| رقیہ، |
| تم چراغ ہو— |
| مگر وہ جو تیل سے نہیں، |
| محبت سے جلتا ہے۔ |
| میں نے اپنی راتیں |
| تمہارے تصور کی لو کے سامنے رکھی ہیں۔ |
| جلتا ہوں، |
| مگر شکایت نہیں کرتا۔ |
| کیونکہ روشنی |
| ہمیشہ قیمت مانگتی ہے۔ |
| رقیہ، |
| تم چراغ ہو— |
| مگر وہ جو تیل سے نہیں، |
| محبت سے جلتا ہے۔ |
| میں نے اپنی راتیں |
| تمہارے تصور کی لو کے سامنے رکھی ہیں۔ |
| جلتا ہوں، |
| مگر شکایت نہیں کرتا۔ |
| کیونکہ روشنی |
| ہمیشہ قیمت مانگتی ہے۔ |
معلومات