Circle Image

عادل ابن ریاض-Adil Riaz Canadian

@urducanadatv

نوائے سحر کینیڈا پہلا،دوسرا اور تیسرا ایڈیشن۔عادل ابن ریاض

ذرا قابو سے باہر دل ہوا تھا
سنبھلنا پھر بہت مشکل ہوا تھا
چلا جب گھر سے تو میں تھا ادھورا
میں راہِ عشق میں کامل ہوا تھا
ہوا دشمن جہاں والوں کا میں تو
ترے یاروں میں جب شامل ہوا تھا

0
2
بچھڑنے کے غم میں کہیں مر نہ جاؤں
ترے ہجر میں آج کچھ کر نہ جاؤں
سمیٹو مجھے میں بکھرنے لگا ہوں
اندھیروں کی رت میں اترنے لگا ہوں
دعا بھی زباں سے نکلتی نہیں ہے
مگر ساتھ میرے تو چلتی نہیں ہے

0
3
کوئی کاہے سمجھے ضرورت کسی کی
کسی کو رہی کب ہے عادت کسی کی
غرور و انا نے عجب ڈول ڈالا
کہاں اب رہی سچی الفت کسی کی
زمانہ بھی دھوکا دھڑی کا ہے عادی
ڈرامہ لگے اب مروت کسی کی

0
9
حُبّ گلشن جو غیرت جگاتی نہیں
جان جوکھم وطن کا اٹھاتی نہیں
گر نہ آئی چمن سے خبر خیر کی
دل ہے غمگیں، نظر مسکراتی نہیں
سرحدوں پر کھڑے ہوں جواں دیس کے
پھر وطن پر کوئی آنچ آتی نہیں

0
5
جہالت اور نفرت ہے
کہاں کی یہ عبادت ہے
محمد رحمتِ عالم
جہاں پر ان کی شفقت ہے
عدو کو مارتے ہو کیوں
معافی ان کی سنت ہے

0
7
ہم درد کا اک دیپ جلانے میں لگے ہیں
اور کچھ یہاں طوفان اٹھانے میں لگے ہیں
برباد کیا، راکھ اڑی، شہر جلے سب
اب آگ کے شعلوں کو چھپانے میں لگے ہیں
انصاف کی مٹی کو تو خود روند دیا ہے
اور عدل کا اک سوانگ رچانے میں لگے ہیں

0
9
نہ ہوتے اشک آنکھوں میں تو افسانے کہاں جاتے
اگر دِل ہی نہ دُکھتا تو یہ دیوانے کہاں جاتے
وفا کی راہ میں اس نے بدل کر راستہ اپنا
بڑا احسان کیا، ورنہ وہ پہچانے کہاں جاتے
محبت کی حقیقت کو چھپانا تو بہت چاہا
مگر یہ چاکِ دامن اور یہ مستانے کہاں جاتے

0
14
نہ ہوتی خوف کی پَرْچھائِیں ان روشن ستاروں پر
نہ آتی آنچ ان جھیلوں، پہاڑوں، سبزہ زاروں پر
مہکتی وادیاں، یہ چاند چہرے اور رخِ گلشن
نہ روتے بیٹھ کر بارود کے جلتے مزاروں پر
پرندے گیت گاتے، تتلیاں بھی رقص میں رہتیں
نہ پڑتی راکھ انسانوں کے دلکش کوہساروں پر

0
9
محبت کی کہانی میں عجب کچھ موڑ آتے ہیں
پرندے آشیاں اپنا اکیلا چھوڑ آتے ہیں
ملی ہے ہجرتوں سے بس ہمیں یہ عمر بھر کی ٹِیس
مسافر دور پردیسوں میں ناطے توڑ آتے ہیں
جہاں مٹی کی خوشبو اور اپنوں کی محبت ہو
مسافر سب وطن کی سمت ہی پھر دوڑ آتے ہیں

0
15
یہ فلک یہ دھوپ چھاؤں ، یہ زمین یہ زمانہ
مرے رب کی قدرتوں کا، ہے حسین شاخسانہ
کبھی تنہا دل تھا پر اب، کئی لاکھ مہرباں ہیں
ترے عشق میں مبارک، رہ و رسم مُشفِقانہ
یہ پیامِ باد نو ہے مری آبرو اسی سے
جو دلوں کو فتح کر لے وہ نظر ہے فاتحانہ

0
9
یاد جب تِری آئے، دل میں ایک جُو آئے
تب کہیں زمانے میں زندگی کی خُو آئے
غم کے سب اندھیرے اب دور ہوں گے دنیا سے
سامنے ہمارے جب وہ ہی ماہِ رُو آئے
کیوں نہ مٹ سکیں دل سے رنج و غم زمانے کے
ہر طرف اجالا ہو، نُور ہی کی سُو آئے

0
6
ہے نہاں راز کچھ فغان میں کیا
آگ ہے اب جو گلستان میں کیا
جس کی خاطر میں در بدر پھرتا
وہ ملے گا اب اس مکان میں کیا
اب کسی سے بھی دل نہیں ملتا
بھر گیا زہر خاندان میں کیا

0
5
کس سے اب عرضِ مدعا کیجے
شہر کا شہر ہے خفا، کیجے
ہم کہ خود سے بھی اب نہیں ملتے
آپ سے مل کے بھی کیا کیجے
عشق کا روگ تو پرانا ہے
درد بڑھ جائے تو دعا کیجے

0
11
کوئی افلاک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے
مٹی، پوشاک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے
بند ہے اپنی ضرورت کے قفس میں ہر شخص
قیدی اس باک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے
ایک ہی دھن ہے کہ بھر جائے تہی دست کا پیٹ
بھوکا اب ساک سے آگے کی کہاں سوچتا ہے

0
7
تھا نشیبِ راہ میں ایسا بھی اک منظر کھلا
دھندلا سایہ کوئی رستے میں ہی آ کر رک گیا
ایک پل کو حرکتِ پیہم تھی اور اگلے ہی پل
سامنے شیشے کے بس اک خوف کا عالم رہا
تھا ہمارے بچپنوں کا وہ کوئی موسم کہ جب
آسماں نیلا تھا یا پھر ہر طرف ماتم رہا

0
5
فضائے دہر میں پھر چھا گیا غم کا دھواں دیکھو
محرم کا ہلالِ نو ہوا ہے رونما دیکھو
زمانہ پوچھتا ہے کیا ہے پیغامِ شہِ والا؟
قلم خاموش ہے، بولے گی اب خاکِ شفا دیکھو
نہ جھکنا جابروں کے سامنے، یہ درسِ اول ہے
یہی عباس کا، اکبر کا تھا عزم و وفا دیکھو

0
7
خدا کو سامنے اپنے میں پاتا ہوں
دعا کے واسطے جب گڑگڑاتا ہوں
ادھوری خواہشیں دل میں چھپا کر میں
نمازوں میں خدا ہی کو بتاتا ہوں
مری شہ رگ سے بھی نزدیک رہتا ہے
اسے ملتا ہوں جب سجدے میں جاتا ہوں

0
7
ہم یہاں شعر و سخن سے غم بھلانے آئے ہیں
مسکراتی محفلوں میں مسکرانے آئے ہیں
اس قلم کی ہے عبادت مسکراہٹ بانٹنا
سامنے رب کے قلم کا سر جھکانے آئے ہیں
پھول جیسی بات کر کے جیت لیں گے سب کے دل
دوستوں کی بزم میں خوشبو لٹانے آئے ہیں

0
12
اڑان جن کی فلک پار تک نہیں جاتی
نگاہ ان کی درِ یار تک نہیں جاتی
کوئی حصار تمنا کو روک لیتا ہے
حدودِ عشق سے یہ پار تک نہیں جاتی
ذرا زیادہ ہی محتاط ہے یہ تہمتِ عشق
شریف شخص کی دستار تک نہیں جاتی

0
8
جب لوگ بھلانے لگتے ہیں
پھر خواب ستانے لگتے ہیں
کیوں ترکِ محبت کرتے ہو
کب اس پہ خزانے لگتے ہیں
تو آ جا تیرے آنے سے
کچھ درد ٹھکانے لگتے ہیں

0
8
جس دن سے تو میرے دل کا پیر بنا
تیری نظر کا میں اس دن سے اسیر بنا
کایا پلٹ کے رکھ دی تو نے میری تو
اہلِ وفا کی تو ہی تو تقدیر بنا
کافی سکوں ملتا ہے تیری صحبت میں
تیرا قافلہ بڑھ کر جمِ غفیر بنا

0
5
حالات ہیں خراب یوں دھرنے نہ دیجیے
کلیاں کھلی ہیں باغ میں مرنے نہ دیجیے
اپنی انا کے واسطے لڑتے ہیں جو، انہیں
بدنام نام دین کا کرنے نہ دیجیے
غدار ہیں جو زر کے پجاری ہیں حکمراں
ان کو جڑیں وطن کی کترنے نہ دیجیے

0
12
بچا کوئی نہیں ہے اب کرونا سے
چھڑا دے جان میرے رب کرونا سے
دعا کرتے ہیں تیری بارگہ میں ہم
نکل آئیں خدایا سب کرونا سے
سوا تیرے سہارا کس کا ہے ہم کو
ڈری بیٹھی ہے دنیا جب کرونا سے

0
7
اس کے اپنوں کا لہجہ بہت سرد تھا
یہ رویہ ہی اس شخص کا درد تھا
اس قدر کرب میں بھی وہ زندہ رہا
اس نے ثابت کِیا، واقعی مرد تھا
روح بھی کپکپائی اسے دیکھ کر
سر سے پاؤں تلک اس قدر زرد تھا

0
7
جو مٹتا نہیں ہے، فسانہ اسی کا
ہوا دہر میں اب، زمانہ اسی کا
مِٹایا تھا جس نے شہنشاہِ غم کو
وہ خود مٹ گیا، دہر شاہد بنا ہے
مگر ابنِ حیدر کا نقشِ قدم تو
زمانے کے عزم و عمل کی جِلا ہے

