شب میں اک دفعہ کھل کے روتا ہوں
چین کی نیند پھر میں سوتا ہوں
اشک دل میں سنبھالتا ہوں میں
بیج یوں میں وفا کے بوتا ہوں
ساتھ رکھتا نہیں میں زادِ سفر
جسم لاغر ہے یہ ہی ڈھوتا ہوں
صاف رکھتا ہوں آئینے کی طرح
دل کو اشکوں سے اپنے دھوتا ہوں
لوگ پاتے ہیں خاک سے سونا
میں تو سونے کو خاک کرتا ہوں
گرچہ دنیا کی کچھ طلب ہی نہیں
پھر بھی دامن امید چھوتا ہوں
ایک تجھ سے ہی لو لگی یارب
تیرے دھیاں میں ہی خود کو کھوتا ہوں

0
4