Circle Image

عادل ابن ریاض-Adil Riaz Canadian

@urducanadatv

نوائے سحر پہلا ایڈیشن۔عادل ابن ریاض

دل سے اب ہر ایک خواہش، ہر پکارے مسترد
تُو نہیں تو زندگی کے یہ خسارے مسترد
ہم نے اِک تیرے سوا دیکھا نہیں کوئی جمال
اب نظر کی حد میں جتنے ہیں نظارے، مسترد
جس میں شامل ہو نہ تیرے پاؤں کی آہٹ کا لمس
ہم کو اپنے گھر کے وہ روشن دِوارے مسترد

0
4
پڑے ہیں سوئے چمن کے داعی
خموش ہیں انجمن کے داعی
وہ اب جو ہجرت نصیب ٹھہرے
وہ سب کے سب تھے وطن کے داعی
کدھر ہیں جانیں لٹانے والے
کہاں ہیں سرو و سمن کے داعی

0
5
مٹ جائے گی کلفت دل سے، اِن بیتابی کے برسوں کی
پھر پیاس بجھے گی آنکھوں کی، اور پیاسے دید کے ترسوں کی
تم ہمت ہار کے مت بیٹھو، اے راہِ وفا کے مت وا لو!
بس تھوڑی سی ہی دوری ہے، اب کل کی یا پھر پرسوں کی
کیوں ہجر کی کالی راتوں سے گھبراتے ہو تم اے یارو!
آغوش میں آنے والی ہے، وہ صبحِ منور برسوں کی

0
7
یہ دنیا ایک میلہ ہے، یہاں سے سب کو جانا ہے
خوشی ہو یا کوئی غم ہو، اسے ہنس کر نبھانا ہے
سفر ہے زندگی کا یہ، سمیٹو تم دعا سب سے
یہی نیکی کا جذبہ ہی تمہارا اک خزانہ ہے
کبھی طوفانِ غم گھیرا کریں جب چار سو تم کو
خدا کے سامنے رونا سکوں کا اک بہانہ ہے

0
11
خاکِ راہِ شہرِ جاناں، دل کا ارماں ہو گئی
پھر وہی مٹی گلے کا، طوقِ ہجراں ہو گئی
شور تھا مٹی میں ملنا، ایک دن سب کو یہاں
وہ مگر نتھنوں کے رستے، داخلِ جاں ہو گئی
رقص کرتی تھی جو ہر سو اک بگولے کی طرح
سانس کی نالی میں آ کر، وہ غزل خواں ہو گئی

0
7
محبت کے چراغوں کو ستم سے کیوں بجھاتے ہو
درِ مقتل پہ کیوں بھائی کو اپنے تم بلاتے ہو
کتابِ حق تو کہتی ہے کہ ہے انسان اشرف ہے
یوں انسانی سروں کو کیوں سرِ نیزہ سجاتے ہو
جہاں تعلیمِ حق یہ تھی کہ الفت عام ہو جائے
وہیں اب نفرتوں کی خارداریں کیوں لگاتے ہو

0
6
عجب دستور دیکھا ہے یہاں آنے یا جانے کا
کسی کو ہوش ہی کب ہے کسی کا سوگ کرنے کا
ہمارے بعد بھی یہ شہر ویسا ہی رہے گا اب
کسی کے پاس فرصت ہے بھلا آنسو بہانے کا
جنازہ اٹھ گیا اور بھیڑ اپنے کام پر لوٹی
نہ تکیہ موت کا ہے اور نہ پروا ہے زمانے کا

0
5
سکوتِ شام میں گہری وہ بات ہو گئی ہے
سفر میں ایسی کٹھن اب کے رات ہو گئی ہے
عجیب رنگ جو بدلا ہے اب کے موسم نے
اسی سے ملنا تو اب کیا وہ بات ہو گئی ہے
پلٹ کے دیکھوں تو رستے دکھائی دیتے نہیں
وہ جس کے نام کی اب یاد ساتھ ہو گئی ہے

0
6
ملو تم اب وفاؤں سے، صدائیں کام آئیں گی
جدائی کے اندھیروں میں ضیائیں کام آئیں گی
نہ کر اب فخر اتنا ان بدلتے وقت کے سُر پر
بگڑ جائے گی جب تالیں، دعائیں کام آئیں گی
جہاں میں کشتیاں اپنی ڈبو دیتے ہیں خود راہی
نہ ساحل کام آئے گا نہ لہریں کام آئیں گی

0
14
ترے خیال نے پھر دل کو بے حساب کیا
وہ میری ہجر بھری راتوں کو گلاب کیا
ہر ایک سانس میں خوشبو تری بکھرنے لگی
تری نگاہ نے موسم کو کامیاب کیا
میں اپنے زخم لیے پھر رہا تھا شہروں میں
تری صدا نے مجھے صاحبِ کتاب کیا

0
4
خیالِ یار کو تصویرِ جاں بنانے لگے
ہم اپنے لفظ سے اک دنیا اب سجانے لگے
میں "وصل" لکھوں تو وہ بے قرار ہو جائے
میں "قرب" لکھوں تو وہ قریب آنے لگے
وہ میرے سامنے بیٹھا رہے تصور میں
میں "دیکھنا" لکھوں، وہ نظریں تک ملانے لگے

0
4
صرف حیوانوں کا کٹنا ہی تو قربانی نہیں
دل اگر بدلا نہیں تو یہ مسلمانی نہیں
اللہ کو پہنچے گا بس تیرے ہی دل کا تقویٰ ہی
خون پہنچے گا نہ کوئی ایسی نادانی نہیں
اپنے اندر کے غرور و کبر کو تو ذبح کر
نفس کی فرمانبرداری، مسلمانی نہیں

0
4
وہ خوابِ وصل کی بنیاد پر جو سجتے ہیں
وہ دل کبھی تو تماشائے ہجر بنتے ہیں
ہزار بار جنہیں راستوں نے لوٹا ہو
وہی مسافر اب اُمیدِ نو سے ڈرتے ہیں
پلٹ کے دیکھنے والی وہ آنکھ کیا جانے؟
کہ پیچھے موڑ پہ کتنے چراغ بجھتے ہیں

0
3
خود اپنے ہی وجود کا ملبہ ہوا ہوں میں
جس سے نکل سکا نہ وہ قضیہ ہوا ہوں میں
ہر شخص اپنے غم کی تلافی میں مست ہے
کس نے یہ کہہ دیا کہ مسیحا ہوا ہوں میں
اک عمر کٹ گئی ہے اسی دشتِ زار میں
اب جا کے اپنے سے بھی شناسا ہوا ہوں میں

0
6
دل کے احوال صاف کرتا ہوں
رو کے خود کو معاف کرتا ہوں
تیرے رستے کی خاک چنتا ہوں
شوق کا اعتکاف کرتا ہوں
مجھ کو دنیا غریب کہتی ہے
میں خدا سے طواف کرتا ہوں

0
8
کوئی موسم ہو، اترتا ہے نظر میں وہ شخص
جیسے سورج کی کرن کھیلے سحر میں وہ شخص
جس کو سوچا بھی تو کانٹے سے چبھے یاد اس کی
کتنا پیارا ہے، مگر ڈوبا ہے ڈر میں وہ شخص
میں نے سوچا تھا کہ اب ترکِ تعلق کر لوں
پھر پکارے گا مجھے راہِ گزر میں وہ شخص

0
6
جب تلک زخم نہ گہرا ہو، غزل کہیے گا
دل کا احوال نہ بدلا ہو، غزل کہیے گا
صرف لفظوں سے کہاں حقِ وفا ہوتا ہے
خونِ دل ساز پہ بکھرا ہو، غزل کہیے گا
بات جب حد سے گزر جائے تو ملتا ہے سکوں
شور جب روح میں برپا ہو، غزل کہیے گا

0
5
اے دیس کیا کروں ترے نصیب جل گئے
وہ جو وفا شعار تھے قریب جل گئے
پلے تھے وحشتوں میں وہ محبتوں سے دور
محبتوں سے دل کے سب غریب جل گئے
جواب دے چکے تھے میرا روگ دیکھ کر
سو تندرست دیکھ کر طبیب جل گئے

0
3
مزدور ڈے پر ایک پرانی تحریر
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
تو سوچ پلٹ آئے وہ غربت کا زمانہ
محسوس تجھے ہو گا کوئی خوف پرانا
غربت سے کئی جا چکے ہیں موت کے منہ میں
بچے بھی بلکتے ہیں کہ ملتا نہیں دانہ

0
7
نہ خون و گوشت سے مطلب، نہ اس کا ہے خدا طالب
جو پہنچا ہے وہ خالق تک، ہے دل کا سلسلہ طالب
خلیل اللہ نے ہم کو سکھایا ہے یہی نقطہ
جو ہو محبوب سب سے، چھوڑ دے اس کو رضا طالب
حقیقی بندگی یہ ہے، جھکا دے نفس کو اپنے
خدا کے حکم کے آگے، مٹا حرص و انا طالب

0
6
اے سخی کچھ کرم ادھر بھی ہو
کچھ تو لائک صنم ادھر بھی ہو
صنفِ نازک نہیں ہوں میں گرچہ
شیئر اک کم سے کم ادھر بھی ہو
وقت لگتا ہے کچھ بھی اس میں کیا
ایک دو محترم ادھر بھی ہو

0
7
جو مدتوں تیرے شہرِ الفت سے میں جدا تھا
تجھے پتہ ہے کہ تیری یادوں سے رابطہ تھا
میں سوچتا ہوں جو ساتھ گزرے ہوئے دنوں کو
تو خود سے کہتا ہوں کتنا دل کش وہ سلسلہ تھا
اداس تجھ کو جو دیکھتا دل اداس ہوتا
تو خوش دکھے تو یہ دل ترے ساتھ ناچتا تھا

0
8
بھولیں گے سب کو ہم نے یہی حلفیہ کہا
اور پھر پرانی چاہتوں کا مرثیہ کہا
درکار اس قدر تھا سکوں ہم کو ہجر میں
ہم نے تمہاری یاد کو بھی تخلیہ کہا
پہنچا رہی ہے ہم کو مہک تیری جس طرح
بادِ صبا کو ہم نے ترا ڈاکیا کہا

