تقطیع
اصلاح
اشاعت
منتخب
مضامین
بلاگ
رجسٹر
داخلہ
Sagar Malik
@Sagar
20 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تم صرف ایک نام نہیں،
تم وہ ساز ہو
جس کی پہلی جنبش سے
میری روح میں سر اُگ آتے ہیں۔
تم میری موسیقی ہو—
**رقیہ — میری موسیقی کا ہر راگ**
0
6
20 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
کاش تمہیں معلوم ہو
کہ کوئی ہے
جو تمہارا نام
اپنی سانسوں کے نیچے آہستہ آہستہ دہراتا ہے—
جیسے دعا ہونٹوں تک آئے
**رقیہ، اگر تمہیں معلوم ہو…**
0
5
20 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ…
یاد ہے وہ دن؟
جب شام نے آہستہ آہستہ
اپنے سنہری دوپٹے کو سمیٹا تھا،
اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی—
بالکل تمہاری خاموشی جیسی۔
**رقیہ، یاد ہے وہ دن؟**
0
5
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تم وہ صبح ہو
جس کے بعد رات کا ذکر بے معنی ہو جاتا ہے۔
تمہارے آنے سے
میرے دنوں کی پیشانی روشن ہو جاتی ہے۔
اور اگر کبھی تم دیر کر دو
رقیہ — اک صبح
0
7
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تمہیں دیکھا نہیں جاتا—
محسوس کیا جاتا ہے۔
تم خوشبو کی طرح ہو،
جو کمرے میں آ کر
اپنی موجودگی کا اعلان نہیں کرتی،
رقیہ — اک خوشبو
0
7
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تم چراغ ہو—
مگر وہ جو تیل سے نہیں،
محبت سے جلتا ہے۔
میں نے اپنی راتیں
تمہارے تصور کی لو کے سامنے رکھی ہیں۔
رقیہ — اک چراغ
0
7
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تم وہ پہلی بارش ہو
جو طویل گرمی کے بعد اترتی ہے۔
تمہارا ذکر
میرے اندر کی خاک کو
نرم کر دیتا ہے۔
رقیہ — اک بارش
0
8
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تم آسمان پر ٹکی ہوئی کوئی دور روشنی نہیں،
تم وہ ستارہ ہو
جو میری رات کے عین اوپر جلتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں ستارے ٹوٹتے ہیں،
مگر تم ٹوٹی نہیں—
رقیہ — اک ستارہ
0
8
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ…
اگر کائنات ایک کتاب ہے
تو تم اس کی وہ آیت ہو
جو صرف مجھے سمجھ آئی ہے۔
میں نے بہت چہرے دیکھے،
بہت نام سنے،
**رقیہ — میری تقدیر کی آیت**
0
12
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ ہی میری دعا ہے—
میں نے یہ بات یونہی نہیں کہی،
میں نے اسے اپنی راتوں کی تنہائی میں
آزمایا ہے۔
جب ہاتھ اٹھائے
تو لفظ یاد نہیں رہے،
**رقیہ ہی میری دعا ہے**
0
9
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ…
میں نے تمہارے نام کو
محض پکارا نہیں،
میں نے اسے کھولا ہے—
جیسے کوئی مقدس کتاب کھولی جاتی ہے
وضو کے بعد۔
**رقیہ — ایک نام، کئی چراغ**
0
9
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تم تتلی ہو—
رنگوں میں لپٹی ہوئی
اور ہوا کے سپرد ایک نرم سا معجزہ۔
تم جب چلتی ہو
تو یوں لگتا ہے
**رقیہ — اک تتلی**
0
6
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تم حقیقت سے زیادہ
ایک خواب لگتی ہو—
وہ خواب
جو آنکھ کھلنے کے بعد بھی
دل سے نہیں جاتا۔
**رقیہ — اک خواب**
0
8
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تم کوئی عام سا پھول نہیں،
تم وہ خوشبو ہو
جو کھلنے سے پہلے ہی دل میں اتر جاتی ہے۔
تمہیں دیکھوں تو یوں لگتا ہے
جیسے صبح نے ابھی ابھی آنکھ کھولی ہو
**رقیہ — اک پھول**
0
5
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
تمہارا چہرہ صرف چہرہ نہیں،
رات کے ماتھے پر رکھا ہوا اک چاند ہے۔
میں نے بہت چاند دیکھے ہیں—
آسمان والے بھی،
اور خوابوں والے بھی—
**رقیہ — اک چاند**
0
7
19 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
رقیہ،
اگر کبھی تم اپنے ہاتھوں پر مہندی سجاؤ
تو ذرا ٹھہر کر دیکھنا—
اس کے رنگ میں کہیں میرا لہو تو شامل نہیں؟
یہ جو گہرا سرخ اُبھرتا ہے نا ہتھیلی پر،
یہ فقط پتیوں کا رس نہیں ہوتا،
**رقیہ کے نام — پیغامِ رنگِ حنا**
0
7
19 فروری 2026
شعر
Sagar Malik
@Sagar
تجھ کو معلوم ہو گا میری محبت کا پھر
تیرے ہاتھوں پہ سجے میرے لہو کی مہندی
تجھ کو معلوم ہو گا میری محبت کا پھر
0
3
19 فروری 2026
شعر
Sagar Malik
@Sagar
در و دیوار پہ سائے کو ترے پڑھتا ہوں
میں کہانی کہاں چہرے کو ترے پڑھتا ہوں
در و دیوار پہ سائے کو ترے پڑھتا ہوں
0
1
19 فروری 2026
شعر
Sagar Malik
@Sagar
اک دیا جو میں نے اس دل میں جلا رکھا ہے
ہو بہو تم مرے احساس کی لو لگتی ہو
اک دیا جو میں نے اس دل میں جلا رکھا ہے
0
6
19 فروری 2026
شعر
Sagar Malik
@Sagar
اب جو چاہے مری جانب سے وہ کچھ فیصلہ لے
میں نے بھی حیرتِ ورطہ میں اسے ڈال دیا
اب جو چاہے مری جانب سے وہ کچھ فیصلہ لے
1
4
18 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
چند ملاقاتیں تھیں—
گنتی کی، مختصر، جیسے کسی دعا کے بعد کا آمین۔
مگر ان ہی لمحوں میں
اس نے میرے دنوں کی ترتیب بدل دی۔
میں اس کے سامنے کبھی کھل کر مسکرا نہ سکا۔
لفظ ہونٹوں تک آئے،
رقیہ اک کرامت کر گئی ہے۔
1
12
18 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
وہ آدمی نہیں تھا،
وہ برف تھا۔
چلتا تھا، بولتا تھا، مسکراتا بھی تھا—
مگر اندر کہیں کوئی موسم نہیں بدلتا تھا۔
کہتے ہیں انسان آگ سے بنتا ہے،
خواہش کی آگ، محبت کی آگ، نفرت کی آگ—
**برف کا انسان**
0
7
18 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
ہنگامۂ نشاطِ روح آخر کیا شے ہے؟
گریہ کیا ہے—کمزوری یا شعور کی انتہا؟
آٹھ پہر کی یہ اداسی کیسی رفاقت ہے جو سائے کی طرح ساتھ رہتی ہے؟
سانسوں کا یہ خاموش رشتہ کس سے ہے—جسم سے، یا کسی ان دیکھے خلا سے؟
