| رقیہ، |
| اگر کبھی تم اپنے ہاتھوں پر مہندی سجاؤ |
| تو ذرا ٹھہر کر دیکھنا— |
| اس کے رنگ میں کہیں میرا لہو تو شامل نہیں؟ |
| یہ جو گہرا سرخ اُبھرتا ہے نا ہتھیلی پر، |
| یہ فقط پتیوں کا رس نہیں ہوتا، |
| کبھی کبھی کسی کے دل کا موسم بھی |
| اسی رنگ میں ڈھل جاتا ہے۔ |
| میں نے تمہیں چاہا ہے |
| ایسے جیسے لفظ اپنے معنی کو چاہتے ہیں، |
| جیسے دعا اپنے قبول ہونے کو چاہتی ہے۔ |
| میری ہر غزل، ہر نظم |
| آخرکار تم تک ہی آ کر رک جاتی ہے۔ |
| میں شاعر بھی شاید اسی لیے ہوں |
| کہ تمہارے حسن کو بیان کر سکوں— |
| ورنہ لفظوں سے میرا کیا تعلق تھا؟ |
| رقیہ، |
| تم جب ہنستی ہو |
| تو یوں لگتا ہے جیسے کائنات کو وجہ مل گئی ہو چلتے رہنے کی۔ |
| اور جب تم خاموش ہوتی ہو |
| تو میری ساری شاعری بے وزن ہو جاتی ہے۔ |
| میں نے اپنے لہو سے |
| تمہارے نام کا چراغ جلایا ہے۔ |
| اگر کبھی تم نے اپنے ہاتھ پہ مہندی لگائی |
| اور وہ رنگ معمول سے زیادہ گہرا اُترا— |
| تو سمجھ لینا |
| کسی نے تمہیں بے پناہ چاہا ہے۔ |
| میں تمہیں پانے کی ضد نہیں کرتا، |
| میں تمہیں کھونے کا تصور بھی نہیں کرتا— |
| میں تو بس تمہیں محسوس کرتا ہوں |
| جیسے سانس اپنے ہونے کو محسوس کرتی ہے۔ |
| رقیہ، |
| میری ہر تحریر تمہاری ہے، |
| میرا ہر خواب تمہارا ہے، |
| اور اگر کبھی تم یہ نظم پڑھو |
| تو انکار مت کرنا— |
| کیونکہ کچھ محبتیں |
| انکار سے نہیں مرتیں، |
| وہ آنکھوں میں نمی بن کر |
| ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ |
| اور میں چاہتا ہوں |
| کہ جب تم یہ سطریں پڑھو |
| تو تمہاری آنکھوں میں جو نمی اُترے |
| وہ فقط الفاظ کی نہیں، |
| میری محبت کی گواہی ہو۔ |
معلومات