Circle Image

Shabbir ahmad

@iasahmad

گر بلندی سے ڈر گیا ہوتا
میں تو بے موت مر گیا ہوتا
مفلسی دیر تک اگر رہتی
گھر یقیناً بکھر گیا ہوتا
بوسہ محبوب کا جو مل جاتا
اپنا بھی درد سر گیا ہوتا

4
سورج نہ سہی رات میں جگنو نظر آۓ
مولا ہماری بات میں کچھ تو اثر آۓ
یہ ہی عروج حضرت انساں کا راز ہے
جھک جاۓ رب کے سامنے جب بھی سحر آۓ
تم دوستوں کا ساتھ ہو منزل پتہ نہ ہو
راہ حیات میں کوئی ایسا سفر آۓ

0
4
عبادتوں میں بھی اجرت ہے کیا کیا جائے
عجیب رنگ عبادت ہے کیا کیا جائے
عروج ہمکو میسر نہیں زمانے سے
عجیب قوم کی حالت ہے کیا کیا جائے
لگا ہے جس کو زمانہ قریب لانے میں
ہمیں بھی اس سے محبت ہے کیا کیا جائے

7
ہوتا نہیں اتنے میں فقط انکا گزارا
دیں اور بھی تنخواہ اماموں کو خدارا
وارث ہیں نبی کے یہی اے لوگوں جہاں میں
وہ شہر ہو دلی یا ہو پھر شہر بخارا
بچوں کو پڑھاتے ہیں مدرسے میں بیچارے
پھر پانچ نمازوں میں خدا کو بھی پکارا

3
27
یہ جو دیوار ہے ہمارے بیچ
سلسلہ وار ہے ہمارے بیچ
نفرتیں ، بغض، اور حسد، کینہ
کیسا بازار ہے ہمارے بیچ
ہمکو دشمن نے مات دی کیسے
کون غدار ہے ہمارے بیچ

0
14
ہو اجازت تو دوستی کر لیں
دل کے اندر بھی روشنی کر لیں
عشق بہتر ہے سارے کاموں سے
کچھ نہ آتا ہو تو یہی کر لیں
خالی بیٹھے ہیں دوستوں سوچو
کوئی باتیں ہی قیمتی کر لیں

0
10
عشق ہو جائے پیار ہو جائے
ہم کو پھر اعتبار ہو جائے
اسکی صورت ہے موہنی صورت
جو بھی دیکھے شکار ہو جائے

0
11
آپ لوگوں کی ہر ادا چمکے
دوستی آپ کی سدا چمکے
کون چمکا ہے اس طرح ازہر
جیسے دنیا میں مصطفےٰ چمکے

0
5
اسنے بھی لوٹ آنے کا وعدہ نہیں کیا
میں نے بھی انتظار زیادہ نہیں کیا
اس سے امید وصل کی کوشش فضول ہے
ملنے کا جسنے ہم سے ارادہ نہیں کیا

17
سچ دکھانے کے جو حق دار نظر آتے ہیں
شکر ہے اب بھی وہ اخبار نظر آتے ہیں
راہ میں خار بچھاۓ ہیں انھیں لوگوں نے
جو ہمیں مونس و غم خوار نظر آتے ہیں
دور حاضر کی ترقی یہ بتاتی ہے ہمیں
کچھ دنوں اور یہ اخبار نظر آتے ہیں

15
عشق ہوتا ہے پیار ہوتا ہے
کتنا اچھا اے یار ہوتا ہے
ہم کو معلوم ہے محبت کا
سب کو اک دن بخار ہوتا ہے
کوئی ہوتا ہے آدمی کمتر
کوئی بہتر شمار ہوتا ہے

16
جو ترے خواب دیکھتا ہو گا
تیری الفت میں مبتلا ہو گا
تجھکو اچھا جو کہہ نہیں سکتا
کچھ تو وہ شخص بھی برا ہو گا
لیکر آۓ گا وصل کی خواہش
عشق اس کو بھی گر ذرا ہو گا

14
ممکن ہے پھر وطن کی ترقی ہو شان سے
قانون سازی کیجے اگر سن ودھان سے
سرکار سے ادب سے پھر اک بار التماس
کیسی گزر رہی ہے یہ پوچھو کسان سے
کوشش کریں ہزار لعینوں کاکام ہے
کچھ بھی مٹا نہ پائیں گے لیکن قرآن سے

4
48
عشق میں چال چل نہیں سکتا
اپنی فطرت بدل نہیں سکتا
اس نے بھیجا ہے آج بھی قاصد
کل بھی وہ مجھ سے مل نہیں سکتا
زندگی ایسا راز ہے پیارے
زندگی میں جو کھل نہیں سکتا

5
152
میں اکیلا تھا اک بشر تنہا
یاد آتا ہے وہ سفر تنہا
کتنی دشوار کس قدر تنہا
زندگی ہوتی ہے بسر تنہا
عشق ہوتا ہے لا دوا صاحب
آدمی لگتا ہے شجر تنہا

3
40
کھیل کھیلا ہے آخری میں نے
توڑ دیں بندشیں سبھی میں نے
ہم بہت بعد میں ہوۓ پیدا
کوئی دیکھا نہیں نبی میں نے
خشک پتوں پے دن گزارے ہیں
جنگ ہر حال میں لڑی میں نے

3
43
عشق قرآن ہو گیا صاحب
رب کا احسان ہو گیا صاحب
بعد مدت کے فصل گل آئی
باغ ذیشان ہو گیا صاحب
یاد تیری، نہ جائے گی دل سے
میرا ایمان ہو گیا صاحب

1
39