گر بلندی سے ڈر گیا ہوتا
میں تو بے موت مر گیا ہوتا
مفلسی دیر تک اگر رہتی
گھر یقیناً بکھر گیا ہوتا
بوسہ محبوب کا جو مل جاتا
اپنا بھی درد سر گیا ہوتا
اسکو پکا یقین گر ہوتا
پار دریا وہ کر گیا ہوتا
میرا قاتل اگر تھا شرمندہ
ہم پے الزام دھر گیا ہوتا
آئنہ اس کو گر دکھا دیتے
اپنے چہرے سے ڈر گیا ہوتا

4