Circle Image

Rasheed Hasrat

@RasheedHasrat

بڑے بے شرم حاکِم ہیں، بڑی بے حِس حُکُومت ہے
ذرا بھی کب پتہ اِن کو حیا کیا؟ کیا شرافت ہے؟
ہمیں تو ظُلم سہنے کے لیے بھیجا گیا شائد
جہاں تک دیکھ سکتے ہیں غرِیبی ہے، مُصِیبت ہے
یہ وہ بازار ہے ہر چِیز بِکتی ہے یہاں آ کر
یہاں پر عدل بِکتا ہے کہ رقّاصہ عدالت ہے

8
لا کے چھوڑا ہے مُجھے چھوڑنے والے نے کہاں؟
چین کا سانس لِیا درد کے پالے نے کہاں
اپنی دھرتی سے ہُؤا دُور تو احساس ہُؤا
کھینچ کے لایا ہے روٹی کے، نِوالے نے کہاں؟
جانتا ہُوں کہ تُو نادان سمجھتا ہے مُجھے
اِک ذرا راز کِیا فاش یہ بالے نے کہاں؟

0
14
ہزار پیار کے نغمے میں گُنگُنا کے رہا
مگر جو حرف تھا آنا وہ مُجھ پہ آ کے رہا
نِکال باپ نے گھر سے مُجھے کیا باہر
وہ میرا دوست تھا میں اُس کے گھر میں جا کے رہا
اڑا جو ضِد پہ کبھی بچپنے سے اب تک میں
پہُنچ سے دُور اگر کوئی تھا تو پا کے رہا

0
7
کیوں روا رکھتے ہو مُجھ سے سرد مہری بے سبب
بِیچ میں لانا پڑے تھانہ کچہری بے سبب
میں نے اُس رُخ سے اِسے جِتنا الگ رکھا عبث
آنکھ تھی گُستاخ میری جا کے ٹھہری بے سبب
ناں کِسی پائل کی چھن چھن، ناں کہِیں دستک کوئی
کر رہی ہے وار گہرے رات گہری بے سبب

0
14
جو رات تیرے لیئے قُمقُموں سموئی تھی
وہ رات میں نے فقط آنسُوؤں سے دھوئی تھی
رفِیق چھوڑ گئے ایک ایک کر کے مُجھے
خطا نہِیں تھی کوئی، صِرف راست گوئی تھی
وہِیں پہ روتے کھڑے رہ گئے مِرے ارماں
خُود اپنے ہاتھ سے کشتی جہاں ڈبوئی تھی

0
10
ایک تِتلی مُجھے گُلستاں میں مِلی
ظُلم کی اِنتہا داستاں میں مِلی
غُسل دو جو نہ ہاتھوں سے اپنے کیے
زِندگانی فقط درمیاں میں مِلی
بعد مُدّت اذاں اِک اذانوں میں تھی
رُوح سی اِک بِلالی اذاں میں مِلی

0
21
جِیون بھر کے ارمانوں کا حاصِل ایک مکان
قطعہ، پانی، گارا آدھی سِی سِل ایک مکان
معمُولی سی مانگ ہے میری پُوری ہو سکتی ہے
مانگ رہا ہے مولا میرا بھی دِل ایک مکان
میں نے جو اِک خواب بُنا تھا خوابوں میں بستا ہے
ہو گا میرا عِشق سوایا، ساحِل، ایک مکان

0
15
ناز اُس کے اُٹھاتا ہُوں رُلاتا بھی مُجھے ہے
زُلفوں میں سُلاتا بھی، جگاتا بھی مُجھے ہے
آتا ہے بہُت اُس پہ مُجھے غُصّہ بھی لیکِن
پیار اُس پہ کبھی ٹُوٹ کے آتا بھی مُجھے ہے
در پے ہے مِری جان کے، جو پِیچھے پڑا ہے
وُہ دُشمنِ جاں دوستو بھاتا بھی مُجھے ہے

0
9
بِچھڑا وہ گویا زِیست میں آیا کبھی نہ تھا
اُس نے مِرے مِزاج کو سمجھا کبھی نہ تھا
لہجے میں اُس کے تُرشی بھی ایسی کبھی نہ تھی
دِل اِس بُری طرح مِرا ٹُوٹا کبھی نہ تھا
گو اِضطراب کی تو نہ تھی وجہ ظاہری
دِل کو مگر قرار کبھی تھا، کبھی نہ تھا

0
7
سوچو امیرِ شہر نے لوگوں کو کیا دِیا
بُھوک اور مُفلسی ہی وفا کا صِلہ دیا
کوٹھی امیرِ شہر کی ہے قُمقُموں سجی
گھر میں غرِیبِ شہر کے بُجھتا ہُؤا دِیا
ہم نے تُمہیں چراغ دیا، روشنی بھی دی
تُم نے ہمارے دِل کا فقط غم بڑھا دیا

0
13
ہیں شعر تِرے شُستہ لب و لہجہ حسِیں ہے
پر کیا ہے کہ یہ مُردہ پرستوں کی زمِیں ہے
اے سہمی کسک تُو نے مِرا ساتھ دیا ہے
ہمدرد مِری تُو ہے، تُو ہی دِل کی مکِیں ہے
جو چرب زُباں اُس کو پذِیرائی مِلی ہے
اور اصل جو فنکار ہے وہ گوشہ نشِیں ہے

0
10
مَیں اپنے آپ میں اُلجھا ہُؤا ہُوں، اُس سے کہو
کبھی میں کیا تھا، ابھی کیا ہُؤا ہُوں، اُس سےکہو
وُہ جس جگہ پہ مُجھے چھوڑ کر گیا تھا کبھی
اُسی مقام پہ ٹھہرا ہُؤا ہُوں، اُس سے کہو
یہ خنجروں سے کریں وار، اُلجھ کِسی سے نہِیں
کہا تھا ماں نے یہ، سہما ہُؤا ہُوں، اُس سے کہو

0
9
خُود کو آرام سے تُو گھر پر رکھ
اور پَگ عورتوں کے سر پر رکھ
دوستوں نے تو مِہربانیاں کِیں
داغ تُو بھی دِل و جِگر پر رکھ
میں نے قرضہ دیا ہے، جُرم کِیا؟
اور اب تُو اگر مگر پر رکھ

