| ایسے جلسوں کے نظارے تو بہت پیارے ہیں |
| آپ کے در کے ہیں پیارے تو بہت پیارے ہیں |
| رونقیں ان کی محبت سے لگی ہیں ساری |
| اور مہمان یہ سارے تو بہت پیارے ہیں |
| جھوٹ کو مات ہوئی کون سنے گا اس کی |
| سچ کے لشکر جو ابھارے تو بہت پیارے ہیں |
| قریہ قریہ ہیں رواں عشق و وفا کے دریا |
| چاہتوں کے یہ نظارے تو بہت پیارے ہیں |
| جو پرندوں کی طرح دور بہت دور سے آئے |
| رب کے گر ہیں یہ اشارے تو بہت پیارے ہیں |
| پَیرو حسنین کے ہیں ہم، ہے اسی سے برکت |
| ان کے آکاش کے تارے تو بہت پیارے ہیں |
| کلمہءِ حق کے لیے قید کے دن ہیں اچھے |
| پھر ہیں مولا کے سہارے تو بہت پیارے ہیں |
| سیدی ہے آپ کی آواز پہ لبیک سدا |
| چرخ تک اٹھتے یہ نعرے تو بہت پیارے ہیں |
| آج مسرور ہیں ہم دیس بدر ہو کے بھی |
| صبر کے ایسے نظارے تو بہت پیارے ہیں |
| آپ ہی سے تو معطر ہے فضا یہ ساری |
| اور باتوں کے یہ دھارے تو بہت پیارے ہیں |
| ہو زباں ہم کو عطا جس سے ہو بس شکر و سپاس |
| فضلِ رب کے ہیں سہارے تو بہت پیارے ہیں |
معلومات