0
10
سکون مل نہ سکا خود نما سے لڑتے ہوئے
تھکن سے چور ہیں اپنی انا سے لڑتے ہوئے
ہمیں تو خاک میں ملنا ہی ہے کسی اک دن
بدل گئے ہیں مگر خاکِ پا سے لڑتے ہوئے
چراغِ مصلحتِ وقت بجھ گیا آخر
ہمارے عزم کی سرکش ہوا سے لڑتے ہوئے

0
8
دعا ہے زیست کے آنگن میں ہو بہار سدا
جوان دل رہے، صحت ہو برقرار سدا
نظر میں ایک چمک لب پہ مسکراہٹ ہو
رہے حسین سے چہرے پہ یہ نکھار سدا
جو کیک دیکھ کے یاروں کے کھل اٹھے چہرے
رہیں خدایا یہ چہرے بھی خوشگوار سدا

0
9
محفل میں ڈھونڈتا ہے وہ خلوت نہیں جسے
ہم دے چکے ہیں دل، کوئی عجلت نہیں جسے
اک شخص کر رہا ہے مرے قتل کی دعا
شاید ابھی امورِ محبت نہیں جسے
وہ مانتا ہے خود کو زمانے کا تاجدار
اپنے ہی دل پہ بھی تو حکومت نہیں جسے

0
9
خاک میں مل کے شجر جاتے ہیں
لوگ کس دیس سفر جاتے ہیں
کون لائے گا پلٹ کر ان کو
جو مسافر بھی اُدھر جاتے ہیں
موت کی گود میں سوتے ہیں جو
چاند تارے بھی اتر جاتے ہیں

0
7
ہے یہ امید نیا دور سنہرا ہو گا
اب سیاست پہ بھی جمہور کا پہرا ہو گا
تخت پر بیٹھے گا جب تخت کے قابل کوئی
رہزنوں کے لیے پھر پیش کٹہرا ہو گا
اب سنی جائے گی مظلوم کی فریاد یہاں
اب کے قانون کبھی ان دھا نہ بہرا ہو گا

0
3
پردیس میں ہوں گرچہ بہت دور وطن سے
تعلیم وفاداری کی مجھ کو ہے چمن سے
مر کر بھی فسادی نہیں بن پاؤں گا میں تو
آئے گی مہک امن ہی کی میرے کفن سے
مجھ پر تم اگر کفر کے فتوے بھی لگاؤ
پھوٹے گی صدا پیار کی بس میرے سخن سے

0
8
اہلِ غزہ پہ ظلم و ستم جب رواں ہوئے
آثار درد کے مرے دل سے عیاں ہوئے
اک آنسوؤں کا ابر سا آنکھوں پہ چھا گیا
جتنے خوشی کے خواب تھے سارے دھواں ہوئے
جب باغبان اپنی ہی عشرت میں کھو گئے
امت کے پھول تب سے سپردِ خزاں ہوئے

0
8
کہیں دل کہیں داستاں چھوڑ آئے
کسی لب پہ آہ و فغاں چھوڑ آئے
ہمیشہ ملی جس کے سائے میں ٹھنڈک
وطن میں وہی سائباں چھوڑ آئے
بیاباں میں پیاسے رہے عمر بھر ہم
مگر گھر میں بحرِ رواں چھوڑ آئے

0
4
ان لیڈروں کی آپ ذلالت تو دیکھیے
شہرت کی حرص، مال کی حسرت تو دیکھیے
خود کھائیں مال قوم کا، پھر الٹا قوم سے
مانگیں یہی حساب بھی جرات تو دیکھیے
خود چور کوتوال کو ڈانٹے عجیب ہے
اس صادق و امیں کی سیاست تو دیکھیے

0
4
میں صبر کو راہبر کروں گا
جو ہو سکا درگزر کروں گا
جیوں گا میں ہجر سہہ کے بھی اب
میں زہر کو بے اثر کروں گا
جنہیں وفا کی خبر نہیں ہے
انہیں میں اب باخبر کروں گا

0
4
منزلوں کا نشان باقی ہے
آخری امتحان باقی ہے
مسکرایا نہیں ہوں مدت سے
بس لبوں کا گمان باقی ہے
دھوپ میں جسم جل گیا میرا
کیا کہیں سائبان باقی ہے

0
4
گلی گلی میں ترے نقشِ پا کو ترسے ہیں
مریضِ عشق ہیں، اب ہم دوا کو ترسے ہیں
تھے مٹی کے ڈھیر، اذنِ بقا کو ترسے ہیں
قفس کے قیدی تھے، ہم تو ہوا کو ترسے ہیں
محبتوں میں عجب کربلا کو ترسے ہیں
دلوں کے پاس تھے لیکن وفا کو ترسے ہیں

0
10
روح عریاں، بدن برہنہ ہے
لاکھ پردوں میں من برہنہ ہے
چن لیے پھول سارے گلچیں نے
بے ثمر ہے چمن، برہنہ ہے
چادریں چڑھ گئیں مزاروں پر
اور مفلس کا تن برہنہ ہے

0
8
شب میں اک دفعہ کھل کے روتا ہوں
چین کی نیند پھر میں سوتا ہوں
اشک دل میں سنبھالتا ہوں میں
بیج یوں میں وفا کے بوتا ہوں
ساتھ رکھتا نہیں میں زادِ سفر
جسم لاغر ہے یہ ہی ڈھوتا ہوں

0
4
آسماں کے ستارے سیاست نہ کر
خوبصورت نظارے سیاست نہ کر
قحط ہے اب برس بھی اے ابرِ رواں
وقت کے ہیں اشارے سیاست نہ کر
ہے بھنور میں جو ناؤ مری زیست کی
مجھ سے تو اے کنارے سیاست نہ کر

0
8
جتنے دل بھی چاہت سے ویران رہے
زیست کے اصلی لطف سے وہ انجان رہے
در در گھومے رزق کی خاطر دنیا میں
کچھ پل اپنے گھر بن کر مہمان رہے
کیا کھویا کیا پایا، جان کے کیا لینا
کیوں بندہ یہ سوچ کے خود حیران رہے

0
5
کتنی جانیں لگ جاتی ہیں دیس آزاد کرانے میں
بیچ رہے ہو پیٹ کی خاطر جس کو کھوٹے آنے میں
وہ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں اپنی قربانی سے
خون جگر کا دیتے ہیں جو ایسا باغ سجانے میں
یا رب میری ارض وطن اب حشر تلک آباد رہے
امن کے پنچھی محو رہیں بس امن کے گیت سنانے میں

0
4
حسین زیست کی تب جستجو نہیں کی تھی
حسین شخص سے جب گفتگو نہیں کی تھی
وہ مسکرا کے ہمیں جو دعائیں دیتا ہے
فقط ہے رب کی عطا، آرزو نہیں کی تھی
شفیق، پیار مجسم، سدا اسے جانا
مگر یہ بات کبھی رو برو نہیں کی تھی

0
6
جہانِ عمل میں تمھی پیشوا تھے
غریبوں یتیموں کا تم آسرا تھے
تھے بے لوث خدمت کا تم اک حوالہ
جفا گر جہاں میں سفیرِ وفا تھے
رعایا کے زخموں کا مرہم تھے تم تو
دکھی آدمیت کے لب کی دعا تھے

0
8
کیوں ڈراتے ہو تم کالی دیوار سے
ہم تو ڈرتے نہیں تیر و تلوار سے
سر پھرے تو کٹائیں گے سر جنگ میں
کون ڈرتا ہے ظالم ترے وار سے
کیوں تماشے کا دنیا کو موقع دیا
کچھ نہیں سیکھ پائے ہو اغیار سے

0
6
جو عاشق ہیں کب مرنے سے ڈرتے ہیں
دیپ کی لو پر پروانے ہی مرتے ہیں
وہ بوڑھا ہی بس اک کام کا بندہ تھا
یہ نالائق بس باتیں ہی کرتے ہیں
ٹوٹے پھوٹے کچھ اسباب کے ساتھ فقط
اس نے بتایا کیسے کام سنورتے ہیں

0
5
ہمارا اوڑھنا ہو یا بچھونا، شاعری ہے
یہ اٹھنا بیٹھنا اپنا یہ سونا شاعری ہے
ہماری زندگی جتنی بھی اب باقی بچی ہے
ہمارا مسکرانا اور رونا شاعری ہے
ضرورت ہی نہیں، شکوہ شکایت کیوں کریں ہم
دلِ مغموم کو اشکوں سے دھونا شاعری ہے

0
4
خود کو بھول بھی جاؤں وہ اوقات نہیں بھولوں گا میں
اچھی یادیں پیار بھرے لمحات نہیں بولوں گا میں
یاد ہے اب بھی ٹھنڈی سڑک کے پاس کبھی تھا اپنا گھر
اور انہی گلیوں سڑکوں میں دوست گھماتے تھے دن بھر
پانی کے جب کین اٹھائے کالونی میں جاتے تھے
لمبی قطاروں میں لگ کر ہم کتنا وقت گنواتے تھے

0
9
جو بھی مٹی کا قرض مجھ پر ہے
وہ اتاروں یہ فرض مجھ پر ہے
مجھ سے ناراض کیوں زمانہ ہے
اب تو یہ قید ہی ٹھکانہ ہے
گو بہت سوں کا راز دار ہوں میں
خود بھی لیکن گناہ گار ہوں میں

0
6
عشق چاہت وفا دوستی ہے حسین
دل نشیں داستاں عزم کی ہے حسین
سارا کنبہ سپردِ خدا کر دیا
اک عجب طرز کی بندگی ہے حسین
وہ جو تاریکیوں میں اجالے کرے
علم کے باب کی روشنی ہے حسین

0
7
تختِ شاہی پلید رکھا ہو
حق کا رتبہ شدید رکھا ہو
بستیاں بھوک سے بلکتی ہوں
اور محل میں کلید رکھا ہو
جس کے ہاتھوں میں طوقِ شاہی ہو
اس نے خود کو یزید رکھا ہو

0
9
دور تک جب بھی تَکا، کوئی نہیں ساتھ مرے
صاف معلوم ہوا، کوئی نہیں ساتھ مرے
دل کا احوال تو ایسا ہے کہ کیا کہیے حضور
جیسے جیسے میں بڑھا، کوئی نہیں ساتھ مرے
نہ کوئی درد کا درماں، نہ کوئی چارہ گر
دل کو تو یہ بھی لگا، کوئی نہیں ساتھ مرے