یہ اشک، یہ آنکھیں، یہ برہمی سا انداز—
لہجے میں کوئی دستک نہیں، پیروں میں کوئی آہٹ نہیں،
"آئینے میں اجنبی"
0
7
15 فروری 2026
حمد
Sagar Malik
@Sagar
کر کرم اے خدا کر کرم اے خدا
سن ہماری صدا سن ہماری صدا
ربِ اکبر ہے تو سب کا ہادی ہے تو
ہر مرادی کے دل کا مرادی ہے تو
نعت لہجے میں میرے ہے صلے علیٰ
لب پہ رہتی ہے تیری ہی حمد و ثنا
کرم اے خدا کر کرم اے خدا
0
2
15 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
غم کے صحرا میں
کاش کہیں ذرا سا سکون مل جاتا،
کوئی شجر ہوتا
جس کے سائے تلے ہم چند لمحے ٹھہر جاتے۔
مگر راہ میں
ایسا کوئی مقام آیا ہی نہیں۔
میں نے تمہیں بھلایا ہی نہیں
0
8
15 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
خواب کے جزیروں میں
کشتیاں ڈوب رہی ہیں۔
ایک مدھم سی چنگاری باقی ہے—
شاید آخری۔
جب آخری موج اٹھے گی
وہ بھی بجھ جائے گی۔
کشتیاں ڈوب رہیں ہیں
1
10
14 فروری 2026
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
جس دن سے تمہیں دیکھا ہے
ایک نرم سی بےچینی میرے ساتھ رہتی ہے—
جیسے دل تو میرے پاس ہو
مگر اس کی دھڑکن تمہارے نام لکھ دی گئی ہو۔
سانس آتی ہے، جاتی ہے—
مگر اس میں ہوا نہیں،
ابھی تو بہت کچھ تم سے کہتا تھا
1
13
3 فروری 2026
غزل
Sagar Malik
@Sagar
بے طور تیری رنجشِ پیہم سے مر گیا
میں تو صفِ دراز میں یکدم سے مر گیا
دیکھا ستارۂ شبِ عاشور جو کبھی
اتنا کیا ہے گریہ کہ ماتم سے مر گیا
شوقِ ہنر تو دیکھ مرا کس قرینے سے
لے کر بلائے عشق تری غم سے مر گیا
بے طور تیری رنجشِ پیہم سے مر گیا
1
7
29 جنوری 2026
غزل
Sagar Malik
@Sagar
ایک بے نام کسی عشق کی پرچھائی سے
سہم جاتا ہوں میں اس شورشِ تنہائی سے
کون سمجھے گا مرا حرفِ زباں سو چپ ہوں
خوف آتا ہے بھرے شہر میں رسوائی سے
کم سے کم اس نے لگائی مری جاں کی قیمت
دام قاتل کے تھے بہتر مرے سودائی سے
ایک بے نام کسی عشق کی پرچھائی سے
0
10
26 جنوری 2026
شعر
Sagar Malik
@Sagar
مرے صیاد پنجرہ اب نہ کھولو
پرندہ بھول بیٹھا اپنی پرواز
پرندہ بھول بیٹھا اپنی پرواز
0
8
26 جنوری 2026
شعر
Sagar Malik
@Sagar
ہوئی محسوس مجھ کو کس کی آہٹ
شبِ تنہا مرا سایہ تھا میں تھا
ہوئی محسوس مجھ کو کس کی آہٹ
1
12
26 جنوری 2026
غزل
Sagar Malik
@Sagar
کسی زنجیر کی جھنکار ہوں میں
سرِ زنداں تجھے درکار ہوں میں
کناروں پر مسلسل بہہ رہا ہوں
سمندر کی کوئی مجدھار ہوں میں
کھلا ہوں خود پہ جو میں تھوڑا تھوڑا
سمجھ آیا کہ پر اسرار ہوں میں
کسی زنجیر کی جھنکار ہوں میں
1
14
24 جنوری 2026
غزل
Sagar Malik
@Sagar
شعر کہنے کو میں عنوان کہاں سے لاؤں
اب خیالوں میں بھلا جان کہاں سے لاؤں
وہ گلابوں کی نہیں باغ کی شوقیں ہے میاں
نت نئے روز یہ گلدان کہاں سے لاؤں
کچھ عجب میری کہانی ہے فسانے کے بغیر
کوئی کامل میں قلمدان کہاں سے لاؤں
شعر کہنے کو میں عنوان کہاں سے لاؤں
1
8
24 جنوری 2026
غزل
Sagar Malik
@Sagar
شب کی خاموشی کاٹنے والے
ہم ہیں بے ہوشی کاٹنے والے
رو بھی لیتے ہیں بند کمروں میں
سینۂ جوشی کاٹنے والے
سب کو کافر قرار دیتے ہیں
پردۂ پوشی کاٹنے والے
شب کی خاموشی کاٹنے والے
0
8
22 جنوری 2026
غزل
Sagar Malik
@Sagar
زمیں بھی تم ہو مرا آسمان بھی تم ہو
مکیں بھی تم ہو سرِ لا مکان بھی تم ہو
قسم زمانے کے ہر ایک جلوۂ جاں کی
شعورِ ذات میں میرا جہان بھی تم ہو
کلام کرتی ہوئی دھڑکنوں کی ہر دھن میں
تمہیں ہو بہروی ایمن کی تان میں تم ہو
زمیں بھی تم ہو مرا آسمان بھی تم ہو
0
9
11 جنوری 2026
غزل
Sagar Malik
@Sagar
فرصتِ دید نہیں حسرتِ بے باک نہیں
پھر بھی دیکھو تو سرِ طور بلانا دل کا
سانس جب رک نہ سکے جل نہ سکے یہ دامن
کیا ضروری ہے کوئی پھر یہ لگانا دل کا
چند لمحوں میں بھلا کیسے سنا دیں تم کو
ایک مدت کا ہے اے یار فسانا دل کا
پھر بھی دیکھو تو سرِ طور بلانا دل کا ( پیر نصیر و دین نصیر استفادہ زمین )
1
11
30 دسمبر 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
اس سفر کی بھری مسافت میں
معجزہ کب ہوا محبت میں
دے دیا اپنی جان کا درپن
اپنے محبوب کو عنایت میں
صورتِ نظم لکھ دیا تجھ کو
زندگانی کی ہر حکایت میں
اس سفر کی بھری مسافت میں
0
11
21 نومبر 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
میکدے کا عذاب دے مجھ کو
جام دے اور خراب دے مجھ کو
اس کے ہونٹوں کو بھول جاؤں میں
آج اتنی شراب دے مجھ کو
سرخ مائل ہو ان کے لب جیسا
کوئی ایسا گلاب دے مجھ کو
میکدے کا عذاب دے مجھ کو
0
14
19 نومبر 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
نم جو بادِ بہار کے نکلے
میری پلکیں سوار کے نکلے
اس کے اور میرے درمیان فقط
پل شبِ انتظار کے نکلے
سونپ ڈالے ہوا کے ہاتھوں میں
خط جو بھی ان کے پیار کے نکلے
نم جو بادِ بہار کے نکلے
0
12
18 نومبر 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
صرف عزت جہاں سے پائی ہے
میں نے دولت نہیں کمائی ہے
تیرے جلوے کی آس میں میں نے
آنکھ سے روشنی گنوائی ہے
میں نے روشن کیے چراغ کئی
یاد جب بھی تمہاری آئی ہے
صرف عزت جہاں سے پائی ہے
0
13
6 نومبر 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
واپسی پھر پلٹ کے الجھا ہوں
ان کی زلفوں کی لٹ سے الجھا ہوں
ان کی آنکھیں بھی کیا قیامت ہیں
میں تو دو بار کٹ کے الجھا ہوں
ان کی دہلیز اور مرا عالم
دونوں حصوں میں بٹ کے الجھا ہوں
واپسی پھر پلٹ کے الجھا ہوں
1
18
2 نومبر 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
تشنگی کے عذاب میں تم تھی
جلوۂ بے حجاب میں تم تھی
تیری زلفوں کو چھو رہا تھا میں
کل کی شب میرے خواب میں تم تھی
