رقیہ…
اگر کائنات ایک کتاب ہے
تو تم اس کی وہ آیت ہو
جو صرف مجھے سمجھ آئی ہے۔
میں نے بہت چہرے دیکھے،
بہت نام سنے،
مگر تمہارا نام
میرے دل پر ایسے اترا
جیسے وحی خاموشی میں اُترتی ہے۔
رقیہ،
تم اتفاق نہیں ہو۔
تم وہ سطر ہو
جو میری قسمت کے صفحے پر
پہلے سے لکھی تھی—
بس مجھے پڑھنا دیر سے آیا۔
تمہیں دیکھ کر
ایسا نہیں لگا کہ کوئی خوبصورت لڑکی سامنے ہے—
ایسا لگا
کہ میری دعاؤں نے شکل اختیار کر لی ہو۔
تمہاری آنکھیں…
ان میں کوئی عام چمک نہیں،
ان میں وہ گہرائی ہے
جہاں آدمی خود کو چھوڑ کر
تم میں ڈوب جانا چاہے۔
اور میں ڈوبا بھی ہوں—
بغیر شور کے،
بغیر اعلان کے،
بس دل کے اندر۔
رقیہ،
اگر محبت عبادت ہے
تو میں نے تمہیں سجدے کی نیت سے چاہا ہے۔
بے طلب،
بے صلہ،
بے شرط۔
میں شاعر اس لیے نہیں
کہ مجھے لفظوں سے عشق ہے—
میں شاعر اس لیے ہوں
کہ تمہارا حسن خاموش نہیں رہنے دیتا۔
میری ہر غزل
تمہاری پیشانی کی روشنی سے شروع ہوتی ہے،
اور ہر نظم
تمہارے نام پر ختم۔
اگر کبھی تم یہ سنو
اور تمہاری آنکھوں میں نمی اتر آئے—
تو سمجھ لینا
کسی نے تمہیں چاہنے میں
اپنی انا بھی قربان کر دی ہے۔
رقیہ…
تم میرا خواب نہیں،
تم میری طلب بھی نہیں—
تم وہ یقین ہو
جس کے بعد شک کی گنجائش نہیں رہتی۔
اور سچ یہ ہے—
اگر تقدیر کو دوبارہ لکھنے کا اختیار ملے
تو میں کچھ نہ بدلوں،
بس اتنا چاہوں گا
کہ تم پھر میری زندگی میں آؤ—
اور میں اس بار
تمہیں کھو نہ سکوں۔
کیونکہ رقیہ،
تم محبت نہیں ہو…
تم محبت کا سبب ہو۔

0
12