رقیہ،
تم صرف ایک نام نہیں،
تم وہ ساز ہو
جس کی پہلی جنبش سے
میری روح میں سر اُگ آتے ہیں۔
تم میری موسیقی ہو—
اور میں ایک بےساز شاعر،
جو تمہارے ذکر سے ہی
اپنی دھن مکمل کرتا ہے۔
جب تم چلتی ہو
تو تمہاری پائل کی چھم چھم
یوں لگتی ہے
جیسے **راگ بہرویں** کی صبح
آہستہ آہستہ زمین پر اتر رہی ہو۔
تمہاری پازیب کی لرزش میں
کوئی نرم سی تان پوشیدہ ہوتی ہے،
جو دل کے تاروں کو
بغیر چھوئے چھیڑ دیتی ہے۔
تم مسکراتی ہو
تو **راگ ایمن** کی شام
میری سانسوں میں گھل جاتی ہے۔
وہی وقار، وہی لطافت،
وہی اجالا جو اندھیرے کو
محبت سے سمجھاتا ہے۔
کبھی تمہاری آنکھوں کی گہرائی
**درباری** بن جاتی ہے—
سنجیدہ، باوقار،
اور میں اپنے ہی دل کے دربار میں
تمہارا قیدی ٹھہرتا ہوں۔
تمہاری ہنسی کی کھنک
**راگ بہاگ** کی شوخی رکھتی ہے،
اور کبھی **مالکونس** کی راتوں جیسی
گہری اور پراسرار ہو جاتی ہے۔
جب تم خاموش ہوتی ہو
تو وہ خاموشی بھی
**راگ ماروا** کی ڈھلتی شام بن کر
میرے اندر اترتی ہے۔
رقیہ،
میری ہر غزل کا مطلع
تمہارے نام سے روشن ہے۔
میرے ہر شعر کی ردیف
تمہاری سانسوں سے جڑی ہے۔
میری نظموں کی پیشانی پر
تمہارا نام ایسے سجا ہے
جیسے پہلی بارش کے بعد
مٹی پر خوشبو۔
میں جب قلم اٹھاتا ہوں
تو الفاظ نہیں لکھتا—
میں تمہیں لکھتا ہوں۔
میری ہر بحر میں
تمہاری آہٹ ہے،
ہر قافیہ تمہاری طرف جھکتا ہے۔
تم میری موسیقی کا وہ سر ہو
جس کے بغیر
کوئی راگ مکمل نہیں ہوتا۔
**بہرویں** تم سے،
**ایمن** تم سے،
**درباری** تم سے،
**بہاگ** تم سے،
**مالکونس** تم سے—
حتیٰ کہ میری بےنام دھنیں بھی
تمہارے لمس سے پہچان پاتی ہیں۔
رقیہ،
کبھی سوچو
کوئی تمہیں اس شدت سے چاہے
کہ تم اس کی ہر دھن میں بس جاؤ،
ہر ساز میں گونجو،
ہر خاموشی میں سنائی دو—
تو کیسا لگے گا؟
کبھی اپنے دل کی دہلیز پر ٹھہر کر سننا،
وہ جو ہلکی سی دھڑکن
تمہاری پازیب کی چھم چھم سے ہم آہنگ ہو جائے—
وہ میں ہوں۔
میں تمہیں قید نہیں کرنا چاہتا
نہ کسی وعدے کی زنجیر پہ باندھنا چاہتا ہوں۔
میں تو بس یہ چاہتا ہوں
کہ جب بھی کوئی راگ بجے
تم خود کو اس میں پہچان لو—
اور جان لو
کہ کوئی ہے
جو تمہیں
اپنی موسیقی کی آخری تان تک چاہتا ہے۔
اتنا چاہتا ہے
کہ اگر تم سن لو
تو سہم جاؤ—
اور اگر دل سے سن لو
تو شاید
میری دھن بن جاؤ۔

0
5