0
12
مرا زخمِ دل بھی تو برملا نہیں ہو سکا
وہ جو رنج تھا وہ کبھی ہوا نہیں ہو سکا
میں تلاشِ حق میں بھٹک رہا ہوں گلی گلی
جو فریب تھا، وہ مرا خدا نہیں ہو سکا
اسے زعم تھا کہ وہ چھین لے گا مری انا
مرا سر مگر کبھی زیر پا نہیں ہو سکا

0
13
دکھائی دینے لگا ہے غبار لوگوں میں
بچھڑ گیا ہے کوئی اپنا یار لوگوں میں
بچا نہیں ہے ابِ اعتبار لوگوں میں
بدل گئے ہیں سبھی وضع دار لوگوں میں
کسی کے لمس کی خوشبو اڑا کے لائی ہے
بدل گیا ہوا کا رخ عیار لوگوں میں

0
24
ہم چھوڑ کر انا کو سرِ دار آ گئے
سمجھے تھے وہ کہ بن کے طلب گار آ گئے
دیکھا جو ہم نے رنگ بدلتے ہوئے یہاں
یاد اپنے وضع دار گنہگار آ گئے
جن کیلئے لٹائی تھی ہم نے متاعِ دل
پہلے صفِ عدو میں وہی یار آ گئے

0
9
بدلا ہے نہ بدلے گا، یہ رشتہ بھی نہیں بدلا
ہم لاکھ جدا تھے، وہ جذبہ بھی نہیں بدلا
اک عمر ہوئی لیکن اس دل کی اداسی کا
مفہوم نہیں بدلا، چہرہ بھی نہیں بدلا
برباد تو ہونا تھا، برباد ہوئے لیکن
دیوانوں کی بستی کا، نقشہ بھی نہیں بدلا

0
7
کوئی بھی غم کبھی تیرے قریب آ نہ سکے
تری نظر میں کوئی اشک مسکرا نہ سکے
الٰہی! دشتِ تمنا میں ایسی بارش ہو
کہ تیرے لب پہ کبھی پیاس سر اٹھا نہ سکے
ملے وہ تجھ کو محبت کہ تیرے آنگن سے
جدائیوں کا کوئی خوف سر اٹھا نہ سکے

0
16
بدلے موسم کا وہ احساسِ پرانا لا دے
اے مری عمرِ رواں! بچپنا میرا لا دے
چھین لی شہر کی رونق نے جو آنکھوں کی چمک
میری بستی، مرا دَرْپَن، مرا صحرا لا دے
اب نئے خواب مری جان کو آتے نہیں راس
وہی بھولا ہوا، معصوم سا سپنا لا دے

0
9
جو موزوں مرے مجھ سے حالات ہوتے
بیاں خود پہ گزرے جو صدمات ہوتے
جواب ان کا جانے کہاں سے ملے گا
عجب سے ہیں دل میں سوالات ہوتے
نہیں چپ رہیں گے یہ آزاد پنچھی
کہاں قید سچے ہیں جذبات ہوتے

10
قتل پہ بچوں کے چپ ہوں میں اچھا پاکستانی ہوں
قاتل سے ہمدردی بھی ہے ایسا پاکستانی ہوں
تم نے یار کہیں دیکھی ہے اس جیسی نامردی بھی
عزت لوٹنے والوں کو بھی کہتا پاکستانی ہوں
ملک کو آگ لگا کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھر
نسل پرستی کی زنجیر میں جکڑا پاکستانی ہوں

8
دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے، محفل ایک سجائی ہے
اصل میں ہم سب تنہا ہیں، یہ بھی کیسی تنہائی ہے؟
سامنے بیٹھے اپنوں سے اب بات نہیں کوئی کرتا ہے
ایکس کی اس نگری میں پر، ہر کوئی آہیں بھرتا ہے
لائکس اور کمنٹس کی خاطر، جذبوں کا بیوپار ہوا
اک تصویر کی خاطر بس ہر کوئی جان نثار ہوا

12
گناہوں پہ دل اب پشیمان ہے بس
خدایا ترا ہی یہ احسان ہے بس
زمانہ مخالف ہوا ہے تو کیا غم
بہت ہے اگر ساتھ رحمان ہے بس
ترا آسرا مجھ کو کافی ہے مولا
عدو اس حقیقت سے انجان ہے بس

8
کس سے اب عرضِ مدعا کیجے
شہر کا شہر ہے خفا، کیجے
ہم تو خود سے بھی اب نہیں ملتے
آپ سے مل کے بھی کیا کیجے
عشق کا روگ تو پرانا ہے
درد بڑھ جائے تو دعا کیجے

0
10
نہ ہم نے کبھی آہ و ماتم کیا
مگر دل ہی دل میں تظلم کیا
کھلی آنکھ تو اڑ گئی رنگتیں
بہارِ چمن نے تبسم کیا
دلِ زار کو مے کدے کی تھی چاہ
زمانے نے رسوا سرِ خم کیا

0
14
شکایت کریں کس سے اب ہم یہاں؟
کہا تھا کہ تجھ سے یہ بہتر نہیں!
ترے واسطے سب سے لڑتے رہے
کہا سب نے، پر ہم نے مانا نہیں
ہوئے آج رسوا تو پتا چلا
زمانہ غلط تھا، یہ ممکن نہیں

0
9
ہاتھ چھو کر بھی وہ دوری کے زمانے مانگے
بے رخی دیکھ کہ ملنے کے بہانے مانگے
ہم تو مٹ کر بھی رہے مائلِ تسلیم و رضا
دل وہ ناداں کہ اب اُجڑے ہوئے دانے مانگے
اب جو آئے ہیں تو کیوں خوفِ زیاں ہے اتنا
کل یہی تھا کہ محبت کے خزانے مانگے

0
18
دل کے ملبے پہ نئے خواب اگا ہی دیں گے
لوگ ہر زخم کو تقدیر بنا ہی دیں گے
جن کے چہروں پہ وفاداری کے قصّے تھے کبھی
وقت آئے گا تو آئینہ دکھا ہی دیں گے
شہر خاموش ہے، دیواریں بھی سہمی سی ہیں
پھر کوئی شور کے معنی کو سزا ہی دیں گے

0
11
دلِ ناداں کو کوئی نقشِ قدم مل جائے
تیرے ملنے سے ہر اک رنج و الم مل جائے
ہم نے صحرا میں گزاری ہے جو عمرِ رفتہ
کاش اس دشت کو اب زلفِ صنم مل جائے
لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں اندھیرا ہے بہت
روشنی تجھ سے ملے، نورِ حرم مل جائے

0
9
ہم بری آنکھ کو بیکار دکھائی دیں گے
خوش نظر ہی کو ہنر یار دکھائی دیں گے
ہم سے محنت میں کوئی جیت نہیں پائے گا
ہم مشقت کے طلب گار دکھائی دیں گے
جن کو پردیس میں پھینکا تھا سمجھ کر کمتر
اپنے پاؤں پہ وہ خود دار دکھائی دیں گے

0
7
صدا فقیر کی سب حکمراں ذرا سن لو
مگر ضمیر تمہارا ہے مر چکا سن لو
ہمارا ووٹ تمھیں کرسیاں دلاتا ہے
کبھی تو آ کے ہمارا بھی مدعا سن لو
عیا شیاں بھی بہت ہو چکیں مگر اب تو
عوام کا بھی کوئی کر ہی دو بھلا، سن لو

0
9
کیا کبھی ظلم کی سرکار نہ بدلے گی ڈگر؟
ہر شریف آدمی اب کانپ رہا ہے تھر تھر
ہے امیروں کی تو ہر چیز نئے ماڈل کی
فکر مفلس کو ہے دو وقت کی روٹی کی مگر
ڈھونڈتا رزق پریشاں ہے وطن میں کوئی
سیر کرنے کوئی پردیس کے کاٹے چکر

0
9
بات بے بات یہ دھرنا ہے
آخر کچھ تو کرنا ہے
روز بیان بدلتے ہیں
لیڈر خود کو سمجھتے ہیں
اک دوجے کے نام دھریں
خود نہ گریباں میں جھانکیں

0
7
مِل گیا سب کچھ مگر دل ہے کہ مژگاں نم کرے
اک عجب وحشت ہے جو راحت میں بھی ماتم کرے
آرزو تھی جن کی، اب ان سے گریزاں ہے یہ دل
کون اس سیماب جاں دل کا کوئی مرہم کرے
پہلے زنجیرِ تعلق کے لیے روتا تھا یہ
اب یہ چاہے گا کوئی اس قید کو مبہم کرے

0
12
جدائی کی کٹھن گھڑیوں کو سینے سے لگایا ہے
تمہیں پانے کی حسرت میں خودی کو بھی مٹایا ہے
دکھائے ہیں زمانے نے ہمیں کیا کیا نہ رنگ اپنے
مگر اس دل نے ہر طوفاں میں تیرا نام گایا ہے
نہ سمجھا کوئی اس دل کی تڑپ کو اس زمانے میں
ترے غم کو ہی ہم نے اپنا سرمایا بنایا ہے

0
19
رنگ جنون کا عقل و خرد پر گہرا ہے
میرے دیس میں اب تک ظلم کا پہرہ ہے
منصف جب انصاف کا خود ہی قاتل ہو
پھر مظلوم کی خاطر جرم کٹہرا ہے
ناچ رہا ہے ظلم یہاں بازاروں میں
اور قانون یہاں پر ان دھا بہرا ہے

0
10
دیپ کی خاطر کیا طوفاں تھم جاتے ہیں؟
بد قسمت ہی اس کی زد میں آتے ہیں
جن کے پاس فراوانی ہے دولت کی
کیوں غربا کو روٹی پر ترساتے ہیں
ایک کے پاس نہیں کچھ جسم چھپانے کو
دوسرے مہنگے کپڑوں پر اتراتے ہیں

0
11
اول سب سے ذات ہے اس کی، ہر اک شے سے قدیم ہے وہ
ہر مخلوق فنا ہو گی بس باقی رہے گا عظیم ہے وہ
کچھ بھی نہیں مقصد سے خالی، اس کی بنائی دنیا میں
ہر تخلیق میں حکمت اس کی، سب سے بڑا حکیم ہے وہ
پالنے والا ہے وہ جہاں کا اس کے پاس خزانے ہیں
نافرمان کو بھی دیتا ہے رب عالم کا کریم ہے وہ