0
13
میں اس کے پیچھے ایسے چل پڑا ہوں
وہ اک مہتاب ہے، میں آئینہ ہوں
تو دریا ہے تو میں ساحل پہ گم تھا
ملن کی چاہ میں اب بہہ گیا ہوں
گلابی پھول جیسے تیرے عارض
میں ان رنگوں میں لفظوں میں بنا ہوں

0
11
ہوا دورِ ظلمت، ضیا چار سُو آئے
خدا ہی کرے اب وہ رشکِ سَبُو آئے
کریں کیا کہ اب یاد کی ایک جُو آئے
دلِ بے قرار و حزیں کو سکوں آئے
نہ حسرت رہے کوئی دل میں نہ ارماں
تصور میں جب وہ مِرا عطرِ خُو آئے

0
9
مجھ پر مرے مولا نے یہ احسان کیا ہے
ہر کام اسی نے مرا آسان کیا ہے
مجھ کو جو دیا ہے مری اوقات سے بڑھ کر
دشمن کو مرے، رب نے ہی حیران کیا ہے
میں اس کی رضا جان کے، ہر کرب سے گزرا
یوں شکر اسی کا پسِ زندان کیا ہے

0
13
کہوں کیا اب پرانی ہو گئی ہے
محبت بس کہانی ہو گئی ہے
وفا کو جس قدر دھکے پڑے ہیں
یہ گڑیا بھی سیانی ہو گئی ہے
ہمیں بھی درد کہنا آ گیا اب
خدا کی مہربانی ہو گئی ہے

0
13
مجھے جو چھوڑنا چاہے اسے میں چھوڑ دیتا ہوں
مرا دل توڑنے والے کا، میں دل توڑ دیتا ہوں
سفر میں ہم سفر گر ساتھ دینے پر نہ راضی ہو
تو میں اپنی مسافت کو نیا اک موڑ دیتا ہوں
ہزاروں منزلیں لوگوں نے بدلی ہیں مگر میں تو
نگاہیں اک جگہ جب جوڑ دوں تو جوڑ دیتا ہوں

0
8
دل سے نکلی ہوئی اک بات ذرا کہنے دو
دیس سانجھا ہے ہمیں بھی تو یہاں رہنے دو
بحرِ ظلمات سے گزرے ہیں بڑی مشکل سے
اب ہمیں پیار کے دریا میں ذرا بہنے دو
یہ سزا دیس میں حق گوئی کی ہے سب کے لیے
یہ جو غداری کے طعنے ہیں ہمیں سہنے دو

0
9
بتاؤ دو چار، یا کہ جانیں ہزار لو گے؟
یا عمر ساری اسی روش پر گزار لو گے؟
خدا کے بندے ہیں ہم ہمیں کیوں ستا رہے ہو
ہمیں ستا کر عتابِ پروردگار لو گے
جناح نے مشکلوں سے ہے یہ وطن بنایا
تو کیا تم ان حرکتوں سے اس کو سنوار لو گے؟

0
12
گلہ ہے اسے، مجھ کو چاہت نہیں ہے
مگر اس کو میری ضرورت نہیں ہے
زمانے کو چھوڑا ہے اس کے لیے، پر
اسے مجھ سے تھوڑی بھی رغبت نہیں ہے
ہر اک بات پر روٹھنا اس نے سیکھا
وفا کی مگر اس کو عادت نہیں ہے

0
6
جو بویا تھا کبھی وہ کٹ رہا ہے
چمن میں زہرِ نفرت بٹ رہا ہے
یہ اپنے ہی کیے کا ہے نتیجہ
کہ لاشوں سے وطن اب پٹ رہا ہے
یہ خونی آندھیاں جب سے چلی ہیں
مرا ان سے کلیجہ پھٹ رہا ہے

0
16
نسلوں سے پہچان ہے پیاری
لفظوں کی یہ کان ہے پیاری
سب سے بڑھ کے زبان ہے پیاری
اردو میری جان ہے پیاری
مذہب، رنگ و نسل سے بالا
مشترکہ اجداد کا ورثہ

0
9
کوئی ہے کہ جس بِن گزارا نہیں ہے ؟
اسے چھوڑ دو جو تمہارا نہیں ہے
خدا کا بھی جو بن نہ پایا، قسم سے
نہیں ہے وہ ہرگز ہمارا نہیں ہے
یہ دل دیس کے حال پر رو نہ دے کیوں
سوا اس کے کچھ اور چارہ نہیں ہے

0
11
جو تو نے بے وفائی کی
نہیں پھر خیر بھائی کی
مجھے گھیرا ہے سردی نے
ہے شامت اب رضائی کی
مجھے چپکے سے سمجھا لو
نہیں حاجت دہائی کی

0
8
خدایا ہمیں ذوقِ طاعت عطا کر
عبادت میں ہم کو تو لذت عطا کر
نمازیں بنیں اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک
تو روزوں کی ہم کو حلاوت عطا کر
پڑھیں تیرا قرآں شب و روز دل سے
خدا ہم کو شوقِ تلاوت عطا کر

0
10
دل کو دکھوں کے زہر میں دھونا ہے زندگی
یادوں کا بوجھ کندھوں پہ ڈھونا ہے زندگی
سب جال خواہشات نے ڈالے ہیں چار سو
رب کی رضا میں خود کو ڈبونا ہے زندگی
شیطاں کے راستے پہ چلے تو یہ خاک ہے
گزرے جو رب کے در پہ تو سونا ہے زندگی

0
9
شہر سے دور پیارا ہے گاؤں وہاں
میری ماں ہے مری دھوپ چھاؤں وہاں
گرچہ آئے وہاں سے ہے مدت ہوئی
جاگزیں اس کے دل میں ہے چاہت ہوئی
اس کی خوشبو بسی میرے پِندار میں
جو جھلکتی ہے اب میرے اشعار میں

0
9
آگ سے تو سب ہی ڈرتے ہیں میاں
شمع پر پروانے مرتے ہیں میاں
مرد دلکش قوم کا غم خوار تھا
یہ تو فنکاری ہی کرتے ہیں میاں
عہد جو اس نے کیا پورا کیا
بات کر کے یہ مکرتے ہیں میاں

0
11
جیسے مجبور عورت بدن بیچ دے
حکمراں بے ضمیرا وطن بیچ دے
مولوی ہے کہ محراب میں بیٹھ کر
دین کے نام پر ہی گگن بیچ دے
ایسی دھرتی کا رونا بھی کیا روئیں ہم
جس جگہ پر سخنور سخن بیچ دے

0
12
وہ رونقیں کہاں گئی ہیں محفلوں سے پوچھ یے
دلوں میں فاصلے ہیں کیوں یہ دوستوں سے پوچھ یے
کہیں نہ کھو گئے ہوں آپ زندگی کی دوڑ میں
کہاں ہیں منزلیں، ٹھہر کے راستوں سے پوچھ یے
غمی تو میری زندگی کے ساتھ ساتھ ہے مگر
مرے نصیب کی خوشی کا قسمتوں سے پوچھ یے

0
13
خدا کا حکم چلے بس، اسمبلی کا نہیں
خدا کے کام میں کچھ دخل آدمی کا نہیں
نہ منکرین کہو دوسروں کو، حد میں رہو
غرور کیا کہ بھروسہ تو زندگی کا نہیں
گئے سمے کی کہانی بنو گے تم سارے
جو مولوی کا دیا ساتھ، راستی کا نہیں

0
6
اگر ہو ناحق، قتال لعنت
ہے بربریت مثال لعنت
گلاب مرجھا گئے چمن میں
اے باغبانو! جدال لعنت
اداس ان کا بھی دل ہے لیکن
ہے ظالموں کا ملال لعنت

0
10
اٹھاؤ نفرتوں کا بار سب لوگوں کی ہستی سے
اٹھاؤ مشکلوں کے خار ہر کوچے سے بستی سے
لگا دو تم یہاں افلاس کے آنے پہ پابندی
کرو یوں پاک اپنے شہر کو بھی فاقہ مستی سے
کمی زندہ ضمیروں کی نہیں ہو گی یہاں لیکن
نکالیں دیس کو اپنے اگر فرقہ پرستی سے

0
11
آگ نفرت کی ہم بجھاتے ہیں
دیپ الفت کے پھر جلاتے ہیں
جان دینے سے ہم نہیں ڈرتے
نیک مقصد پہ جاں لٹاتے ہیں
خوف کے سائے سر پہ منڈلائیں
گیت پھر بھی سکوں کے گاتے ہیں

0
10
کیوں وہ جمہوریت کا دوانہ ہوا
امن دیکھے بھی جس کو زمانہ ہوا
حکمراں کو میسر ہیں عیاشیاں
دور مفلس سے ہے آب و دانہ ہوا
ظلم سہ کر بھی کہتے ہیں "سب ٹھیک ہے"
فہم ان مفلسوں سے روانہ ہوا

0
7
جو سو رہی ہے قوم اس کو مت اٹھائیے
گر اٹھ پڑی، کہیں گے اب ہمیں بچا ئیے
جو آصف و نواز سے نہیں لٹے اگر
تو قادری، نیازی کو کہو کہ "آ ئیے"
اگر غلط لگے کسی کا فیصلہ تو پھر
نہ شور کیجیے، عدالتوں میں جائیے

0
13
مسجد مینار گراتے ہو
پھر مسلم بھی کہلاتے ہو
بوگس دستور چلاتے ہو
قبروں کے کتبے ڈھاتے ہو
وہ رحمتِ عالم ہیں جن پر
تم حق اپنا جتلاتے ہو

0
5
پاس بیٹھو کہ دل سنبھل جائے
کیا خبر، کل یہ وقت ٹل جائے
بات نکلے گی پھر جدائی کی
شمعِ محفل ابھی نہ جل جائے
تجھ کو پایا ہے کتنی مدت میں
یوں نہ لمحہ کوئی نکل جائے