15
اِس، اُس کے لِیئے، اب، نہ کِسی تب کے لِیئے ہے
ہے دِل میں مِرے پیار جو وہ سب کے لِیئے ہے
اِک عُمر اِسی پیاس کی شِدّت میں گُزاری
یہ آنکھ کا پیمانہ مِرے لب کے لِیئے ہے
یہ چہرہ تِرا دِن کے اُجالے کے لِیئے ہے
اور زُلف گھنیری ہے، سو وہ شب کے لِیئے ہے

0
7
اُڑتے تو بھلا کیسے بنا پنکھ پرندے
رہتے تو ہیں اُکتائے بنا پنکھ پرندے
ہم نے تو فقط دانہ دیا، پانی پلایا
آنگن میں گرے آ کے بنا پنکھ پرندے
پر ان کے نکل آئے تو لہجہ تھا کوئی اور
کیا آج ہوئے، کیا تھے بنا پنکھ پرندے

0
12
سفر نے تو مُجھے شل کر دیا ہے
مُعمّا تھا مگر حل کر دیا ہے
وہ آیا نکہتوں کے جُھرمُٹوں میں
بہاروں کو مکمل کر دیا ہے
مُجھے محفوظ کرنا ذات کو تھا
تِری آنکھوں کا کاجل کر دیا ہے

0
13
وہ مُجھ سے جل کے یہ بولے کہ ہو ترقّی میں
ہضم یہ بات نہ ہو تُم رہو ترقّی میں
اُنہیں زوال کا کھٹکا کبھی نہیں ہوتا
خُدا کی یاد جگاتے ہیں جو ترقّی میں
یقین ہے کہ عقِیدت عُرُوج پائے گی
نِگاہیں پائیں گی جب آپ کو ترقّی میں

17
جانِ جاں کوئی نہ ہو، جانِ جہاں کوئی نہ ہو
آہ سِینے میں کوئی، لب پر فُغاں کوئی نہ ہو
آؤ ڈُھونڈیں ہم محبّت، آؤ ڈُھونڈیں آدمی
خاک میں لِتھڑا نہِیں ہو، خُونچکاں کوئی نہ ہو
کون سُنتا ہے تُمہیں اے شاعرِ ناداں، کہ جب
کُچھ سلِیقہ ہی نہ ہو، طرزِ بیاں کوئی نہ ہو

0
16
بُرا تھا یا بھلا جیسا بھی تھا رکھا گیا تھا
تُمہی کہہ دو ہمارا نام کیا رکھا گیا تھا
تُم اپنے آپ میں تھے برہمن، شُودر تھے ہم ہی
جبھی تو بِیچ میں یہ فاصلہ رکھا گیا تھا
ہمیں بچپن میں دوزخ اور جنّت کی خبر تھی
دیانت تھی، کہ دِل میں خوف سا رکھا گیا تھا

0
17
سبز ہوتی ہے کبھی سرخ کہانی، پانی
اور ہوتی ہے شہیدوں کی زبانی، پانی
کیوں اُچھل کر نہِیں قدموں میں گرا شاہوں کے
شرم سے دوستو پانی ہؤا پانی پانی
کیسے پابندی لگی تجھ پہ فرات آج بتا
پھر بھی قائم تھی بھلا کیسے روانی، پانی؟

1
27
اُس کو لایا جا سکتا ہے
تو پِھر سایہ جا سکتا ہے
وِیرانے کو گھر میں لا کر
دشت بسایا جا سکتا ہے
نِیند چُرائی جا سکتی ہے
درد جگایا جا سکتا ہے

1
25
اُجالے رکھ لو مگر تِیرگی تو دو گے ناں؟
مُجھے خبر ہے مُجھے پِھر بھی تُم کہو گے ناں
کڑا جو وقت پڑا لوگ چھوڑ دیں گے مُجھے
کہو کہ تُم تو مِرے ساتھ ساتھ ہو گے ناں؟
بجا کہا کہ میں کرتا رہا ادا کاری
بجا یہ بات کہ مُجھ کو عزِیز ہو گے ناں

0
16
مِٹھڑی (ہمارا گاؤں)
(توسیع کے ساتھ)۔
جہاں پر بھی بسیرا ہو ہمارا، یاد مٹھڑی ہے
ثمر قندؔ و بُخاراؔ ہے، مُراد آبادؔ مٹھڑی ہے
نوابؔ اللہ کو پیارے ہوئے تو دور بدلا ہے
نہیں جو وہ رہے تو اب ستم ایجاد مٹھڑی ہے

0
13
مرض ہے اُس میں وُہ کمتر، حقِیر جانتا ہے
فقِیر ہو گا جو سب کو فقِیر جانتا ہے
میں اُس کی قید سے آزاد ہو چُکا ہُوں مگر
وہ بے وقُوف ابھی تک اسِیر جانتا ہے
تُمہارا کام اگر ہو کوئی تو حُکم کرو
تُمہیں پتہ ہے؟ مُجھے اِک وزِیر جانتا ہے

0
8
تُمہارا عزم ہمیں وحشتوں میں رکھنا ہے
یہ سوچتے ہیں تُمہیں کِن صفوں میں رکھنا ہے
تُمہاری نِیند ہمارے ہی ساتھ جائے گی
خیال اپنا تُمہیں رتجگوں میں رکھنا ہے
مزہ جو پایا تھا ہم نے ہری رُتوں میں کبھی
اُسی مزاج کا پِیلی رُتوں میں رکھنا ہے

0
15
ہمیں جو ضبط کا حاصل کمال ہو جائے
ہمارا عِشق بھی جنّت مِثال ہو جائے
سُنا ہے تُم کو سلِیقہ ہے زخم بھرنے کا
ہمارے گھاؤ کا بھی اِندمال ہو جائے
ذرا سی اُس کے رویّے میں گر کمی دیکھیں
طرح طرح کا ہمیں اِحتمال ہو جائے

0
12
اچُھوت کوئی، کِسی برہمن میں کیا تفرِیق
تُمہارے اُجلے، مِرے میلے من میں کیا تفرِیق
دھکیل کر جو کرے زن پرے خصم خُود سے
تو فاحشہ کے کسِیلے بدن میں کیا تفرِیق
شجر میں ایسا، نہِیں جِس پہ برگ و بار کوئی
رہُوں میں دشت یا صحنِ چمن میں کیا تفرِیق