13
یہ بیویاں تو فقط حکم ہی چلاتی ہیں
یہ شوہروں پہ ستم روز روز ڈھاتی ہیں
لگا کے منہ پہ یہ میک اپ سجیں پری کی طرح
جو دھو لیں منہ تو بنی بھوتنی ڈراتی ہے
خیال خوب فگر کا رکھیں نکاح تلک
مگر یہ بعد میں کیوں موٹی ہوتی جاتی ہیں

0
12
یہ چاند لگتا ہے تھک گیا ہے سفر سے، دیکھیں
جو چاندنی چھن کے آ رہی ہے شجر سے دیکھیں
وطن ہمارا ہے حکمرانوں نے بیچ کھایا
بچے ہوئے کو بھی لالچی سی نظر سے دیکھیں
حیا کی چادر اتار پھینکی ہے نسلِ نو نے
کہیں بھی جھانکیں ادھر نہیں تو ادھر سے دیکھیں

0
11
گر مسلمان مسلمان کا کاٹے گا سر
لوگ سوچیں گے کہ کفار ہیں ان سے بہتر
بات ہے ٹھیک ضروری ہے وطن کی چاہت
پر مجھے امن تو ہجرت سے ملا ہے آ کر
نفرتوں کا یہ سبق کس نے دیا ہے تم کو
بھائی چارے کا سبق دے کے گئے پیغمبر

0
9
بس کرو اب یہ ستم بس کر دو
ظلم اپنوں پہ صنم بس کر دو
پھول کھلنے دو چمن میں اب تو
گل فروشوں پہ کرم بس کر دو
چاند ہو، دور اندھیروں سے رہو
نام کا رکھ لو بھرم، بس کر دو

0
13
تو جمہوریت کا دوانہ ہوا ہے
مگر امن دیکھے زمانہ ہوا ہے
عیا شی میں ڈوبے ہیں حاکم یہاں کے
تو جلاد مقتل روانہ ہوا ہے
جو "سب ٹھیک ہے" کہہ رہے ہیں وہ سن لیں
یہ شامت کا ان کی بہانہ ہوا ہے

0
11
ایک زمانہ اپنا بھی انجانا بھی
یاد میں تازہ بھی ہے اور پرانا بھی
وقت گلی کوچوں میں خوب گزرتا تھا
کھیلنا کو دنا ہنسنا اور ہنسانا بھی
سندر یادیں اب بھی ذہن میں تازہ ہیں
سر کی مار سے وہ یاروں کا ڈرانا بھی

0
16
وطن میں اقتدار کی جو جنگ ہے
غریب ان سیاستوں سے تنگ ہے
نما ئشی ہیں اختلاف ان کے بیچ
کمائی ایک دوسرے کے سنگ ہے
کمیشنیں ہیں لوٹ مار ہے یہاں
وطن کے مال کو لگی سرنگ ہے

0
11
ہے ظلم و ستم ہر سمت رواں
امت کا حال ہے سب پہ عیاں
کہیں آگ لگی ہے گلشن میں
چھایا ہے فلک پر ایک دھواں
کیا بھول ہوئی ہے مالی سے
کیوں ٹھہری ہے یہ فصلِ خزاں

0
11
سب چور مرے شہر کے نگران ہوئے ہیں
دشمن ہی مری جاں کے نگہبان ہوئے ہیں
ہر ایک برائی کی شروعات ہے ان سے
جتنے ہیں برے سب ہی وزیران ہوئے ہیں
مذہب کی لیے آڑ مقاصد یہ نکالیں
امت کی مصیبت یہی شیطان ہوئے ہیں

0
14
زخم زباں کے یوں نہ لگاؤ
مت لفظوں کے تیر چلاؤ
طعنوں کے ترکش کو چھوڑو
لہجے کے نشتر تو نہ چبھاؤ
نرم دلوں کو قریب بلاؤ
نرمی کی عادت کو اپناؤ

0
14
درپیش ہمیں ہجر کے آزار بہت تھے
الفت کے سبھی راستے دشوار بہت تھے
بخشش نہ ہماری ہوئی دنیا کی نظر میں
ہم سے بھی بڑے صاحبِ کردار بہت تھے
شکوہ نہ شکایت ہے زمانے سے کوئی بھی
دل ٹوٹا ہے ہم خود بھی خطا کار بہت تھے

0
13
افسوس ہے کہ اس کی محبت بکھر گئی
بن اس کے زندگی مری کیسے گزر گئی
پل بھر میں اس نے کیسے ہے مجھ کو بھلا دیا
ہلکی سی اک کسک تھی جو دل میں اتر گئی
صورت فقط نہیں تری سیرت بھی خوب ہے
نظروں سے پار ہو کے اثر دل پہ کر گئی

0
14
جو ہر بات پہ امن کا بھاشن دیتے ہیں
پوچھ انھی سے پھول یہاں کیوں مرتے ہیں
جو لوگوں سے نفرت کا ہی سکھاتے ہیں
مذہب کو بدنام وہی تو کرتے ہیں
سوئے ہوئے ہیں دیس کے حاکم دیکھو تو
جال عدو سازش کا کھل کر بُنتے ہیں

0
15
مری بیوی ہمیشہ مجھ پہ پابندی لگاتی ہے
اسے مرضی چلانی ہے وہ بس اپنی چلاتی ہے
نہیں ٹی وی کے آگے بیٹھنے دیتی مجھے کچھ پل
نہ مانوں میں اگر اس کی مجھے آنکھیں دکھاتی ہے
مرا کچھ وقت موبائل پہ اچھا بیت جاتا تھا
نہ جانے کیوں وہ موبائل سے بھی اب خار کھاتی ہے

0
15
دکھوں سے چور دل کو کیا سفر کا حوصلہ ملے
قدم بڑھاؤں میں مگر کوئی تو ہم نوا ملے
محال سانس ہے مجھے کہیں سے تو ہوا ملے
میں درد کی دوا کروں جو درد کا پتہ ملے
تجھے میں آسمان پر چمکتا دیکھتا رہوں
اداس ہوتا ہوں جو تو اداس سا ہوا ملے

0
14
دیس میں اب جمہوری فن ہے
آرمی کا تو یہ بچپن ہے
ظلم و ستم ہے جمہوری جو
ناگ کا یہ زہریلا پھن ہے
غربت ہی کو جرم بنایا
یہ شرفا کا چال چلن ہے

0
11
شہر کے جو نگہبان ہیں
بچ کے رہنا یہ شیطان ہے
کیوں محافظ لٹیرے بنے
سوچ کر ہم تو حیران ہیں
دین کی چادریں اوڑھ لیں
نام ہی کے مسلمان ہیں

0
12
کسی نے ایسا اجاڑا ہے رو نہیں پاتے
بھلا کے اس کے ستم ہم تو سو نہیں پاتے
ہماری مان کے اب گھر کو لوٹ جاؤ تم
بہت سے خواب حقیقت میں ہو نہیں پاتے
سنبھالتے تو ہیں آنکھوں میں اپنے اشکوں کو
چھلک پڑیں وہ اگر، روک تو نہیں پاتے

0
9
لب پہ سچ اور اچھا کردار رکھیں گے ہم
تم جو ظلم کرو گے تو صبر کریں گے ہم
پاس تمہارے کہنے کو بس باتیں ہیں
اپنی بات دلیل سے پیش کریں گے ہم
تم کو لگا تھا ظلم کرو گے جتنے بھی
بس خاموش رہیں گے اور سہیں گے ہم

0
10
جاگ پڑے گلشن کے سپاہی
پہرا دیں گے وطن کے سپاہی
کیوں خاموش کرایا ان کو
سچ بولیں گے من کے سپاہی
جرم ہے بس یہ کہ جرم نہیں ہے
امن کے پھول چمن کے سپاہی

0
10
ہماری عمر تھوڑی رہ گئی ہے
تمنا اک ادھوری رہ گئی ہے
رہے ہیں منتظر ہم اس کے برسوں
ابھی لمحوں کی دوری رہ گئی ہے
سنے گا کلمہ ۓ حق شاہ کیسے
یہاں بس جی حضوری رہ گئی ہے

0
8
شہر کی گلیاں اب اتنی سنسان ہیں کیوں
لوگ یہاں کے زیادہ تر بے جان ہیں کیوں
ٹوٹے پھوٹے گھر ہیں مفلس لوگوں کے
شہر کے حاکموں کے پھر گھر دیوان ہیں کیوں
جیبیں بھری ہیں خاص قسم کے لوگوں کی
عام عوام کے ہی پھوٹے ارمان ہیں کیوں

0
10
اس گلشنِ وطن کا بہت مجھ پہ قرض ہے
میں تو کروں گا اس سے وفا مجھ پہ فرض ہے
دشمن ہوا ہے آج زمانہ تو کیا ہوا
زنداں میں آج کل ہے ٹھکانہ تو کیا ہوا
ملت کا رنج خوار ہوں غدار تو نہیں
قیدی ہوں بے گناہ خطا کار تو نہیں

0
11
وقت پرانا یاد ہے تم کو گھر جب کچے ہوتے تھے
لوگ یہاں پر بسنے والے سیدھے سادے ہوتے تھے
ریل جہاز سکوٹر گاڑیاں دیکھنے کو کب ملتی تھیں
سفر کی خاطر عام یہاں پر گھوڑے تانگے ہوتے تھے
ٹوٹے پھوٹے رستوں پر جب تیز سواری چلتی تھی
زور کے جھٹکے لگتے تھے پر تب وہ جھولے ہوتے تھے

0
9
گڑیا پٹولے کھیلتے بچے کتنی جلدی جوان ہوئے
دیکھتے دیکھتے امی ابو اس گھر کے مہمان ہوئے
کون رہا ہے دنیا میں بس یادیں ہی رہ جاتی ہیں
ہنستے بستے کتنے گھر تھے جو پل میں ویران ہوئے
بیتنے والا ہر اک لمحہ ماضی میں کھو جاتا ہے
شہر یہاں آباد تھے کتنے، اور کتنے سنسان ہوئے

0
10
جو زندگی نکھار کر حسین سا کنول بنے
کمال تک پہنچ گئے تو لقمۓ اجل بنے
وہ شاعری میں ڈھل گئے رباعیوں میں آ گئے
خیال میں سما کے وہ کمال کی غزل بنے
وہ جن کا درس امن تھا امان سب کو دے گئے
جفا فنا کے دور میں وفاؤں کا بدل بنے

