زمیں بھی تم ہو مرا آسمان بھی تم ہو
مکیں بھی تم ہو سرِ لا مکان بھی تم ہو
قسم زمانے کے ہر ایک جلوۂ جاں کی
شعورِ ذات میں میرا جہان بھی تم ہو
کلام کرتی ہوئی دھڑکنوں کی ہر دھن میں
تمہیں ہو بہروی ایمن کی تان میں تم ہو
سماعتوں میں کہیں دور اک صدا کی طرح
مرے یقین میں میرے گمان میں تم ہو
سرِ سناں بھی یہ فرمان میرا جاری ہے
کہ میرے عشق کے ہر امتحان میں تم ہو
ذرا یہ غور بھی کر اے سخن فراموش
غزل کی اوٹ میں میری زبان میں تم ہو
تمہارے عشق کے یہ معجزات مجھ میں دیکھ
میں مر گیا ہوں مگر جسم و جان میں تم ہو
اگرچہ رنج ملے تم سے پھر بھی اے ساگر
مرے سکون کے ہر اک امان میں تم ہو

0
5