| رقیہ، |
| کاش تمہیں معلوم ہو |
| کہ کوئی ہے |
| جو تمہارا نام |
| اپنی سانسوں کے نیچے آہستہ آہستہ دہراتا ہے— |
| جیسے دعا ہونٹوں تک آئے |
| مگر آواز نہ بنے۔ |
| کوئی ہے |
| جو دن بھر کے ہجوم میں بھی |
| تمہاری کمی گنتا رہتا ہے، |
| جو ہر مسکراہٹ کے پیچھے |
| تمہاری ایک جھلک ڈھونڈتا ہے، |
| اور ہر شام |
| اپنے دل کو یہ کہہ کر بہلاتا ہے |
| کہ شاید کل |
| تم زیادہ قریب محسوس ہو۔ |
| رقیہ، |
| وہ میں ہوں۔ |
| مگر یہ بات کہنے سے پہلے |
| میں ہزار بار سوچتا ہوں— |
| اگر تمہیں معلوم ہو جائے |
| کہ کوئی تمہیں |
| اس شدت سے سوچتا ہے، |
| تو تمہیں کیسا لگے گا؟ |
| کیا تم چونک جاؤ گی؟ |
| کیا تم مسکرا دو گی؟ |
| یا تم اپنی پلکوں کے دروازے بند کر لو گی |
| کہ کہیں میرا نام |
| تمہارے دل کی دہلیز تک نہ پہنچ جائے؟ |
| میں کبھی کبھی ڈرتا بھی ہوں، |
| بہت ڈرتا ہوں— |
| کہ اگر تمہیں معلوم ہو گیا |
| تو کیا ہو گا؟ |
| کیا ہماری خاموشی ٹوٹ جائے گی؟ |
| یا وہ بھی مجھ سے روٹھ جائے گی؟ |
| رقیہ، |
| یہ محبت عجیب قید ہے— |
| میں اسے چھپاتا بھی ہوں |
| اور چاہتا بھی ہوں |
| کہ تم اسے پڑھ لو |
| بغیر میرے کہے۔ |
| میری ہر تحریر میں |
| تمہاری آہٹ ہوتی ہے، |
| ہر خاموشی میں |
| تمہارا عکس۔ |
| میں خود سے پوچھتا ہوں— |
| کیا تمہیں کبھی محسوس ہوا |
| کہ کوئی تمہارے لیے |
| اپنی نیندیں گروی رکھ رہا ہے؟ |
| رقیہ، |
| اگر تمہیں معلوم ہو |
| کہ کوئی تمہیں |
| اپنے کل سے زیادہ چاہتا ہے، |
| اپنے غرور سے زیادہ، |
| اپنی ضد سے زیادہ— |
| تو کیا تم |
| ایک لمحے کو ٹھہرو گی؟ |
| کیا تم اپنے دل سے پوچھو گی |
| کہ کیا اس میں |
| میرے نام کی جگہ بن سکتی ہے؟ |
| میں تمہیں مجبور نہیں کرنا چاہتا— |
| محبت جبر نہیں ہوتی۔ |
| مگر میں یہ ضرور چاہتا ہوں |
| کہ جب تم اپنے دل کی آواز سنو |
| تو اس میں |
| میری دھڑکن کی بازگشت بھی ہو۔ |
| رقیہ، |
| اگر کبھی تمہیں معلوم ہو |
| کہ کوئی تمہیں |
| اپنے ہونے سے بھی زیادہ چاہتا ہے— |
| تو ڈرنا مت۔ |
| یہ محبت تمہیں باندھے گی نہیں، |
| بس تمہیں اپنے حصار میں |
| محفوظ رکھنا چاہے گی۔ |
| اور اگر تم ایک لمحے کو بھی |
| یہ سوچو |
| کہ تمہیں کیسا لگے گا |
| کسی کا اتنا چاہا جانا— |
| تو اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سننا… |
| وہ جو دھڑکن ذرا سی تیز ہو گی، |
| وہ میں ہوں۔ |
معلومات