0
16
جانتا کوئی نہِیں آج اصُولوں کی زباں
کاش آ جائے ہمیں بولنا پُھولوں کی زباں
موسمِ گُل ہے کِھلے آپ کی خُوشبُو کے گُلاب
بولنا آ کے ذرا پِھر سے وہ جُھولوں کی زباں
یہ رویّہ بھی ہمیں شہر کے لوگو سے مِلا
پُھول کے مُنہ میں رکھی آج ببُولوں کی زباں

0
15
محبّتوں کو وفا کا اُصُول کر ہی لیا
نوید ہو کہ یہ کارِ فضُول کر ہی لیا
نجانے کون سے پاپوں کی فصل کاٹی ہے
دِلوں کو زخم، سو چہروں کو دُھول کر ہی لیا
گُلاب جِن کے لبوں سے چُرا کے لائیں رنگ
بُرا ہو وقت کا اُن کو ببُول کر ہی لیا

0
24
تو آج ظرف تُمہارا بھی آزماتے ہیں
اگر ہو اِذن تُمہیں آئینہ دِکھاتے ہیں
کہو تو جان ہتھیلی پہ لے کے حاضِر ہوں
کہو تو سر پہ کوئی آسماں اُٹھاتے ہیں
ہمارا شہر ہے شمشان گھاٹ کے جیسا
تو چِیخ چِیخ کے کیا اِن کو ہم جگاتے ہیں

0
30
آج کھائی ہے چار دِن کے بعد
کِتنی مِیٹھی لگی ہے روٹی آج
آؤ ہم اِس کو نوچ کر کھائیں
شرم کیسی ہے، اِس میں کیسی لاج؟؟
حُکمرانوں نے اِنتہا کر دی
بے ضمِیری کی، بے حیائی کی

17
میرے ہونٹوں سے پہلے ہنسی چِِھینتا
پِھر مِرا دِل، مِری زِندگی چِھینتا
اور لُٹتے کو ہی پاس کیا تھا مِرے
آنکھ میں رہ گئی تھی نمی، چِھینتا
جو اندھیروں میں پل کر ہُؤا خُود جواں
کیا بھلا وہ مِری آگہی چِھینتا

0
17
وہ ہم سے بد گُمان رہے، بد گُمان ہم
سو کیا گئے کہ چھوڑ کے نِکلے مکان ہم
فاقے پڑے تو پاؤں تلے (تھی زمِیں کہاں)
ایسے کہاں کے عِشق کے تھے آسمان ہم
اب یہ کُھلا کہ جِنسِ محبّت تمام شُد
پچھتائے اپنے دِل کی بڑھا کر دُکان ہم

0
24
کسی کے درد کو سینے میں پالتا کیوں ہے
نئے وبال میں وہ خود کو ڈالتا کیوں ہے
پسند ہے جو اسے خود رہے غلاظت میں
شریف لوگوں پہ چِھینٹے اُچھالتا کیوں ہے
کسی سفینے کو ویران سے جزیرے میں
جو لا کے چھوڑ دیا تو سنبھالتا کیوں ہے

0
11
نجانے مُجھ سے کیا پُوچھا گیا تھا
مگر لب پر تِرا نام آ گیا تھا
مُحیط اِک عُمر پر ہے فاصلہ وہ
مِری جاں بِیچ جو رکھا گیا تھا
سُنو سرپنچ کا یہ فیصلہ بھی
وہ مُجرم ہے جِسے لُوٹا گیا تھا

0
28
بنے پِھرتے ہیں وہ فنکار لوگو
ازل سے جو رہے مکّار، لوگو
کوئی کم ظرف دِکھلائے حقِیقت
ہر اِک جا، ہر گھڑی ہر بار لوگو
ہُوئے ہیں اہلِ کُوفہ کے مُقلّد
ہمارے آج کل کے یار لوگو

0
47
بجا أنکھیں ہماری تھیں مگر منظر پرائے
ہمیں کچھ دِن تو رہنا تھا مگر تھے گھر برائے
نجانے کِس کی آنکھوں میں اتاری نیند اپنی
ہمیں بانہوں میں تھامے رہ گئے بِستر پرائے
وہ کیا آسیب نگری تھی کہ جس میں سب ادھورے
کہیں دھڑ تھے کہیں دھڑ پر لگےتھے سر پرائے

0
23
نِیچی ذات
بہُت کم ظرف نِیچی ذات کا ہے
یقیں پُختہ مُجھے اِس بات کا ہے
نہیں آدابِ محفل اُس کو لوگو
کہوں گا میں تو جاہِل اُس کو لوگو
ذرا بھر بھی نہِیں تہذِیب جِس کو

0
19
کبھی جھانکو صنم خانے میں آ کر
رہو کُچھ دِن تو وِیرانے میں آ کر
وہی خالق نُمایاں جا بجا ہے
کُھلا ہے مُجھ پہ بُت خانے میں آ کر
اِرادہ تو نہِیں تھا میرا لیکن
بہایا خُوں کِسی طعنے میں آ کر

0
28
سند کاغذ کو ہی مانو گے اب کیا
مجھے کاغذ کے پُرزے کی طلب کیا
مِرے بچّے، مِرا اعزاز ہوں گے
طرف داری رہے گی بِیچ تب کیا؟
کوئی کھوجی لگائے کھوج آ کر
مِری محرومیوں کا ہے سبب کیا

0
22
اگرچہ مہربانی تو کرے گا
وہ پھر بھی بے زبانی تو کرے گا
عطا کر کے محبّت کو معانی
جِگر کو پانی پانی تو کرے گا
بڑے دِن سے عدُو چُپ چُپ ہے یارو
کہ حملہ نا گہانی تو کرے گا

0
32
وہ مُجھ میں رہ گئی کوئی کمی ہے
مِرا دِل ہے، نظر کی روشنی ہے
سجی سازوں پہ میری دھڑکنوں کے
کھنکتی، کھنکھناتی راگنی ہے
اُسے چاہت کِسی کی مانتا ہُوں
نہ ہو گی، پر مُجھے اُس شخص کی ہے

