Circle Image

Sagar Malik

@Sagar

اپنی سرداری کا معیار تو رکھ لیتے تم
کم سے کم جبہ و دستار تو رکھ لیتے تم
تن مرا دھوپ سے جل جل کے بھنا جاتا ہے
گھر میں اک سایۂ دیوار تو رکھ لیتے تم
تیرے ہر وار سے جو بارہاں بچتا میں رہا
ایسے حالات میں تلوار تو رکھ لیتے تم

11
کام مطلب کے نہیں رکھتا ہوں
چند باتوں پہ یقیں رکھتا ہوں
جو مری دوستی کے قابل ہوں
پھر سرِ خم یہ جبیں رکھتا ہوں
پیر جتنے بھی پسارے جائیں
اتنی حد تک میں زمیں رکھتا ہوں

7
زہر اپنی جو زبانوں سے اگلنے لگے ہیں
لوگ معیارِ محبت سے پھسلنے لگے ہیں
اے سپیروں ذرا سا بانسری کو تیز کرو
آستینوں سے مری سانپ نکلنے لگے ہیں
ہم سے تسکینِ محبت جو سدا پاتے رہے
وہ کسی اور کی باہوں میں سنبھلنے لگے ہیں

11
صلیب دو مجھے یا پتھروں کے وار کرو
کہ پھر کوئی بھی ہو ستم بے اختیار کرو
کہ ایک نوحہ تو نوکِ زباں پہ لاؤں گا
بھلے مجھے کسی نیزے پہ اب سوار کرو
سپرد اب کسی ظالم کے ہاتھ میں کر دو
یا اپنے ہاتھوں سے پھر مجھ کو سوگوار کرو

15
آؤ آزادئ فرقت کو ہوا دیتے ہیں
کر کے اک دوسرے سے عشق بھلا دیتے ہیں
ساتھ پھر چلتے ہیں اس دشت کے ویرانے میں
پھر سے ہم دونوں کہیں خود کو گنوا دیتے ہیں
تم مرے لفظ کو کاٹو میں تمہاری باتیں
آج اس حد پہ محبت کو سزا دیتے ہیں

15
جو فکرِ دردِ سکندر ہیں ان کی ہم نس ہیں
ہماری شہ رگوں میں زہرِ عشق کے رس ہیں
ہوا کے ساتھ پرندوں کے غول اڑتے ہیں
ہیں ہم تو قید و قفس کے شجر جو بے بس ہیں
نہ اٹھ سکے گا یہ مزدور دل سے میرے بوجھ
ہماری پسلیاں بھی ڈیڈھ آٹھ اور دس ہیں

11
گرے جو آنکھ سے آنسو تو دھو نہیں سکتا
کمال یہ کہ میں دن رات رو نہیں سکتا
عجب ہے سلسلہ میرا بھی اِس محبت کا
کرم وہ مجھ پہ کرے یہ بھی ہو نہیں سکتا
ہے میرے پاس فقط درد، درد بھی اُس کا
یہ تحفہ میں کسی صورت بھی کھو نہیں سکتا

23
اب سوچتا ہوں جسم کے بے جان شہر میں
آیا تھا کس لیے کسی انجان شہر میں
عاشق کسی کی جان پہ یہ روح ہو گئی
مفلس ہے اب بدن مرا ویران شہر میں
سرگوشیوں کی چادروں میں سو گیا جہان
سنتا ہوں اپنی چیخ میں سنسان شہر میں

22
پتھر کا آئنہ یوں بنانے کا شوق تھا
ہر سنگ اس کے ہاتھ سے کھانے کا شوق تھا
آنکھیں کیے ہوئے ہوں جو رنگین خون سے
دل کو کسی پہ اشک بہانے کا شوق تھا
اے زندگی یہ میری تمنا بھی تھی کبھی
دلہن کبھی ہمیں بھی سجانے کا شوق تھا

21
بسترِ خواب سے پھر خود کو جگایا جائے
آ ذرا دردِ سفر خود کو تھکایا جائے
کچھ اسی واسطے ہم کو ہیں عطا یہ آنکھیں
غمزدو سیلِ سرِ اشک بہایا جائے
گھونسلہ ہم جو بناتے رہے چن کر تنکے
کیسے اب گھر کے کبوتر کو اڑایا جائے

