جب تلک زخم نہ گہرا ہو، غزل کہیے گا
دل کا احوال نہ بدلا ہو، غزل کہیے گا
صرف لفظوں سے کہاں حقِ وفا ہوتا ہے
خونِ دل ساز پہ بکھرا ہو، غزل کہیے گا
بات جب حد سے گزر جائے تو ملتا ہے سکوں
شور جب روح میں برپا ہو، غزل کہیے گا
ہنس کے ملنا تو زمانے کی ضرورت ہے مگر
آئینہ دیکھ کے رویا ہو، غزل کہیے گا
صرف تنہائی کا احساس ہی کافی تو نہیں
جب کوئی ساتھ نہ اپنا ہو، غزل کہیے گا
تیرگی اوڑھ کے سو جائے یہ دنیا جس دم
دردِ دل جاگتا بیٹھا ہو، غزل کہیے گا
شعر کہنا تو بڑی بات ہے اے جانِ غزل
پہلے خود پر کوئی گزرا ہو، غزل کہیے گا

0
4