0
11
ندی سمٹی کنارے آ گرے ہیں
کنائے، استعارے آ گرے ہیں
وہ لہریں، شوخیاں مستی، تلاطم
مرے قدموں میں سارے آ گرے ہیں
فلک پر جو کبھی رہتے فروزاں
زمیں پر وہ ستارے آ گرے ہیں

0
38
لو کرتے ہیں نِباہ چلو چار دِن کے بعد
تم اپنے دِل کی بات کہو چار دِن کے بعد
مسند پہ دِل کی تُم کو بِٹھایا ہے آج سے
خُوں بن کے تُم رگوں میں بہو چار دِن کے بعد
او جانے والے تُم جو چلے ہو عدم کو آج
ہم بھی اُدھر کو آئیں گے دو چار دِن کے بعد

0
34
دِکھا ہے ایک چہرہ اوٹ میں سے
کھرا پایا ہے ہم نے کھوٹ میں سے
تُم اپنے ہاتھ کا دو زخم کوئی
سو پُھوٹے روشنی اُس چوٹ میں سے
خُوشی کے شادیانے بج رہے ہیں
چلا ہے گھوٹ کوئی گوٹ میں سے

0
27
ضرُوری خُود کو سمجھو یا نہِیں سمجھو، ضرُوری ہو
بظاہر اِستعارہ قُرب کا، صدیوں کی دُوری ہو
اکڑ کر کہہ تو دیتے ہو کہ ہم ہیں جوہری طاقت
بہے گا خُون اِنساں کا، وہ ہو شاہیں کہ سُوری ہو
لو اب سے توڑ دیتے ہیں، جو محرُومی کے حلقے تھے
مِلائیں ہاں میں ہاں کب تک، کہاں تک جی حضُوری ہو

0
19
میں کور چشموں میں اب آئینے رکُھوں گا کیا
کوئی پڑھے گا نہیں مُجھ تو لِکُھوں گا کیا؟
میں دِل سے تھوڑی یہ کہتا ہوں "تُم بِچھڑ جاؤ"
تُمہارے ہِجر کے صدمے میں سہہ سکُوں گا کیا؟
کوئی جو پُوچھے کہ شِعر و سُخن میں کیا پایا
تو سوچتا ہوں کہ اِس کا جواب دُوں گا کیا؟

1
803
پناہ دے گا، کوئی سائباں تو وہ بھی نہِیں
ہمیں فنا ہے مگر جاوِداں تو وہ بھی نہِیں
ہمارے پیار کی ناؤ پھنسی ہے بِیچ بھن٘ور
بچا کے لائے کوئی بادباں تو وہ بھی نہِیں
جو سچ کہیں تو خزاں اوڑھ کے بھی خُوش ہیں بہُت
نہِیں اُجاڑ مگر گُلسِتاں تو وہ بھی نہِیں

0
18
بِچھڑ جانا پڑا ہم کو لِکھے جو آسمانی تھے
جُدا کر کے ہمیں دیکھا مُقدّر پانی پانی تھے
تراشِیدہ صنم کُچھ دِل کے مندر میں چُھپائے ہیں
کہِیں پر کابُلی تھے بُت کہِیں پر اصفہانی تھے
ہوا بدلا نہِیں کرتی کہ جیسے تُم نے رُخ بدلا
پرائے ہو گئے؟ کل تک تُمہاری زِندگانی تھے

0
22
ہم ترستے ہیں عمدہ کھانوں کو
موت پڑتی ہے حکم رانوں کو
جرم آزاد پھر رہا ہے یہاں
بے کسوں سے بھریں یہ تھانوں کو
چھپ کے بیٹھے گا تُو کہاں ہم سے
جانتے ہیں تِرے ٹھکانوں کو

0
13
بجا کہ دُور، مگر آس پاس جیسے ہو
وہ اپنے آپ میں خُوشبُو ہے (باس جیسے ہو)
کِسی کو تن پہ سجایا ہے پیرہن کی طرح
میں اُس کی لاج، وہ میرا لِباس جیسے ہو
دھڑک دھڑک کے مچلتا ہے میرا دِل ایسے
اِسے کِسی کے پلٹنے کی آس جیسے ہو

0
29
اک ظلم اُس پہ دیکھو آنکھیں دِکھا رہا ہے
'انجام بے حیا کا نذدیک آ رہا ہے"
پچھلی دہائیوں میں پاپی اکائیوں کا
سب جانتے ہو یارو کردار کیا رہا ہے
دھرتی ہے ایک ڈھانچہ، کرگس ہیں چار جانب
اک نوچ کر گیا اب اک اور آ رہا ہے

0
22
کون آیا ہے یہ سر بہ سر روشنی
ہو گیا آج تو گھر کا گھر روشنی
تیرگی راج کرتی تھی چاروں طرف
 راہبر بن گئی اب مگر  روشنی 
ایک دن جائیں گے ہم بھی پی کے نگر
ہم سے لپٹے گی تب دوڑ کر روشنی

0
39
ہمارا رُتبہ، تُمہارا مقام یاد رہے
خِرد سے دُور تُمہیں عقلِ خام یاد رہے
ادا کِیا تو ہے کِردار شاہ زادے کا
مگر غُلام ہو، ابنِ غُلام یاد رہے
ابھی ہیں شل مِرے بازُو سو ہاتھ کِھینچ لِیا
ضرُور لُوں گا مگر اِنتقام یاد رہے

0
21
آنکھوں میں نہ پڑ جائے برسات تُمہیں کوئی
بخشے ہے نئی وحشت ہر رات تُمہیں کوئی
بس اِتنا سمجھ لیجے وابستہ نہِیں تُم سے
بتلا تو نہِیں سکتا ہر بات تُمہیں کوئی
آ جاؤ گھڑی بھر کو ماضی میں پلٹ جائیں
کل مُجھ سے جھپٹ لے گی بارات تُمہیں کوئی

0
18
خُود کو آنسُو کر لِیا ہم نے خُوشی کرتے ہُوئے
موت کی آغوش میں ہیں زِندگی کرتے ہُوئے
کیا کہیں کیسی شِکست و ریخت کا تھا سامنا
اپنے ارمانوں سے دامن کو تہی کرتے ہُوئے
کُچھ پتہ ہی نا چلا من پر کہاں شب خُوں پڑا
دِل لگی میں، دِل لگی سے، دِل لگی کرتے ہُوئے

