وہ جس طرف بھی سجا کر عقول آتے ہیں
قدم قدم پہ عقیدت کے پھول آتے ہیں
نکل پڑے ہیں جو سچائی کے سفر پہ یہاں
اُنہی کے حصے میں رَستوں کے دھول آتے ہیں
جھکا کے سر کو جو بیٹھے ہیں تیری چوکھٹ پر
دعا سے پہلے ہی اُن کو حصول آتے ہیں
عجیب دھن ہے تمہاری گلی میں آنے کی
مریضِ ہجر بھی تَن مَن جو بھول آتے ہیں
وہ ایک شخص کہ دَریا مِزاج ہے ایسا
کہ اُس کی بزم میں سب با اصول آتے ہیں
ہمیں خبر ہے کہ ساحل پہ کچھ نہیں ملتا
مگر سفینے سمندر میں کُول آتے ہیں
کلام کرتا ہے وہ اِس سلیقے سے عادل
دلوں کے زنگ مِٹانے کے رُول آتے ہیں

0
1
10
جناب عادل صاحب میں اپنے سیکھنے کے لیے آپ سے کچھ سوال اس غزل کے بارے میں کرنا چاہوں گا امید ہے آپ برا نہیں مانیں گے

وہ جس طرف بھی سجا کر عقول آتے ہیں
-- عقل کی جمع عقول تو عربی میں ہوتا ہے اردو میں یہ لفظ نہیں آیا - میں نے کبھی اسے کسی بڑے شاعر کو استعمال کرتے نہیں دیکھا تو کیا ایسا لفظ جو اردو میں نہیں آیا ہو ، اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے؟

-- دوسری بات یہ کہ عقل سجا کے لانا اردو میں کوئی محاورہ نہیں تو کیا شعر میں خلافِ محاورہ تراکیب کا استعمال جائز ہوتا ہے ؟

اُنہی کے حصے میں رَستوں کے دھول آتے ہیں
-- دھول ایک مؤنث لفظ ہے میں نے کبھی اسے مذکر نہیں دیکھا تو دھول آتے ہیں لکھ کر اسے مذکر بھی باندھا جا سکتا ہے ؟

دعا سے پہلے ہی اُن کو حصول آتے ہیں
--- دعا کا حصول آنا اردو میں کوئی محاورہ نہیں دیکھا تو کیا کلام میں اس طرح قافیہ لانے کے لیے نیا محاورہ بنایا جا سکتا ہے ؟

وہ ایک شخص کہ دَریا مِزاج ہے ایسا
کہ اُس کی بزم میں سب با اصول آتے ہیں
--- دریا مزاجی کا با اصول آنے سے بظاہر تو کوئی تعلق نہیں نظر آتا - تو کیا اس طرح کی مبہم بات کر کے مطلب پڑھنے والے کی صوابدید پہ چھوڑا جا سکتا ہے ؟

مگر سفینے سمندر میں کُول آتے ہیں
دلوں کے زنگ مِٹانے کے رُول آتے ہیں

-- کُول اور رُول انگریزی کے الفاظ اردو کا حصہ نہیں بنے ہیں یہ مزاحیہ شاعری میں تو دیکھے ہیں لیکن کیا سنجیدہ غزل میں بھی اس طرح انگریزی کے الفاظ لانا جبکہ وہ ضروری نہ ہوں اور ان سے صرف قافیہ بنتا ہو لائے جا سکتے ہیں؟

آپ کے جوابات نئے لکنے والوں کی رہنمائی کریں گے
شکریہ

0