منزلوں کا نشان باقی ہے
آخری امتحان باقی ہے
مسکرایا نہیں ہوں مدت سے
بس لبوں کا گمان باقی ہے
دھوپ میں جسم جل گیا میرا
کیا کہیں سائبان باقی ہے
کیسے ہمت نئے سفر کی ہو
ابھی پہلی تھکان باقی ہے
میرے الفاظ مر چکے سارے
منہ میں مردہ زبان باقی ہے
چھن گئی ہے مری زمیں مجھ سے
پر مرا آسمان باقی ہے
سب درندے ہیں شہر میں دیکھو
کیا بشر کا نشان باقی ہے
خود کو تنہا جہاں میں کیوں سمجھوں
جب خدا مہربان باقی ہے
وقت کچھ اور چاہیے مجھ کو
حسرتوں کا بیان باقی ہے
میری آواز کا جواب تو دے
گر کوئی ہم زبان باقی ہے

0
2