0
10
نہیں مجال کہ تجھ سے کبھی گلہ میں کروں
تری عطاؤں پہ بس شکر ہی ادا میں کروں
تری نگاہِ کرم بس مرا بھرم رکھ لے
ترے حضور اے مولا یہی دعا میں کروں
مرے گناہ پہ پردہ ہے تیری رحمت کا
تو کس طرح تری رحمت کا شکریہ میں کروں

0
10
پاک وطن بھی ہوتا تھا خوش حال کبھی
رب جانے اب اس کو لگی ہے نظر کس کی
اللہ کی رحمت ہوتی تھی شام و سحر
ہم سب پیار سے رہتے تھے مل جل کے ادھر
یاد ہیں اب تک وہ رنگین چو بارے بھی
اور پرانے سارے سنگی پیارے بھی

0
13
مزاجِ یار میں جو بے رخی بہت ہے اب
سو بزمِ دوستاں میں خامشی بہت ہے اب
کسی کی آس نہ رکھنا سنبھل کے چلنا خود
کہ اہل شہر میں تو بے حسی بہت ہے اب
لہو لہان ہیں غمگین ہیں سب اہل چمن
کوئی وسیلہ نہیں بے بسی بہت ہے اب

0
10
دشت میں آج بھی ہر سو گونج تمہاری ہے
نام کمانا بھی تو اک فنکاری ہے
ڈھونڈ رہا ہوں امن، دیارِ ہستی میں
ہر لمحہ حساس دلوں پر بھاری ہے
کام برا ہو، ہوتا ہے انجام برا
زور و شور سے مجھ میں ورد یہ جاری ہے

0
11
کِیا ہے جرمِ بغاوت، عذاب دیکھے ہیں
سماج کرتا ہے جو احتساب دیکھے ہیں
نصیب ہو نہ سکیں قربتیں ہمیں اس کی
ہماری آنکھ نے جس کے بھی خواب دیکھے ہیں
یقین آئے گا تم کو نہ میری چاہت پر
تمہاری آنکھ نے جتنے سراب دیکھے ہیں

0
12
عشق سولی جو نہ چڑھائے تو عظمت کیا ہے
ایسے بے کیف تعلق کی ضرورت کیا ہے
دل تو پہلے ہی ترے ہجر نے برباد کیا
اب اگر جاں بھی چلی جائے تو حیرت کیا ہے
ایک صورت جو جچے اس کو محبت کہہ لیں
دل ترا سب ہی پہ آئے تری فطرت کیا ہے

0
7
مرنے سے قبل کارِ جہاں چھوڑ دیجیے
اور باگ آخرت کی طرف موڑ دیجیے
حائل سماج ہو کسی نیکی میں تو اسے
ڈر حشر کا سنائیے یا جھنجھوڑ دیجیے
تقدیر کے لکھے کو بدلنا ہے آپ نے ؟
پھر جد و جہد کی بھی حدیں توڑ دیجیے

0
10
جان دھرتی کے قدموں میں سب دھر گئے
وہ جو کہتے تھے 'مر جائیں گے' مر گئے
زندگی تجھ کو پانے کی کوشش میں ہم
موت کی وادیوں کو بھی سر کر گئے
سب ہیں دہشت زدہ ہر طرف ہے لہو
شہرِ جاناں سے چاہت کے منظر گئے

0
9
وہ مستیوں میں ہیں کش پہ کش جو لگا رہے ہیں
وہ پہلے سگرٹ سے اگلا سگرٹ جلا رہے ہیں
عجیب خصلت ہے آدمی ہو کے اپنے منہ سے
دھواں یہ بھٹے کی چمنیوں سا اڑا رہے ہیں
ہے شوق کیسا جگر دھویں سے ہی پھونک ڈالا
خود اپنے ہاتھوں سے روگ خود کو لگا رہے ہیں

0
10
مقتل بھی نیا قتل کے آلے بھی نئے ہیں
جاں دینے جو آئے ہیں دِوانے بھی نئے ہیں
زردار کو ہر جرم کی ہوتی ہے اجازت
انصاف کے دنیا میں طریقے بھی نئے ہیں
انسان خدا بن گئے کچھ رزق لٹا کر
یہ قربِ قیامت ہے سو فتنے بھی نئے ہیں

18
اے عمرِ فاروق کہاں ہو
امت کی حالت پہ دھ یاں ہو
دستِ ستم کو کیسے روکیں
اور کہاں تک آہ و فغاں ہو
نظمِ خلافت پھر ہو قائم
پھر اسلام کا حکم رواں ہو

0
12
عمر بڑھتی رہی رزق گھٹتا رہا
آدمی قبر کی سمت بڑھتا رہا
صبح سے شام کی، شام سے صبح کی
وقت ہاتھوں سے یوں ہی پھسلتا رہا
رفتہ رفتہ مرا دل سنبھل ہی گیا
دیر تک میں تری راہ تکتا رہا

0
12
خاک ہوں اور پھر خاک سے ہی الفت ہے مجھے
خاک غرور بھی کرتی ہے؟ حیرت ہے مجھے
غربت میں بھی شکر ہے دل کو سکون تو ہے
جرم سے حاصل دولت ہو نفرت ہے مجھے
دل بہلا دیتی ہے رونق دنیا کی
ہجر میں رہ کر وصل سی ہی راحت ہے مجھے

0
11
مغموم تو نہیں ہوں مگر کچھ ملال ہے
بچھڑے ہوؤں کی یاد میں آیا ابال ہے
اچھا گزر گیا یا برا وقت، کیا پتا
حاصل تمام عمر کا وہم و خیال ہے
کچھ آرزوئیں اور بھی دل میں ضرور ہیں
لیکن ترے بغیر تو جینا محال ہے

0
11
وہ نرم بستر پہ اپنے کمرے میں سو رہا تھا
لہو کے آنسو میں اس کی فرقت میں رو رہا تھا
انا بچا کر، بچھڑ کے مجھ سے، وہ خوش تھا لیکن
اسے خبر ہی نہیں تھی وہ کس کو کھو رہا تھا
کریدتا تھا وہ زخم نوکِ سناں سے میرے
میں دامنِ ضب ط تھامے پلکیں بھگو رہا تھا

0
10
عمر بھر ہم نہ کسی کے ہوں گے
مر گئے تو بھی انھی کے ہوں گے
بس گئی آنکھ میں صورت جن کی
دل میں پیوست ہے چاہت جن کی
الوداع کیسے کہیں گے ان سے
دل جدا کیسے کریں گے ان سے

0
11
دکھ درد ہر انسان کے چہرے پہ عیاں ہے
یہ ظلم و ستم جب سے فلسطیں میں رواں ہے
گلشن یہ مہکتا تھا گلوں سے کبھی، اب تو
ہر سمت یہاں آگ ہے ہر سمت دھواں ہے
ہم کر نہ سکے قبلۂِ اول کی حفاظت
اک اور ہمیں چاہیے ایوبی، کہاں ہے

0
9
تلاشِ رزق میں چہرہ یہاں نہیں ملتا
جو مل بھی جائے تو وہ مہرباں نہیں ملتا
عجیب خبط میں بستی کے لوگ رہتے ہیں
کوئی بھی اپنے ہی قد کا جواں نہیں ملتا
کوئی مسیح تو کوئی بتوں کا شیدائی
مگر کسی میں بھی اب انساں جو نہیں ملتا

0
14
لبوں پر ہر گھڑی اپنی دعا کی داستاں رکھنا
مصیبت میں یہی کام آئے گی، یہ تم گماں رکھنا
انا کی دھوپ میں رشتے ہمیشہ سوکھ جاتے ہیں
محبت کا مگر تم سر پہ اپنے سائباں رکھنا
اگر رستے میں رک جاؤ، کبھی تھکنے لگو جو تم
مرے کاندھے پہ سر اپنا، مری جاں مہرباں رکھنا

0
16
بخشے وہ استقامت و صبر و قرار بھی
ہو جائے اب تمام یہ فصلِ غبار بھی
مجھ پر کرم ہو اس کا، رہے اس کا پیار بھی
مل جائے دو جہاں میں مجھے اعتبار بھی
مرشد میں رہروِ شبِ تیرہ ہوں تشنہ لب
مرشد دعا کریں کہ سحر ہو مرا نصیب

0
11
وہ ملالِ حرفِ ہوس نہ تھا، مری خامشی کا وہ راز تھا
جو بکھر گیا ہے فضاؤں میں، وہی روح کا مری ساز تھا
کئی خوابِ تازہ اجڑ گئے، کئی عکسِ مہر و مہ ڈھل گئے
وہ جو ایک لمحۂِ دید تھا، وہی بخت کا مری ناز تھا
سرِ بزم ہم نے تو عمر بھر، کیا ضبطِ غم کا ہی تذکرہ
جسے تم نے شورِ فغاں کہا، مری آہ کا وہ گداز تھا

0
13
رنگ و بو میں رہتی ہو، اپنی بُو میں رہتی ہو
تم تو پیار کی اپنی، پیاری خُو میں رہتی ہو
عطرِ جاں چھڑک کر تم، جب بھی پاس آتی ہو
دیر تک مرے دل کی، جستجو میں رہتی ہو
منتظر رہو تم گھر، ہم رہیں کہیں باہر
تم ہمیشہ دنیا کی، ہاؤ ہُو میں رہتی ہو

0
17
خاک میں مل گئے الفت کے گلستاں جاناں
اب کہاں وہ ترے وعدے، ترے پیماں جاناں
تیری صورت کو ترستی ہیں مری آنکھیں تو
کاش ہوتے کبھی تم بھی یہاں مہماں جاناں
وقت کی گرد نے دھندلا دیئے یادوں کے نقوش
بجھ گئے پیار کے روشن تھے جو امکاں جاناں

0
17
کر کے اقرار جیسے بدل سے گئے
میرے سرکار جیسے بدل سے گئے
ان کی آغوش سے ہے لحد کا سفر
ہو کے بیمار جیسے بدل سے گئے
دل پہ تنہائیوں کا اثر یہ ہوا
دل کے اطوار جیسے بدل سے گئے

