جو تو نے بے وفائی کی
نہیں پھر خیر بھائی کی
مجھے گھیرا ہے سردی نے
ہے شامت اب رضائی کی
مجھے چپکے سے سمجھا لو
نہیں حاجت دہائی کی
بنو گے مرد پھر سے تم
جو بیگم نے ٹھکائی کی
اٹھو جھاڑو پکڑ لو اب
کہ باری ہے صفائی کی

0
8