صرف حیوانوں کا کٹنا ہی تو قربانی نہیں
دل اگر بدلا نہیں تو یہ مسلمانی نہیں
اللہ کو پہنچے گا بس تیرے ہی دل کا تقویٰ ہی
خون پہنچے گا نہ کوئی ایسی نادانی نہیں
اپنے اندر کے غرور و کبر کو تو ذبح کر
نفس کی فرمانبرداری، مسلمانی نہیں
جس نے اپنے نفس کی ہر ایک خواہش چھوڑ دی
حق کے آگے پھر کوئی اس کی پریشانی نہیں
تیرگیِ قلب چھٹ جائیگی، دل بھر آئیگا
راہِ حق میں جان دینا کوئی نادانی نہیں
دیکھو ابراہیمؑ نے چھوڑی تھی جو سب سے عزیز
عشقِ صادق میں کبھی ہوتی پشیمانی نہیں
سچ زباں پر ہو، نگاہوں میں حیا کا نور ہو
گر یہ جذبہ ہی نہیں، تو عیدِ سلطانی نہیں
َ یا الٰہی! نفس کے شر سے بچا لے تو ہمیں
َ تیرے احکامِ مقدّس سے گریزانی نہیں
َ

0
4