0
15
مرے دل کے درد کا فیصلہ نہیں ہو سکا
وہی حال ہے کہ جو پھر بھلا نہیں ہو سکا
جسے مانتا رہا تھا کبھی میں بھی مقتدا
وہی شخص میرے لیے دعا نہیں ہو سکا
وہ جو خواب تھا مری بستیوں کی امان کا
کسی دھوپ میں بھی وہ اب ہرا نہیں ہو سکا

0
16
جو میرے دل میں ہوئی تمہاری ہی نغمہ کاری تو میں تمہارا
ہوئی جو جذبوں میں شامل اب کے یہ خاکساری تو میں تمہارا
قبول ہے جو تمہاری آنکھوں میں قید ہونا ہے مجھ کو جاناں
رہی جو مجھ تک ہی حد تمہاری یہ پردہ داری تو میں تمہارا
کلام چھوڑو، پیام چھوڑو، عمل کی راہوں پہ آ گیا ہوں
اٹھا لی میں نے جو سر پہ اب کے یہ ذمہ داری تو میں تمہارا

0
13
بدل گیا ہے تمہارا لہجہ، ابھی تو قربت نئی نئی ہے
بچھڑنے والوں سے پوچھنا پھر، یہ کیسی وحشت نئی نئی ہے
پرانے پیڑوں کی چھاؤں ڈھونڈو، یہ دھوپ تم کو جلا نہ ڈالے
شجر جو تم نے لگایا تھا، اس کی بھی مروت نئی نئی ہے
وہ جن کے لہجے میں عاجزی ہے، وہی بڑے ہیں زمانے میں بھی
تمہارے ماتھے پہ یہ تکبر، ابھی تو بیعت نئی نئی ہے

0
15
وفا کا رنگ مِرے دل میں بھر گیا کیسے
وہ اجنبی مِرے دل میں اتر گیا کیسے
ابھی تو پاؤں کے چھالوں کا غم منایا تھا
سفر نصیب تھا، رستوں پہ مر گیا کیسے
جسے خبر نہ تھی میرے تباہ حالِ کی
وہ میری آنکھ میں آنسو ابھر گیا کیسے

0
12
دل میں جب اُترا تِرا ذکرِ بقا، عشق ہوا
میرا ہو جیسے وہ بس ایک خدا، عشق ہوا
عقل ٹھہری رہی دربارِ سبب میں خاموش
دل نے کیا سجدہ بلا چون و چرا، عشق ہوا
طور پر نور نے جب چاک کیے پردۂ شب
موسوی حرف میں چھپتا ہوا کیا، عشق ہوا

0
17
سرِ مژگاں تھکن ہے اور میں ہوں
عجب سی اک چبھن ہے اور میں ہوں
جدائی کا وہ لمحہ، وہ رفاقت
یہی بس اک جلن ہے اور میں ہوں
نہ کوئی ہم سخن ہے پاس میرے
مرا اپنا بدن ہے اور میں ہوں

0
14
شعلے تو بھڑکتے ہیں، بجھانے نہیں آتے
ہم کو تو ذرا سے بھی بہانے نہیں آتے
دامن میں چھپا لیتے ہیں ہم غم کے جزیرے
طوفاں کو ابھی گھر یہ مٹانے نہیں آتے
پھر وقت کی دہلیز پہ کیوں آنکھ لگی ہے؟
جب لوٹ کے بچھڑے وہ زمانے نہیں آتے

0
17
محبت میں ہیں امتحاں کیسے کیسے
بدلتے ہیں اب مِہر و باں کیسے کیسے
ابھی کل تلک جو ملے تھے خوشی سے
ہوئے آج وہ بد گماں کیسے کیسے
قفس کے در و بام رونے لگے ہیں
سنائے ہیں ہم نے بیاں کیسے کیسے

0
13
مٹ گئی اپنی ہی نظروں میں توانائی کہ بس
اب تو ہونے لگی خود سے بھی شناسائی کہ بس
اس نے دیکھا تھا محبت سے مجھے اک بار اور
پھر نہ لوٹی مرے چہرے کی وہ رعنائی کہ بس
عشق نے کر دیا ٹکڑے مرے پندار کا بت
ایسی کام آئی ہے یہ خاکِ جبیں سائی کہ بس

0
18
شوق میں اپنے ہی وہ، بن کر تماشا جل گیا
خواب جب بکھرے تو آنکھوں کا بھروسہ جل گیا
کس سے پوچھیں اب نشانِ کوئے جاناں اے فلک!
رہ روِ پُر شوق کا تو نقشِ پا بھی جل گیا
مصلحت نے جس جگہ ڈالی تھی اپنی اک نظر
اس جگہ تو غیرتِ دل کا تقاضا جل گیا

0
18
ادب کی لو جلائے رکھنا، گھبرانا نہیں اچھا
مقامِ بندگی میں ہاتھ پھیلانا نہیں اچھا
اگرچہ تلخ ہے سچ، پھر بھی اس کو پی ہی لیتے ہیں
محبت کے قرینوں میں تو کترانا نہیں اچھا
ترا اپنا ہی عکسِ خود سری ہے سامنے تیرے
بغیر آئینہ دیکھے ہی تو اترانا نہیں اچھا

0
18
محض لفظوں کی تو سوغات نہیں ہوتی ہے
دل جو دھڑکے نہ تو وہ بات نہیں ہوتی ہے
تیری خاموشی سے ڈرتا ہوں میں اس درجے کہ اب
مجھ سے خود اپنی ملاقات نہیں ہوتی ہے
ایک بستی ہے جو سنسان پڑی ہے مجھ میں
اس جگہ دھوپ ہے، اب رات نہیں ہوتی ہے

0
16
تجھ سے ملنے کی تمنّا میں تھکا بیٹھ گیا
تھا جو دیوار کا سایہ، وہیں جا بیٹھ گیا
کس قدر تلخ تھی ہجرت کی گھڑی کیا کہیے
پاؤں اٹھتے نہ تھے، دل بھی تو مرا بیٹھ گیا
صرف اک شخص کے انکار کی دیری تھی اور
ساری بستی میں مری ساکھ کا بھا بیٹھ گیا

0
18
وہی وحشت، وہی عالم ہے فسانہ میرا
پھر مرے شہر میں دشمن ہے زمانہ میرا
تیری گلیوں کی ہواؤں سے ہے نسبت ایسی
جیسے صحرا کی تڑپ، خاکِ ٹھکانہ میرا
بارہا تیرے ہی در پر مجھے لاتی ہے تڑپ
اب تو یہ حال بھی خود سے ہے بے گانہ میرا

0
17
نہ چھوڑے ہاتھ سے کوئی کبھی اپنی متانت بھی
ضروری ہے مگر لہجے میں تھوڑی سی حلاوت بھی
بظاہر تو بہت آباد ہے یہ شہرِ ہنگامہ
مگر انسان ڈھونڈے ہے کہیں گوشہء عجلت بھی
سجا رکھا ہے چہرے پر عجب جھوٹا تبسم سا
چھپا رکھی ہے سینے میں کسی نے اپنی وحشت بھی

0
14
کون بستا ہے اس مکان میں کیا
بس گئے تم مرے گمان میں کیا
خاک اڑتی ہے اب خیالوں میں
رہ گیا ہے مری دکان میں کیا
تیری آواز تھک گئی شاید
زہر گھولوں میں اب بیان میں کیا

0
16
رازِ ہستی بھی سنا لیں گے، تم آؤ تو سہی
دل کے پردے بھی اٹھا لیں گے، تم آؤ تو سہی
دل کی ویران گلی میں جو اُتر آئے گا نور
ہم چراغوں کو جلا لیں گے، تم آؤ تو سہی
“میں” کی دیوار گرا کر تری جانب ہوں رواں
خاک کو عرش بنا لیں گے، تم آؤ تو سہی

0
27
دل کے صحرا کو مٹا لیں گے، تم آؤ تو سہی
خواب آنکھوں میں سجا لیں گے، تم آؤ تو سہی
تم جو آ جاؤ تو ہر درد بھی راحت بن جائے
زخم سینے کے چھپا لیں گے، تم آؤ تو سہی
یہ جو تنہائی کا عالم ہے ستاتا ہم کو
اس کو ہنس کر بھی بھلا لیں گے، تم آؤ تو سہی

0
24
شوقِ منزل ہے تو پھر آبلہ پا اور سہی
عشق میں جور و جفا، مہر و وفا اور سہی
گر وہ پندارِ خدائی میں ہی خوش ہیں تو کیا
ہم بھی بندے ہیں، کوئی ان کا خدا اور سہی
تیری محفل میں میسر جو نہیں دادِ سخن
شورِ محشر ہے پسِ عرضِ نوا اور سہی

17
جدائی کی کڑی ساعت، عجب منظر دکھاتا ہے
تمہارا یاد آ جانا بہت ہم کو رُلاتا ہے
جو دل کی آرزوؤں کو تڑپنا خود سکھاتا ہے
جو مٹی میں محبت کے گلستاں کو ملاتا ہے
جو اپنے ہاتھ سے رسمِ وفا کو توڑ دیتا ہے
جو اب الفت کے رشتوں کو سرِ بازار لاتا ہے

0
21
محبت بانٹتے جاؤ، دعا ہر گام لے لینا
سفر میں کام آئے گی، یہی اِک نام لے لینا
انا کی بھیڑ میں تم سے مسافر چھوٹ جائیں گے
کسی کے پیار کا تم بھی کبھی پیغام لے لینا
بُرے وقتوں میں اپنی دست گیری کون کرتا ہے؟
خدا کے واسطے سب کا ادب سے نام لے لینا

0
19
ہے شامِ غریباں تو دن کربلا ہے
شہادت کا پیاروں کو رتبہ ملا ہے
نہیں مارتا اپنے محسن کو حیواں
مگر یاں مسیحا کی سولی سزا ہے
بتایا ہے انساں نے وحشت دکھا کر
یہ ہمدردِ انسانیت کی سزا ہے

0
11
خواب کی بستی میں اپنا گھر بنانا تھا ہمیں
خود ہی اپنی آگ میں جل کر دکھانا تھا ہمیں
رہ گئے پیاسے لبِ دریا، یہ کس کا دوش ہے؟
اپنے ہاتھوں سے ہی تو ساغر اٹھانا تھا ہمیں
تیغ کی صورت چمکتی تھی ہماری ہر دعا
سوزِ دل کو حرفِ شیریں میں چھپانا تھا ہمیں

