رقیہ،
تم کوئی عام سا پھول نہیں،
تم وہ خوشبو ہو
جو کھلنے سے پہلے ہی دل میں اتر جاتی ہے۔
تمہیں دیکھوں تو یوں لگتا ہے
جیسے صبح نے ابھی ابھی آنکھ کھولی ہو
اور شبنم کی بوندیں
تمہارے نام کی روشنی میں ٹھہر گئی ہوں۔
تمہاری مسکراہٹ
نرم پنکھڑیوں کی طرح ہے—
چھونے کو جی چاہے
مگر ڈر لگے
کہ کہیں لمس کی سختی سے ماند نہ پڑ جائے۔
تمہاری آنکھیں
کسی باغ کی گہرائی ہیں،
جہاں ہر رنگ سچا لگتا ہے
اور ہر سانس میں بہار بسی ہوتی ہے۔
رقیہ،
تم وہ پھول ہو
جو موسموں کے محتاج نہیں ہوتے۔
تمہارا کھلنا
کسی ایک شاخ کا نہیں،
میرے دل کی پوری وادی کا جشن ہے۔
میں شاعر بھی شاید اسی لیے ہوں
کہ تمہارے وجود کی خوشبو کو
لفظوں میں سمیٹ سکوں—
ورنہ خوشبو کو بیان کرنا
ہمیشہ مشکل رہا ہے۔
اور سچ کہوں؟
اگر کبھی دنیا بےرنگ لگے
تو بس تمہارا تصور کر لینا—
مجھے یقین ہے
کہ جہاں تم ہو
وہاں خزاں زیادہ دیر ٹھہر نہیں سکتی۔

0
5