میں نے دیکھا کبھی جو آئینہ
عکس کے ماہتاب میں تم تھی
تشنگی کے عذاب میں تم تھی
0
13
28 اکتوبر 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
آشنائی ہے جو ادب سے مری
آنکھ سوئی نہیں ہے شب سے مری
دے گیا انتظار کی فرصت
ہے طبیعت اداس کب سے مری
ایک لمحے کا دل کو چین نہیں
آنکھ ان سے لڑی ہے جب سے مری
آشنائی ہے جو ادب سے مری
0
24
13 اگست 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
توڑ دے تیشۂ فرہاد سے دیوانوں کی طرح
حوصلہ ہم بھی یہاں رکھتے ہیں چٹانوں کی طرح
میں نے دیکھے ہیں کئی خواب لرزنے والے
بین آنکھوں میں کیے جاتے ہیں طوفانوں کی طرح
شمع جب پیار کی جلتی ہوئی دکھتی ہے ہمیں
آ ہی جاتے ہیں یوں اڑتے ہوئے پروانوں کی طرح
توڑ دے تیشۂ فرہاد سے دیوانوں کی طرح
0
19
6 اگست 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
پیار تم کو دکھا نہیں سکتا
صرف میں گنگنا نہیں سکتا
کتنا مجبور و خود پرست ہوں میں
تم کو غم میں ہنسا نہیں سکتا
تیری خاطر ہوں دور تم سے پیا
جانتا ہوں کہ پا نہیں سکتا
پیار تم کو دکھا نہیں سکتا
0
18
4 اگست 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
کو بہ کو چاندنی اتر آئی
جھیلوں میں زندگی اتر آئی
دیکھ کر گوبپاں نہاتی کو
کرشن کی بانسری اتر آئی
جھانکتے جھانکتے مرے دل میں
خوشبوئے سانولی اتر آئی
کو بہ کو چاندنی اتر آئی
1
12
12 جولائی 2025
نثری نظم
Sagar Malik
@Sagar
سرخ رنگت کے دو پرندے بھلا
کس دشا سے ٹہلتے آ بیٹھے
میرے کمرے کے اس کواڑ کی اور
میں انہیں دیکھ کے مسلسل ہی
تیرے وہم و گماں میں کھونے لگا
اس قدر وہ حسین تھے دونوں
دو پرندے اور میرا خیال؛
1
17
12 جولائی 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
واحد ہے مرے غم کا سہارا ترا چہرہ
ہنستا رہے اے سانولی پیارا ترا چہرہ
مایوس چلا آتا ہوں ہر چہرے سے جب میں
مجھ کو دیا کرتا ہے سہارا ترا چہرہ
وہ شام ہو میخانے کی یا صبحِ قیامت
کرتا ہے مرے درد کا چارا ترا چہرہ
واحد ہے مرے غم کا سہارا ترا چہرہ
0
23
3 جون 2025
قطعہ
Sagar Malik
@Sagar
نقشِ تصویر تری چوم لیا کرتا ہے
دل تو پاگل ہے یونہی جھوم لیا کرتا ہے
اور آوارہ مزاجوں کی کیا شام ہو گی
دل مرا تیری گلی گھوم لیا کرتا ہے
نقشِ تصویر تری چوم لیا کرتا ہے
0
24
21 مئی 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
ان کے قصوں کا ماجرا تھا میں
لب پہ ان کے کبھی کھلا تھا میں
اپنے وہموں سے تیرے وہم تلک
دشتِ امکاں میں کھو گیا تھا میں
ایک آوارہ سی ہوا کے اثر
اک دیے کی طرح بجھا تھا میں
لب پہ ان کے کبھی کھلا تھا میں
1
29
13 مئی 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
وہ جس کے مجھ کو ہونے کا یقیں ہے
نظر سے دور پر دل کے قریں ہے
میں کھویا ہوں خیالوں میں جو اپنے
بدن میرا کہیں اور دل کہیں ہے
بلا کے تیر جو آنے لگے ہیں
کسی مقتل کی جیسے سر زمیں ہے
وہ جس کے مجھ کو ہونے کا یقیں ہے
1
19
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
اس بے تکلفی کو مری اور بڑھا ہی دو
اب غرقِ جام ہو گیا ہوں تو پلا ہی دو
میرِ ادب ہوں اور کھٹکتا ہوں گر تمہیں
پھر اپنی انجمن سے مجھے تم اٹھا ہی دو
اب میرے اشک بھی یہ گوارا نہیں تمہیں
ایسا کرو کہ تم مری آنکھیں مٹا ہی دو
اس بے تکلفی کو مری اور بڑھا ہی دو
0
65
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
زمیں پہ ہوں میں مگر آفتاب کی خواہش
ہے میرے دل میں کسی انقلاب کی خواہش
تری ادا پہ نزاکت پہ ہار سکتا ہوں
کہ مجھ کو ہونے لگی ہے عذاب کی خواہش
ہزار چہرے مرے سامنے بھی آ جائیں
رہے مگر ترے ہی انتخاب کی خواہش
زمیں پہ ہوں میں مگر آفتاب کی خواہش
0
26
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
درد تھا آخری لمحوں کا تھی ہجرت کی گھڑی
سانس ٹوٹی تھی مری عین محبت کی گھڑی
وہ تجھے دیکھ کے پھر دیکھتے ہی رہ جانا
چشمِ تر نے مری دیکھی یوں قیامت کی گھڑی
خواب مجھ کو بنا کے خود وہ حقیقت ہو گیا
شبِ بیدار تھی طاری یہ اذیت کی گھڑی
درد تھا آخری لمحوں کا تھی ہجرت کی گھڑی
0
42
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
چراغ کون یہاں چپکے سے جلاتا ہے
دھواں دھواں مری حسرت کا جگمگاتا ہے
پسند جس کو نہیں تھی یہ شاعری میری
وہ آج میری ہی غزلوں کو گنگناتا ہے
زوالِ شام کے جیسے محبتوں کا نور
کرن کی طرح نکلتا ہے ڈوب جاتا ہے
چراغ کون یہاں چپکے سے جلاتا ہے
0
33
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
زباں کا خوں ہو اگل دے اگر جو سچائی
یہ عمر ہم نے سدا جھوٹے لوگوں میں پائی
رہے انا کی پرستش کے بول ہی بالے
ملا نہ کوئی یہاں بستیوں میں ہرجائی
افق کے دوش سے آئے بھی تو ستم کی کرن
کہاں غریب گھروں میں سحر لے انگڑائی
زباں کا خوں ہو اگل دے اگر جو سچائی
0
29
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
سکھا دے عشق تو کانٹوں پہ چل بھی سکتا ہوں
تو چاہے تو تری خاطر بدل بھی سکتا ہوں
جہاں نے موم سے پتھر بنا دیا مجھ کو
ہے تیری چاہ سے ممکن پگھل بھی سکتا ہوں
مجھے جو نیک فرشتہ سمجھ لیا تم نے
میں آدمی ہوں کسی پل مچل بھی سکتا ہوں
سکھا دے عشق تو کانٹوں پہ چل بھی سکتا ہوں
0
28
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
محبتوں میں سرِ جستجو نہیں دیکھا
جسے بھی دیکھا اسے خوبرو نہیں دیکھا
لہو کی پیاس نے لوگوں میں غل مچایا تھا
کسی کو میں نے لبِ آب جو نہیں دیکھا
ستارے چھپتے ہی بادل کی آڑ میں دیکھے
کسی کو روشنی میں تند خو نہیں دیکھا
محبتوں میں سرِ جستجو نہیں دیکھا
0
17
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
محبتوں میں سرِ جستجو نہیں دیکھا
