| غم کے صحرا میں |
| کاش کہیں ذرا سا سکون مل جاتا، |
| کوئی شجر ہوتا |
| جس کے سائے تلے ہم چند لمحے ٹھہر جاتے۔ |
| مگر راہ میں |
| ایسا کوئی مقام آیا ہی نہیں۔ |
| اور سچ تو یہ ہے— |
| میں نے تمہیں |
| کبھی بھلایا ہی نہیں۔ |
| غم کے صحرا میں |
| کاش کہیں ذرا سا سکون مل جاتا، |
| کوئی شجر ہوتا |
| جس کے سائے تلے ہم چند لمحے ٹھہر جاتے۔ |
| مگر راہ میں |
| ایسا کوئی مقام آیا ہی نہیں۔ |
| اور سچ تو یہ ہے— |
| میں نے تمہیں |
| کبھی بھلایا ہی نہیں۔ |
معلومات