اہلِ غزہ پہ ظلم و ستم جب رواں ہوئے
آثار درد کے مرے دل سے عیاں ہوئے
اک آنسوؤں کا ابر سا آنکھوں پہ چھا گیا
جتنے خوشی کے خواب تھے سارے دھواں ہوئے
جب باغبان اپنی ہی عشرت میں کھو گئے
امت کے پھول تب سے سپردِ خزاں ہوئے
قابض یہ کفر قبلہ ء اول پہ ہو گیا
مسلم رہِ زوال پہ ایسے رواں ہوئے
مومن ہیں دیکھنے میں تو کافر عمل سے ہیں
اخلاق مومنوں سے اے مسلم کہاں ہوئے؟
لب سل گئے ہیں لفظ نہیں دے رہے ہیں ساتھ
امت کے مجھ سے کب ہیں مصائب بیاں ہوئے

0
2