0
34
غزل۔
میں تیرے سنگ ابھی اور چل نہِیں سکتا
لِکھا گیا جو مُقدّر میں ٹل نہِیں سکتا
ہر ایک گام پہ کانٹوں کا سامنا تو ہے
چُنا جو راستہ، رستہ بدل نہِیں سکتا
میں بُھوک جھیل کے فاقوں سے مر تو سکتا ہُوں

0
38
مُجھے ایسے تُمہیں نا آزمانا چاہِیے تھا
بتا کر ہی تُمہارے شہر آنا چاہِیے تھا
مِرے ہر ہر قدم پر شک کی نظریں ہیں تُمہاری
تُمہیں تو رُوٹھنے کا بس بہانا چاہِیے تھا
مِرے بچّے گئے ہیں کل سے پِکنِک کا بتا کر
نہِیں آئے ابھی تک، اُن کو آنا چاہِیے تھا

0
33
گیا جہان سے ادنا یا کوئی اعلا گیا
کسی کا غم بھی کہاں دیر تک سنبھالا گیا
سلیقہ اس میں مجھے اک ذرا دِکھے تو سہی
کہا جو کام ہمیشہ وہ کل پہ ٹالا گیا
قُصور ہو گا تُمہارا بھی کچھ نہ کچھ گُڑیا
سبب تو ہے جو تمہیں گھر سے یوں نکالا گیا

0
22
خطا کا پُتلا ہوں مولا، گُناہگار ہُوں میں
تِرا کرم مُجھے درکار تار تار ہُوں میں
یہ دُنیا دار مُجھے یُوں حقِیر مانتے ہیں
گُلوں کے بِیچ میں جیسے کہ ایک خار ہُوں میں
تمام عُمر گُزاری ہے دِل دُکھاتے ہُوئے
نہِیں ہے جِس میں کشِش ایسا کاروبار ہُوں میں

0
25
یقِیں نہِیں تو محبّت کو آزماتا جا
لُٹا خُلوص، وفاؤں کے گِیت گاتا جا
تقاضہ تُجھ سے اگر کر رہی کوئی ممتازؔ
دل آگرہؔ ہے محل اِس پہ تُو بناتا جا
بجا کہ ہم نے تُجھے ٹُوٹ کر ہے سراہا، پر
اب اِس قدر بھی نہِیں رُوح میں سماتا جا

24
بے حیائی کی اِنتہا ہے یہ
یہ حکُومت ہے یا بلا ہے یہ
بُھوک سے لوگ مر رہے ہیں یہاں
اور خوابوں میں مُبتلا ہے یہ
بُھول ہم سے ہُوئی جو اِس کو چُنا
لوگو بُھگتو جو کی خطا ہے یہ

0
47
بس ایک ہی حل اِس کا مِرے پاس ہے لوگو
جو حُکمراں بک جائیں وہ بکواس ہے لوگو
کِِس بُھوک سے گُزرے ہیں، ہمیں پیاس بلا کی
پُوچھا ہے کبھی، اِن کو یہ احساس ہے لوگو؟
ہم جِس کو سمجھ بیٹھے تھے کشکول شِکن ہے
افسوس وہی ذات کا ہی داس ہے لوگو

0
24
جِسم تھا نُور اِسے ہم نے ہی پہنائی رات
کھا گئی دِن کے اُجالوں کو یہاں چھائی رات
شب کے دامن میں فقط خواب ہے محرُومی ہے
ہم کو مفہُوم یہ سمجھانے چلی آئی رات
ہم تو خُود اپنی ہتھیلی پہ جلا لائے چراغ
پِھر جو اشکوں کے سِتاروں سے نہ سج پائی رات

0
20
اے خُدا اب تو مِرا تُو ہی بھرم قائِم رکھ
میری آنکھوں کو نمی دی ہے تو نم قائِم رکھ
سرخمِیدہ ہے تِرے سامنے اور یُوں ہی رہے
عِجز بڑھتا ہی رہے، اِس میں یہ خم قائِم رکھ
کیا کہُوں میرے گُناہوں کی نہِیں کوئی حدُود
مُجھ خطا کار پہ تُو اپنا کرم قائِم رکھ

0
43
بِتا تو دی ہے مگر زِیست بار جیسی تھی
تمام عُمر مِری اِنتظار جیسی تھی
حیات کیا تھی، فقط اِنتشار میں گُزری
گہے تھی زخم سی گاہے قرار جیسی تھی
مِلا ہُؤا مِری چائے میں رات کُچھ تو تھا
کہ شب گئے مِری حالت خُمار جیسی تھی

0
42
عوام بُھوک سے دیکھو نِڈھال ہے کہ نہِیں؟
ہر ایک چہرے سے ظاہِر ملال ہے کہ نہِیں؟
تمام چِیزوں کی قِیمت بڑھائی جاتی رہی
غرِیب مارنے کی اِس میں چال ہے کہ نہِیں؟
پہُنچ سے پہلے ہی باہر تھا عیش کا ساماں
فلک کے پاس ابھی آٹا، دال ہے کہ نہِیں؟

0
31
لُٹایا ہے مِہران، تھر کھا گئی ہے
نہ کھانا تھا ہرگز مگر کھا گئی ہے
یہ فن کھا گئی ہے، ہُنر کھا گئی ہے
حکُومت غرِیبوں کے گھر کھا گئی ہے
مِلی ہے قیادت جو بے کار اب کے
ہُؤا ہر کوئی جاں سے بیزار اب کے

1
25
تسلِیم ہم شِکست کریں یا نہِیں کریں
اپنی انا کو پست کریں یا نہِیں کریں
اِک شب کا ہے قیام رہو تُم ہمارے ساتھ
کھانے کا بند و بست کریں یا نہِیں کریں
شوہر بِچارے سوچ میں ڈُوبے ہُوئے ہیں آج
بِیوی کو زیرِ دست کریں یا نہِیں کریں

0
23
تھا بے سکت ہوا میں اُچھالا گیا تھا جب
بے روزگار گھر سے نِکالا گیا تھا جب
ناکامیوں نے مُجھ میں بڑی توڑ پھوڑ کی
محرُومیوں کی گود میں ڈالا گیا تھا جب
اُس نے تو صاف آنے سے اِنکار کر دیا
احقر منانے، حضرتِ اعلا! گیا تھا جب

