رقیہ ہی میری دعا ہے—
میں نے یہ بات یونہی نہیں کہی،
میں نے اسے اپنی راتوں کی تنہائی میں
آزمایا ہے۔
جب ہاتھ اٹھائے
تو لفظ یاد نہیں رہے،
بس تمہارا نام ہونٹوں پر آیا۔
جب آنکھیں بند کیں
تو قبلہ بدل گیا—
سمت وہی رہی
جہاں تمہارا خیال آباد ہے۔
رقیہ،
دعا مانگی نہیں جاتی
اگر دل پہلے ہی بھر چکا ہو۔
اور میرا دل
تمہارے ذکر سے لبریز ہے۔
میں نے کبھی لمبی فہرست نہیں بنائی
خواہشوں کی—
بس ایک تم ہو،
اور تمہارے ہونے کا یقین۔
اگر تم مسکرا دو
تو یوں لگتا ہے
جیسے آمین ہو گئی ہو۔
اگر تم خاموش رہو
تو یوں لگتا ہے
جیسے ابھی قبولیت کا وقت باقی ہے۔
رقیہ،
میں نے محبت کو عبادت کی طرح برتا ہے—
بے صدا، بے مطالبہ،
بس خلوص کے ساتھ۔
تم میری وہ دعا ہو
جو مانگی بھی گئی
اور جس کے پورا ہونے سے
خوف بھی آتا ہے—
کہ کہیں آنکھ کھل نہ جائے۔
اور سچ تو یہ ہے—
میں جنت نہیں مانگتا،
میں معجزہ نہیں مانگتا،
میں قسمت کی تبدیلی نہیں مانگتا—
میں بس یہ مانگتا ہوں
کہ جب بھی ہاتھ اٹھیں
ان میں تمہارا نام رہے۔
کیونکہ رقیہ…
تم خواہش نہیں،
تم ہی میری دعا ہو۔

0
9