| رقیہ، |
| تم حقیقت سے زیادہ |
| ایک خواب لگتی ہو— |
| وہ خواب |
| جو آنکھ کھلنے کے بعد بھی |
| دل سے نہیں جاتا۔ |
| میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا |
| تو یوں لگا |
| جیسے نیند اور بیداری کے بیچ |
| کوئی نرم سا لمحہ ٹھہر گیا ہو۔ |
| نہ میں مکمل جاگ رہا تھا |
| نہ پوری طرح سویا تھا— |
| بس تم تھیں |
| اور تمہارا ہلکا سا نور۔ |
| رقیہ، |
| تم وہ خواب ہو |
| جو رات کی ملکیت نہیں ہوتا، |
| جو دن کی روشنی میں بھی |
| دل کے کسی کونے میں چلتا رہتا ہے۔ |
| میں نے تمہیں چھونا نہیں، |
| صرف محسوس کیا ہے— |
| جیسے خواب کو محسوس کیا جاتا ہے۔ |
| پکڑنے کی کوشش کرو |
| تو بکھر جاتا ہے، |
| آنکھیں بند کرو |
| تو اور واضح ہو جاتا ہے۔ |
| کبھی کبھی ڈر لگتا ہے |
| کہ کہیں تم بھی |
| کسی صبح کی طرح |
| آنکھ کھلتے ہی غائب نہ ہو جاؤ۔ |
| مگر پھر سوچتا ہوں— |
| کچھ خواب |
| پورے ہونے کے لیے نہیں ہوتے، |
| بس انسان کو بدل دینے کے لیے آتے ہیں۔ |
| رقیہ، |
| اگر تم خواب ہو |
| تو مجھے نیند عزیز ہے، |
| اور اگر تم حقیقت ہو |
| تو مجھے اپنی آنکھوں پر یقین ہے۔ |
| کیونکہ سچ یہ ہے— |
| میں نے تمہیں جیا ہے |
| اس طرح |
| جیسے لوگ اپنے سب سے خوبصورت خواب کو جیتے ہیں۔ |
| اور اگر کبھی تم یہ سنو |
| تو مسکرا دینا— |
| کہ کوئی ہے |
| جو تمہیں خواب کہہ کر بھی |
| حقیقت سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ |
معلومات