0
27
لعنت ہو حُکمرانوں کے ایسے نِظام پر
افلاس مُنتظر ہے جہاں گام گام پر
ہر روز قِیمتوں میں اِضافہ ہے بے پناہ
جُوں تک بھی رِینگتی نہیں ابنِ غُلام پر
فاقوں سے لوگ خُود کُشی آمادہ ہوگئے
"مہنگائی بم" گِرا ہے نِہتّے عوام پر

0
28
ایک ہم تھے سر پِھرے جو جل بُجھے لوگوں میں تھے
ورنہ جِس کو دیکھتے معیار کے لوگوں میں تھے
کون ظالِم حُکمراں کی بات کا دیتا جواب
لوگ جِتنے تھے وہاں سب سر کٹے لوگوں میں تھے
کون سی بستی ہے یہ, ہم کِس نگر میں آ گئے؟؟
کل تلک رنگوں میں تھے ہم' پُھول سے لوگوں میں تھے

0
52
اِک ادا سے آئے گا، بہلائے گا، لے جائے گا
پاؤں میں زنجِیر سی پہنائے گا، لے جائے گا
میں نے اُس کے نام کر ڈالی متاعِ زِندگی
اب یہاں سے اُٹھ کے وُہ جب جائے گا لے جائے گا
کل نئی گاڑی خرِیدی ہے مِرے اِک دوست نے
سب سے پہلے تو مُجھے دِکھلائے گا لے جائے گا

0
48
جو ہمارے بِیچ میں تھا فاصلہ رہنے دیا
اپنی کشتی کا پُرانا نا خُدا رہنے دیا
لُوٹ کا تھا مال آخِر بانٹنا تو تھا ضرُور
ہم نے اپنا لے لیا بخرا، تِرا رہنے دیا
روشنی میں بات بربادی کی ہو سکتی نہ تھی
اِس لِیئے تو سب چراغوں کو بُجھا رہنے دیا

0
45
تمام عُمر اُسے مُجھ سے اِختِلاف رہا
رہا وہ گھر میں مِرے پر مِرے خِلاف رہا
خبر نہِیں کہ تِرے من میں چل رہا یے کیا؟
تِری طرف سے مِرا دِل ہمیشہ صاف رہا
بجا کہ رُتبہ کوئی عین قاف لام کا ہے
بلند سب سے مگر عین شِین قاف رہا

0
37
بس رہے ہیں اس نگر میں جِن و اِنساں ایک ساتھ
یہ رِوایت چل پڑی ہے ظُلم و احساں ایک ساتھ
اب توقع ہم سے رکھنا خیر خواہی کی عبث
ہم نے سارے توڑ ڈالے عہد و پیماں ایک ساتھ
چھا گئی ہے زِندگی پر اب تو فصلِ رنج و غم
جھیلتے ہیں زخمِ دوراں، قیدِ زنداں ایک ساتھ

0
42
سلامت چاہتے ہو دِل تو اِتنی بات مانو گے
تُمہیں لینا پڑے جو فیصلہ وہ زہن سے لو گے
پتا کیا وقت کیسا کھیل کھیلے، ہم بِچھڑ جائیں
کہاں ہوں گے نجانے ہم، نجانے تُم کہاں ہو گے
محبّت کام کیا آتی، ہمارا حال تو دیکھو
اِسی کا معجزہ کہہ لو ہُوئے ہم ہیں مرن جوگے

0
30
اب نہِیں ہم سے کوئی درد سنبھالا جائے
گِن کے لے لو جی امانت کہ یہ بالا جائے
تُم کوئی حُکم کرو اور نہِیں ہو تعمِیل
حُکم تو حُکم، اِشارہ بھی نہ ٹالا جائے
جِس کو آدابِ محبّت کا نہِیں ہے احساس
ایسے گُستاخ کو محفل سے نِکالا جائے

0
27
کوئی بھی سچّا نہِیں ہے، سب اداکاری کریں
آؤ مِل کر دوست بچپن کے، عزا داری کریں
اِن کو اپنے آپ سے بڑھ کر نہِیں کوئی عزِیز
پیار جُھوٹا جو جتائیں اور مکّاری کریں
بھیڑ بکری کی طرح یہ بس میں ٹھونسیں آدمی
اور بولیں اور تھوڑی آپ بیداری کریں

0
28
 جو بڑا جِتنا ہے ڈاکُو اُس بڑے منصب پہ ہے
آہ و زاری پر ہے دُنیا اور شِکوہ لب پہ ہے
حُکم جاری کر دیا ہے دیس کے حاکِم نے یہ
ضابطہ جو میں نے رکھا ہے وہ لازِم سب پہ ہے
بُھوک سے مجبور ہو کر لوگ خُود سوزی کریں
اور حاکِم ہے کہ ہر دِن نِت نئے کرتب پہ ہے

0
29
کیا بتائیں دوستو دُنیا نے توڑا کِس طرح
ریشۂِ اُمِید سے پِھر دِل کو جوڑا کِس طرح
تُم نے ماضی کو کُریدا ہے تو پِھر اِتنا کہو
زخم ہو گا مُندمِل، جائے گا پھوڑا کِس طرح؟؟
تُم نے تو حد کر ہی دی ہے ظُلم و اِستبداد کی
اِک ذرا سی بات پر دِل کو نِچوڑا کِس طرح

0
52
کُچھ نہِیں پایا ہے ہم نے اِس بھرے سنسار میں
پُھول سے دامن ہے خالی گر چہ ہیں گُلزار میں
پِھر محبّت اِس طرح بھی اِمتحاں لیتی رہی
جیب خالی لے کے پِھرتے تھے اِسے بازار میں
ہم نے ہر ہر بل کے بدلے خُوں بہایا ہے یہاں
تب کہِیں جا کر پڑے ہیں پیچ یہ دستار میں

0
54
وُہ مِرا دوست مِرے حال سے آگاہ تو ہو
نا سہی سچ میں مگر خواب میں ہمراہ تو ہو
کُچھ اثر اُن پہ مِری آہ و فُغاں کا یارو
ہو نہ ہو، پِھر بھی مِرے لب پہ کوئی آہ تو ہو
کب کہا میں نے تعلُّق وہ پُرانا ہو بحال
بس دِکھاوے کو فقط تُم سے کوئی راہ تو ہو

