| یہ چاند لگتا ہے تھک گیا ہے سفر سے، دیکھیں |
| جو چاندنی چھن کے آ رہی ہے شجر سے دیکھیں |
| وطن ہمارا ہے حکمرانوں نے بیچ کھایا |
| بچے ہوئے کو بھی لالچی سی نظر سے دیکھیں |
| حیا کی چادر اتار پھینکی ہے نسلِ نو نے |
| کہیں بھی جھانکیں ادھر نہیں تو ادھر سے دیکھیں |
| بنا کے یہ بے وقوف سب کو نچا رہے ہیں |
| سیاستیں ہیں غلاظتیں جس نظر سے دیکھیں |
| شعور نعروں تلک ہی محدود ہو گیا ہے |
| چھپے ہیں گھر میں یہ انقلابی تو ڈر سے دیکھیں |
| ہے کس کے بازو میں دم چلو آزمائیں ہم بھی |
| کہ بھاگ جاتا ہے کون پہلے خطر سے دیکھیں |
معلومات