جسے بھی دیکھا اسے خوبرو نہیں دیکھا
لہو کی پیاس نے لوگوں میں غل مچایا تھا
کسی کو میں نے لبِ آب جو نہیں دیکھا
ستارے چھپتے ہی بادل کی آڑ میں دیکھے
کسی کو روشنی میں تند خو نہیں دیکھا
محبتوں میں سرِ جستجو نہیں دیکھا
0
22
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
پیاسوں کے کارواں کو اپنی طلب رکھنے دو
صندلی جسم کے پیکر پہ یہ لب رکھنے دو
روحِ ناشاد کو دو جسمِ محبت اپنا
آج تم وصلِ قیامت کا غضب رکھنے دو
دل میں الجھے ہوئے ہیں یاد کے گیسو اب تک
مجھ کو اے بادِ صبا دردِ عجب رکھنے دو
پیاسوں کے کارواں کو اپنی طلب رکھنے دو
0
28
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
چاہت کی گلی مجھ کو بلاتی ہے ابھی بھی
رستہ کوئی پرچھائی دکھاتی ہے ابھی بھی
آنکھوں میں سمندر کی لہر پھوٹ رہی ہے
اک موج قیامت کی رلاتی ہے ابھی بھی
یوں مجھ کو ملیں داسیاں کتنی مرے من کی
رادھا ہی مگر کرشن کو بھاتی ہے ابھی بھی
چاہت کی گلی مجھ کو بلاتی ہے ابھی بھی
0
46
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
نظر سے چوم کے صدقہ اتار دو میرا
کبھی تو چاہتوں کا افتخار دو میرا
کیا ہے جبرِ مسلسل پہ انتظار ترا
کہ اب تو خود پہ کوئی اختیار دو میرا
گزر رہا ہے قیامت کا وقت مدت سے
کبھی یہ وقت بھی آ کے گزار دو میرا
نظر سے چوم کے صدقہ اتار دو میرا
0
17
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
اشکِ برہم سے میں نے دیکھی تھی ساروں کی حد
کم عدو سے نہیں تھی میرے بھی پیاروں کی حد
اس لیے بھی میں الجھتا ہی رہا تھا اس سے
دیکھنی تھی مجھے نفرت کے شراروں کی حد
محورِ جستجو تھا دیر تلک آسماں پر
ڈھونڈنی تھی مجھے کل رات ستاروں کی حد
اشکِ برہم سے میں نے دیکھی تھی ساروں کی حد
0
25
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
شہرِ فنکار میں ان چہروں پہ چہرے رکھنا
کتنا آسان ہوا دل میں یہ دھوکے رکھنا
دیکھ کر جلوۂ آدم ہوئے اوسان خطا
کارِ ابلیس پہ مشکل ہوا سجدے رکھنا
جا بجا بکھرا ہوا ہے مرے دردوں کا وجود
کانچ کے جسم پہ پاؤں ذرا دھیرے رکھنا
شہرِ فنکار میں ان چہروں پہ چہرے رکھنا
0
23
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
جذباتِ منتشر کی روانی میں بہہ گئے
کچھ خواب میرے آنکھ کے پانی میں بہہ گئے
شیریں بیاں زبان سے سن کر وہ داستاں
پھر آج ان کی جھوٹی کہانی میں بہہ گئے
سب بن گئے مگر وہ مسیحا نہ بن سکے
میرے لیے جو ریشہ دوانی میں بہہ گئے
جذباتِ منتشر کی روانی میں بہہ گئے
0
41
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
کچھ رقیبوں سے ملا کچھ مرے پیاروں سے ملا
رنج جتنا بھی ملا مجھ کو وہ یاروں سے ملا
ایک میرے لیے تھیں بند وہ باہیں اس کی
جو مجھے چھوڑ کے بستی میں ہزاروں سے ملا
کہہ کے سورج یہ سمندر میں کہیں ڈوب گیا
کوئی ساگر کبھی دریا کے کناروں سے ملا
کچھ رقیبوں سے ملا کچھ مرے پیاروں سے ملا
0
21
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
یوں اب کہ لہرا کے شمشیرِ عام لوں گا میں
عدو سے فیصلہ ہے انتقام لوں گا میں
میں ناخنوں سے کھرچ کے ترے بدن کا لہو
گو موجِ دوش پہ مستِ خرام لوں گا میں
مٹا کے اپنی انا دشمنانِ جاں سے میں
قرارِ قتل سے پہلے سلام لوں گا میں
یوں اب کہ لہرا کے شمشیرِ عام لوں گا میں
0
38
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
پہلے کسی کے ہجر میں لایا گیا ہوں میں
شاعر بنا نہیں ہوں بنایا گیا ہوں میں
اوباش محفلوں میں تری لذتوں پہ میں
دولت کی طرح تجھ پہ لٹایا گیا ہوں میں
افسانے میں مرے یہ کمی سی رہی سدا
کب حرفِ زیر اس کو سنایا گیا ہوں میں
پہلے کسی کے ہجر میں لایا گیا ہوں میں
0
38
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
آنکھیں چھلک رہی ہیں ترے انتظار میں
مدھم ہے میری سانس بہت کوئے یار میں
بس جو قسم اٹھا گیا تھا تیرے سر کی میں
وہ قول اب نبھا رہا ہوں انکسار میں
دیکھوں تو میرا چاند بھی سورج بھی ہو تمہیں
اور کچھ نہیں ہے گردشِ لیل و نہار میں
آنکھیں چھلک رہی ہیں ترے انتظار میں
0
32
27 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
آوارگی کو میری مٹا کیوں نہیں دیتے
تم مجھ کو مرے گھر کا پتہ کیوں نہیں دیتے
گر آنکھ کو تیری یہ کھٹکتے ہیں پرندے
طوفانِ لہو ان میں بہا کیوں نہیں دیتے
بس دور سے دیتے ہو یہ نظرانۂ فرقت
تم پاس مرے آ کے دغا کیوں نہیں دیتے
آوارگی کو میری مٹا کیوں نہیں دیتے
0
37
17 مارچ 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
خیالِ زار میں میرے ابھر نہیں سکتے
جو میری سوچ کے پیمانے بھر نہیں سکتے
وجودِ روح میں شامل ہو جب انا کا نشہ
زباں سے ذائقے پھر یہ اتر نہیں سکتے
یہ عہدِ پر شکنی ہے کہ مر گئے ہیں ہمیں
وگرنہ میرے لیے آپ مر نہیں سکتے
خیالِ زار میں میرے ابھر نہیں سکتے
0
7
59
27 فروری 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
وصال و ہجر کا صدمہ نہیں سہا جاتا
ترے بغیر تو اک پل نہیں رہا جاتا
کماں کو کھینچ کے رکھتی ہیں پر کشش آنکھیں
یہ تیر سینۂ بسمل میں ہے اٹھا جاتا
حسیں ہے کوئی بلا کا کہ سامنے اس کے
زباں ہلے بھی کیا کچھ نہیں کہا جاتا
وصال و ہجر کا صدمہ نہیں سہا جاتا
1
4
63
27 فروری 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
ریشمی ڈور سے کھینچوں کہ کھچا آؤں گا
اس کے لہجے میں پکاروں میں چلا آؤں گا
تم کناروں سے کنارا تو ملاؤں کوئی
میں تو دریا ہوں سمندر میں بہا آؤں گا
پیڑ آنگن میں وہی پھر سے لگاؤ اپنے
میں پرندوں کی طرح پھر سے اڑا آؤں گا
ریشمی ڈور سے کھینچوں کہ کھچا آؤں گا
1
29
27 فروری 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
