| رقیہ… |
| یاد ہے وہ دن؟ |
| جب شام نے آہستہ آہستہ |
| اپنے سنہری دوپٹے کو سمیٹا تھا، |
| اور ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی— |
| بالکل تمہاری خاموشی جیسی۔ |
| یاد ہے وہ دن رقیہ، |
| جب میں نے ایک سگریٹ جلائی تھی |
| اور تم نے چہرے پر نقاب رکھ لیا تھا— |
| جیسے دھواں نہیں، |
| میری بے ترتیبی سے خود کو بچا رہی ہو۔ |
| میں نے ہنستے ہوئے کہا بھی تھا کچھ، |
| مگر تمہاری آنکھوں میں |
| ایک نرمی سی اُتر آئی تھی— |
| جیسے تم کہنا چاہتی ہو |
| کہ مجھے تمہاری عادتوں سے نہیں، |
| تمہاری فکر ہے۔ |
| رقیہ، |
| تمہیں شاید معلوم نہیں |
| میں نے اس دن کیا کیا۔ |
| میں نے سگریٹ کو انگلیوں میں یوں تھاما |
| کہ اس کا دھواں |
| تمہاری سمت نہ جائے۔ |
| ہوا کا رُخ دیکھ کر کھڑا رہا— |
| کہ کہیں تمہاری سانسوں تک |
| میری کوتاہی نہ پہنچ جائے۔ |
| اور جب جیب سے تمہاری تصویر نکالی |
| تو عجیب سا خیال آیا— |
| کہ اس کاغذ پر بھی |
| دھواں نہ پڑنے دوں۔ |
| میں نے راکھ جھاڑی |
| مگر تمہاری مسکراہٹ پر |
| ایک ذرّہ تک نہ آنے دیا۔ |
| اس لمحے مجھے پہلی بار سمجھ آیا |
| کہ محبت کیا ہوتی ہے— |
| وہ جو خود کو جلائے، |
| مگر دوسرے کو محفوظ رکھے۔ |
| وہ جو دھواں بن کر بکھر جائے، |
| مگر محبوب کی فضا کو صاف چھوڑ دے۔ |
| رقیہ، |
| یاد ہے وہ دن؟ |
| تم نے نقاب تو چہرے پر رکھا تھا، |
| مگر میری آنکھوں پر سے |
| ایک پردہ ہٹا دیا تھا۔ |
| مجھے سکھا دیا تھا |
| کہ عشق صرف لفظوں کا کھیل نہیں— |
| عشق احتیاط بھی ہے، |
| عشق خیال بھی ہے، |
| عشق وہ لمحہ ہے |
| جب آدمی اپنی عادت چھوڑنے کا سوچ لے |
| صرف ایک مسکراہٹ کی خاطر۔ |
| آج بھی کبھی |
| کوئی دھواں سا اٹھتا ہے دل میں، |
| تو تم یاد آتی ہو— |
| اور میں بےاختیار |
| کھڑکی کھول دیتا ہوں۔ |
| کہ کہیں |
| تمہاری تصویر پر |
| اب بھی |
| دھواں نہ پڑ جائے۔ |
معلومات