رقیہ،
تم تتلی ہو—
رنگوں میں لپٹی ہوئی
اور ہوا کے سپرد ایک نرم سا معجزہ۔
تم جب چلتی ہو
تو یوں لگتا ہے
جیسے بہار نے اپنے پروں کو آواز دی ہو۔
تمہاری ہنسی
پھولوں کے اوپر اڑتی ہوئی روشنی ہے،
اور تمہاری خاموشی
کسی باغ کی گہری سانس۔
میں نے تمہیں کبھی تھامنے کی خواہش نہیں کی—
تتلیوں کو قید نہیں کیا جاتا،
انہیں صرف دیکھا جاتا ہے
دعا کی طرح،
حیرت کی طرح۔
رقیہ،
تمہارے رنگ
میرے دنوں کی سفیدی پر بکھر گئے ہیں۔
میں جہاں بھی دیکھتا ہوں
کوئی نہ کوئی سایہ
تمہارے پروں جیسا دکھائی دیتا ہے۔
تم اگر قریب آ جاؤ
تو دل دھڑکنے لگتا ہے
جیسے کوئی بچہ پہلی بار
تتلی کو اپنی انگلی پر محسوس کرے۔
اور اگر دور ہو جاؤ
تو یوں لگتا ہے
جیسے باغ سے بہار اٹھا لی گئی ہو۔
میں شاعر بھی شاید اسی لیے ہوں
کہ تمہارے پروں کی ہلکی سی جنبش کو
لفظوں میں محفوظ کر سکوں۔
ورنہ رنگوں کو بیان کرنا
آسان نہیں ہوتا۔
رقیہ،
تم تتلی ہو—
اور میں وہ شاخ
جو تمہارے ایک لمحاتی ٹھہراؤ پر
عمر بھر فخر کر سکتی ہے۔

0
6