رپے پیسے کے بندے ہیں کوئی انسان تھوڑی ہیں
جو ایماں بیچ کھائیں صاحبِ اِیمان تھوڑی ہیں
پجاری مال و زر کا شخص ہے حیوان سے بدتر
کہ اپنی نسل ہی کو کاٹتے حیوان تھوڑی ہیں
تمہارے منہ سے جو نکلے اسے سچ مان لیں لیکن
تمہاری جھوٹ کی خصلت سے ہم انجان تھوڑی ہیں
بنے ہیں حکمراں جیبوں کو بھرنے کے لیے سارے
وطن کی ہی ترقی کے لیے ہلکان تھوڑی ہیں
ہمارے باپ دادا نے یہاں قربان کیں جانیں
ہمی مالک ہیں اس گھر کے کوئی مہمان تھوڑی ہیں
وطن کی آبرو جگ میں ہے اسلامی تشخص سے
ہمارے حکمراں اس دیس کی پہچان تھوڑی ہیں

0
6