ہیں میرے دل میں ہزار سوچیں
کہ جن میں اکثر بے کار سوچیں
ہیں بھار لمحۂ فرصتوں پر
یہ بکھری سی اشکبار سوچیں
تجھی کو سوچیں یہ ہر گھڑی بس
غضب کی ظالم ہیں یار سوچیں
مجھے یہ اندر سے کھائیں جائیں
زمانے کی پرفشار سوچیں
جو دل میں نفرت کو سوچتے ہیں
کہو یہ ان کو کہ پیار سوچیں
بہارِ گلسن میں مجھ کو یاروں
رلاتی ہیں بار بار سوچیں
بھلائیں کیسے تجھے بھلا ہم
ہیں مجھ میں بے اختیار سوچیں
بھرم مری خلوتوں کا رکھیں
ہیں یہ مری راز دار سوچیں
مجھی سے گھبرا کے رہتی ہیں یہ
شکستہ سی دل فگار سوچیں
نقاب چہرے سے ہٹ گیا ہے
ہوئی جو کچھ آشکار سوچیں
کوئی کنارہ نہیں ہے اِن کا
کروں میں کیسے شمار سوچیں
وہ در حقیقت میں پر فتن ہیں
جو لگتی ہیں پروقار سوچیں
گزشتہ صدموں کا بوجھ کم ہے؟
جو پھر میں لے لوں اُدھار سوچیں
میں زندہ کب تک رہوں یوں ساگر
مرے میں ہیں خونخوار سوچیں

21