اس جیون میں عروج زوال تو آتا ہے
بچپن بعد جوانی اور بڑھاپا ہے
دل کی امنگیں ایک ڈگر پر رہتیں نہیں
آدمی وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے
اور غریب کا کوئی رشتے دار نہیں
دنیا کا بس دولت ہی سے رشتہ ہے
روزِ ازل سے قدرت کا دستور ہے یہ
جو بوتے ہیں اسی کو کاٹنا پڑتا ہے
جی ہاں مسافر دنیا گھمنڈ کی چیز نہیں
اس کا تو ہر رستہ قبر کو جاتا ہے

0
4