| جو تو نے بے وفائی کی |
| نہیں پھر خیر بھائی کی |
| مجھے گھیرا ہے سردی نے |
| ہے شامت اب رضائی کی |
| مجھے چپکے سے سمجھا لو |
| نہیں حاجت دہائی کی |
| بنو گے مرد پھر سے تم |
| جو بیگم نے ٹھکائی کی |
| اٹھو جھاڑو پکڑ لو اب |
| کہ باری ہے صفائی کی |
| جو تو نے بے وفائی کی |
| نہیں پھر خیر بھائی کی |
| مجھے گھیرا ہے سردی نے |
| ہے شامت اب رضائی کی |
| مجھے چپکے سے سمجھا لو |
| نہیں حاجت دہائی کی |
| بنو گے مرد پھر سے تم |
| جو بیگم نے ٹھکائی کی |
| اٹھو جھاڑو پکڑ لو اب |
| کہ باری ہے صفائی کی |
معلومات