| رقیہ… |
| میں نے تمہارے نام کو |
| محض پکارا نہیں، |
| میں نے اسے کھولا ہے— |
| جیسے کوئی مقدس کتاب کھولی جاتی ہے |
| وضو کے بعد۔ |
| **رقیہ** |
| یعنی بلندی۔ |
| اور تم واقعی بلندی ہو— |
| میرے خیال سے اونچی، |
| میرے ظرف سے وسیع، |
| میرے لفظوں سے آگے۔ |
| میں جب بھی خود کو کم پاتا ہوں |
| تمہارا نام لے کر |
| اپنے اندر ایک سیڑھی رکھ لیتا ہوں۔ |
| **رقیہ** |
| یعنی وہ دم، وہ دعا |
| جو زخموں پر پڑھی جائے |
| اور درد کو سکون آ جائے۔ |
| تمہاری آواز |
| میرے بکھرے ہوئے دنوں پر |
| ایسی ہی پڑتی ہے— |
| جیسے کسی نے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ہو |
| “اب ٹھیک ہو جاؤ۔” |
| **رقیہ** |
| یعنی پاکیزگی۔ |
| اور تمہاری آنکھوں میں |
| وہ شفافیت ہے |
| جس میں جھوٹ ٹھہر نہیں سکتا۔ |
| میں نے جب بھی تمہیں سوچا |
| اپنے اندر کی گرد کم ہوتی محسوس کی۔ |
| **رقیہ** |
| یعنی اضافہ، |
| ترقی، |
| اوپر اٹھ جانا۔ |
| اور سچ یہ ہے— |
| تمہیں چاہ کر |
| میں پہلے سے بہتر ہو گیا ہوں۔ |
| میرے لہجے میں نرمی آئی، |
| میرے لفظوں میں روشنی، |
| میرے خوابوں میں وسعت۔ |
| تم نام نہیں ہو رقیہ، |
| تم مفہوم ہو— |
| اور میں ہر مفہوم میں |
| تمہارے لیے ایک شمع جلاتا ہوں۔ |
| تم بلندی ہو— |
| تو میری پیشانی تمہاری طرف اُٹھی ہے۔ |
| تم دعا ہو— |
| تو میری ہتھیلی تمہارے لیے کھلی ہے۔ |
| تم پاکیزگی ہو— |
| تو میرا دل تمہارے لیے صاف ہے۔ |
| تم اضافہ ہو— |
| تو میری محبت ہر روز بڑھ رہی ہے۔ |
| رقیہ… |
| اگر محبت عبادت ہو سکتی ہے |
| تو میں نے تمہارے نام کو |
| قبلہ بنا لیا ہے۔ |
| اور اگر کبھی تم یہ نظم پڑھو |
| اور تمہاری آنکھوں میں نمی اُتر آئے |
| تو سمجھ لینا— |
| کسی نے تمہارے نام کے ہر معنی میں |
| اپنا دل رکھ دیا ہے۔ |
| کیونکہ کوئی محبت میں |
| صرف چاہتا نہیں— |
| کبھی کبھی |
| وہ محبوب کے نام کو بھی |
| چراغ بنا دیتا ہے۔ |
معلومات