ہے ظلم و ستم ہر سمت رواں
امت کا حال ہے سب پہ عیاں
کہیں آگ لگی ہے گلشن میں
چھایا ہے فلک پر ایک دھواں
کیا بھول ہوئی ہے مالی سے
کیوں ٹھہری ہے یہ فصلِ خزاں
اب شہر کوئی محفوظ نہیں
ہے جبر کا ہر جا راج یہاں
ہیں لوگ مسلماں حلیے سے
اعمال سے ہو کافر کا گماں
پھر گمراہی تقدیر بنی
جب چھوڑ دیا رب کا قرآں
اظہار پہ جب پابندی ہو
ہوتے ہیں گریباں چاک وہاں

0
4