جو تیرے ساتھ ہوئے تیرے ہمسفر ٹھہرے
دلِ جہاں میں وہی لوگ معتبر ٹھہرے
حلال ہم نے کمایا ہے صرف نفعِ عشق
جبھی تو رشتے مرے سارے مختصر ٹھہرے
پسند جن کی سے ہر شے کو گھر میں بھر ڈالا
مکیں وہی نہ کسی آن میرے گھر ٹھہرے
جو تیرے ساتھ ہوئے تیرے ہمسفر ٹھہرے
1
19
16 فروری 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
یوں شوقِ ترکِ بسر کائنات کرتا میں
جو تجھ سے ملتا کبھی کوئی بات کرتا میں
تمام اپنے شب و روز تجھ کو ہی پاتا
کبھی میں دن تو کبھی تجھ کو رات کرتا میں
سجا کے اپنے کسی زندگی کے لمحے میں
حسین اپنی یہ خوئے حیات کرتا میں
یوں شوقِ ترکِ بسر کائنات کرتا میں
0
27
15 جنوری 2025
غزل
Sagar Malik
@Sagar
دل انہماکِ کفر میں کافر نہیں ہوا
بن بت تراش کے کوئی مندر نہیں ہوا
گنگا ندی میں تیاگ کے اپنے بدن کی راکھ
جب تک پیا نہ لہروں کو ساگر نہیں ہوا
سنگم نہیں ہے جب کسی اپنے سے بہر طور
پھر کوئی بھی مکان ہو وہ گھر نہیں ہوا
دل انہماکِ کفر میں کافر نہیں ہوا
1
23
9 جنوری 2025
آزاد نظم
Sagar Malik
@Sagar
میں نے دیکھا ہے بارہاں
تاریخ کے بے ترتیب دستر خوانوں پہ
شرابی قلموں سے بہکی ہوئی
چیدہ چیدہ تاریخ کو درباروں کی رعونت بنتے
پھر یہ بھی دیکھا کہ ہر تاریخ مٹ گئی
ہر تلوار ٹوٹ گئی ہر قلم خشک ہوا
تاریخ
1
30
9 جنوری 2025
نظم
Sagar Malik
@Sagar
ان چراہوں کے بیچ و بیچ
بند گلیوں کے اس طرف
سب سے آخری کونے پر
وہ اک گرتا ہوا خستہ سا چھوٹا مکاں
یاد تو ہو گا تمہیں
اس مکاں میں لکڑی کا کمزوز دروازہ
کچھ یاد تو ہو گا تمہیں
1
28
30 دسمبر 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
کہکشائے جہاں میں کیا ہو گا
ہر طرف ہی مرا خدا ہو گا
بات کیونکر ہے صرف شہ رگ کی
ڈھونڈنے پر وہ ہر جگہ ہو گا
عشقِ منصور کا یہ نعرہ ہے
عشق میں آدمی فنا ہو گا
کہکشائے جہاں میں کیا ہو گا
1
42
26 دسمبر 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
پانی جب سر سے گزرا تھا منظر ہم نے بھی وہ دیکھا تھا
کشتی اب جو تیری ڈوبی سمندر ہم نے بھی وہ دیکھا تھا
خستہ سے دیوار و در میں جو پھیلی ہے اب تیرے وحشت
یوں لرزیدہ سہما سہما اک گھر ہم نے بھی وہ دیکھا تھا
کرتی ہے نا اپنے من کی اس کی تصویروں سے بھی تو باتیں
تیری تصویروں کا یہ محشر ہم نے بھی وہ دیکھا تھا
پانی جب سر سے گزرا تھا منظر ہم نے بھی وہ دیکھا تھا
1
32
24 دسمبر 2024
منقبت
Sagar Malik
@Sagar
جس کو دنیا کا مسیحا یہ ولی کہتے ہیں
لوگ سب اس کو زمانے میں علی کہتے ہیں
جس کے بارے میں قلندر کبھی رومی سے سنا
فہم زادوں میں اسے عقلِ جلی کہتے ہیں
خضر کہتے ہیں جسے زندگی کی آبِ حیات
اس کو سب رندِ نجف جامِ علی کہتے ہیں
جس کو دنیا کا مسیحا یہ ولی کہتے ہیں
1
21
23 دسمبر 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
رنگ لفظوں میں عجب آ جائے
شعر کہنے کا بھی ڈھب آ جائے
گر لکھوں میں تری پلکوں پہ غزل
مجھ پہ کانٹوں کا غضب آ جائے
ہم تو بیٹھے ہیں یہاں یار مرے
اٹھ کے جائیں کہ تو جب آ جائے
رنگ لفظوں میں عجب آ جائے
1
29
5 جولائی 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
زخم سے خون پیا ہے تم نے
صرف رنجیدہ کیا ہے تم نے
باعثِ عشق ہنر کو میرے
مجھ سے بس چھین لیا ہے تم نے
جیسے جیتے ہیں محبت والے
ایک لمحہ بھی جیا ہے تم نے
زخم سے خون پیا ہے تم نے
1
39
11 جون 2024
نظم
Sagar Malik
@Sagar
اب تو آنکھوں کا یہ دریا بھی بہا ڈالا ہے
اب تو دردوں کو سرِ طور جلا ڈالا ہے
پھر یہ کیا ہے کہ جو سینوں کو پریشان رکھے
دیر و کعبہ میں اذیت کا یہ طوفان رکھے
صبحِ روشن میں مری آئے جو چپکے چپکے
خانۂ دل کے غلافوں میں یہ قرآن رکھے
دریا بھی بہا ڈالا ہے
1
49
11 جون 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
کون اس شہر کے مقتل میں نگہباں ٹھہرا
میرے دشمن کا ہی سب حلقۂ یاراں ٹھہرا
اپنے انصاف پہ لینے کو زمانے سے دلیل
روح زخمی ہے بدن چاک گریباں ٹھہرا
زلفِ خم دار سے تیرے جو الجھ بیٹھا ہوں
جبر تو دیکھ کہ کتنا ہی میں ناداں ٹھہرا
کون اس شہر کے مقتل میں نگہباں ٹھہرا
1
42
2 جون 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
زہر تم نے بھی جدائی کا پیا تو ہو گا
سوچتا ہوں کہ مجھے یاد کیا تو ہو گا
چاہے چھپ چھپ کے ہی دنیا سے مگر میرا نام
کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے لیا تو ہو گا
بن گیا ہو گا تمہارے لیے ہر وقت سزا
ایک پل میں کئی صدیوں کو جیا تو ہو گا
زہر تم نے بھی جدائی کا پیا تو ہو گا
1
40
6 اپریل 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
اپنی سرداری کا معیار تو رکھ لیتے تم
کم سے کم جبہ و دستار تو رکھ لیتے تم
تن مرا دھوپ سے جل جل کے بھنا جاتا ہے
گھر میں اک سایۂ دیوار تو رکھ لیتے تم
تیرے ہر وار سے جو بارہاں بچتا میں رہا
ایسے حالات میں تلوار تو رکھ لیتے تم
اپنی سرداری کا معیار تو رکھ لیتے تم
1
49
18 مارچ 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
کام مطلب کے نہیں رکھتا ہوں
چند باتوں پہ یقیں رکھتا ہوں
جو مری دوستی کے قابل ہوں
پھر سرِ خم یہ جبیں رکھتا ہوں
پیر جتنے بھی پسارے جائیں
اتنی حد تک میں زمیں رکھتا ہوں
کام مطلب کے نہیں رکھتا ہوں
1
55
10 مارچ 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
زہر اپنی جو زبانوں سے اگلنے لگے ہیں
لوگ معیارِ محبت سے پھسلنے لگے ہیں
اے سپیروں ذرا سا بانسری کو تیز کرو
آستینوں سے مری سانپ نکلنے لگے ہیں
ہم سے تسکینِ محبت جو سدا پاتے رہے
وہ کسی اور کی باہوں میں سنبھلنے لگے ہیں
زہر اپنی جو زبانوں سے اگلنے لگے ہیں
1
45
12 جنوری 2024
نظم
Sagar Malik
@Sagar
صلیب دو مجھے یا پتھروں کے وار کرو
