| تو جمہوریت کا دوانہ ہوا ہے |
| مگر امن دیکھے زمانہ ہوا ہے |
| عیا شی میں ڈوبے ہیں حاکم یہاں کے |
| تو جلاد مقتل روانہ ہوا ہے |
| جو "سب ٹھیک ہے" کہہ رہے ہیں وہ سن لیں |
| یہ شامت کا ان کی بہانہ ہوا ہے |
| ہر اک سال پہلے سے بدتر ہے اب تو |
| بہاروں کا موسم فسانہ ہوا ہے |
| دَہائی سے پستی کی جانب رواں ہیں |
| فرنگی کی سازش بہانہ ہوا ہے |
| نیا زخم کیوں چاہیے تم کو یارو |
| کہ مشکل سے پہلا پرانا ہوا ہے |
| نہتا وہ ہو کر مرا ہے یقیناً |
| جو ان ڈاکو ؤں کا نشانہ ہوا ہے |
| تمھیں کھینچ لے گا وہیں ساتھ اپنے |
| مقدر جہاں آب و دانہ ہوا ہے |
معلومات