21
یوں پہن کر یہ قبا خاک میں گڑ جاؤں گا
مثلِ شیشہ ہوں کہ پتھر سے بکھر جاؤں گا
بے زباں لہجوں کی فریاد سنا تو دوں میں
ایسے خاموش سے جنگل ہیں کہ ڈر جاؤں گا
روزِ روشن ہیں سخن جن کے پیمبر ہیں وہ
میں تو شاعر ہوں ابھی ہوں ابھی مر جاؤں گا

26
بات لفظوں میں ہو تو سادگی مر جاتی ہے
اک کہانی مری ہر بار بکھر جاتی ہے
ان ہواؤں سے میں کرتا ہوں گزارش تیری
جب سے سنتا ہوں ہواؤں سے خبر جاتی ہے
اس کی باہیں ہیں کسی پھول کے بستر جیسی
جن میں جاؤں تو تھکن ساری اتر جاتی ہے

24
کتنا دشوار ہے آنکھوں کو چراتے رہنا
بیٹھنا محفلوں میں درد چھپاتے رہنا
روٹھنے والے تو یوں روٹھ کے سو جاتے ہیں
ان کا عمرِ رواں ماتم یہ مناتے رہنا
نغمہ و رنجشِ بے حالِ دلِ مضطر کا
سوزِ تنہائی میں یہ ساز بجاتے رہنا

19
درندگی وہی خبطِ نیام میں ہے ابھی
ادائے مقتلِ شمشیر کام میں ہے ابھی
سبوئے رمز و قناعت پہ کر لیا سودا
مگر وہ تشنگی آسودہ جام میں ہے ابھی
سحر کی آنکھ میں کاجل کی وہ حسیں پرتیں
کہاں وہ جلوہ کسی سرخ شام میں ہے ابھی

17
روحِ اکسیر پہ اعجازِ محبت لکھ دے
عظمتِ جانِ پیمبر کی روایت لکھ دے
وہ تکلم کہ سرِ لوح ہے جس کا زینہ
پھوٹتی اس کی شعاؤں میں سے آیت لکھ دے
زخمِ پیچیدہ دل و جاں کی بڑھائے تکلیف
ہے اگر دور تو دوری کو نہایت لکھ دے

18
میرے عدو کی صف میں برابر کھڑے ہوئے
سینہ سپر جو یاروں کے لشکر کھڑے ہوئے
دو تیر اک جگر کو مرے کاٹتے ہوئے
اللہ جانے مجھ پہ جو محشر کھڑے ہوئے
کیسے عبور ہوتی وہ کشتی کہ جس کے بیچ
دیوارِ راہ بن کے سمندر کھڑے ہوئے

24
تمام عمر کسے یہ ملال رہتا ہے
جو مرتی آنکھوں میں پرنم سوال رہتا ہے
غموں کو عکسِ تبسم سے باندھنے کے لیے
سدا یہ آئنہ بھی خوش جمال رہتا ہے
پرندے اپنے پروں کو سہم کے کھولتے ہیں
کہیں عقاب کہیں خوفِ جال رہتا ہے

23
شہر اندر کئی جہاں ہو گئے
اپنی منزل سے بے نشاں ہو گئے
دیکھ سکتے ہیں چھو نہیں سکتے
جیسے ہم دونوں آسماں ہو گئے
اتنے مارے گئے مجھے پتھر
مجھ میں اب تو کئی مکاں ہو گئے

22
ضبطِ پیہم سے میں آنسو کو پیے جاتا ہوں
زخم جو بھی لگے پھر اس کو سئے جاتا ہوں
ایک چہرہ ہے جسے دیکھ کے سر جھکتا ہے
ایک کعبہ ہے جسے سجدہ کیے جاتا ہوں
اک طبیعت سے بھی معصومۂ فطرت ہوں میں
اس پہ یہ داغ محبت کے لیے جاتا ہوں