26
غم کی کِس شکل میں تشکِیل ہُوئی جاتی ہے
آدمیت کی بھی تذلِیل ہُوئی جاتی ہے
ہر قدم زِیست چھنکتی ہے چھناکا بن کر
جِس طرح کانچ میں تبدِیل ہُوئی جاتی ہے
اُس کے حِصّے کی زمِینیں بھی مِرے ہاتھ رہِیں
مُستقِل طور پہ تحصِیل ہُوئی جاتی ہے

0
67
کب ہم نے کہا تُم سے محبّت ہے، نہِیں تو
دِل ہِجر سے آمادۂِ وحشت ہے، نہِیں تو
باتیں تو بہُت کرتے ہیں ہم کُود اُچھل کر
اِس عہد میں مزدُور کی عِزّت ہے، نہِیں تو
مزدُوری بھی لاؤں تو اِسی کو ہی تھماؤں
بِیوی میں بھلا لڑنے کی ہِمّت ہے، نہِیں تو

0
22
دیکھا ہے جو اِک میں نے وہی خواب بہُت ہے
ورنہ تو وفا دوستو! کمیاب بہُت ہے
یہ دِل کی زمِیں بنجر و وِیران پڑی تھی
تھوڑی سی ہُوئی تُُجھ سے جو سیراب بہُت ہے
کل لب پہ تِرے شہد بھری بات دھری تھی
اور آج کے لہجے میں تو تیزاب بہُت ہے

0
57
وعدہ کرنا بھی نہِیں تُجھ کو نِبھانا بھی نہِیں
سب ہے معلُوم تُُجھے لوٹ کے آنا بھی نہِیں
رہنے دیتا ہی نہِیں تُو جو درُونِ دِل اب
اور مِرا دِل کے سِوا کوئی ٹِھکانہ بھی نہِیں
کِتنے جُگنُو تھے، مِرے دوست ہُوئے گرد آلُود
اب مُجھے دِیپ محبّت کا جلانا بھی نہِیں

23
اِک شخص کے جانے سے بدل جاتی ہے دُنیا
پِھر آہ بھی کرلو تو مچل جاتی ہے دُنیا
میں پیار کا طالب جو ہُؤا اہلِ جہاں سے
زردی سی کوئی چہرے پہ مل جاتی ہے دُنیا
جِس جا پہ کبھی تھا میں ابھی تک بھی وہِیں ہُوں
میں دیکھتا رہتا ہوں نِکل جاتی ہے دُنیا

1
31
غزل
سُناؤں گا تُمہیں اے دوست میں فُرصت سے حال اپنا
مہِینہ چین سے گُزرا، نہ دِن، گھنٹہ نہ سال اپنا
تُمہارے ہِجر و حرماں سے کہُوں کیا حال کیسا ہے
سمجھ لِیجے کہ ہونے کو ہے اب تو اِنتقال اپنا
نہِیں ہوتا تو ہم کب کا جُھلس کر راکھ ہو جاتے

0
33
غزل
بینک میں کھاتہ محبّت کا بھی کھولا جاتا
عِشق لیژر کو ہر اِک لمحہ ٹٹولا جاتا
چیک بھرتا جو کبھی کیش کرانے کے لِیئے
"کھاتہ خالی ہے" بڑے پیار سے بولا جاتا
کاش تریاق تِرے لب کا مُیسّر آتا

0
30
شام بھی ہو جائے گی یہ دِل نشِیں آئے گا وہ
آرزوئیں ہو رہی ہیں جاگزیں آئے گا وہ
پہلے بھی وعدوں سے اپنے کب کِیا ہے اِنحراف
اب وچن جو دے دیا تو بِالیقیں آئے گا وہ
مُڑ گیا تھا موڑ جو پہلے کبھی اِک موڑ پر
آخرِش تھک ہار کر مُڑ کر وہیں آئے گا وہ

0
26
گو پر تو نہیں پھر بھی آزاد نہیں کرنا
نا شاد رکھو مجھ کو تم شاد نہیں کرنا
قد کاٹھ اگر دو گے، سمجُھوں گا تمہیں بونا
بونا ہی رکھو مجھ کو شمشاد نہیں کرنا
تم عام سی لڑکی ہو، میں عام سا لڑکا ہوں
شیریںؔ نہ سمجھ بیٹھو، فرہادؔ نہیں کرنا

0
96
دیکھو تو مِرے دل پہ یہ جو چھالا ہؤا ہے
اس واسطے تو پیار کو بھی ٹالا ہؤا ہے
ہاں کر دو مری جان تِرا آیا ہے رشتہ
اور لڑکا بھی تو دیکھا ہؤا، بھالا ہؤا ہے
سب چھوڑ کے آئے تھے، مگر (آج کراچی)
ہم بِچھڑے ہُوؤں کے لیےانبالا ہؤا ہے

0
84
وہ دے گا اگر مجھ کو تو کیا دے گا مُجھے
بس رونے کی ہی شب کو سزا دے گا مُجھے
ہے مِیر کے قبضے میں زمینوں کا حساب
بہتر ہی صلہ اس کا خدا دے گا مُجھے
میں پاؤں سے معذور ہوں اک بات کُہوں
گھر کے لیئے کچھ سودا ہی لا دے گا مُجھے؟

0
35
پِھر اُس کے بعد تو تنہائِیوں کے بِیچ میں ہیں
کہ غم کی ٹُوٹتی انگڑائِیوں کے بِیچ میں ہیں
غرور ایسا بھی کیا تُجھ کو شادمانی کا
کِسی کی چِیخیں جو شہنائِیوں کے بِیچ میں ہیں
ہمیں تو خوف سا لاحق ھے ٹُوٹ جانے کا
تعلُّقات جو گہرائِیوں کے بِیچ میں ہیں

0
47
وُہ میرے ھاتھ سے یُوں بھی نِکلتا جاتا تھا
عجِیب شخص تھا خوابوں میں ڈھلتا جاتا تھا
وُہ شام کِس کی امانت تھی؟ کِس کو سونپ آیا؟
نِدامتوں سے مِرا دل پِگھلتا جاتا تھا
مُجھے بھی روگ تھا جس کا علاج کوئی نہ تھا
اُسے بھی دُکھ تھا کوئی، جِس میں گلتا جاتا تھا