0
12
مسافر مدینے کا جب کوئی جائے
تڑپتے ہوئے دل کی دھڑکن سنائے
عقیدت سے سر کو جھکائے، بتائے
سلام انﷺ سے کہنا، سلام انﷺ سے کہنا
وہاں جب نظر سبز گنبد پہ ٹھہرے
خوشی کے ابلنے لگیں دل میں چشمے

0
14
ایک غنچہ تھا جو تھا بوئے سمن سرخ میں گم
ہو گئی رنگِ حنا دستِ دلہن سرخ میں گم
ہم نے دیکھی ہے عجب شانِ جنونِ بلبل
ہو گیا اڑتے ہی وہ رنگِ چمن سرخ میں گم
بات جب چھیڑی اس آفت نے مری وحشت کی
ہر تبسم ہوا اس کے ہی دہن سرخ میں گم

0
19
عشق ہی اب دین ہے اور عشق ہی ایمان ہے
چہرہِ جاناں مری ہر سانس کا سامان ہے
غیر کو میں "تو" کہوں، یہ تو نہیں ممکن یہاں
بندگی کا راز اب بس خسروِ دوران ہے
عشق میں مٹ ہی گئی دنیا و عقبیٰ کی تمیز
مجھ پہ اب روزِ ازل اور عاقبت آسان ہے

0
15
قسمیں کھا کر بات سے اپنی مکر گیا ہے
وعدہ خلافی میں وہ حد سے گزر گیا ہے
کتنے سال ضمیر رہا بے ہوش مرا
اس پہ مسلسل محنت کی تو سدھر گیا ہے
تیر و تَبَر سے کام لیا پھر میں نے بھی
پیار کا ہر اک وار جہاں بے اثر گیا ہے

0
12
جب سے گئے ہو تب سے حال یہ میرا ہے
آنکھوں کی سرحد پر غم کا ڈیرہ ہے
سوچ رہا ہوں بات کہاں سے بِگڑی تھی
سوچ کے گرد تری یادوں کا گھیرا ہے
کہنے کو میں سورج جیسا روشن ہوں
لیکن میرے اندر کافی اندھیرا ہے

0
13
زمانے نے گھاؤ لگائے ہیں کیا کیا
ستم ہم سفر نے بھی ڈھائے ہیں کیا کیا
فقط پھول الفت کے بانٹے ہیں میں نے
مگر خار بدلے میں پائے ہیں کیا کیا
کٹی عمر راہوں میں، اب کیا بتاؤں
کہ ہجرت کے صدمے اٹھائے ہیں کیا کیا

0
15
عہد کِیا ہے جاں اسلام پہ واریں گے
حق کی رہ میں اپنا سب کچھ ہاریں گے
اصل سکوں تو حاصل ہو گا ایسوں کو
جسم نہیں، جو اپنی روح سنواریں گے
رب کی رضا میں خوش ہیں اس نے نوازا ہے
کس کس نعمت کا ہم قرض اتاریں گے

0
11
شام ڈھلے جو سائے چلنے لگتے ہیں
آدم زاد بھی رنگ بدلنے لگتے ہیں
رات کے پچھلے پہر جو تیرگی بڑھتی ہے
ہر اک بام سے چاند نکلنے لگتے ہیں
لہجوں میں تو زہر ہے ان سانپوں کا، جو
دوست کے روپ میں گھر میں پلنے لگتے ہیں

0
11
دیے وفاؤں کے من میں جلا گیا کوئی
کہ تیرگی میں اجالے تھما گیا کوئی
کسی کا خاص تعلق تھا گلشن و گل سے
ہماری روح معطر بنا گیا کوئی
ہمارے پاس بھی برہانِ عشق تھی لیکن
دلیلِ حسن سے ہم کو ہرا گیا کوئی

0
11
کافر سارے عالم کے یک جان ہوئے
مسلم تنکا تنکا لہو لہان ہوئے
اہلِ غزہ پر ظلم یہودی کرتے رہے
ہم آپس میں لڑ لڑ کر ہلکان ہوئے
شام لہو ہے اور یمن بھی زخمی ہے
مسلم ہی مسلم کے دشمنِ جان ہوئے

0
12
اجازت چار کی، اک پر گزارا ہے
ڈرے سہمے ہوئے مردو! خسارہ ہے
کہیں کا بھی نہیں چھوڑا ہے بیوی نے
عزیزوں دوستوں سے بھی کنارا ہے
سبھی قانون ہی عورت کے حق میں ہیں
کہ مردوں کو فقط رب کا سہارا ہے

0
12
اس نے پوچھا، کہ کیا ماجرا دل کا ہے
پھر کہا میں نے جو مدعا دل کا ہے
ہجر ہو وصل ہو چین ہی چین ہے
دسترس میں اگر سلسلہ دل کا ہے
کر لے قائل یہ دل ذہن کو ہاں مگر
کب ضمیر اب کہا مانتا دل کا ہے

0
13
دعا کے لیے کتنے دربار بدلے
کہ اقرار میں اس کا انکار بدلے
نہ جانے کہاں کا تکبر ہے اس میں
اسے یہ کہو اپنے اطوار بدلے
انہیں اپنے وعدے پہ آنا نہیں ہے
سو ہم نے تو کپڑے ہیں بے کار بدلے

0
10
رپے پیسے کے بندے ہیں کوئی انسان تھوڑی ہیں
جو ایماں بیچ کھائیں صاحبِ اِیمان تھوڑی ہیں
پجاری مال و زر کا شخص ہے حیوان سے بدتر
کہ اپنی نسل ہی کو کاٹتے حیوان تھوڑی ہیں
تمہارے منہ سے جو نکلے اسے سچ مان لیں لیکن
تمہاری جھوٹ کی خصلت سے ہم انجان تھوڑی ہیں

0
15
سن لو بھائی یہ میری عرضی ہے
گر نہ مانو تمہاری مرضی ہے
مرد شادی شدہ ہو اور خوش ہو
یہ کہانی تو محض فرضی ہے
خاص تحفہ ہے رب کا بیوی بھی
تھوڑی ہمدرد تھوڑی غرضی ہے

0
7
اس جیون میں عروج زوال تو آتا ہے
بچپن بعد جوانی اور بڑھاپا ہے
دل کی امنگیں ایک ڈگر پر رہتیں نہیں
آدمی وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے
اور غریب کا کوئی رشتے دار نہیں
دنیا کا بس دولت ہی سے رشتہ ہے

0
13
جب آنکھوں میں دلکش منظر آئے گا
ساتھ تری یادوں کا سمندر آئے گا
کیونکہ اس نے میری نیند چرائی تھی
اب وہ شخص تو خواب میں اکثر آئے گا
وقت اگر خود کو دہراتا ہے تو پھر
مستقبل میں ماضی مڑ کر آئے گا

0
13
گلچیں کے وفادار نگہبان ہوئے ہیں
یوں ہی تو نہیں باغ بھی ویران ہوئے ہیں
جس روز سے تخلیق یہ انسان ہوئے ہیں
پیدا یہاں پر ساتھ ہی شیطان ہوئے ہیں
یہ شہر ہے یا کوئی درندوں کا ٹھکانہ
کیوں لوگ سبھی ظلم کا عنوان ہوئے ہیں

0
10
زخم زباں کے یوں نہ لگاؤ
مت لفظوں کے تیر چلاؤ
طعنوں کے ترکش کو چھوڑو
لہجے کے نشتر مت چبھاؤ
نرم دلوں پر مرہم اچھا
نرمی کی عادت اپناؤ

0
10
آنکھوں ہی آنکھوں میں ان سے بات ہوئی
دل کی زمیں پر چاہت کی برسات ہوئی
لوگ مگن ہیں ایسے اپنی دنیا میں
ہوش نہیں کب دن نکلا کب رات ہوئی
ہجر سزا ہے عشق میں پڑنے والوں کی
کس کو حاصل وصل کی ہے سوغات ہوئی

0
10
بلاوا جب مدینے سے شہِ بطحا کا آئے گا
مرا افسردہ دل شوقِ سفر سے مسکرائے گا
بھروسہ ہے مجھے ان کی نگاہِ فیض و رحمت پر
بگڑ جائے گا گر رستہ، کرم ان کا دکھائے گا
مدینے کی گلی میں اس طرح کھو جانے کی دھن ہے
اگر ڈھونڈے گا کوئی بھی، تو مجھ کو پا نہ پائے گا

0
12
آج تنہائی سے جو پریشان تھے
کل تلک محفلوں کی وہی جان تھے
قبر میں خامشی سے ہیں سوئے ہوئے
جو کبھی میلوں ٹھیلوں کی پہچان تھے
کھو گیا پہلوانوں کا جاہ و جلال
کیا سے کیا ہو گئے ہم تو حیران تھے

0
10
وہ جس طرف بھی سجا کر عقول آتے ہیں
قدم قدم پہ عقیدت کے پھول آتے ہیں
نکل پڑے ہیں جو سچائی کے سفر پہ یہاں
اُنہی کے حصے میں اکثر ببول آتے ہیں
جھکا کے سر کو جو بیٹھے ہیں تیری چوکھٹ پر
دعا سے پہلے ہی اُن کو حصول آتے ہیں

0
3
37
کہیں مندر دیکھ جلایا ہے
کہیں مسجد میں خوں بہایا ہے
خود حرکتیں دیکھ بتا، ایسا
اسلام کہاں سے لایا ہے
کس مذہب سے ہو، سوچتا ہوں
پر کچھ نہ سمجھ میں آیا ہے

0
11
گر گیا اک سہارا تو میں رو دیا
مجھ کو غم نے پکارا تو میں رو دیا
"میں نے بے کار سمجھا ہوا تھا تجھے"
اس نے طعنہ یہ مارا تو میں رو دیا
خواہشیں جو ادھوری تھیں پوری ہوئیں
دل سے پایا اشارہ تو میں رو دیا

0
15
ہے شامِ غریباں تو دن کربلا ہے
شہادت کا پیاروں کو رتبہ ملا ہے
نہیں مارتا اپنے محسن کو حیواں
مگر یاں مسیحا کی سولی سزا ہے
بتایا ہے انساں نے وحشت دکھا کر
یہ ہمدردِ انسانیت کی سزا ہے