29
یاد آتا ہے ترا کھڑکیوں سے جھانکنا وہ
آ کسی شام در و بام کی کھڑی پہ سکھی

18
گفتگو ہجر سے ہوتی ہے سماعت خود سے
ہے محبت بھی عجب پیشِ غمِ تنہائی
مجھ سے ہو کر کے گزرنا تھا ترا کیا ساگر
ہو گیا میں تو کوئی کوچہ خمِ تنہائی

21
یار آیا ہے مرا آج دھمالیں ڈالو
لاؤ گھنگھرو کہاں ہے آج مجھے ناچنا ہے

19
اظہارِ عشق دل لگی کو کیا نہ کیجئے
پاگل ہیں آپ حسن پہ مچلا نہ کیجئے
معصوم جذبوں کا لہو گھبرا کے بہہ گیا
خنجر کی آنکھ سے ہمیں دیکھا نہ کیجئے
بازارِ حسنِ مصر میں یوسف کو بیچ کر
یعقوب کی نگاہوں کا سودا نہ کیجئے

22
وقت کے قاعدے قانون سکھاتے جاؤ
بس یہی سر سری سا ساتھ نبھاتے جاؤ
اب کہ پوچھے گا زمانہ جو تمہارے بارے
کیا کہوں گا مجھے اے یار بتاتے جاؤ
غیر سے ہو نہ عقیدت مجھے پھر تیرے بعد
میرے افکار کی ہر سوچ جلاتے جاؤ

23
بخت پر میرے چمکا ستارہ نہیں
گرم جیسے کوئی بھی شرارہ نہیں
پیکرِ روح اس نے مرا چھو لیا
یہ حقیقت مجھے اب گوارہ نہیں
مجھ کو پیاری تھی جنت سے دنیا کبھی
جب تلک میں تجھے خود سے ہارا نہیں

22
جلا چراغ ہواؤں میں چھوڑ آیا ہوں
میں دشتِ ہجر پہ دریا کو موڑ آیا ہوں
نہ دکھ سکی مجھے باریکیاں نگاہوں سے
سجا کے ایک حسیں خواب توڑ آیا ہوں
ندی بھنور سے چھلک کے جو آنکھ سے ٹپکی
پلک جھپک کے میں لہروں کو موڑ آیا ہوں

29
پیڑ سے پیشتر ہرا ہو گیا
عمر سے اپنی کچھ بڑا ہو گیا
عجزو غم سے نیاز مند ہو کر
ہر بشر خائفِ خدا ہو گیا
قبل اس کے سمیٹ لیتا میں
وقت سے آدمی جدا ہو گیا

39
اک بے بسی سی سامنے آنکھوں کے چھا گئی
جاتے ہوئے چراغ وہ گھر کے بجھا گئی
وہ کائناتِ عشق و عدم کا وجود تھی
دھرتی سے آسماں کی کشش میں سما گئی
ایسی سپاہ ناک تھی شعلوں کی تاب تھی
مقتل میں آگ پھونک کے جنگل جلا گئی

13
نغمۂ درد کی روداد لیے پھرتے ہیں
شاعری کیا ہے کہ فریاد لیے پھرتے ہیں
ہم کہ تسکینِ جنوں کے لئے ہاتھوں میں فقط
جا بجا تیشۂ فرہاد لیے پھرتے ہیں
رقص کرتے ہوئے احساس نے دیکھا ہے مجھے
کس طرح ہم دِلِ برباد لیے پھرتے ہیں

26
شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے
تمہیں تمہارے ہی نیم خوابوں نے گر جگایا تو کیا کرو گے
پلک پلک سے چھلک رہی ہے مری اُداسی لہو کی صورت
مگر اداسی کی بارشوں نے تمہیں رلایا تو کیا کرو گے
ہوائے ظلم و ستم نے میرا یہ خستہ گھر تو گرا دیا ہے
انہی ہواؤں نے گر تمہارا دیا بجھایا تو کیا کرو گے

62
روٹھے ہوئے لوگوں کو منایا نہیں کرتے
جو دل سے نکل جائیں وہ آیا نہیں کرتے
کیوں پنچھی وہ گھر لوٹ کے آیا نہیں کرتے
یوں اپنے شجر کو تو ستایا نہیں کرتے
مدت ہوئی ہے بسترِ شب نیم پہ سوئے
یوں قبر سے مردوں کو جگایا نہیں کرتے

