سورج نہ سہی رات میں جگنو نظر آۓ
مولا ہماری بات میں کچھ تو اثر آۓ
یہ ہی عروج حضرت انساں کا راز ہے
جھک جاۓ رب کے سامنے جب بھی سحر آۓ
تم دوستوں کا ساتھ ہو منزل پتہ نہ ہو
راہ حیات میں کوئی ایسا سفر آۓ
دریا کی خوب تہ میں گیا پہلے پھر کہیں
مچھوارے کی نظر میں یہ لعل و گہر آۓ
دنیا میں سکوں ہمکو میسر نہیں ہو تا
ہم لوگ بھی کیوں چھوڑ کے جنت ادھر آۓ
مانگا ہے نبی نے انھیں اللہ سے ازہر
پھر حلقۂ اسلام میں حضرت عمر آۓ

0
4