جس دن سے تمہیں دیکھا ہے
ایک نرم سی بےچینی میرے ساتھ رہتی ہے—
جیسے دل تو میرے پاس ہو
مگر اس کی دھڑکن تمہارے نام لکھ دی گئی ہو۔
سانس آتی ہے، جاتی ہے—
مگر اس میں ہوا نہیں،
بس تمہاری یاد کی ہلکی سی خوشبو ہے
جو مجھے جینے بھی دیتی ہے اور بےحال بھی رکھتی ہے۔
میں اس طرح بےسُدھ ہوں
کہ چلنے کی سکت بھی پوری نہیں رہتی۔
میرے بدن کے ہر انگ میں جیسے ہمت کم پڑ گئی ہو،
اور تمہارا خیال ہی واحد سہارا ہو۔
میں کبھی روبرو تمہیں دیکھ نہ سکا—
جی بھر کر، آنکھ بھر کر۔
تمہاری آنکھوں میں ٹھہر کر جھانک نہ سکا،
تم سے کھل کر دو لفظ کہہ نہ سکا۔
اپنی اس جھجک، اس شکستگی پر
مجھے افسوس ہے—
بہت گہرا، بہت سچا افسوس۔
سنا ہے تم جا چکی ہو۔
یہاں کے در و دیوار تک بھلا چکی ہو۔
ہر نقش مٹا چکی ہو—
یہاں تک کہ میرے وہم و گماں کا سایہ بھی باقی نہیں۔
جسے میں دیکھ نہ سکا آنکھ بھر
وہ چہرہ بھی شاید اب میری قسمت میں نہیں۔
بس ایک احساس ہے—
جو میرے اندر زندہ ہے،
مگر زندہ لاش کی طرح۔
نجانے ابھی تم سے کیا کچھ کہنا تھا۔
چند دن تو تمہارے ساتھ مجھے رہنا تھا۔
ایک کہانی سنانی تھی،
ایک شعر تمہارے نام کرنا تھا۔
تمہیں بتانا تھا کہ
تمہیں دیکھ کر دنیا اچانک معنی خیز لگنے لگتی ہے۔
تمہیں سنانا تھا کہ
تمہاری ہنسی میں مجھے اپنی دعا کا جواب سنائی دیتا ہے۔
اب لگتا ہے
میری زبان خاموش تھی—اور خاموش ہی رہے گی۔
میری خواہش بھی میری طرح
بےہوش سی پڑی رہے گی۔
تم سے پوچھنا تھا—
یہ احساس کیا ہے جو تم نے جگایا؟
یہ شعلہ کیا ہے جو میرے دل میں رکھا؟
یہ کون سی آیت ہے جس کا الہام مجھ پر ہوا؟
یہ کون سی نیکی ہے جس کا انعام مجھے ملا؟
یہ محبت ہے—
یا فقط ایک حسرت جو عمر بھر ساتھ چلے گی؟
اور اب
جب تم شاید کہیں اور ہو
اور میں یہیں—
تو بس اتنا جان لو:
میں نے تمہیں کبھی پایا نہیں،
مگر کھو دینے کا دکھ
پوری شدت سے محسوس کیا ہے۔
اور سچ یہ ہے—
ابھی تو بہت کچھ کہنا تھا…
مگر شاید کچھ محبتیں
کہی نہیں جاتیں،
بس دل میں رکھی جاتی ہیں
کسی مقدس امانت کی طرح۔

13