| بے طور تیری رنجشِ پیہم سے مر گیا |
| میں تو صفِ دراز میں یکدم سے مر گیا |
| دیکھا ستارۂ شبِ عاشور جو کبھی |
| اتنا کیا ہے گریہ کہ ماتم سے مر گیا |
| شوقِ ہنر تو دیکھ مرا کس قرینے سے |
| لے کر بلائے عشق تری غم سے مر گیا |
| کس طرح ڈوبتا میں سمندر کی موج میں |
| میں اپنی آنکھ کے کسی اک نم سے مر گیا |
| رکھا گیا جو ہاتھ میں سب کے مرا وجود |
| اس کائناتِ درہم و برہم سے مر گیا |
| ایسے مریض کو ہو شفایابی کس طرح |
| وہ جو دوائے درد کے مرہم سے مر گیا |
| ملتی جزا کیا اسے قاتل کے تیر سے |
| ساگر جو اپنے گھر کے ہی خادم سے مر گیا |
معلومات