0
11
پھر خواب کی قبا میں سجائیں یہ زندگی
مل کر چلو کہ پھر سے بھلائیں یہ زندگی
وہ دن کہ جب نگاہ میں کوئی گلہ نہ تھا
پھر سے اسی مقام پہ لائیں یہ زندگی
رنگوں کی آرزو میں جو بکھرے تھے راستے
اب اشک بن کے ہم کو رلائیں یہ زندگی

0
18
مذاہب کے د لالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
عداوت کے حوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
اگر سچ بولنا بالکل گوارا ہی نہیں تم کو
تو پھر جھوٹے سوالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے
بپا فتنہ کیا جمہوریت کے نام پر سب نے
سو جذباتی جیالوں سے مجھے تو خوف آتا ہے

0
12
سجی مسلکوں کی دکاں دیکھتا ہوں
کہیں اور کب ہیں جو یاں دیکھتا ہوں
رگوں میں لہو کی بجائے یہاں تو
ہے فرقہ پرستی رواں دیکھتا ہوں
کرپشن حکومت کا ہے لازمی جز
افیسر ہیں سب بد زباں، دیکھتا ہوں

0
10
قرابت تم نبی کی مانگتے ہو
حدیں بھی دین کی پھر پھاندتے ہو
ذرا سا غور کر لو حرکتوں پر
سبھی شیطان کی کیوں مانتے ہو
نبی تو درگزر کرتے رہے ہیں
گلا ہر بات پر تم کاٹتے ہو

0
7
ہیں وطن کے نصیب پتھر کے
اور اس کے طبیب پتھر کے
اپنے جیسا ہمیں بھی کر لیں گے
یہ بکاؤ ادیب پتھر کے
شہر یاروں کے دیکھ کر کرتوت
ہو گئے ہیں غریب پتھر کے

0
11
مٹی کی طرح چاک پہ میں گھومتا گیا
مجھ کو بنا بنا کے کوئی توڑتا گیا
شاید کسی کے خون سے سینچا گیا مجھے
شاخوں کے ساتھ پھل جو لگا سوکھتا گیا
سب اختیار اس کا تھا اس داستان پر
جس سمت اس نے موڑا قلم دوڑتا گیا

0
8
وطن کی یاد میں دن رات جلتے ہیں
سو مثلِ شمعِ فرقت ہم پگھلتے ہیں
ہمیں کہتے ہیں وہ زندیق اور کافر
لہو کے اشک آنکھوں میں مچلتے ہیں
بہت آسان ہے غدار کہنا، پر
جو سنتے ہیں وہ مشکل سے سنبھلتے ہیں

0
12
ایسے جلسوں کے نظارے تو بہت پیارے ہیں
آپ کے در کے ہیں پیارے تو بہت پیارے ہیں
رونقیں ان کی محبت سے لگی ہیں ساری
اور مہمان یہ سارے تو بہت پیارے ہیں
جھوٹ کو مات ہوئی کون سنے گا اس کی
سچ کے لشکر جو ابھارے تو بہت پیارے ہیں

0
7
میری رگ رگ میں بسا ہے اور میری جان ہے
جان سے بھی بڑھ کے پیارا مجھ کو پاکستان ہے
داغِ فرقت کا مجھے احساس ہے ہر ہر گھڑی
پاک دھرتی زندگی ہے اور مری پہچان ہے
یوں تو یہ پردیس بھی اب دیس لگتا ہے مجھے
اس وطن نے ہے سنبھالا اس کا بھی احسان ہے

0
15
عدل کی جیت ہار اپنی جگہ
اور وکیلی پکار اپنی جگہ
لاکھ تفصیل سامنے لائیں
باتیں ہیں بے شمار اپنی جگہ
جرم ثابت بِنا ثبوت کے ہے
عدل کا اعتبار اپنی جگہ

0
12
دیس پھر ایک نظر دیکھ لیا
باپ دادا کا نگر دیکھ لیا
ان سے اب مل تو نہیں سکتا میں
ان کی قبروں کو مگر دیکھ لیا
یاد ماں باپ کی آتی تھی مجھے
جا کے ماں باپ کا در دیکھ لیا

0
14
یہ آنکھ نم حُسَین کے لیے ہی ہے
ہمارا غم حسین کے لیے ہی ہے
درود اور سلام پڑھ رہا ہوں میں
یہ محترم حسین کے لیے ہی ہے
کہا عدو نے کربلا کی خاک پر
کہ ہر ستم حسین کے لیے ہی ہے

0
18
دل سے اب ہر ایک خواہش، ہر پکارے مسترد
تُو نہیں تو زندگی کے یہ خسارے مسترد
ہم نے اِک تیرے سوا دیکھا نہیں کوئی جمال
اب نظر کی حد میں جتنے ہیں نظارے، مسترد
جس میں شامل ہو نہ تیرے پاؤں کی آہٹ کا لمس
ہم کو اپنے گھر کے وہ روشن دِوارے مسترد

0
17
پڑے ہیں سوئے چمن کے داعی
خموش ہیں انجمن کے داعی
وہ اب جو ہجرت نصیب ٹھہرے
وہ سب کے سب تھے وطن کے داعی
کدھر ہیں جانیں لٹانے والے
کہاں ہیں سرو و سمن کے داعی

0
13
مٹ جائے گی کلفت دل سے، اِن بیتابی کے برسوں کی
پھر پیاس بجھے گی آنکھوں کی، اور پیاسے دید کے ترسوں کی
تم ہمت ہار کے مت بیٹھو، اے راہِ وفا کے مت وا لو!
بس تھوڑی سی ہی دوری ہے، اب کل کی یا پھر پرسوں کی
کیوں ہجر کی کالی راتوں سے گھبراتے ہو تم اے یارو!
آغوش میں آنے والی ہے، وہ صبحِ منور برسوں کی

0
19
یہ دنیا ایک میلہ ہے، یہاں سے سب کو جانا ہے
خوشی ہو یا کوئی غم ہو، اسے ہنس کر نبھانا ہے
سفر ہے زندگی کا یہ، سمیٹو تم دعا سب سے
یہی نیکی کا جذبہ ہی تمہارا اک خزانہ ہے
کبھی طوفانِ غم گھیرا کریں جب چار سو تم کو
خدا کے سامنے رونا سکوں کا اک بہانہ ہے

0
23
خاکِ راہِ شہرِ جاناں، دل کا ارماں ہو گئی
پھر وہی مٹی گلے کا، طوقِ ہجراں ہو گئی
شور تھا مٹی میں ملنا، ایک دن سب کو یہاں
وہ مگر نتھنوں کے رستے، داخلِ جاں ہو گئی
رقص کرتی تھی جو ہر سو اک بگولے کی طرح
سانس کی نالی میں آ کر، وہ غزل خواں ہو گئی

0
14
محبت کے چراغوں کو ستم سے کیوں بجھاتے ہو
درِ مقتل پہ کیوں بھائی کو اپنے تم بلاتے ہو
کتابِ حق تو کہتی ہے کہ ہے انسان اشرف ہے
یوں انسانی سروں کو کیوں سرِ نیزہ سجاتے ہو
جہاں تعلیمِ حق یہ تھی کہ الفت عام ہو جائے
وہیں اب نفرتوں کی خارداریں کیوں لگاتے ہو

0
12
عجب دستور دیکھا ہے یہاں آنے یا جانے کا
کسی کو ہوش ہی کب ہے کسی کا سوگ کرنے کا
ہمارے بعد بھی یہ شہر ویسا ہی رہے گا اب
کسی کے پاس فرصت ہے بھلا آنسو بہانے کا
جنازہ اٹھ گیا اور بھیڑ اپنے کام پر لوٹی
نہ تکیہ موت کا ہے اور نہ پروا ہے زمانے کا

0
12
سکوتِ شام میں گہری وہ بات ہو گئی ہے
سفر میں ایسی کٹھن اب کے رات ہو گئی ہے
عجیب رنگ جو بدلا ہے اب کے موسم نے
اسی سے ملنا تو اب کیا وہ بات ہو گئی ہے
پلٹ کے دیکھوں تو رستے دکھائی دیتے نہیں
وہ جس کے نام کی اب یاد ساتھ ہو گئی ہے

0
18
ملو تم اب وفاؤں سے، صدائیں کام آئیں گی
جدائی کے اندھیروں میں ضیائیں کام آئیں گی
نہ کر اب فخر اتنا ان بدلتے وقت کے سُر پر
بگڑ جائے گی جب تالیں، دعائیں کام آئیں گی
جہاں میں کشتیاں اپنی ڈبو دیتے ہیں خود راہی
نہ ساحل کام آئے گا نہ لہریں کام آئیں گی

0
21
ترے خیال نے پھر دل کو بے حساب کیا
وہ میری ہجر بھری راتوں کو گلاب کیا
ہر ایک سانس میں خوشبو تری بکھرنے لگی
تری نگاہ نے موسم کو کامیاب کیا
میں اپنے زخم لیے پھر رہا تھا شہروں میں
تری صدا نے مجھے صاحبِ کتاب کیا

0
10
خیالِ یار کو تصویرِ جاں بنانے لگے
ہم اپنے لفظ سے اک دنیا اب سجانے لگے
میں "وصل" لکھوں تو وہ بے قرار ہو جائے
میں "قرب" لکھوں تو وہ قریب آنے لگے
وہ میرے سامنے بیٹھا رہے تصور میں
میں "دیکھنا" لکھوں، وہ نظریں تک ملانے لگے

0
14
صرف حیوانوں کا کٹنا ہی تو قربانی نہیں
دل اگر بدلا نہیں تو یہ مسلمانی نہیں
اللہ کو پہنچے گا بس تیرے ہی دل کا تقویٰ ہی
خون پہنچے گا نہ کوئی ایسی نادانی نہیں
اپنے اندر کے غرور و کبر کو تو ذبح کر
نفس کی فرمانبرداری، مسلمانی نہیں