0
61
برف پر چاند کی کِرنوں نے تِرا نام لِکھا
میں نے رادھاؔ کی طرح تُجھ کو فقط شامؔ لِکھا 
تیری آنکھوں سے محبّت کی چھلکتی ہے مئے
یُوں ہی نینوں کو تیرے میں نے نہِیں جام لِکھا
صُبح پُھوٹی ھے کِناروں سے تِرے آنچل کے
 کھو کے زلفوں میں تِری شام نے انجام لِکھا 

3
275
آج چہچہاتے ہیں کل مگر نہیں ہوں گے
آشنا سے یہ چہرے بام پر نہیں ہوں گے
دل پہ ڈال کر ڈھاکہ چُھپ کے بیٹھ جاتے ہیں
جا کے دیکھ لیں لیکن، لوگ گھر نہیں ہوں گے
پی کے ہم بہکتے تھے چھوڑ دی ہے اب یارو
کھائی ہے قسم ہم نے، ہونٹ تر نہیں ہوں گے

0
111
وُه شور ہے کہ یہاں کُچھ سُنائی دیتا نہیں
تلاش جِس کی ہے وه کیوں دِکھائی دیتا نہیں 
سُلگ رہا ہوں میں برسات کی بہاروں میں
یِه میرا ظرف کہ پِھر بھی دُہائی دیتا نہیں
نجانے  کتنی مشقّت سے پالتی ہے یتیم
ہے دُکھ کی بات کہ اِمداد بھائی دیتا نہیں

0
74
ہے اِس کا ملال اُس کو، ترقّی کا سفر طے
کیوں میں نے کیا، کر نہ سکا وہ ہی اگر طے
جو مسئلہ تھا اُن کا بہت اُلجھا ہؤا تھا
کُچھ حِکمت و دانِش سے کِیا میں نے مگر طے
ہو جذبہ و ہِمّت تو کٹِھن کُچھ بھی نہِیں ہے
ہو جائے گا اے دوستو دُشوار سفر طے

0
1
77
غزل
اِک کام تِرے ذِمّے نمٹا کے چلے جانا
میں بیٹھا ہی رہ جاؤں تُم آ کے چلے جانا
دِل کو ہے یہ خُوش فہمی کہ رسمِ وفا باقی
ہے ضِد پہ اڑا اِس کو سمجھا کے چلے جانا
سِیکھا ہے یہی ہم نے جو دِل کو پڑے بھاری

0
117
یقیناً یہ بڑا احسان ہو گا
نیازِ حُسن جو کُچھ دان ہوگا
بُجھا لینے دو پہلے پیاس من کی
پِھر اُس کے بعد جو فرمان ہو گا
مکاں ہم نے بھی چھوڑا، تُم گئے تو
بُجھے دِل کی طرح وِیران ہو گا

1
58
یہ خوش گمانی تھی کِردار جاندار ہوں میں
مگر یہ سچ ہے کہ بندہ گناہگار ہوں میں
گوارا اہلِ چمن کو نہیں ہے میرا وجود
وہ اِس لیئے بھی کہ پھولوں کے بیچ خار ہوں میں
میں اُٹھ کے گاؤں سے آیا ہوں، شہر کے لوگو!
کسی کو راس نہ آیا ہوں ناگوار ہوں میں

0
46
مِیت من کو بھا جائے، رُوپ وہ سجا لیں گے
پیار ہولی کھیلیں گے، رنگ ہم اُچھالیں گے
جِتنی دُور جا بیٹھو ڈُھونڈ کر ہی لیں گے دم
تم نے دِل نِچوڑا ہے، ہم تو خُوں بہا لیں گے
ہم بھی کم نہیں تُم سے، پیار کو سمجھتے ہیں
تُم نے یاد پالی ہے، ہم بھی درد پالیں گے

0
76
بنا کے رکھا ہے ذہنی مرِیض ہم کو تو
نہیں ہے زِیست بھی ہرگز عزِیز ہم کو تو
وہ اور تھے کہ جِنہیں دوستی کا پاس رہا
گُماں میں ڈال دے چھوٹی سی چِیز ہم کو تو
کہاں کے مِیر ہیں، پُوچھو فقِیر لوگوں سے
نہِیں ہے ڈھب کی میسّر قمِیض ہم کو تو

0
35
دیکھا نہ کبھی تُم نے سُنا، دیکھتا ہوں میں
بس تُم کو نہیں اِس کا پتا دیکھتا ہوں میں
چہروں کی لکِیروں کے مُجھے قاعدے از بر
پڑھتا ہوں وہی جو بھی لِکھا دیکھتا ہوں میں
ماضی کے جھروکوں سے نہیں جھانک ابھی تُو
(غش کھا کے گِرا) شخص پڑا دیکھتا ہوں میں

0
35
جو گِیت اوروں کے بے وجہ گانے لگتے ہیں
تو ہوش دو ہی قدم میں ٹِھکانے لگتے ہیں
بِگاڑنا تو تعلُّق کا ہے بہت آساں
اِسے بنانے میں لیکِن زمانے لگتے ہیں
کبھی وہ آ نہِیں سکتا کبھی ہے رنجِیدہ
مُجھے تو یہ کوئی جُھوٹے بہانے لگتے ہیں

0
30
چلو اب غور کر لیتے ہیں شائد کُچھ سُنائی دے
محبّت ہر قدم کم ظرف لوگوں کی دُہائی دے
لِکھی ہے میں نے عرضی اِس عِلاقے کے وڈیرے کو
مِرا لُوٹا ہؤا سامان واپس مُجھ کو بھائی دے
بڑھی مہنگائی تو یارو، ہوئی ہے سرگِرانی بھی
خدایا پھیر دے بچپن، مرے دل کو صفائی دے

0
28
کہاں ہے پیار کی تھپکی، پذِیرائی کہاں ہے
تبھی تو شاعری میں دوست گہرائی کہاں ہے
میں کِس کے سامنے اپنا دلِ بیتاب کھولوں
نیا ہوں شہر میں اب تک شناسائی کہاں ہے
کبھی تھی اِن سے وابستہ کہانی، جانتے ہو
سجی تو ہیں مگر آنکھوں میں بِینائی کہاں ہے

0
42