کہ پھر کوئی بھی ہو ستم بے اختیار کرو
کہ ایک نوحہ تو نوکِ زباں پہ لاؤں گا
بھلے مجھے کسی نیزے پہ اب سوار کرو
سپرد اب کسی ظالم کے ہاتھ میں کر دو
یا اپنے ہاتھوں سے پھر مجھ کو سوگوار کرو
ایک نوحہ تو نوکِ زباں پہ لاؤں گا
1
36
4 جنوری 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
آؤ آزادئ فرقت کو ہوا دیتے ہیں
کر کے اک دوسرے سے عشق بھلا دیتے ہیں
ساتھ پھر چلتے ہیں اس دشت کے ویرانے میں
پھر سے ہم دونوں کہیں خود کو گنوا دیتے ہیں
تم مرے لفظ کو کاٹو میں تمہاری باتیں
آج اس حد پہ محبت کو سزا دیتے ہیں
آؤ آزادئ فرقت کو ہوا دیتے ہیں
1
41
4 جنوری 2024
غزل
Sagar Malik
@Sagar
جو فکرِ دردِ سکندر ہیں ان کی ہم نس ہیں
ہماری شہ رگوں میں زہرِ عشق کے رس ہیں
ہوا کے ساتھ پرندوں کے غول اڑتے ہیں
ہیں ہم تو قید و قفس کے شجر جو بے بس ہیں
نہ اٹھ سکے گا یہ مزدور دل سے میرے بوجھ
ہماری پسلیاں بھی ڈیڈھ آٹھ اور دس ہیں
جو فکرِ دردِ سکندر ہیں ان کی ہم نس ہیں
1
48
31 دسمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
گرے جو آنکھ سے آنسو تو دھو نہیں سکتا
کمال یہ کہ میں دن رات رو نہیں سکتا
عجب ہے سلسلہ میرا بھی اِس محبت کا
کرم وہ مجھ پہ کرے یہ بھی ہو نہیں سکتا
ہے میرے پاس فقط درد، درد بھی اُس کا
یہ تحفہ میں کسی صورت بھی کھو نہیں سکتا
گرے جو آنکھ سے آنسو تو دھو نہیں سکتا
1
55
26 دسمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
اب سوچتا ہوں جسم کے بے جان شہر میں
آیا تھا کس لیے کسی انجان شہر میں
عاشق کسی کی جان پہ یہ روح ہو گئی
مفلس ہے اب بدن مرا ویران شہر میں
سرگوشیوں کی چادروں میں سو گیا جہان
سنتا ہوں اپنی چیخ میں سنسان شہر میں
اب سوچتا ہوں جسم کے بے جان شہر میں
1
58
21 دسمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
پتھر کا آئنہ یوں بنانے کا شوق تھا
ہر سنگ اس کے ہاتھ سے کھانے کا شوق تھا
آنکھیں کیے ہوئے ہوں جو رنگین خون سے
دل کو کسی پہ اشک بہانے کا شوق تھا
اے زندگی یہ میری تمنا بھی تھی کبھی
دلہن کبھی ہمیں بھی سجانے کا شوق تھا
پتھر کا آئنہ یوں بنانے کا شوق تھا
1
59
11 دسمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
بسترِ خواب سے پھر خود کو جگایا جائے
آ ذرا دردِ سفر خود کو تھکایا جائے
کچھ اسی واسطے ہم کو ہیں عطا یہ آنکھیں
غمزدو سیلِ سرِ اشک بہایا جائے
گھونسلہ ہم جو بناتے رہے چن کر تنکے
کیسے اب گھر کے کبوتر کو اڑایا جائے
بسترِ خواب سے پھر خود کو جگایا جائے
1
69
3 دسمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
یوں پہن کر یہ قبا خاک میں گڑ جاؤں گا
مثلِ شیشہ ہوں کہ پتھر سے بکھر جاؤں گا
بے زباں لہجوں کی فریاد سنا تو دوں میں
ایسے خاموش سے جنگل ہیں کہ ڈر جاؤں گا
روزِ روشن ہیں سخن جن کے پیمبر ہیں وہ
میں تو شاعر ہوں ابھی ہوں ابھی مر جاؤں گا
یوں پہن کر یہ قبا خاک میں گڑ جاؤں گا
2
48
23 نومبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
بات لفظوں میں ہو تو سادگی مر جاتی ہے
اک کہانی مری ہر بار بکھر جاتی ہے
ان ہواؤں سے میں کرتا ہوں گزارش تیری
جب سے سنتا ہوں ہواؤں سے خبر جاتی ہے
اس کی باہیں ہیں کسی پھول کے بستر جیسی
جن میں جاؤں تو تھکن ساری اتر جاتی ہے
بات لفظوں میں ہو تو سادگی مر جاتی ہے
1
54
20 نومبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
کتنا دشوار ہے آنکھوں کو چراتے رہنا
بیٹھنا محفلوں میں درد چھپاتے رہنا
روٹھنے والے تو یوں روٹھ کے سو جاتے ہیں
ان کا عمرِ رواں ماتم یہ مناتے رہنا
نغمہ و رنجشِ بے حالِ دلِ مضطر کا
سوزِ تنہائی میں یہ ساز بجاتے رہنا
کتنا دشوار ہے آنکھوں کو چراتے رہنا
1
59
18 نومبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
درندگی وہی خبطِ نیام میں ہے ابھی
ادائے مقتلِ شمشیر کام میں ہے ابھی
سبوئے رمز و قناعت پہ کر لیا سودا
مگر وہ تشنگی آسودہ جام میں ہے ابھی
سحر کی آنکھ میں کاجل کی وہ حسیں پرتیں
کہاں وہ جلوہ کسی سرخ شام میں ہے ابھی
درندگی وہی خبطِ نیام میں ہے ابھی
1
46
18 نومبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
روحِ اکسیر پہ اعجازِ محبت لکھ دے
عظمتِ جانِ پیمبر کی روایت لکھ دے
وہ تکلم کہ سرِ لوح ہے جس کا زینہ
پھوٹتی اس کی شعاؤں میں سے آیت لکھ دے
زخمِ پیچیدہ دل و جاں کی بڑھائے تکلیف
ہے اگر دور تو دوری کو نہایت لکھ دے
روحِ اکسیر پہ اعجازِ محبت لکھ دے
1
58
12 نومبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
میرے عدو کی صف میں برابر کھڑے ہوئے
سینہ سپر جو یاروں کے لشکر کھڑے ہوئے
دو تیر اک جگر کو مرے کاٹتے ہوئے
اللہ جانے مجھ پہ جو محشر کھڑے ہوئے
کیسے عبور ہوتی وہ کشتی کہ جس کے بیچ
دیوارِ راہ بن کے سمندر کھڑے ہوئے
میرے عدو کی صف میں برابر کھڑے ہوئے
1
52
12 نومبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
تمام عمر کسے یہ ملال رہتا ہے
جو مرتی آنکھوں میں پرنم سوال رہتا ہے
غموں کو عکسِ تبسم سے باندھنے کے لیے
سدا یہ آئنہ بھی خوش جمال رہتا ہے
پرندے اپنے پروں کو سہم کے کھولتے ہیں
کہیں عقاب کہیں خوفِ جال رہتا ہے
تمام عمر کسے یہ ملال رہتا ہے
1
60
6 نومبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
جو یہاں سے کبھی وہاں ہو گئے
ہم تو منزل سے بے نشاں ہو گئے
دیکھ سکتے ہیں چھو نہیں سکتے
جیسے ہم دونوں آسماں ہو گئے
اتنے مارے گئے مجھے پتھر
اب تو دردوں کا ہم سماں ہو گئے
شہر اندر کئی جہاں ہو گئے
1
55
2 نومبر 2023
رباعی
Sagar Malik
@Sagar
ضبطِ پیہم سے میں آنسو کو پیے جاتا ہوں
زخم جو بھی لگے پھر اس کو سئے جاتا ہوں