0
20
کون سے موڑ پہ یہ وقت ٹھہر جائے گا
جو بھی آیا ہے یہاں، چھوڑ کے گھر جائے گا
اتنی تلخی ہے مری زیست کے پیمانے میں
یاد کا زہر رگ و پے میں اتر جائے گا
دشتِ تنہائی میں بکھریں گے خیالوں کے گلاب
تیری یادوں کا دھواں بھی بے اثر جائے گا

0
21
خیال و خواب کی بستی کو جاوداں سمجھے
جو مٹ گیا اسے ہم اپنی داستاں سمجھے
وہ بے رخی کہ ٹھہر جائے نبضِ ہستی بھی
وہ التفات جسے ہم سکونِ جاں سمجھے
فریبِ عقل نے دی ہے عجب بصیرت بھی
کہ اپنے گھر کو ہی ہم سارا گلستاں سمجھے

0
19
فون کو اب اٹھانا کٹھن ہو گیا
وائی فائی لگانا کٹھن ہو گیا
منگوانے لگے پن کا نمبر بھی وہ
رازِ الفت چھپانا کٹھن ہو گیا
ان کی یادوں کا ڈیٹا ہے اتنا کہ وہ
حافظے سے مٹانا کٹھن ہو گیا

0
23
ہم نے بزرگوں سے اتنا ہی سیکھا ہے
انسانوں سے اپنا خون کا رشتہ ہے
رنگ زبان کا فرق زیادہ بات نہیں
میری طرح تو بھی آدم کا بیٹا ہے
باغِ محمد کے سب پھول نرالے ہیں
دور تلک ان کی خوشبو کا چرچا ہے

0
13
آنکھ سجدے میں نم ہو کے اچھی ہوئی
رب کو محبوب ہے آنکھ بھیگی ہوئی
میری گردن جھکی ہی نہیں آج تک
شرم سے سامنے رب کے نیچی ہوئی
عشق کی ہے نشانی، نہ انکار کر
آنکھ جاگی ہوئی زلف بکھری ہوئی

0
10
یہ عدو گر نہ دِکھے پھر تو نظر ہے دشمن
غیر مسلم تو ہیں، داعش بھی مگر ہے دشمن
اے مسلمان ذرا جھانک گریباں میں بھی
پہلے اس کو تو پکڑ جو ترے گھر ہے دشمن
عزم، امید، وفا، رختِ سفر میں باندھو
ساتھ ہتھیار رکھو راستے پر ہے دشمن

0
11
ہاتھ میں جب نہیں ہے اپنی جان
پھر اکڑتا ہے کس لیے انسان
سب خدائی جہاں سے کھاتی ہے
میرے مالک کا ہے وہ دستر خوا ن
عارضی ہیں تمام ارض و سما
صرف باقی رہے گی رب کی شان

0
11
آزاد نظم
زندگی کے سفر پر میں تنہا چلا تھا مگر
راستے میں کئی اجنبی دوست بن کر ملے
زندگی کے سفر میں کئی موڑ آئے
کہیں پر پریشان حالی میں آ کر کسی اجنبی نے مرا ہاتھ تھاما
دلاسہ دیا

0
16
رات کیوں تجھ پہ آج بھاری ہے
دل تجھے کیسی بے قراری ہے
وصل کے چار دن نہیں پائے
ہجر میں زندگی گزاری ہے
تیری الفت کہاں پہ لے آئی
اب مری زندگی میں خواری ہے

0
13
مات ہو گی نہ زندگی میں ہمیں
رب نہ بھولے غمی خوشی میں ہمیں
ہے اطاعت فلاح کا رستہ
جو ملا حق کی روشنی میں ہمیں
جھوٹ دولت کما کے دے گا مگر
رب ملے گا تو راستی میں ہمیں

0
14
محافظ سو رہے ہیں جب چمن کے
چمن لوٹیں سپاہی انجمن کے
کدھر ہیں جان اپنی جو لٹائیں
گئے عاشق کہاں سَروُ و سمن کے
جنھوں نے ہم کو آزادی دلائی
بڑے پکے تھے وہ اپنی لگن کے

0
13
میں بھی کبھی کربلا، ایک نظر دیکھ لوں
عشقِ خدا میں فنا، دشت و نگر دیکھ لوں
رحمتِ عالم ہیں جو، ہیں جو نبی آخری
ان کے نواسے کا میں رختِ سفر دیکھ لوں
ہے یہی خواہش مری خواب میں میرے خدا
فاطمہ زہرا کا میں لختِ جگر دیکھ لوں

0
13
کہیں پہ بھوک سے لاچار زندگی دیکھی
تو مرگ پر کہیں دولت ہے ناچتی دیکھی
کوئی غریب مسافر کو پوچھتا بھی نہیں
تمہارے شہر میں آ کر یہ بے رخی دیکھی
ہمارے ساتھ کبھی خوش نہ رہ سکو گے تم
کئی برس ہوئے ہم نے نہیں خوشی دیکھی

0
14
ان حسینوں کے بھلے چہروں پہ جانا نہ کبھی
دل انھیں دے کے سکوں دل کا گنوانا نہ کبھی
جب رضا رب کی ہے درکار تو خفیہ رکھنا
کر کے نیکی سرِ بازار جتانا نہ کبھی
علم و دانش ہے خدا کی بڑی نعمت تم پر
خود کو بے فیض مباحث میں کھپانا نہ کبھی

0
14
گرد ہمارے یک دم یوں آزار ہوئے
شام ہوئی ہم جیون سے بیزار ہوئے
شب بیداری ہم کو پہاڑ سی لگتی تھی
ہجر کی رت میں رستے سب ہموار ہوئے
کل تک جو میری پہچان پہ نازاں تھے
آج وہ میرے ذکر پہ کیوں بیزار ہوئے

0
21
وہ جیسی تیسی بات کریں وہ حسنِ ادا ہو جاتی ہے
میں لہو سے بھی تحریر لکھوں لمحوں میں ہوا ہو جاتی ہے
اس ہجر کی بھٹی سے پک کر تب کچھ اشعار نکلتے ہیں
جب درد کی آنچ پہ جل جل کر مری روح فنا ہو جاتی ہے
جب تازہ لہو کی حاجت ہو ان راہِ وفا کے کانٹوں کو
ہم ننگے پاؤں آتے ہیں اور رسم ادا ہو جاتی ہے

0
13
آپ کو تھوڑی فرصت ہو تو بات کریں
اک دوجے پر ظاہر ہم جذبات کریں
عشق سکھا دیں اس کو لیکن سوچتے ہیں
پیش اسے کیوں درد کی ہم سوغات کریں
دونوں میں سے ایک ہی کام کی فرصت ہے
عشق کریں یا ہم بہتر حالات کریں

0
17
خون کو ارزاں کرتے ہو
باغ بیاباں کرتے ہو
دہشت سے بمباری سے
شہر کو ویراں کرتے ہو
آگ لگا کر بستی کو
تم تو چراغاں کرتے ہیں

0
14
آنکھوں میں نمی ہے مرے زخموں پہ نمک ہے
اک شخص کی چاہت کی یہ ادنی سی جھلک ہے
نکلے تو ہیں دھرتی سے کئی قیمتی جوہر
ہو جوہری کو قدر یہی اب بھی کسک ہے
بس جھوٹ سناتے ہیں قلم بیچ صحافی
دانش میں یہاں جعفر و صادق کی جھلک ہے

0
15
آتا ہے اسے خوب ہنسانے کا سلیقہ
روٹھے ہوؤں کو پاس بلانے کا سلیقہ
کیوں نیند میں بھی خواب اسی کے مجھے آئیں
ہے خواب میں بھی اس کو لبھانے کا سلیقہ
اے حسن مجسم مجھے مرغوب ہوا ہے
آنکھوں سے ترا جام پلانے کا سلیقہ

0
11
مگن تھا اپنے آپ میں دیوانہ بن گیا
زمانے کے ستانے کا بہانہ بن گیا
فقط کسی سے ایک پل کا سامنا ہوا
خبر اڑی کچھ اس طرح فسانہ بن گیا
ستم پہ چپ نہیں رہا مچا دیا وہ شور
جو ظلم کے خلاف تازیانہ بن گیا

0
17
روز ازل سے شروع ہے خیر و شر کی کہانی
اور ابد تک چلتی رہے گی بشر کی کہانی
پہلا قتل کیا قابیل نے اس دنیا میں
ہے تاریخ میں بھی محفوظ سفر کی کہانی
آسیہ تھیں خاتون پلے موسی بھی وہیں پر
قدرت رب کی ہے فرعون کے گھر کی کہانی

0
19
انصاف بکے گا پیسوں میں جب منصف ہو گا چور یہاں
پھر خواب رہا ہے خواب رہے گا، ہو جمہور کا زور یہاں
سب چور یہاں مل کھاتے ہیں، مزدور کی محنت کا پیسہ
پھر آخر اک دن چوروں کو بھی پڑ جاتے ہیں مور یہاں
ایوان میں ایسے چیختے ہیں جیسے یہ مچھلی منڈی ہو
سب ایک ہوئے ہیں اندر سے، اوپر سے مچائیں شور یہاں

0
16
ہیں رمضان کے دن بڑی برکتوں کے
خدا کی عطا کے ہیں اور رحمتوں کے
نصیبوں سے پھر یہ ملا ہے مہینہ
اٹھائیں مزے رب کی سب نعمتوں کے
ہے ابلیس بھی قید میں اس مہینے
یہ دن تو گناہوں سے ہیں نفرتوں کے

0
15
خوب خدا کی صنعت کے شہکار ہوئے
اِنس، چرند، پرند ہوئے اشجار ہوئے
سب سے افضل اس نے بنایا نبیوں کو
حضرت احمد نبیوں کے سردار ہوئے
ایک خدا ہے جو ہر ایک کو دیتا ہے
اس قابل کب شاہوں کے دربار ہوئے

0
17
اس کے بغیر زندگی اچھی گزر گئی
اتنا ہوا کہ دل سے یہ دنیا اتر گئی
قسمت میں ساتھ اس کا نہیں تھا نہیں ملا
مَنت، نیاز اور دعا بے اثر گئی
عشاق لگ گئے سبھی دولت کی دوڑ میں
مجنوں کے انتظار میں لیلیٰ ہی مر گئی

