اس ماہ مبارک کی  کیا بات نرالی ہے
ہوتی ہے جو نعمت کی برسات نرالی ہے
وہ رحمت عالم ہیں وہ شافع محشر ہیں
اللہ کے بندوں میں وہ ذات نرالی ہے
یہ شہر مدینہ ہے ہے نور یہاں ہر  سو
یاں دن بھی نرالا ہے یاں رات نرالی ہے
انفاق سبیل اللہ کتنوں نے کیا لیکن
بوبکر نے جو کی ہےخیرات نرالی ہے
پایا نہیں دنیا کا یہ مال‌ و متاع میں نے
ایماں کی ملی لیکن سوغات نرالی ہے

55