| نہ ہوتی خوف کی پَرْچھائِیں ان روشن ستاروں پر |
| نہ آتی آنچ ان جھیلوں، پہاڑوں، سبزہ زاروں پر |
| مہکتی وادیاں، یہ چاند چہرے اور رخِ گلشن |
| نہ روتے بیٹھ کر بارود کے جلتے مزاروں پر |
| پرندے گیت گاتے، تتلیاں بھی رقص میں رہتیں |
| نہ پڑتی راکھ انسانوں کے دلکش کوہساروں پر |
| اگر دنیا نہیں رکھتی ہلاکت خیز بم مہلک |
| بہارِ مستقل رہتی چمن کے تاجداروں پر |
| شفق کا رنگ رہتا، آبشاریں گنگناتی ہیں |
| نہیں سایہ اجل کا ہوتا ایسا ان بہاروں پر |
| سحر کی پہلی کرنوں میں نہ ہوتا خوف کا سایا |
| شفق کی سرخی بس بکھری ہی ہوتی آبشاروں پر |
| نہ ہوتی سسکیوں کی گونج اس خاموش وادی میں |
| سکوں کا راج رہتا جھیل کے پُر امن دھاروں پر |
| کوئی بادل چمن پر موت کا بن کر نہ لہراتا |
| نہ آتی دھند کی چادر ہوائیں، سبزہ زاروں پر |
| اگر انسان کی فطرت میں بس جاتی محبت ہی |
| تو ہنستی زندگی ہر دم محبت کے دیاروں پر |
| عجب اک امن کا منظر چمکتا اس زمیں پر جو |
| لکھا ہوتا سکوں کا نام بستی کے کناروں پر |
| یہ جگنو رات بھر کرتے رہے جو روشنی عادلؔ |
| نہ روتے دیکھ کر ظلمت کو بستی کے کناروں پر |
معلومات