عہد کِیا ہے جاں اسلام پہ واریں گے
حق کی رہ میں اپنا سب کچھ ہاریں گے
اصل سکوں تو حاصل ہو گا ایسوں کو
جسم نہیں، جو اپنی روح سنواریں گے
رب کی رضا میں خوش ہیں اس نے نوازا ہے
کس کس نعمت کا ہم قرض اتاریں گے
ان کی عزت سے بڑھ کر تو کچھ بھی نہیں
اپنے وعدوں پہ اپنی انا بھی واریں گے
عہدِ اَلَست کِیا ہے ہم نے اللہ سے
غم ہو خوشی ہو ایک خدا کو پکاریں گے

0
3