| رقیہ، |
| تمہارا چہرہ صرف چہرہ نہیں، |
| رات کے ماتھے پر رکھا ہوا اک چاند ہے۔ |
| میں نے بہت چاند دیکھے ہیں— |
| آسمان والے بھی، |
| اور خوابوں والے بھی— |
| مگر تمہارا چہرہ |
| ان سب سے زیادہ روشن، |
| ان سب سے زیادہ قریب لگتا ہے۔ |
| تم جب سامنے آتی ہو |
| تو یوں محسوس ہوتا ہے |
| جیسے اندھیری رات نے |
| اچانک کوئی دلیل پا لی ہو۔ |
| تمہاری پیشانی پر ٹھہری روشنی |
| میرے دنوں کی تھکن اتار دیتی ہے، |
| اور تمہاری آنکھوں میں |
| ایسی چمک ہے |
| جیسے چاندنی پانی پر اُتر آئی ہو۔ |
| میں کبھی جی بھر کے دیکھ نہ سکا تمہیں— |
| ڈرتا رہا کہ کہیں نظر ہی نہ لگ جائے |
| اس چاند کو |
| جو میری قسمت کے آسمان پر |
| بس چند لمحوں کو نمودار ہوا تھا۔ |
| رقیہ، |
| تمہارا چہرہ |
| کسی مکمل دعا کی طرح ہے— |
| سادہ، روشن، |
| اور دل کو سکون دینے والا۔ |
| اگر کبھی میں شاعر کہلاؤں |
| تو بس اس لیے |
| کہ میں نے تمہارے چہرے کی روشنی کو |
| لفظوں میں قید کرنے کی کوشش کی۔ |
| ورنہ سچ تو یہ ہے— |
| چاند کو بیان کرنا آسان نہیں، |
| اور تم… |
| تم تو اس سے بھی زیادہ حسین ہو۔ |
| اور میں؟ |
| میں بس وہ شخص ہوں |
| جو ہر رات |
| اپنی تنہائی کے آسمان پر |
| تمہارے چہرے کا چاند ڈھونڈتا ہے۔ |
معلومات