| مرنے سے قبل کارِ جہاں چھوڑ دیجیے |
| اور باگ آخرت کی طرف موڑ دیجیے |
| حائل سماج ہو کسی نیکی میں تو اسے |
| ڈر حشر کا سنائیے یا جھنجھوڑ دیجیے |
| تقدیر کے لکھے کو بدلنا ہے آپ نے ؟ |
| پھر جد و جہد کی بھی حدیں توڑ دیجیے |
| شیطان کی جو آپ کے ایمان پر ہے آنکھ |
| رب کی پنہ میں آ کے اسے پھوڑ دیجیے |
| ہر بے بسی سے رب ہی نکالے گا آپ کو |
| رشتہ حیات کا اسی سے جوڑ دیجیے |
معلومات