
تری آنکھوں کا وہ پانی کہاں ہے
مرے درویش سلطانی کہاں ہے
تو اسکی تعبداری کر رہا ہے
یہ دنیا تونے پہچانی کہاں ہے
بھلے پردیش کی رونق ہے دلکش
جو گھر میں ہے وہ آسانی کہاں ہے

23
کہہ گۓ ہیں جناب آۓ گا
پھر وہی انقلاب آئے گا
نشہ ہے اسکو اقتداری کا
اب وہ پی کر شراب آۓ گا
پہلے کانٹے ہٹاۓ صاحب
ہاتھ میں پھر گلاب آۓ گا

31
وہ شخص کہ جو مجھ سے محبت نہیں کرتا
ہنستا ہوں اسے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا
دیتے تھے بہت مشورہ دیوانوں کو پہلے
اب کیا ہوا اے یار نصیحت نہیں کرتا
دیتے ہیں سبھی لوگ ہمیں صرف دلاسہ
کھل کر یہاں کوئی بھی حمایت نہیں کرتا

27
گر تجھ کو چارہ ساز کا مطلب نہیں پتہ
مطلب ہے دل نواز کا مطلب نہیں پتہ
پڑھتا ہے جو نماز جماعت سے محترم
اس کو بھی تو نماز کا مطلب نہیں پتہ
تم کو ملے گی نوکری بھارت میں کس طرح
جب تم کو ساز باز کا مطلب نہیں پتہ

34
زخم ناسور ہو گۓ کتنے
مجھ میں ہی چور ہو گۓ کتنے
تو عیادت کو آ بھی جاتا ہے
ہم نوا دور ہو گۓ کتنے
کل تلک تھا بہت غرور جنھیں
آج مجبور ہو گۓ کتنے

30
ہم بیاباں میں چل رہے ہیں
سانپ کینچل بدل رہے ہیں
دشمنوں کا گلہ نہیں ہے
دوست دشمن نکل رہے ہیں
تمام نیتا ہیں مثل گرگٹ
رنگ اپنا بدل رہے ہیں

25
اپنے مسلک کی بات ہو تی ہے
ہر کہانی میں رات ہوتی ہے
روز مسلم کا خون بہتا ہے
روز اک واردات ہوتی ہے
اپنی یک جہتی اب نہیں باقی
اسلئےہم کو مات ہوتی ہے

27
اشکوں کا کاروبار بھلایا نہیں گیا
آنسو مگر نگاہ میں لایا نہیں گیا
آ تو گیا تھا بام پے وہ خوش نگاہ بھی
لیکن نقاب رخ سے ہٹایا نہیں گیا
تم نے بھی انقلاب کی حامی نہیں بھری
ہم سے بھی زور تنہا لگایا نہیں گیا

36
تم بہت بولتے ہو محفل میں
اپنی دھن میں ہی چور رہتے ہو
بات کرنی مگر نہیں آتی
میڈیا میں ضرور رہتے ہو

66
میرا بھی ہے کوئی معیار بتایا جائے
کیا کہانی میں ہے کردار بتایا جائے
ہم نے اس ملک کو سینچا ہے لہو سے اپنے
آپ نے کیا کیا سرکار بتایا جائے
راز نیلام کیا کس نے بھلا باطل سے
کون ہے ملک کا غدار بتایا جائے

65
ساری دنیا کی شان تھا پہلے
میرا بھارت مہان تھا پہلے
تم جسے لال قلعہ کہتے ہو
وہ ہمارا مکان تھا پہلے

27
ایک منظر اداس ہوتے ہوئے
آگیا بے لباس ہوتے ہوئے
اسکی باتوں میں میں نہیں آیا
اتنی زیادہ مٹھاس ہوتے ہوئے
سمندروں سے بچا لیا دامن
خوب شدت کی پیاس ہوتے ہوئے

0
23
سب نے ملاۓ ہاتھ یہاں بے رخی کے ساتھ
کتنا بڑا مزاق ہوا دوستی کے ساتھ
کرتے نہیں ہیں مرگ کا ماتم یہ سوچ کر
کس نے نباہ کی ہے یہاں زندگی کے ساتھ
یوں تو ہمارے پاس سمندر ہے علم کا
کیوں مر رہے ہیں یار ہمیں تشنگی کے ساتھ

37
خالی پیلی نہ یوں کلام کریں
کر لیں وعدہ تو پھر تمام کریں
سب کو دیجے سلامتی کی دعا
دشمنوں کا بھی احترام کریں
لفظ ہی دل کو توڑ دیتے ہیں
گفتگو میں بھی اہتمام کریں

47
ہمیں سکھاۓ گا وہ کیا ہنر زمانے کا
ہمارے پاس بھی ہے آئنہ دکھانے کا
فضول کوششیں کرتا رہا ہے صدیوں سے
وہ خواب دیکھ رہا ہے ہمیں مٹانے کا
ہمارے آگے اندھیرا ٹھہر نہیں سکتا
ہنر پتہ ہے ہمیں روشنی بنانے کا

48
گر بلندی سے ڈر گیا ہوتا
میں تو بے موت مر گیا ہوتا
مفلسی دیر تک اگر رہتی
گھر یقیناً بکھر گیا ہوتا
بوسہ محبوب کا جو مل جاتا
اپنا بھی درد سر گیا ہوتا