ایک چہرہ ہے جسے دیکھ کے سر جھکتا ہے
ایک کعبہ ہے جسے سجدہ کیے جاتا ہوں
ایک فطرت سے بھی معصوم طبیعت ہے مری
اس پہ یہ داغ محبت کے لیے جاتا ہوں
ضبطِ پیہم سے میں آنسو کو پیے جاتا ہوں
1
57
2 نومبر 2023
قطعہ
Sagar Malik
@Sagar
یاد آتا ہے ترا کھڑکیوں سے جھانکنا وہ
آ کسی شام در و بام کی کھڑی پہ سکھی
یاد آتا ہے ترا کھڑکیوں سے جھانکنا وہ
1
43
2 نومبر 2023
قطعہ
Sagar Malik
@Sagar
گفتگو ہجر سے ہوتی ہے سماعت خود سے
ہے محبت بھی عجب پیشِ غمِ تنہائی
مجھ سے ہو کر کے گزرنا تھا ترا کیا ساگر
ہو گیا میں تو کوئی کوچہ خمِ تنہائی
گفتگو ہجر سے ہوتی ہے سماعت خود سے
1
60
31 اکتوبر 2023
قطعہ
Sagar Malik
@Sagar
یار آیا ہے مرا آج دھمالیں ڈالو
لاؤ گھنگھرو کہاں ہے آج مجھے ناچنا ہے
یار آیا ہے مرا آج دھمالیں ڈالو
1
49
25 اکتوبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
اظہارِ عشق دل لگی کو کیا نہ کیجئے
پاگل ہیں آپ حسن پہ مچلا نہ کیجئے
معصوم جذبوں کا لہو گھبرا کے بہہ گیا
خنجر کی آنکھ سے ہمیں دیکھا نہ کیجئے
بازارِ حسنِ مصر میں یوسف کو بیچ کر
یعقوب کی نگاہوں کا سودا نہ کیجئے
اظہارِ عشق دل لگی کو کیا نہ کیجئے
1
53
24 اکتوبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
وقت کے قاعدے قانون سکھاتے جاؤ
بس یہی سر سری سا ساتھ نبھاتے جاؤ
اب کہ پوچھے گا زمانہ جو تمہارے بارے
کیا کہوں گا مجھے اے یار بتاتے جاؤ
غیر سے ہو نہ عقیدت مجھے پھر تیرے بعد
میرے افکار کی ہر سوچ جلاتے جاؤ
وقت کے قاعدے قانون سکھاتے جاؤ
1
39
24 اکتوبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
بخت پر میرے چمکا ستارہ نہیں
گرم جیسے کوئی بھی شرارہ نہیں
پیکرِ روح اس نے مرا چھو لیا
یہ حقیقت مجھے اب گوارہ نہیں
مجھ کو پیاری تھی جنت سے دنیا کبھی
جب تلک میں تجھے خود سے ہارا نہیں
بخت پر میرے چمکا ستارہ نہیں
1
58
18 اکتوبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
جلا چراغ ہواؤں میں چھوڑ آیا ہوں
میں دشتِ ہجر پہ دریا کو موڑ آیا ہوں
نہ دکھ سکی مجھے باریکیاں نگاہوں سے
سجا کے ایک حسیں خواب توڑ آیا ہوں
ندی بھنور سے چھلک کے جو آنکھ سے ٹپکی
پلک جھپک کے میں لہروں کو موڑ آیا ہوں
جلا چراغ ہواؤں میں چھوڑ آیا ہوں
1
69
18 اکتوبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
پیڑ سے پیشتر ہرا ہو گیا
عمر سے اپنی کچھ بڑا ہو گیا
عجزو غم سے نیاز مند ہو کر
ہر بشر خائفِ خدا ہو گیا
قبل اس کے سمیٹ لیتا میں
وقت سے آدمی جدا ہو گیا
پیڑ سے پیشتر ہرا ہو گیا
1
87
14 اکتوبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
اک بے بسی سی سامنے آنکھوں کے چھا گئی
جاتے ہوئے چراغ وہ گھر کے بجھا گئی
وہ کائناتِ عشق و عدم کا وجود تھی
دھرتی سے آسماں کی کشش میں سما گئی
ایسی سپاہ ناک تھی شعلوں کی تاب تھی
مقتل میں آگ پھونک کے جنگل جلا گئی
اک بے بسی سی سامنے آنکھوں کے چھا گئی
1
47
5 اکتوبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
نغمۂ درد کی روداد لیے پھرتے ہیں
شاعری کیا ہے کہ فریاد لیے پھرتے ہیں
ہم کہ تسکینِ جنوں کے لئے ہاتھوں میں فقط
جا بجا تیشۂ فرہاد لیے پھرتے ہیں
رقص کرتے ہوئے احساس نے دیکھا ہے مجھے
کس طرح ہم دِلِ برباد لیے پھرتے ہیں
نغمۂ درد کی روداد لیے پھرتے ہیں
1
62
1 اکتوبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے
تمہیں تمہارے ہی نیم خوابوں نے گر جگایا تو کیا کرو گے
پلک پلک سے چھلک رہی ہے مری اُداسی لہو کی صورت
مگر اداسی کی بارشوں نے تمہیں رلایا تو کیا کرو گے
ہوائے ظلم و ستم نے میرا یہ خستہ گھر تو گرا دیا ہے
انہی ہواؤں نے گر تمہارا دیا بجھایا تو کیا کرو گے
شکستہ شب میں تمہاری وحشت نے سر اٹھایا تو کیا کرو گے
2
290
25 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
روٹھے ہوئے لوگوں کو منایا نہیں کرتے
جو دل سے نکل جائیں وہ آیا نہیں کرتے
کیوں پنچھی وہ گھر لوٹ کے آیا نہیں کرتے
یوں اپنے شجر کو تو ستایا نہیں کرتے
مدت ہوئی ہے بسترِ شب نیم پہ سوئے
یوں قبر سے مردوں کو جگایا نہیں کرتے
روٹھے ہوئے لوگوں کو منایا نہیں کرتے
1
49
25 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
حالتِ نازک پہ تو روتا ہے کیا
آخری لمحے کوئی کھوتا ہے کیا
کچھ تو اندر میرے سینہ کوب ہے
ماتمِ دل عشق میں ہوتا ہے کیا؟
جھونک دیتی ہے روش یہ آگ میں
عشق یہ زلفوں سے بھی ہوتا ہے کیا
حالتِ نازک پہ تو روتا ہے کیا
1
48
23 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
وادئ موت میں سے گزرتے تو دیکھیے
دردوں کے آئنے میں سنورتے تو دیکھیے
الہاقِ جاں سے بستئ جاناں تلک مجھے
زخموں سے چور چور ابھرتے تو دیکھیے
خستہ بدن کی چیخ سے لرزاں ہوئی صلیب
اپنے مسیح کو ذرا مرتے تو دیکھیے
وادئ موت میں سے گزرتے تو دیکھیے
1
47
21 ستمبر 2023
قطعہ
Sagar Malik
@Sagar
رشتوں میں بھی حسد ہے محبت میں بھی خلل
ساگر بڑی خراب ہے دنیا کی انجمن
ساگر بڑی خراب ہے دنیا کی انجمن
1
38
21 ستمبر 2023
قطعہ
Sagar Malik
@Sagar
جاں جائے گی قسم سے یوں جانے پہ آپ کے
دیکھو نہ جائیے ہمیں تنہا یوں چھوڑ کے
جاں جائے گی قسم سے یوں جانے پہ آپ کے
1
49
21 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
میری دستار کی لگا قیمت
اپنے سردار کی لگا قیمت
شہر کے شہر ہو چکے نیلام
میرے گھر بار کی لگا قیمت
بیچ میں آ کھڑی ہے اک دیوار
دل کے سنسار کی لگا قیمت
میری دستار کی لگا قیمت
3
77
21 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
ہیں میرے دل میں ہزار سوچیں
کہ جن میں اکثر بے کار سوچیں
ہیں بھار لمحۂ فرصتوں پر
یہ بکھری سی اشکبار سوچیں
