رقیہ،
تم وہ صبح ہو
جس کے بعد رات کا ذکر بے معنی ہو جاتا ہے۔
تمہارے آنے سے
میرے دنوں کی پیشانی روشن ہو جاتی ہے۔
اور اگر کبھی تم دیر کر دو
تو میرا وقت
سایہ بن کر رہ جاتا ہے۔

0
7