| شب میں اک دفعہ کھل کے روتا ہوں |
| چین کی نیند پھر میں سوتا ہوں |
| اشک دل میں سنبھالتا ہوں میں |
| بیج یوں میں وفا کے بوتا ہوں |
| ساتھ رکھتا نہیں میں زادِ سفر |
| جسم لاغر ہے یہ ہی ڈھوتا ہوں |
| صاف رکھتا ہوں آئینے کی طرح |
| دل کو اشکوں سے اپنے دھوتا ہوں |
| لوگ پاتے ہیں خاک سے سونا |
| میں تو سونے کو خاک کرتا ہوں |
| گرچہ دنیا کی کچھ طلب ہی نہیں |
| پھر بھی دامن امید چھوتا ہوں |
| ایک تجھ سے ہی لو لگی یارب |
| تیرے دھیاں میں ہی خود کو کھوتا ہوں |
معلومات