ہیں زمانے میں بہت اعلٰی سے اعلٰی شاعر
پر ہے اقبال زمانے سے نرالا شاعر
اب نہ تاریکیاں نفرت کی نظر آئیں گی
لے کے آیا ہے محبت کا اجالا شاعر
قید کر دو یا کوئی سخت سزا دو ان کو
پر زبانوں پے لگاتے نہیں تالا شاعر
بات نفرت کی بڑی دور نہ جانے پائے
لا کے رکھ دے تو محبت کا حوالہ شاعر
تیری پگڑی جو وزیروں کے قدم چومے گی
کیسے بولے گا کوئی تجھ کو جیالا شاعر
دیکھتے رہتے ہیں شاعر کو گری نظروں سے
ہو نہ جائے کہیں حضرت کا بھی لالہ شاعر
جس کے اشعار نے قرآں کی اشاعت کی ہے
نام اقبال تھا تھا حضرت والا شاعر

0
3