0
10
وہ خوابِ وصل کی بنیاد پر جو سجتے ہیں
وہ دل کبھی تو تماشائے ہجر بنتے ہیں
ہزار بار جنہیں راستوں نے لوٹا ہو
وہی مسافر اب اُمیدِ نو سے ڈرتے ہیں
پلٹ کے دیکھنے والی وہ آنکھ کیا جانے؟
کہ پیچھے موڑ پہ کتنے چراغ بجھتے ہیں

0
10
خود اپنے ہی وجود کا ملبہ ہوا ہوں میں
جس سے نکل سکا نہ وہ قضیہ ہوا ہوں میں
ہر شخص اپنے غم کی تلافی میں مست ہے
کس نے یہ کہہ دیا کہ مسیحا ہوا ہوں میں
اک عمر کٹ گئی ہے اسی دشتِ زار میں
اب جا کے اپنے سے بھی شناسا ہوا ہوں میں

0
15
دل کے احوال صاف کرتا ہوں
رو کے خود کو معاف کرتا ہوں
تیرے رستے کی خاک چنتا ہوں
شوق کا اعتکاف کرتا ہوں
مجھ کو دنیا غریب کہتی ہے
میں خدا سے طواف کرتا ہوں

0
16
کوئی موسم ہو، اترتا ہے نظر میں وہ شخص
جیسے سورج کی کرن کھیلے سحر میں وہ شخص
جس کو سوچا بھی تو کانٹے سے چبھے یاد اس کی
کتنا پیارا ہے، مگر ڈوبا ہے ڈر میں وہ شخص
میں نے سوچا تھا کہ اب ترکِ تعلق کر لوں
پھر پکارے گا مجھے راہِ گزر میں وہ شخص

0
19
جب تلک زخم نہ گہرا ہو، غزل کہیے گا
دل کا احوال نہ بدلا ہو، غزل کہیے گا
صرف لفظوں سے کہاں حقِ وفا ہوتا ہے
خونِ دل ساز پہ بکھرا ہو، غزل کہیے گا
بات جب حد سے گزر جائے تو ملتا ہے سکوں
شور جب روح میں برپا ہو، غزل کہیے گا

0
16
اے دیس کیا کروں ترے نصیب جل گئے
وہ جو وفا شعار تھے قریب جل گئے
پلے تھے وحشتوں میں وہ محبتوں سے دور
محبتوں سے دل کے سب غریب جل گئے
جواب دے چکے تھے میرا روگ دیکھ کر
سو تندرست دیکھ کر طبیب جل گئے

0
13
مزدور ڈے پر ایک پرانی تحریر
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
تو سوچ پلٹ آئے وہ غربت کا زمانہ
محسوس تجھے ہو گا کوئی خوف پرانا
غربت سے کئی جا چکے ہیں موت کے منہ میں
بچے بھی بلکتے ہیں کہ ملتا نہیں دانہ

0
14
نہ خون و گوشت سے مطلب، نہ اس کا ہے خدا طالب
جو پہنچا ہے وہ خالق تک، ہے دل کا سلسلہ طالب
خلیل اللہ نے ہم کو سکھایا ہے یہی نقطہ
جو ہو محبوب سب سے، چھوڑ دے اس کو رضا طالب
حقیقی بندگی یہ ہے، جھکا دے نفس کو اپنے
خدا کے حکم کے آگے، مٹا حرص و انا طالب

0
14
اے سخی کچھ کرم ادھر بھی ہو
کچھ تو لائک صنم ادھر بھی ہو
صنفِ نازک نہیں ہوں میں گرچہ
شیئر اک کم سے کم ادھر بھی ہو
وقت لگتا ہے کچھ بھی اس میں کیا
ایک دو محترم ادھر بھی ہو

0
13
جو مدتوں تیرے شہرِ الفت سے میں جدا تھا
تجھے پتہ ہے کہ تیری یادوں سے رابطہ تھا
میں سوچتا ہوں جو ساتھ گزرے ہوئے دنوں کو
تو خود سے کہتا ہوں کتنا دل کش وہ سلسلہ تھا
اداس تجھ کو جو دیکھتا دل اداس ہوتا
تو خوش دکھے تو یہ دل ترے ساتھ ناچتا تھا

0
24
بھولیں گے سب کو ہم نے یہی حلفیہ کہا
اور پھر پرانی چاہتوں کا مرثیہ کہا
درکار اس قدر تھا سکوں ہم کو ہجر میں
ہم نے تمہاری یاد کو بھی تخلیہ کہا
پہنچا رہی ہے ہم کو مہک تیری جس طرح
بادِ صبا کو ہم نے ترا ڈاکیا کہا

0
20
سکون مل نہ سکا خود نما سے لڑتے ہوئے
تھکن سے چور ہیں اپنی انا سے لڑتے ہوئے
ہمیں تو خاک میں ملنا ہی ہے کسی اک دن
بدل گئے ہیں مگر خاکِ پا سے لڑتے ہوئے
چراغِ مصلحتِ وقت بجھ گیا آخر
ہمارے عزم کی سرکش ہوا سے لڑتے ہوئے

0
13
دعا ہے زیست کے آنگن میں ہو بہار سدا
جوان دل رہے، صحت ہو برقرار سدا
نظر میں ایک چمک لب پہ مسکراہٹ ہو
رہے حسین سے چہرے پہ یہ نکھار سدا
جو کیک دیکھ کے یاروں کے کھل اٹھے چہرے
رہیں خدایا یہ چہرے بھی خوشگوار سدا

0
19
محفل میں ڈھونڈتا ہے وہ خلوت نہیں جسے
ہم دے چکے ہیں دل، کوئی عجلت نہیں جسے
اک شخص کر رہا ہے مرے قتل کی دعا
شاید ابھی امورِ محبت نہیں جسے
وہ مانتا ہے خود کو زمانے کا تاجدار
اپنے ہی دل پہ بھی تو حکومت نہیں جسے

0
15
خاک میں مل کے شجر جاتے ہیں
لوگ کس دیس سفر جاتے ہیں
کون لائے گا پلٹ کر ان کو
جو مسافر بھی اُدھر جاتے ہیں
موت کی گود میں سوتے ہیں جو
چاند تارے بھی اتر جاتے ہیں

0
17
ہے یہ امید نیا دور سنہرا ہو گا
اب سیاست پہ بھی جمہور کا پہرا ہو گا
تخت پر بیٹھے گا جب تخت کے قابل کوئی
رہزنوں کے لیے پھر پیش کٹہرا ہو گا
اب سنی جائے گی مظلوم کی فریاد یہاں
اب کے قانون کبھی ان دھا نہ بہرا ہو گا

0
10
پردیس میں ہوں گرچہ بہت دور وطن سے
تعلیم وفاداری کی مجھ کو ہے چمن سے
مر کر بھی فسادی نہیں بن پاؤں گا میں تو
آئے گی مہک امن ہی کی میرے کفن سے
مجھ پر تم اگر کفر کے فتوے بھی لگاؤ
پھوٹے گی صدا پیار کی بس میرے سخن سے

0
15
اہلِ غزہ پہ ظلم و ستم جب رواں ہوئے
آثار درد کے مرے دل سے عیاں ہوئے
اک آنسوؤں کا ابر سا آنکھوں پہ چھا گیا
جتنے خوشی کے خواب تھے سارے دھواں ہوئے
جب باغبان اپنی ہی عشرت میں کھو گئے
امت کے پھول تب سے سپردِ خزاں ہوئے

0
17
کہیں دل کہیں داستاں چھوڑ آئے
کسی لب پہ آہ و فغاں چھوڑ آئے
ہمیشہ ملی جس کے سائے میں ٹھنڈک
وطن میں وہی سائباں چھوڑ آئے
بیاباں میں پیاسے رہے عمر بھر ہم
مگر گھر میں بحرِ رواں چھوڑ آئے

0
15
ان لیڈروں کی آپ ذلالت تو دیکھیے
شہرت کی حرص، مال کی حسرت تو دیکھیے
خود کھائیں مال قوم کا، پھر الٹا قوم سے
مانگیں یہی حساب بھی جرات تو دیکھیے
خود چور کوتوال کو ڈانٹے عجیب ہے
اس صادق و امیں کی سیاست تو دیکھیے

0
13
میں صبر کو راہبر کروں گا
جو ہو سکا درگزر کروں گا
جیوں گا میں ہجر سہہ کے بھی اب
میں زہر کو بے اثر کروں گا
جنہیں وفا کی خبر نہیں ہے
انہیں میں اب باخبر کروں گا

0
15
منزلوں کا نشان باقی ہے
آخری امتحان باقی ہے
مسکرایا نہیں ہوں مدت سے
بس لبوں کا گمان باقی ہے
دھوپ میں جسم جل گیا میرا
کیا کہیں سائبان باقی ہے

0
12
گلی گلی میں ترے نقشِ پا کو ترسے ہیں
مریضِ عشق ہیں، اب ہم دوا کو ترسے ہیں
تھے مٹی کے ڈھیر، اذنِ بقا کو ترسے ہیں
قفس کے قیدی تھے، ہم تو ہوا کو ترسے ہیں
محبتوں میں عجب کربلا کو ترسے ہیں
دلوں کے پاس تھے لیکن وفا کو ترسے ہیں

0
17
روح عریاں، بدن برہنہ ہے
لاکھ پردوں میں من برہنہ ہے
چن لیے پھول سارے گلچیں نے
بے ثمر ہے چمن، برہنہ ہے
چادریں چڑھ گئیں مزاروں پر
اور مفلس کا تن برہنہ ہے

0
20
شب میں اک دفعہ کھل کے روتا ہوں
چین کی نیند پھر میں سوتا ہوں
اشک دل میں سنبھالتا ہوں میں
بیج یوں میں وفا کے بوتا ہوں
ساتھ رکھتا نہیں میں زادِ سفر
جسم لاغر ہے یہ ہی ڈھوتا ہوں