تجھی کو سوچیں یہ ہر گھڑی بس
غضب کی ظالم ہیں یار سوچیں
ہیں میرے دل میں ہزار سوچیں
2
45
20 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
لیلیٰ کو ہیر مجنوں کو مجنون کر دیا
اس عاشقی نے عاشقوں کا خون کر دیا
امیدِ سحر عہدِ وفا خواہشِ طلب
ہر شے کو اپنے آپ پہ ممنون کر دیا
دل سنگ و خشت بھی ہوا پھر موم بھی ہوا
پھر قہر و ظلم و زیست کا قانون کر دیا
لیلیٰ کو ہیر مجنوں کو مجنون کر دیا
2
92
18 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
سنسارِ جسم سے کسی پل لوٹ جائیں گے
دشوار ہیں کہ ہو کے سہل لوٹ جائیں گے
دھرتی سے خاک چنتے ہیں قبرِ فشار کو
ہو جائے کام آج کہ کل لوٹ جائیں گے
چٹان پختہ قائم و دائم ہے اپنی جا
ہونے دو مجھ کو خستہ و شل لوٹ جائیں گے
سنسارِ جسم سے کسی پل لوٹ جائیں گے
2
85
18 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
شکوے لبوں پہ غم کے سمیٹے چلے گئے
آئے تھے تیرے شہر بکھرتے چلے گئے
ایسی اداس شام میں نکلے تھے گھر سے ہم
رہنے جہاں میں آئے تھے مرتے چلے گئے
کیسی کلا تھی ہاتھ میں ان کے کیا کہیں ؟
کنکر کے زخم تھے کہ نکھرتے چلے گئے
شکوے لبوں پہ غم کے سمیٹے چلے گئے
2
53
17 ستمبر 2023
قطعہ
Sagar Malik
@Sagar
مٹی کے ان بتوں سے مری ہے یہ التجا
آدم بنائے پھر سے کوئی روح پھونک کے
مٹی کے ان بتوں سے مری ہے یہ التجا
2
105
15 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
کتنے بے چین رہا کرتے تھے
روز و شب ہم سے ملا کرتے تھے
تیری سانسوں کی مہک سے ہر دم
چین بھر سانس لیا کرتے تھے
اپنی آنکھوں کے تبسم سے تم
مجھ سے ہر بات کہا کرتے تھے
کتنے بے چین رہا کرتے تھے
1
68
15 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
آنکھوں میں آنسوؤں کے کنارے نہیں رہے
افسوس تیرے عشق کے مارے نہیں رہے
کیسی خلش سے بھرنے لگا ہے یہ دل مرا
وحشت کے ساتھ میرے گزارے نہیں رہے
صحرا بدل رہے ہیں حدِ شہر میں سبھی
تنہائیوں کے بھی وہ سہارے نہیں رہے
آنکھوں میں آنسوؤں کے کنارے نہیں رہے
1
55
13 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
یاروں مرے لئے اب ایسی کتاب لا دو
ذکرِ وفا نہ ہو جس میں وہ نصاب لا دو
سپنوں میں جب بھی آئے ہو جائے وہ ہمارا
قسمت کے آشیاں سے میرا یہ خواب لا دو
ہے آپ کو قسم اس میخانئہِ جنوں کی
جو مجھ کو بھی مٹا دے ایسی شراب لا دو
یاروں مرے لئے اب ایسی کتاب لا دو
1
41
12 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
بت بنتے ہیں ہزاروں انساں کوئی بنائے
ترکیب جینے کی دے پھر عشق بھی سکھائے
صحرا سے جو صدا آئے شورِ لیلیٰ کی تو
پھر کیوں نہ دوڑ کے ننگے پاؤں مجنوں جائے
کہتا ہوں جس کے مکھڑے کو ماہتاب اکثر
ہے آرزو کہ شب بھر وہ چاند جگمگائے
بت بنتے ہیں ہزاروں انساں کوئی بنائے
1
66
5 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
بدن پہ زخمِ عنایت کا کچھ حساب نہیں
گرفتِ عشق میں ہونا بھی کم عذاب نہیں
حواس باختہ کو اس میں ہوش پھر نہ ملے
یہ دردِ جاناں ہے ساقی تری شراب نہیں
کہ جب کبھی ترا جی چاہے نام لکھ ڈالے
یہ دل ہے میرا خریدی ہوئی کتاب نہیں
بدن پہ زخمِ عنایت کا کچھ حساب نہیں
1
50
1 ستمبر 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
اوراقِ زندگی کی بکھرتی ہوئی کتاب
پڑھتا ہوں سحر و شام سسکتی ہوئی کتاب
تیزاب پڑھنے والوں کے سینوں میں گھول دے
ایسی ہے میرے غم کی ترستی ہوئی کتاب
کونے میں ایک شیلف پہ اکڑی ہے دھول سے
سالوں سے رفتہ رفتہ یہ پھٹتی ہوئی کتاب
اوراقِ زندگی کی بکھرتی ہوئی کتاب
0
63
29 اگست 2023
نظم
Sagar Malik
@Sagar
وہ چہرہ دھڑکنوں کے دھڑکنے کا تار ہے
آنکھوں کا موڑ موڑ سجل آبشار ہے
لکھتی ہیں پریاں پلکوں پہ اس کی کہانیاں
شہزادیوں کے حسن کا کوہِ وقار ہے
باتوں میں اس کے جھڑتے گلابوں کی روشنی
ہونٹوں پہ بے خودی سے مچلتی بہار ہے
وہ چہرہ دھڑکنوں کے دھڑکنے کا تار ہے
2
3
116
26 اگست 2023
نظم
Sagar Malik
@Sagar
روشن رہے جہاں میں مری انگڑائیاں
خوشبو چھپی محبتوں میں میری لوریاں
اک قصر میں چھپا ہوا کچھ دھڑکنوں کا راز
ہو سکتا ہے یہی پہ کہانی مری ملے
پرچھائیوں کے آہنگوں میں بس گیا ہوں میں
موسیقیوں کے تار سے لپٹا ہوا ہوں میں
ٹوٹا خواب
1
118
19 اگست 2023
رباعی
Sagar Malik
@Sagar
راہِ مصیبتاں میں اچکتے چلے چلو
منزل کی ہے تلاش تو چلتے چلے چلو
سازش یہ کر رہی ہے فضا لوٹ جائیں ہم
اے کاروانِ مستوں ابھرتے چلے چلو
پاؤ گے ہوش بے خودی کے درمیاں میں تم
پیو یہ جامِ عاشقی مرتے چلے چلو
راہِ مصیبتاں میں اچکتے چلے چلو
1
59
17 اگست 2023
منقبت
Sagar Malik
@Sagar
سناں کو جس نے چوم کر خدا کا دیں بچا دیا
سلام اُس حسین پر کہ گھر کا گھر لٹا دیا
نجانے کتنے سال سے تھی تشنہ لب یہ کربلا
حسین نے جو ایک پھول کا لہو پلا دیا
مماثلت ہے اس لیے بھی اپنے دین سے مجھے
حسین نے جو اس میں اپنی خوشبو کو ملا دیا
سناں کو جس نے چوم کر خدا کا دیں بچا دیا
1
71
15 اگست 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
آغازِ مظالم کے ہر انجام پہ روئے
کل شب کہ بہت حسرتِ ناکام پہ روئے
پابندِ سلاسل جو ہوئے قیدئ مشتاق
وہ عشقِ خمیدہ ترے الزام پہ روئے
یوں ذہنِ اذیت میں شماراں تھے مصائب
ہر سوچ کے نادیدۂ اُوہام پہ روئے
آغازِ مظالم کے ہر انجام پہ روئے
1
63
13 اگست 2023
غزل
Sagar Malik
@Sagar
آنکھیں لہو لہو ہیں جدائی کے داغ سے
گھر اب کہ ہے جلا مرا گھر کے چراغ سے
راتیں خزاں کی اور ہے برساتوں کا ہنر
بوڑھے شجر کو پیار ہے اس اجڑے باغ سے
ہوتا نہیں ہے اس لیے بھی ٹھیک میرا کام
لیتا ہوں کام دل کا میں ہائے دماغ سے
آنکھیں لہو لہو ہیں جدائی کے داغ سے
1
210
معلومات