رقیہ،
تم چراغ ہو—
مگر وہ جو تیل سے نہیں،
محبت سے جلتا ہے۔
میں نے اپنی راتیں
تمہارے تصور کی لو کے سامنے رکھی ہیں۔
جلتا ہوں،
مگر شکایت نہیں کرتا۔
کیونکہ روشنی
ہمیشہ قیمت مانگتی ہے۔

0
7