0
13
آسماں کے ستارے سیاست نہ کر
خوبصورت نظارے سیاست نہ کر
قحط ہے اب برس بھی اے ابرِ رواں
وقت کے ہیں اشارے سیاست نہ کر
ہے بھنور میں جو ناؤ مری زیست کی
مجھ سے تو اے کنارے سیاست نہ کر

0
17
جتنے دل بھی چاہت سے ویران رہے
زیست کے اصلی لطف سے وہ انجان رہے
در در گھومے رزق کی خاطر دنیا میں
کچھ پل اپنے گھر بن کر مہمان رہے
کیا کھویا کیا پایا، جان کے کیا لینا
کیوں بندہ یہ سوچ کے خود حیران رہے

0
12
کتنی جانیں لگ جاتی ہیں دیس آزاد کرانے میں
بیچ رہے ہو پیٹ کی خاطر جس کو کھوٹے آنے میں
وہ تاریخ میں زندہ رہتے ہیں اپنی قربانی سے
خون جگر کا دیتے ہیں جو ایسا باغ سجانے میں
یا رب میری ارض وطن اب حشر تلک آباد رہے
امن کے پنچھی محو رہیں بس امن کے گیت سنانے میں

0
12
حسین زیست کی تب جستجو نہیں کی تھی
حسین شخص سے جب گفتگو نہیں کی تھی
وہ مسکرا کے ہمیں جو دعائیں دیتا ہے
فقط ہے رب کی عطا، آرزو نہیں کی تھی
شفیق، پیار مجسم، سدا اسے جانا
مگر یہ بات کبھی رو برو نہیں کی تھی

0
14
جہانِ عمل میں تمھی پیشوا تھے
غریبوں یتیموں کا تم آسرا تھے
تھے بے لوث خدمت کا تم اک حوالہ
جفا گر جہاں میں سفیرِ وفا تھے
رعایا کے زخموں کا مرہم تھے تم تو
دکھی آدمیت کے لب کی دعا تھے

0
16
کیوں ڈراتے ہو تم کالی دیوار سے
ہم تو ڈرتے نہیں تیر و تلوار سے
سر پھرے تو کٹائیں گے سر جنگ میں
کون ڈرتا ہے ظالم ترے وار سے
کیوں تماشے کا دنیا کو موقع دیا
کچھ نہیں سیکھ پائے ہو اغیار سے

0
17
جو عاشق ہیں کب مرنے سے ڈرتے ہیں
دیپ کی لو پر پروانے ہی مرتے ہیں
وہ بوڑھا ہی بس اک کام کا بندہ تھا
یہ نالائق بس باتیں ہی کرتے ہیں
ٹوٹے پھوٹے کچھ اسباب کے ساتھ فقط
اس نے بتایا کیسے کام سنورتے ہیں

0
13
ہمارا اوڑھنا ہو یا بچھونا، شاعری ہے
یہ اٹھنا بیٹھنا اپنا یہ سونا شاعری ہے
ہماری زندگی جتنی بھی اب باقی بچی ہے
ہمارا مسکرانا اور رونا شاعری ہے
ضرورت ہی نہیں، شکوہ شکایت کیوں کریں ہم
دلِ مغموم کو اشکوں سے دھونا شاعری ہے

0
12
خود کو بھول بھی جاؤں وہ اوقات نہیں بھولوں گا میں
اچھی یادیں پیار بھرے لمحات نہیں بولوں گا میں
یاد ہے اب بھی ٹھنڈی سڑک کے پاس کبھی تھا اپنا گھر
اور انہی گلیوں سڑکوں میں دوست گھماتے تھے دن بھر
پانی کے جب کین اٹھائے کالونی میں جاتے تھے
لمبی قطاروں میں لگ کر ہم کتنا وقت گنواتے تھے

0
20
جو بھی مٹی کا قرض مجھ پر ہے
وہ اتاروں یہ فرض مجھ پر ہے
مجھ سے ناراض کیوں زمانہ ہے
اب تو یہ قید ہی ٹھکانہ ہے
گو بہت سوں کا راز دار ہوں میں
خود بھی لیکن گناہ گار ہوں میں

0
16
عشق چاہت وفا دوستی ہے حسین
دل نشیں داستاں عزم کی ہے حسین
سارا کنبہ سپردِ خدا کر دیا
اک عجب طرز کی بندگی ہے حسین
وہ جو تاریکیوں میں اجالے کرے
علم کے باب کی روشنی ہے حسین

0
14
تختِ شاہی پلید رکھا ہو
حق کا رتبہ شدید رکھا ہو
بستیاں بھوک سے بلکتی ہوں
اور محل میں کلید رکھا ہو
جس کے ہاتھوں میں طوقِ شاہی ہو
اس نے خود کو یزید رکھا ہو

0
16
دور تک جب بھی تَکا، کوئی نہیں ساتھ مرے
صاف معلوم ہوا، کوئی نہیں ساتھ مرے
دل کا احوال تو ایسا ہے کہ کیا کہیے حضور
جیسے جیسے میں بڑھا، کوئی نہیں ساتھ مرے
نہ کوئی درد کا درماں، نہ کوئی چارہ گر
دل کو تو یہ بھی لگا، کوئی نہیں ساتھ مرے

0
21
مرا زخمِ دل بھی تو برملا نہیں ہو سکا
وہ جو رنج تھا وہ کبھی ہوا نہیں ہو سکا
میں تلاشِ حق میں بھٹک رہا ہوں گلی گلی
جو فریب تھا، وہ مرا خدا نہیں ہو سکا
اسے زعم تھا کہ وہ چھین لے گا مری انا
مرا سر مگر کبھی زیر پا نہیں ہو سکا

0
19
دکھائی دینے لگا ہے غبار لوگوں میں
بچھڑ گیا ہے کوئی اپنا یار لوگوں میں
بچا نہیں ہے ابِ اعتبار لوگوں میں
بدل گئے ہیں سبھی وضع دار لوگوں میں
کسی کے لمس کی خوشبو اڑا کے لائی ہے
بدل گیا ہوا کا رخ عیار لوگوں میں

0
31
ہم چھوڑ کر انا کو سرِ دار آ گئے
سمجھے تھے وہ کہ بن کے طلب گار آ گئے
دیکھا جو ہم نے رنگ بدلتے ہوئے یہاں
یاد اپنے وضع دار گنہگار آ گئے
جن کیلئے لٹائی تھی ہم نے متاعِ دل
پہلے صفِ عدو میں وہی یار آ گئے

0
19
بدلا ہے نہ بدلے گا، یہ رشتہ بھی نہیں بدلا
ہم لاکھ جدا تھے، وہ جذبہ بھی نہیں بدلا
اک عمر ہوئی لیکن اس دل کی اداسی کا
مفہوم نہیں بدلا، چہرہ بھی نہیں بدلا
برباد تو ہونا تھا، برباد ہوئے لیکن
دیوانوں کی بستی کا، نقشہ بھی نہیں بدلا

0
17
کوئی بھی غم کبھی تیرے قریب آ نہ سکے
تری نظر میں کوئی اشک مسکرا نہ سکے
الٰہی! دشتِ تمنا میں ایسی بارش ہو
کہ تیرے لب پہ کبھی پیاس سر اٹھا نہ سکے
ملے وہ تجھ کو محبت کہ تیرے آنگن سے
جدائیوں کا کوئی خوف سر اٹھا نہ سکے

0
28
بدلے موسم کا وہ احساسِ پرانا لا دے
اے مری عمرِ رواں! بچپنا میرا لا دے
چھین لی شہر کی رونق نے جو آنکھوں کی چمک
میری بستی، مرا دَرْپَن، مرا صحرا لا دے
اب نئے خواب مری جان کو آتے نہیں راس
وہی بھولا ہوا، معصوم سا سپنا لا دے

0
18
جو موزوں مرے مجھ سے حالات ہوتے
بیاں خود پہ گزرے جو صدمات ہوتے
جواب ان کا جانے کہاں سے ملے گا
عجب سے ہیں دل میں سوالات ہوتے
نہیں چپ رہیں گے یہ آزاد پنچھی
کہاں قید سچے ہیں جذبات ہوتے

20
قتل پہ بچوں کے چپ ہوں میں اچھا پاکستانی ہوں
قاتل سے ہمدردی بھی ہے ایسا پاکستانی ہوں
تم نے یار کہیں دیکھی ہے اس جیسی نامردی بھی
عزت لوٹنے والوں کو بھی کہتا پاکستانی ہوں
ملک کو آگ لگا کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھر
نسل پرستی کی زنجیر میں جکڑا پاکستانی ہوں

16
دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے، محفل ایک سجائی ہے
اصل میں ہم سب تنہا ہیں، یہ بھی کیسی تنہائی ہے؟
سامنے بیٹھے اپنوں سے اب بات نہیں کوئی کرتا ہے
ایکس کی اس نگری میں پر، ہر کوئی آہیں بھرتا ہے
لائکس اور کمنٹس کی خاطر، جذبوں کا بیوپار ہوا
اک تصویر کی خاطر بس ہر کوئی جان نثار ہوا

24
گناہوں پہ دل اب پشیمان ہے بس
خدایا ترا ہی یہ احسان ہے بس
زمانہ مخالف ہوا ہے تو کیا غم
بہت ہے اگر ساتھ رحمان ہے بس
ترا آسرا مجھ کو کافی ہے مولا
عدو اس حقیقت سے انجان ہے بس

16
کس سے اب عرضِ مدعا کیجے
شہر کا شہر ہے خفا، کیجے
ہم تو خود سے بھی اب نہیں ملتے
آپ سے مل کے بھی کیا کیجے
عشق کا روگ تو پرانا ہے
درد بڑھ جائے تو دعا کیجے

0
18
نہ ہم نے کبھی آہ و ماتم کیا
مگر دل ہی دل میں تظلم کیا
کھلی آنکھ تو اڑ گئی رنگتیں
بہارِ چمن نے تبسم کیا
دلِ زار کو مے کدے کی تھی چاہ
زمانے نے رسوا سرِ خم کیا