0
14
لوگ گلشن کی حفاظت ہمیں کرنے دیتے
ہم نہ اک بار بھی کلیوں کو بکھرنے دیتے
تم اگر سچ میں کسی دین کے پَیرَو ہوتے
اپنے مذہب کو یوں بدنام نہ کرنے دیتے
حکمراں میرے وطن سے کبھی مخلص ہوتے
اپنے لوگوں کو نہ پردیس میں مرنے دیتے

0
14
ظلمتِ شب میں امیدوں کا کوئی دیپ جلا
اپنی آنکھوں میں تمنا کا کوئی سیپ جلا
کیوں پریشاں ہے کہ دنیا نے تجھے چھوڑ دیا
اپنے اندر ہی محبت کا کوئی دیپ جلا
ہجر کی ٹھنڈی ہوا سے تو نہ گھبرا اے دل
یادِ جاناں میں ذرا درد کا لہیب جلا

0
16
تم کیا گئے کہ رنگِ خیالوں سے دور ہیں
ہم روشنی کے سب ہی حوالوں سے دور ہیں
اس کے بغیر کٹ تو رہی ہے مری حیات
پر ہم حیات کے سبھی حالوں سے دور ہیں
وہ اک جواب کیا ملا، خاموش ہو گئے
اب ہم زمانے بھر کے سوالوں سے دور ہیں

0
24
کیسی نحوست دیکھ چمن پر طاری ہے
پھولوں پر برسات کی رُت بھی بھاری ہے
دنیا میں بھی گندم ہی کے پھندے ہیں
بھوک مٹانے میں کتنی دشواری ہے
غربت اپنے ساتھ مصایب لاتی ہے
کچھ تو ریاست کی بھی ذمہ داری ہے

0
15
چرچے ہیں اب عام تمہارے
دیکھ رہا ہوں کام تمہارے
پیار جو دیکھا ان آنکھوں میں
ہم تو ہوئے بے دام تمہارے
ہجرت میری مجبوری تھی
پر جیون ہے نام تمہارے

0
12
جس کے پاؤں میں غم کا چھالا ہے
اُس نے کانٹوں کو بھی سنبھالا ہے
ظلم کی شب بھی ہم نے اے ہمدم
خون سے اپنے دِیپ پالا ہے
بات سچ ہے کہ دشتِ ہجرت میں
تیری یادوں کا ایک ہالا ہے

0
19
وفا کے رستے میں جو ملی ہیں، عداوتیں بھی شمار کرنا
جو ہم نے ہنس کر سہی ہیں اب تک، ملامتیں بھی شمار کرنا
وہ جن کے سائے میں کٹ گئی تھی ہماری عمرِ رواں کی خوشبو
بچھڑتے لمحوں کی وہ رسیلی حکایتیں بھی شمار کرنا
کبھی جو فرصت ملے تو دل کے شکستہ خانوں میں جھانک لینا
جو اس میں مدفون ہو چکی ہیں، وہ حسرتیں بھی شمار کرنا

0
28
وہ زخمِ تمنا کو چھپائے ہوئے لوگ
خاموشی کا طوفان اٹھائے ہوئے لوگ
پھر لوٹ کے آئے نہ کسی حال میں وہ
اک بار جو نظروں سے گرائے ہوئے لوگ
ہر سانس میں اب زہرِ جدائی ہے بھرا
ہم پیار کی شمعوں سے جلائے ہوئے لوگ

0
17
تیرا چہرہ جدا نہیں ہوتا
َ اب کوئی دوسرا نہیں ہوتا
َ غم کا در وا ذرا نہیں ہوتا
َ دل کسی سے جدا نہیں ہوتا
َ عشق میں فیصلہ نہیں ہوتا
َ کوئی بھی لب کشا نہیں ہوتا

0
30
آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سے بات ہوئی
دل کی زمیں پر چاہت کی برسات ہوئی
لوگ مگن ہیں ایسے اپنی دنیا میں
ہوش نہیں کب دن نکلا کب رات ہوئی
ہجر سزا ہے عشق میں پڑنے والوں کی
کس کو حاصل وصل کی ہے سوغات ہوئی

0
26
بام پر آپ آتے تو کیا بات تھی
چاند ہم دیکھ پاتے تو کیا بات تھی
شکریہ آپ تشریف لائے تو تھے
آپ آ کر نہ جاتے تو کیا بات تھی
دل کے ٹکڑے لیے سوچتے ہیں یہ ہم
تم سے دل نہ لگاتے تو کیا بات تھی

0
19
حسینوں کی ادائیں دیکھتے تھے
انھیں ہم بھر کے آہیں دیکھتے تھے
ابھی تو بال بچے ہو گئے ہیں
کبھی ہم ان کی راہیں دیکھتے تھے
انہیں بھی آرزو تھی دیکھنے کی
چرا کر وہ نگاہیں دیکھتے تھے

0
20
جس انسان کو چاہت الفت راس نہ ہو
دور رہے وہ شخص ہمارے پاس نہ ہو
لوگ اسیر بنے ہیں اپنی خواہش کے
قید یہ ایسی ہے جس کا احساس نہ ہو
مجھ کو عطا ہے جو کچھ میری دنیا میں
ملتا نہیں گر فضل خدا کا خاص نہ ہو

0
22
ہم یہاں شعر و سخن سے غم بھلانے آئے ہیں
مسکراتی محفلوں میں مسکرانے آئے ہیں
اس قلم کی ہے عبادت مسکراہٹ بانٹنا
سامنے رب کے قلم کا سر جھکانے آئے ہیں
پھول جیسی بات کر کے جیت لیں گے سب کے دل
دوستوں کی بزم میں خوشبو لٹانے آئے ہیں

0
20
ہے آدمی بھلا، جسے بیوی کا ڈر بھی ہو
حوروں کا اس کے دل میں مگر ایک گھر بھی ہو
دنیا کی رونقیں اسے گمرہ نہ کر سکیں
بیوی نے جو کہا اسے اس کا اثر بھی ہو
زوجہ کو اعتبار نہ شوہر پہ ہو کبھی
چاہے معاشرے میں بہت معتبر بھی ہو

0
49
دل کو دکھوں کے زہر میں دھونا ہے زندگی
یادوں کا بوجھ کندھوں پہ ڈھونا ہے زندگی
سب جال خواہشات نے ڈالے ہیں چار سو
رب کی رضا میں خود کو ڈبونا ہے زندگی
شیطاں کے راستے پہ چلے تو یہ خاک ہے
گزرے جو رب کے در پہ تو سونا ہے زندگی

0
19
زمانے کو ہم الوداع کر چلے
جیے جس قدر سر اٹھا کر چلے
دعاؤں میں اب یاد رکھنا ہمیں
کہ ہم اپنے وعدے وفا کر چلے
بھلاؤ گے ان کو بھلا کس طرح
معطر جو دل کی فضا کر چلے

0
26
جو کبھی ہوتی تھیں دل میں چاہتیں باقی نہیں
روح میں بھی پیار کی وہ لذتیں باقی نہیں
وہ مرا بچپن مرا کوچا مری سب یاریاں
وقت ان کو لے گیا وہ الفتیں باقی نہیں
دل مرا ناکامیوں کی جاگتی تصویر ہے
جان دے کر جو کمائیں راحتیں باقی نہیں

0
27
ماں (آزاد نظم)
محبت کا پیکر ہے ماں کا سراپا
کوئی دوسرا اس کے جیسا کہاں ہے
وہ شفقت جو اس کی کلیجے میں
رکھ دی ہے رب نے
کسی اور کو وہ عطا کب ہوئی ہے

0
30
دل ٹوٹ جائے اور دلاسا کوئی نہ ہو
مولا ہمارے جیسا بھی تنہا کوئی نہ ہو
مولا ہمیں بھی چاہیے اک زخم اس طرح
بِن عشق جس کا اور مداوی کوئی نہ ہو
غربت میں عمر کٹ گئی پر سر نہیں جھکا
بے حس جہاں کے سامنے رسوا کوئی نہ ہو

0
27
آج تنہائی سے جو پریشان تھے
کل تلک محفلوں کی وہی جان تھے
قبر میں خاموشی سے ہیں سوئے ہوئے
جو کبھی میلوں ٹھیلوں کی پہچان تھے
کھو گیا پہلوانوں کا جاہ و جلال
کیا سے کیا ہو گئے ہم تو حیران تھے

1
29
ظلم اور جبر کے اطراف کٹہرا ہوگا
حسن ظن ہے کہ نیا دور سنہرا ہوگا
بات خنجر کی طرح دل میں اتر جائے گی
بات کا زخم سمندر سے بھی گہرا ہوگا
وہ اگر چاہیں گے بدلیں یہ نظامے ہستی
‏ہر اک گام پہ ظلمات کا پہرا ہوگا

1
44
جو حق پہ تھے انھیں بجھادیا گیا
پرانے قصوں کو دھرا دیا گیا
بلال تیری مٹی کربلا بنی
ترے لہو کو بھی بہا دیا گیا
وہ روشنی دکھانے کو جو آئےتھے
انہی کو ہی وہاں جلا دیا گیا

32
عجیب لوگ ہیں نفرت انھیں سکھاتے ہیں
ہنر جو پیار کا گھٹی میں لے کے آتے ہیں
وہ جن کے ہاتھ میں پھولوں کے ہار ہوتے تھے
ہماری راہ میں کانٹے ابھی بچھاتے ہیں
جنہیں گھمنڈ تھا لوگوں کے دل ملانے کا
دلوں میں دوریاں وہ آج کل بڑھاتے ہیں

31
وہ رونقیں کہاں گئی ہیں محفلوں سے پوچھئیے
دلوں میں فاصلے ہیں کیوں یہ دوستوں سے پوچھئیے
کہیں نہ کھو گئے ہوں آپ زندگی کی دوڑ میں
کہاں ہیں منزلیں، ٹھہر کے راستوں سے پوچھئیے
غمی تو میری زندگی کے ساتھ ساتھ ہے مگر
مرے نصیب کی خوشی کا قسمتوں سے پوچھئیے

25
عشق میں حد سے گزرنا چاہے
وہ مرے دل میں ٹھہرنا چاہے
ترکِ الفت کا ارادہ بھی کرے
پھر ان آنکھوں میں سنورنا چاہے
خوفِ رسوائی ستاتا ہے اسے
عہدِ الفت سے مکرنا چاہے

25