اسنے بھی لوٹ آنے کا وعدہ نہیں کیا
میں نے بھی انتظار زیادہ نہیں کیا
اس سے امید وصل کی کوشش فضول ہے
ملنے کا جسنے ہم سے ارادہ نہیں کیا

20