0
22
شکایت کریں کس سے اب ہم یہاں؟
کہا تھا کہ تجھ سے یہ بہتر نہیں!
ترے واسطے سب سے لڑتے رہے
کہا سب نے، پر ہم نے مانا نہیں
ہوئے آج رسوا تو پتا چلا
زمانہ غلط تھا، یہ ممکن نہیں

0
18
ہاتھ چھو کر بھی وہ دوری کے زمانے مانگے
بے رخی دیکھ کہ ملنے کے بہانے مانگے
ہم تو مٹ کر بھی رہے مائلِ تسلیم و رضا
دل وہ ناداں کہ اب اُجڑے ہوئے دانے مانگے
اب جو آئے ہیں تو کیوں خوفِ زیاں ہے اتنا
کل یہی تھا کہ محبت کے خزانے مانگے

0
26
دل کے ملبے پہ نئے خواب اگا ہی دیں گے
لوگ ہر زخم کو تقدیر بنا ہی دیں گے
جن کے چہروں پہ وفاداری کے قصّے تھے کبھی
وقت آئے گا تو آئینہ دکھا ہی دیں گے
شہر خاموش ہے، دیواریں بھی سہمی سی ہیں
پھر کوئی شور کے معنی کو سزا ہی دیں گے

0
24
دلِ ناداں کو کوئی نقشِ قدم مل جائے
تیرے ملنے سے ہر اک رنج و الم مل جائے
ہم نے صحرا میں گزاری ہے جو عمرِ رفتہ
کاش اس دشت کو اب زلفِ صنم مل جائے
لوگ کہتے ہیں کہ دنیا میں اندھیرا ہے بہت
روشنی تجھ سے ملے، نورِ حرم مل جائے

0
16
ہم بری آنکھ کو بیکار دکھائی دیں گے
خوش نظر ہی کو ہنر یار دکھائی دیں گے
ہم سے محنت میں کوئی جیت نہیں پائے گا
ہم مشقت کے طلب گار دکھائی دیں گے
جن کو پردیس میں پھینکا تھا سمجھ کر کمتر
اپنے پاؤں پہ وہ خود دار دکھائی دیں گے

0
16
صدا فقیر کی سب حکمراں ذرا سن لو
مگر ضمیر تمہارا ہے مر چکا سن لو
ہمارا ووٹ تمھیں کرسیاں دلاتا ہے
کبھی تو آ کے ہمارا بھی مدعا سن لو
عیا شیاں بھی بہت ہو چکیں مگر اب تو
عوام کا بھی کوئی کر ہی دو بھلا، سن لو

0
18
کیا کبھی ظلم کی سرکار نہ بدلے گی ڈگر؟
ہر شریف آدمی اب کانپ رہا ہے تھر تھر
ہے امیروں کی تو ہر چیز نئے ماڈل کی
فکر مفلس کو ہے دو وقت کی روٹی کی مگر
ڈھونڈتا رزق پریشاں ہے وطن میں کوئی
سیر کرنے کوئی پردیس کے کاٹے چکر

0
16
بات بے بات یہ دھرنا ہے
آخر کچھ تو کرنا ہے
روز بیان بدلتے ہیں
لیڈر خود کو سمجھتے ہیں
اک دوجے کے نام دھریں
خود نہ گریباں میں جھانکیں

0
15
مِل گیا سب کچھ مگر دل ہے کہ مژگاں نم کرے
اک عجب وحشت ہے جو راحت میں بھی ماتم کرے
آرزو تھی جن کی، اب ان سے گریزاں ہے یہ دل
کون اس سیماب جاں دل کا کوئی مرہم کرے
پہلے زنجیرِ تعلق کے لیے روتا تھا یہ
اب یہ چاہے گا کوئی اس قید کو مبہم کرے

0
21
جدائی کی کٹھن گھڑیوں کو سینے سے لگایا ہے
تمہیں پانے کی حسرت میں خودی کو بھی مٹایا ہے
دکھائے ہیں زمانے نے ہمیں کیا کیا نہ رنگ اپنے
مگر اس دل نے ہر طوفاں میں تیرا نام گایا ہے
نہ سمجھا کوئی اس دل کی تڑپ کو اس زمانے میں
ترے غم کو ہی ہم نے اپنا سرمایا بنایا ہے

0
29
رنگ جنون کا عقل و خرد پر گہرا ہے
میرے دیس میں اب تک ظلم کا پہرہ ہے
منصف جب انصاف کا خود ہی قاتل ہو
پھر مظلوم کی خاطر جرم کٹہرا ہے
ناچ رہا ہے ظلم یہاں بازاروں میں
اور قانون یہاں پر ان دھا بہرا ہے

0
17
دیپ کی خاطر کیا طوفاں تھم جاتے ہیں؟
بد قسمت ہی اس کی زد میں آتے ہیں
جن کے پاس فراوانی ہے دولت کی
کیوں غربا کو روٹی پر ترساتے ہیں
ایک کے پاس نہیں کچھ جسم چھپانے کو
دوسرے مہنگے کپڑوں پر اتراتے ہیں

0
20
اول سب سے ذات ہے اس کی، ہر اک شے سے قدیم ہے وہ
ہر مخلوق فنا ہو گی بس باقی رہے گا عظیم ہے وہ
کچھ بھی نہیں مقصد سے خالی، اس کی بنائی دنیا میں
ہر تخلیق میں حکمت اس کی، سب سے بڑا حکیم ہے وہ
پالنے والا ہے وہ جہاں کا اس کے پاس خزانے ہیں
نافرمان کو بھی دیتا ہے رب عالم کا کریم ہے وہ

22
یہ بیویاں تو فقط حکم ہی چلاتی ہیں
یہ شوہروں پہ ستم روز روز ڈھاتی ہیں
لگا کے منہ پہ یہ میک اپ سجیں پری کی طرح
جو دھو لیں منہ تو بنی بھوتنی ڈراتی ہے
خیال خوب فگر کا رکھیں نکاح تلک
مگر یہ بعد میں کیوں موٹی ہوتی جاتی ہیں

0
20
یہ چاند لگتا ہے تھک گیا ہے سفر سے، دیکھیں
جو چاندنی چھن کے آ رہی ہے شجر سے دیکھیں
وطن ہمارا ہے حکمرانوں نے بیچ کھایا
بچے ہوئے کو بھی لالچی سی نظر سے دیکھیں
حیا کی چادر اتار پھینکی ہے نسلِ نو نے
کہیں بھی جھانکیں ادھر نہیں تو ادھر سے دیکھیں

0
19
گر مسلمان مسلمان کا کاٹے گا سر
لوگ سوچیں گے کہ کفار ہیں ان سے بہتر
بات ہے ٹھیک ضروری ہے وطن کی چاہت
پر مجھے امن تو ہجرت سے ملا ہے آ کر
نفرتوں کا یہ سبق کس نے دیا ہے تم کو
بھائی چارے کا سبق دے کے گئے پیغمبر

0
18
بس کرو اب یہ ستم بس کر دو
ظلم اپنوں پہ صنم بس کر دو
پھول کھلنے دو چمن میں اب تو
گل فروشوں پہ کرم بس کر دو
چاند ہو، دور اندھیروں سے رہو
نام کا رکھ لو بھرم، بس کر دو

0
24
تو جمہوریت کا دوانہ ہوا ہے
مگر امن دیکھے زمانہ ہوا ہے
عیا شی میں ڈوبے ہیں حاکم یہاں کے
تو جلاد مقتل روانہ ہوا ہے
جو "سب ٹھیک ہے" کہہ رہے ہیں وہ سن لیں
یہ شامت کا ان کی بہانہ ہوا ہے

0
20
ایک زمانہ اپنا بھی انجانا بھی
یاد میں تازہ بھی ہے اور پرانا بھی
وقت گلی کوچوں میں خوب گزرتا تھا
کھیلنا کو دنا ہنسنا اور ہنسانا بھی
سندر یادیں اب بھی ذہن میں تازہ ہیں
سر کی مار سے وہ یاروں کا ڈرانا بھی

0
28
وطن میں اقتدار کی جو جنگ ہے
غریب ان سیاستوں سے تنگ ہے
نما ئشی ہیں اختلاف ان کے بیچ
کمائی ایک دوسرے کے سنگ ہے
کمیشنیں ہیں لوٹ مار ہے یہاں
وطن کے مال کو لگی سرنگ ہے

0
17
ہے ظلم و ستم ہر سمت رواں
امت کا حال ہے سب پہ عیاں
کہیں آگ لگی ہے گلشن میں
چھایا ہے فلک پر ایک دھواں
کیا بھول ہوئی ہے مالی سے
کیوں ٹھہری ہے یہ فصلِ خزاں

0
16
سب چور مرے شہر کے نگران ہوئے ہیں
دشمن ہی مری جاں کے نگہبان ہوئے ہیں
ہر ایک برائی کی شروعات ہے ان سے
جتنے ہیں برے سب ہی وزیران ہوئے ہیں
مذہب کی لیے آڑ مقاصد یہ نکالیں
امت کی مصیبت یہی شیطان ہوئے ہیں

0
23
زخم زباں کے یوں نہ لگاؤ
مت لفظوں کے تیر چلاؤ
طعنوں کے ترکش کو چھوڑو
لہجے کے نشتر تو نہ چبھاؤ
نرم دلوں کو قریب بلاؤ
نرمی کی عادت کو اپناؤ

0
23
درپیش ہمیں ہجر کے آزار بہت تھے
الفت کے سبھی راستے دشوار بہت تھے
بخشش نہ ہماری ہوئی دنیا کی نظر میں
ہم سے بھی بڑے صاحبِ کردار بہت تھے
شکوہ نہ شکایت ہے زمانے سے کوئی بھی
دل ٹوٹا ہے ہم خود بھی خطا کار بہت تھے

0
24
افسوس ہے کہ اس کی محبت بکھر گئی
بن اس کے زندگی مری کیسے گزر گئی
پل بھر میں اس نے کیسے ہے مجھ کو بھلا دیا
ہلکی سی اک کسک تھی جو دل میں اتر گئی
صورت فقط نہیں تری سیرت بھی خوب ہے
نظروں سے پار ہو کے اثر دل پہ کر گئی