23
حالتِ نازک پہ تو روتا ہے کیا
آخری لمحے کوئی کھوتا ہے کیا
کچھ تو اندر میرے سینہ کوب ہے
ماتمِ دل عشق میں ہوتا ہے کیا؟
جھونک دیتی ہے روش یہ آگ میں
عشق یہ زلفوں سے بھی ہوتا ہے کیا

21
وادئ موت میں سے گزرتے تو دیکھیے
دردوں کے آئنے میں سنورتے تو دیکھیے
الہاقِ جاں سے بستئ جاناں تلک مجھے
زخموں سے چور چور ابھرتے تو دیکھیے
خستہ بدن کی چیخ سے لرزاں ہوئی صلیب
اپنے مسیح کو ذرا مرتے تو دیکھیے

28
رشتوں میں بھی حسد ہے محبت میں بھی خلل
ساگر بڑی خراب ہے دنیا کی انجمن

17
جاں جائے گی قسم سے یوں جانے پہ آپ کے
دیکھو نہ جائیے ہمیں تنہا یوں چھوڑ کے

20
میری دستار کی لگا قیمت
اپنے سردار کی لگا قیمت
شہر کے شہر ہو چکے نیلام
میرے گھر بار کی لگا قیمت
بیچ میں آ کھڑی ہے اک دیوار
دل کے سنسار کی لگا قیمت

33
ہیں میرے دل میں ہزار سوچیں
کہ جن میں اکثر بے کار سوچیں
ہیں بھار لمحۂ فرصتوں پر
یہ بکھری سی اشکبار سوچیں
تجھی کو سوچیں یہ ہر گھڑی بس
غضب کی ظالم ہیں یار سوچیں

21
لیلیٰ کو ہیر مجنوں کو مجنون کر دیا
اس عاشقی نے عاشقوں کا خون کر دیا
امیدِ سحر عہدِ وفا خواہشِ طلب
ہر شے کو اپنے آپ پہ ممنون کر دیا
دل سنگ و خشت بھی ہوا پھر موم بھی ہوا
پھر قہر و ظلم و زیست کا قانون کر دیا

49
سنسارِ جسم سے کسی پل لوٹ جائیں گے
دشوار ہیں کہ ہو کے سہل لوٹ جائیں گے
دھرتی سے خاک چنتے ہیں قبرِ فشار کو
ہو جائے کام آج کہ کل لوٹ جائیں گے
چٹان پختہ قائم و دائم ہے اپنی جا
ہونے دو مجھ کو خستہ و شل لوٹ جائیں گے

28
شکوے لبوں پہ غم کے سمیٹے چلے گئے
آئے تھے تیرے شہر بکھرتے چلے گئے
ایسی اداس شام میں نکلے تھے گھر سے ہم
رہنے جہاں میں آئے تھے مرتے چلے گئے
کیسی کلا تھی ہاتھ میں ان کے کیا کہیں ؟
کنکر کے زخم تھے کہ نکھرتے چلے گئے

26
مٹی کے ان بتوں سے مری ہے یہ التجا
آدم بنائے پھر سے کوئی روح پھونک کے

64
کتنے بے چین رہا کرتے تھے
روز و شب ہم سے ملا کرتے تھے
تیری سانسوں کی مہک سے ہر دم
چین بھر سانس لیا کرتے تھے
اپنی آنکھوں کے تبسم سے تم
مجھ سے ہر بات کہا کرتے تھے

41
آنکھوں میں آنسوؤں کے کنارے نہیں رہے
افسوس تیرے عشق کے مارے نہیں رہے
کیسی خلش سے بھرنے لگا ہے یہ دل مرا
وحشت کے ساتھ میرے گزارے نہیں رہے
صحرا بدل رہے ہیں حدِ شہر میں سبھی
تنہائیوں کے بھی وہ سہارے نہیں رہے