25
سورج نہ سہی رات میں جگنو نظر آۓ
مولا ہماری بات میں کچھ تو اثر آۓ
یہ ہی عروج حضرت انساں کا راز ہے
جھک جاۓ رب کے سامنے جب بھی سحر آۓ
تم دوستوں کا ساتھ ہو منزل پتہ نہ ہو
راہ حیات میں کوئی ایسا سفر آۓ

34
عبادتوں میں بھی اجرت ہے کیا کیا جائے
عجیب رنگ عبادت ہے کیا کیا جائے
عروج ہمکو میسر نہیں زمانے سے
عجیب قوم کی حالت ہے کیا کیا جائے
لگا ہے جس کو زمانہ قریب لانے میں
ہمیں بھی اس سے محبت ہے کیا کیا جائے

28
ہوتا نہیں اتنے میں فقط انکا گزارا
دیں اور بھی تنخواہ اماموں کو خدارا
وارث ہیں نبی کے یہی حضرات جہاں میں
وہ شہر ہو دلی یا ہو پھر شہر بخارا
بچوں کو پڑھاتے ہیں مدرسے میں بیچارے
پھر پانچ نمازوں میں خدا کو بھی پکارا

3
56
یہ جو دیوار ہے ہمارے بیچ
سلسلہ وار ہے ہمارے بیچ
نفرتیں ، بغض، اور حسد، کینہ
کیسا بازار ہے ہمارے بیچ
ہمکو دشمن نے مات دی کیسے
کون غدار ہے ہمارے بیچ

51
ہو اجازت تو دوستی کر لیں
دل کے اندر بھی روشنی کر لیں
عشق بہتر ہے سارے کاموں سے
کچھ نہ آتا ہو تو یہی کر لیں
خالی بیٹھے ہیں دوستوں سوچو
کوئی باتیں ہی قیمتی کر لیں

33
عشق ہو جائے پیار ہو جائے
ہم کو پھر اعتبار ہو جائے
اسکی صورت ہے موہنی صورت
جو بھی دیکھے شکار ہو جائے

25
آپ لوگوں کی ہر ادا چمکے
دوستی آپ کی سدا چمکے
کون چمکا ہے اس طرح ازہر
جیسے دنیا میں مصطفےٰ چمکے

25
اسنے بھی لوٹ آنے کا وعدہ نہیں کیا
میں نے بھی انتظار زیادہ نہیں کیا
اس سے امید وصل کی کیوں رکھیں دوستوں
ملنے کا جسنے ہم سے ارادہ نہیں کیا

38
سچ دکھانے کے جو حق دار نظر آتے ہیں
ایک دو شہر میں اخبار نظر آتے ہیں
راہ میں خار بچھاۓ ہیں انھیں لوگوں نے
جو ہمیں مونس و غم خوار نظر آتے ہیں
دور حاضر کی ترقی یہ بتاتی ہے ہمیں
کچھ دنوں اور یہ اخبار نظر آتے ہیں

35
عشق ہوتا ہے پیار ہوتا ہے
کتنا اچھا اے یار ہوتا ہے
ہم کو معلوم ہے محبت کا
سب کو اک دن بخار ہوتا ہے
کوئی ہوتا ہے آدمی کمتر
کوئی بہتر شمار ہوتا ہے

36
جو ترے خواب دیکھتا ہو گا
تیری الفت میں مبتلا ہو گا
تجھکو اچھا جو کہہ نہیں سکتا
کچھ تو وہ شخص بھی برا ہو گا
لیکر آۓ گا وصل کی خواہش
عشق اس کو بھی گر ذرا ہو گا

60
ممکن ہے پھر وطن کی ترقی ہو شان سے
قانون سازی کیجے اگر سن ودھان سے
سرکار سے ادب سے پھر اک بار التماس
کیسی گزر رہی ہے یہ پوچھو کسان سے
کوشش کریں ہزار لعینوں کاکام ہے
کچھ بھی مٹا نہ پائیں گے لیکن قرآن سے

4
80
عشق میں چال چل نہیں سکتا
اپنی فطرت بدل نہیں سکتا
اس نے بھیجا ہے آج بھی قاصد
کل بھی وہ مجھ سے مل نہیں سکتا
زندگی ایسا راز ہے پیارے
زندگی میں جو کھل نہیں سکتا

5
182
میں اکیلا تھا اک بشر تنہا
یاد آتا ہے وہ سفر تنہا
کتنی دشوار کس قدر تنہا
زندگی ہوتی ہے بسر تنہا
عشق ہوتا ہے لا دوا صاحب
آدمی لگتا ہے شجر تنہا

3
95
کھیل کھیلا ہے آخری میں نے
توڑ دیں بندشیں سبھی میں نے
ہم بہت بعد میں ہوۓ پیدا
کوئی دیکھا نہیں نبی میں نے
خشک پتوں پے دن گزارے ہیں
جنگ ہر حال میں لڑی میں نے

3
71
عشق قرآن ہو گیا صاحب
رب کا احسان ہو گیا صاحب
بعد مدت کے فصل گل آئی
باغ ذیشان ہو گیا صاحب
یاد تیری، نہ جائے گی دل سے
میرا ایمان ہو گیا صاحب

1
72