0
23
جو ہر بات پہ امن کا بھاشن دیتے ہیں
پوچھ انھی سے پھول یہاں کیوں مرتے ہیں
جو لوگوں سے نفرت کا ہی سکھاتے ہیں
مذہب کو بدنام وہی تو کرتے ہیں
سوئے ہوئے ہیں دیس کے حاکم دیکھو تو
جال عدو سازش کا کھل کر بُنتے ہیں

0
22
مری بیوی ہمیشہ مجھ پہ پابندی لگاتی ہے
اسے مرضی چلانی ہے وہ بس اپنی چلاتی ہے
نہیں ٹی وی کے آگے بیٹھنے دیتی مجھے کچھ پل
نہ مانوں میں اگر اس کی مجھے آنکھیں دکھاتی ہے
مرا کچھ وقت موبائل پہ اچھا بیت جاتا تھا
نہ جانے کیوں وہ موبائل سے بھی اب خار کھاتی ہے

0
25
دکھوں سے چور دل کو کیا سفر کا حوصلہ ملے
قدم بڑھاؤں میں مگر کوئی تو ہم نوا ملے
محال سانس ہے مجھے کہیں سے تو ہوا ملے
میں درد کی دوا کروں جو درد کا پتہ ملے
تجھے میں آسمان پر چمکتا دیکھتا رہوں
اداس ہوتا ہوں جو تو اداس سا ہوا ملے

0
21
دیس میں اب جمہوری فن ہے
آرمی کا تو یہ بچپن ہے
ظلم و ستم ہے جمہوری جو
ناگ کا یہ زہریلا پھن ہے
غربت ہی کو جرم بنایا
یہ شرفا کا چال چلن ہے

0
19
شہر کے جو نگہبان ہیں
بچ کے رہنا یہ شیطان ہے
کیوں محافظ لٹیرے بنے
سوچ کر ہم تو حیران ہیں
دین کی چادریں اوڑھ لیں
نام ہی کے مسلمان ہیں

0
20
کسی نے ایسا اجاڑا ہے رو نہیں پاتے
بھلا کے اس کے ستم ہم تو سو نہیں پاتے
ہماری مان کے اب گھر کو لوٹ جاؤ تم
بہت سے خواب حقیقت میں ہو نہیں پاتے
سنبھالتے تو ہیں آنکھوں میں اپنے اشکوں کو
چھلک پڑیں وہ اگر، روک تو نہیں پاتے

0
16
لب پہ سچ اور اچھا کردار رکھیں گے ہم
تم جو ظلم کرو گے تو صبر کریں گے ہم
پاس تمہارے کہنے کو بس باتیں ہیں
اپنی بات دلیل سے پیش کریں گے ہم
تم کو لگا تھا ظلم کرو گے جتنے بھی
بس خاموش رہیں گے اور سہیں گے ہم

0
17
جاگ پڑے گلشن کے سپاہی
پہرا دیں گے وطن کے سپاہی
کیوں خاموش کرایا ان کو
سچ بولیں گے من کے سپاہی
جرم ہے بس یہ کہ جرم نہیں ہے
امن کے پھول چمن کے سپاہی

0
20
ہماری عمر تھوڑی رہ گئی ہے
تمنا اک ادھوری رہ گئی ہے
رہے ہیں منتظر ہم اس کے برسوں
ابھی لمحوں کی دوری رہ گئی ہے
سنے گا کلمہ ۓ حق شاہ کیسے
یہاں بس جی حضوری رہ گئی ہے

0
15
شہر کی گلیاں اب اتنی سنسان ہیں کیوں
لوگ یہاں کے زیادہ تر بے جان ہیں کیوں
ٹوٹے پھوٹے گھر ہیں مفلس لوگوں کے
شہر کے حاکموں کے پھر گھر دیوان ہیں کیوں
جیبیں بھری ہیں خاص قسم کے لوگوں کی
عام عوام کے ہی پھوٹے ارمان ہیں کیوں

0
18
اس گلشنِ وطن کا بہت مجھ پہ قرض ہے
میں تو کروں گا اس سے وفا مجھ پہ فرض ہے
دشمن ہوا ہے آج زمانہ تو کیا ہوا
زنداں میں آج کل ہے ٹھکانہ تو کیا ہوا
ملت کا رنج خوار ہوں غدار تو نہیں
قیدی ہوں بے گناہ خطا کار تو نہیں

0
19
وقت پرانا یاد ہے تم کو گھر جب کچے ہوتے تھے
لوگ یہاں پر بسنے والے سیدھے سادے ہوتے تھے
ریل جہاز سکوٹر گاڑیاں دیکھنے کو کب ملتی تھیں
سفر کی خاطر عام یہاں پر گھوڑے تانگے ہوتے تھے
ٹوٹے پھوٹے رستوں پر جب تیز سواری چلتی تھی
زور کے جھٹکے لگتے تھے پر تب وہ جھولے ہوتے تھے

0
18
گڑیا پٹولے کھیلتے بچے کتنی جلدی جوان ہوئے
دیکھتے دیکھتے امی ابو اس گھر کے مہمان ہوئے
کون رہا ہے دنیا میں بس یادیں ہی رہ جاتی ہیں
ہنستے بستے کتنے گھر تھے جو پل میں ویران ہوئے
بیتنے والا ہر اک لمحہ ماضی میں کھو جاتا ہے
شہر یہاں آباد تھے کتنے، اور کتنے سنسان ہوئے

0
18
جو زندگی نکھار کر حسین سا کنول بنے
کمال تک پہنچ گئے تو لقمۓ اجل بنے
وہ شاعری میں ڈھل گئے رباعیوں میں آ گئے
خیال میں سما کے وہ کمال کی غزل بنے
وہ جن کا درس امن تھا امان سب کو دے گئے
جفا فنا کے دور میں وفاؤں کا بدل بنے

0
19
نہیں مجال کہ تجھ سے کبھی گلہ میں کروں
تری عطاؤں پہ بس شکر ہی ادا میں کروں
تری نگاہِ کرم بس مرا بھرم رکھ لے
ترے حضور اے مولا یہی دعا میں کروں
مرے گناہ پہ پردہ ہے تیری رحمت کا
تو کس طرح تری رحمت کا شکریہ میں کروں

0
17
پاک وطن بھی ہوتا تھا خوش حال کبھی
رب جانے اب اس کو لگی ہے نظر کس کی
اللہ کی رحمت ہوتی تھی شام و سحر
ہم سب پیار سے رہتے تھے مل جل کے ادھر
یاد ہیں اب تک وہ رنگین چو بارے بھی
اور پرانے سارے سنگی پیارے بھی

0
19
مزاجِ یار میں جو بے رخی بہت ہے اب
سو بزمِ دوستاں میں خامشی بہت ہے اب
کسی کی آس نہ رکھنا سنبھل کے چلنا خود
کہ اہل شہر میں تو بے حسی بہت ہے اب
لہو لہان ہیں غمگین ہیں سب اہل چمن
کوئی وسیلہ نہیں بے بسی بہت ہے اب

0
19
دشت میں آج بھی ہر سو گونج تمہاری ہے
نام کمانا بھی تو اک فنکاری ہے
ڈھونڈ رہا ہوں امن، دیارِ ہستی میں
ہر لمحہ حساس دلوں پر بھاری ہے
کام برا ہو، ہوتا ہے انجام برا
زور و شور سے مجھ میں ورد یہ جاری ہے

0
17
کِیا ہے جرمِ بغاوت، عذاب دیکھے ہیں
سماج کرتا ہے جو احتساب دیکھے ہیں
نصیب ہو نہ سکیں قربتیں ہمیں اس کی
ہماری آنکھ نے جس کے بھی خواب دیکھے ہیں
یقین آئے گا تم کو نہ میری چاہت پر
تمہاری آنکھ نے جتنے سراب دیکھے ہیں

0
21
عشق سولی جو نہ چڑھائے تو عظمت کیا ہے
ایسے بے کیف تعلق کی ضرورت کیا ہے
دل تو پہلے ہی ترے ہجر نے برباد کیا
اب اگر جاں بھی چلی جائے تو حیرت کیا ہے
ایک صورت جو جچے اس کو محبت کہہ لیں
دل ترا سب ہی پہ آئے تری فطرت کیا ہے

0
17
مرنے سے قبل کارِ جہاں چھوڑ دیجیے
اور باگ آخرت کی طرف موڑ دیجیے
حائل سماج ہو کسی نیکی میں تو اسے
ڈر حشر کا سنائیے یا جھنجھوڑ دیجیے
تقدیر کے لکھے کو بدلنا ہے آپ نے ؟
پھر جد و جہد کی بھی حدیں توڑ دیجیے

0
17
جان دھرتی کے قدموں میں سب دھر گئے
وہ جو کہتے تھے 'مر جائیں گے' مر گئے
زندگی تجھ کو پانے کی کوشش میں ہم
موت کی وادیوں کو بھی سر کر گئے
سب ہیں دہشت زدہ ہر طرف ہے لہو
شہرِ جاناں سے چاہت کے منظر گئے

0
14
وہ مستیوں میں ہیں کش پہ کش جو لگا رہے ہیں
وہ پہلے سگرٹ سے اگلا سگرٹ جلا رہے ہیں
عجیب خصلت ہے آدمی ہو کے اپنے منہ سے
دھواں یہ بھٹے کی چمنیوں سا اڑا رہے ہیں
ہے شوق کیسا جگر دھویں سے ہی پھونک ڈالا
خود اپنے ہاتھوں سے روگ خود کو لگا رہے ہیں

0
18
مقتل بھی نیا قتل کے آلے بھی نئے ہیں
جاں دینے جو آئے ہیں دِوانے بھی نئے ہیں
زردار کو ہر جرم کی ہوتی ہے اجازت
انصاف کے دنیا میں طریقے بھی نئے ہیں
انسان خدا بن گئے کچھ رزق لٹا کر
یہ قربِ قیامت ہے سو فتنے بھی نئے ہیں

28