دور تک جب بھی تَکا، کوئی نہیں ساتھ مرے
صاف معلوم ہوا، کوئی نہیں ساتھ مرے
دل کا احوال تو ایسا ہے کہ کیا کہیے حضور
جیسے جیسے میں بڑھا، کوئی نہیں ساتھ مرے
نہ کوئی درد کا درماں، نہ کوئی چارہ گر
دل کو تو یہ بھی لگا، کوئی نہیں ساتھ مرے
میرا سایہ بھی اندھیروں میں جدا مجھ سے ہوا
اب تو یہ صاف دکھا، کوئی نہیں ساتھ مرے
میں نے چاہا تھا کہ بانٹوں میں خوشی دنیا کی
پھر سے معلوم ہوا، کوئی نہیں ساتھ مرے
ایک ہی رخ ہے، مری زیست کا ہر اک لمحہ
لوگ ہنستے ہیں، بھلا، کوئی نہیں ساتھ مرے
لوگ کہتے تھے کہ ہم جان بھی دے دیں گے، پر
وقت آیا تو کھلا، کوئی نہیں ساتھ مرے
راہِ الفت میں اکیلا ہی چلا تھا عادل
آج منزل پہ ملا، کوئی نہیں ساتھ مرے

0
7