29
یاروں مرے لئے اب ایسی کتاب لا دو
ذکرِ وفا نہ ہو جس میں وہ نصاب لا دو
سپنوں میں جب بھی آئے ہو جائے وہ ہمارا
قسمت کے آشیاں سے میرا یہ خواب لا دو
ہے آپ کو قسم اس میخانئہِ جنوں کی
جو مجھ کو بھی مٹا دے ایسی شراب لا دو

20
بت بنتے ہیں ہزاروں انساں کوئی بنائے
ترکیب جینے کی دے پھر عشق بھی سکھائے
صحرا سے جو صدا آئے شورِ لیلیٰ کی تو
پھر کیوں نہ دوڑ کے ننگے پاؤں مجنوں جائے
کہتا ہوں جس کے مکھڑے کو ماہتاب اکثر
ہے آرزو کہ شب بھر وہ چاند جگمگائے

34
بدن پہ زخمِ عنایت کا کچھ حساب نہیں
گرفتِ عشق میں ہونا بھی کم عذاب نہیں
حواس باختہ کو اس میں ہوش پھر نہ ملے
یہ دردِ جاناں ہے ساقی تری شراب نہیں
کہ جب کبھی ترا جی چاہے نام لکھ ڈالے
یہ دل ہے میرا خریدی ہوئی کتاب نہیں

22
اوراقِ زندگی کی بکھرتی ہوئی کتاب
پڑھتا ہوں سحر و شام سسکتی ہوئی کتاب
تیزاب پڑھنے والوں کے سینوں میں گھول دے
ایسی ہے میرے غم کی ترستی ہوئی کتاب
کونے میں ایک شیلف پہ اکڑی ہے دھول سے
سالوں سے رفتہ رفتہ یہ پھٹتی ہوئی کتاب

29
وہ چہرہ دھڑکنوں کے دھڑکنے کا تار ہے
آنکھوں کا موڑ موڑ سجل آبشار ہے
لکھتی ہیں پریاں پلکوں پہ اس کی کہانیاں
شہزادیوں کے حسن کا کوہِ وقار ہے
باتوں میں اس کے جھڑتے گلابوں کی روشنی
ہونٹوں پہ بے خودی سے مچلتی بہار ہے

3
61
روشن رہے جہاں میں مری انگڑائیاں
خوشبو چھپی محبتوں میں میری لوریاں
اک قصر میں چھپا ہوا کچھ دھڑکنوں کا راز
ہو سکتا ہے یہی پہ کہانی مری ملے
پرچھائیوں کے آہنگوں میں بس گیا ہوں میں
موسیقیوں کے تار سے لپٹا ہوا ہوں میں

94
راہِ مصیبتاں میں اچکتے چلے چلو
منزل کی ہے تلاش تو چلتے چلے چلو
سازش یہ کر رہی ہے فضا لوٹ جائیں ہم
اے کاروانِ مستوں ابھرتے چلے چلو
پاؤ گے ہوش بے خودی کے درمیاں میں تم
پیو یہ جامِ عاشقی مرتے چلے چلو

30
سناں کو جس نے چوم کر خدا کا دیں بچا دیا
سلام اُس حسین پر کہ گھر کا گھر لٹا دیا
نجانے کتنے سال سے تھی تشنہ لب یہ کربلا
حسین نے جو ایک پھول کا لہو پلا دیا
مماثلت ہے اس لیے بھی اپنے دین سے مجھے
حسین نے جو اس میں اپنی خوشبو کو ملا دیا

28
آغازِ مظالم کے ہر انجام پہ روئے
کل شب کہ بہت حسرتِ ناکام پہ روئے
پابندِ سلاسل جو ہوئے قیدئ مشتاق
وہ عشقِ خمیدہ ترے الزام پہ روئے
یوں ذہنِ اذیت میں شماراں تھے مصائب
ہر سوچ کے نادیدۂ اُوہام پہ روئے

35
آنکھیں لہو لہو ہیں جدائی کے داغ سے
گھر اب کہ ہے جلا مرا گھر کے چراغ سے
راتیں خزاں کی اور ہے برساتوں کا ہنر
بوڑھے شجر کو پیار ہے اس اجڑے باغ سے
ہوتا نہیں ہے اس لیے بھی ٹھیک میرا کام
لیتا ہوں کام دل کا میں ہائے دماغ سے

187