وہ چہرہ دھڑکنوں کے دھڑکنے کا تار ہے
آنکھوں کا موڑ موڑ سجل آبشار ہے
لکھتی ہیں پریاں پلکوں پہ اس کی کہانیاں
شہزادیوں کے حسن کا کوہِ وقار ہے
باتوں میں اس کے جھڑتے گلابوں کی روشنی
ہونٹوں پہ بے خودی سے مچلتی بہار ہے
مُسکان جیسے سرگموں کی بُنتی دُھن کوئی
قدموں سے جپتی دادرا ٹُھمری ستار ہے
خوشبو سکوں کی گلیوں میں وہ پھیلتی ہوئی
صندل کی لکڑیوں سے نکلتی پھوار ہے
خوابوں میں مست اس کے سرِ چاندنی تلے
یہ جھیل ہلکی لرزشوں سے تاب دار ہے
زیبائشِ نظر میں مناظر کی دلکشی
شہرِ دلِ طلسم میں ابھرا نکھار ہے
ساحل میں گھولتی ہوئی سورج کی ہر کرن
پھیلے افق پہ چاند کا مدھم شرار ہے
سینچی ہوئی وہ پھولوں سے ہر زلفِ کہکشاں
پھیلائے پنکھ تتلیوں جیسی قطار ہے
با وقتِ عصر سانس میں ساگر یہ لغزشیں
اک ممبئی کی سانولی صورت سے پیار ہے

3
54
واہ

واہ

بہت شکریہ آپ کا😍

0