| رقیہ، |
| تم آسمان پر ٹکی ہوئی کوئی دور روشنی نہیں، |
| تم وہ ستارہ ہو |
| جو میری رات کے عین اوپر جلتا ہے۔ |
| لوگ کہتے ہیں ستارے ٹوٹتے ہیں، |
| مگر تم ٹوٹی نہیں— |
| تم نے بس میرے اندھیرے کو |
| نام دے دیا ہے۔ |
| جب سب سوجاتے ہیں |
| میں جاگ کر تمہیں سوچتا ہوں— |
| اور میری تنہائی |
| آسمان بن جاتی ہے۔ |
معلومات